شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید:

بیس سال جہاد و مزاحمت کے بعد افغان قوم اپنی تقدیر ہاتھ میں لے گی

بیس سال جہاد و مزاحمت کے بعد افغان قوم اپنی تقدیر ہاتھ میں لے گی

خطیب اہل سنت زاہدان نے تین ستمبر دوہزار اکیس کے بیان میں افغانستان سے امریکی افواج کے انخلا کو ایک اہم اور تاریخی واقعہ یاد کرتے ہوئے ’بیس سال پیہم جہاد اور مزاحمت‘ کے بعد افغان قوم کی آزادی اور عزت پر مسرت کا اظہار کیا۔
شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے زاہدان میں ہزاروں فرزندانِ توحید سے نمازِ جمعہ سے پہلے خطاب کرتے ہوئے کہا: افغانستان سے امریکی افواج کے انخلا ایک اہم اور تاریخی رویداد ہے؛ ہوسکتاہے کچھ لوگ اس واقعے سے ناراض بھی ہوں۔ میرے خیال میں یہ وہ لوگ ہیں جن کے ذہنوں میں غلامی کا احساس پایاجاتاہے۔
انہوں نے مزید کہا: افغان لوگ اپنے گھروں میں بھوکے رہیں، پیوند لگے کپڑے پہن لیں، لیکن اپنی قسمت اور تقدیر کے مالک خود ہوجائیں اور اپنے ملک کی تقدیر کے بارے میں خود فیصلہ کریں، یہ بدرجہا بہتر ہے اس سے کہ یورپ کے خزانے اور مشرق و مغرب کی سہولیات ان کے لیے ہوں، لیکن وہ آزاد نہ ہوں۔ انسان اور جانور میں ایک فرق عزت و احترام میں ہے؛ یہ عزت اس وقت محفوظ رہے گی جب انسان خود اپنی تقدیر میں حصہ رکھے اور آزاد ہو۔
مولانا عبدالحمید نے کہا: علامہ اقبالؒ نے کیا خوب کہا ہے کہ اللہ تعالیٰ اس قوم کو سروری و بڑائی دیتاہے جو اپنی تقدیر خود ہی لکھتی ہے، اس قوم سے اس کا کوئی سروکار نہیں جس کے کاشتکار نے دوسروں کے لیے بویا۔ جن قوموں کی تقدیر دوسروں کے ہاتھوں میں ہے، ان کی کوئی عزت نہیں ہے۔ انسان کے لیے حریت، آزادی اور سوچ کی آزادی بہت اہم ہے۔
انہوں نے مزید کہا: گزشتہ بیس سالوں میں افغانستان کے شہری عزت اور سروری سے محروم تھے، دیگر قومیں ان پر حکومت کرتی تھیں۔ لیکن اب اس قوم نے عزت حاصل کی ہے۔ افغان قوم کے لیے یادگار دن وہ دن ہوگا جب وہ ایک دوسرے کے ساتھ مل کر اپنے ملک کے مستقبل کے لیے فیصلہ کریں گے۔ حیرت کی بات ہے کہ کچھ افغان اس حالت سے ناراض ہیں اور اپنے ملک چھوڑنا چاہتے ہیں۔

افغان عوام ’سیاسی دیوالیہ پن‘ سے دوچار ہونے والوں کے اشتعال میں نہ آئیں
ممتاز عالم دین نے سیاست کے میدان شکست کھانے والے بعض افغان رہ نماؤں کی بدامنی جاری رکھنے کی کوششوں پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا: انتہائی افسوس کی بات ہے کہ سیاسی دیوالیہ پن سے دوچار کچھ عناصر جنہوں بیس سال تک افغانستان میں حکومت کی اور بالاخر شکست کھائی، اب لوگوں کو ’مزاحمت‘ اور دیگر بہانوں سے اشتعال دلاتے ہیں اور لوگوں کو سکون سے رہنا نہیں دیتے ہیں تاکہ ایک دوسرے سے مل کر اپنے ملک کی آبادی کے لیے محنت کریں۔
مولانا عبدالحمید نے افغان شہریوں کو نصیحت کی: سیاسی دیوالیہ پن سے دوچار افراد آپ کو اشتعال دلاتے ہیں، ان کی باتوں میں آکر خود کو نہ مروائیں۔ اپنی سوچ آزاد کرکے پرامن اور متحد رہیں۔ نئی حکومت کو جو قرآن و سنت اور شریعت کے نام پر بر سر کار آئی ہے، موقع دیں اور قرآن و سنت پر یقین نہ رکھنے والوں کی باتوں پر توجہ نہ دیں۔ بہترین حکم، اللہ ہی کا حکم ہے۔ یقین کریں اگر خدا کے حکم آپ کے ملک میں نافذ ہوجائے، زمیں و آسمان کی برکتیں تم پر نازل ہوجائیں گی۔

افغانستان کی نئی حکومت قرآن وسنت اور خلفائے راشدین کی سیرت سے استفادہ کرے
بات آگے بڑھاتے ہوئے صدر و شیخ الحدیث دارالعلوم زاہدان نے طالبان رہ نماؤں اور افغانستان کی نئی حکومت کو تجویز دیتے ہوئے کہا: تحریک طالبان اور افغانستان کی نئی بننے والی حکومت کو ہمارا مشورہ ہے کہ حالات حاضرہ کے تقاضوں کو سامنے رکھ کر اسلام نافذ کرنے کی کوشش کریں۔ قرآن، سیرت النبیﷺ اور خلفائے راشدینؓ کی سیرت سے استفادہ کریں جن میں بہترین اور سب سے کامل ظرف پایاجاتاہے اور خواتین، لسانی گروہ، مسالک اور مذاہب کے حقوق ان میں یقینی بنائی گئی ہے۔ نئی حکومت اعلیٰ ظرفی کا مظاہرہ کرکے سب قومیتوں کے قابل افراد کو شاملِ حکومت کرے۔ خواتین کے حقوق کی پاسداری ہونی چاہیے۔
انہوں نے نئی افغان حکومت کو یاددہانی کی کہ عالمی برادری اور خطے کے ممالک کے تحفظات کو مدنظر رکھ کر افغانستان میں ایسی کسی سرگرمی کی اجازت نہ دے جسے دنیا میں ’دہشت گردی‘ کہتے ہیں۔افغانستان اپنے لوگوں اور پڑوسیوں کے لیے پرامن ہونا چاہیے۔ ظاہری و مادی ترقی نئی افغان حکومت کی ترجیح ہونی چاہیے۔

عریانیت کو خواتین کی آزادی کہنا ان کے حق میں بڑا ظلم ہے
صدر دارالعلوم زاہدان نے موجودہ حالات میں افغانستان میں خواتین کے حقوق کے بارے میں پروپیگنڈوں کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا: آج کل بہت سارے لوگ افغانستان میں خواتین کے حقوق کو بہانہ بناکر تشویش کا اظہار کرتے ہیں، حالانکہ اسلام کے مطابق خواتین کو آزادی حاصل ہے، وہ اسلامی پردے کے ساتھ کام کرسکتی ہیں، اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کا حق رکھتی ہیں اور کوئی حکومت خواتین کو تعلیم، سیاسی و سماجی سرگرمیوں اور کام کرنے کے حقوق سے محروم نہیں کرسکتی ہے۔
مولانا عبدالحمید نے کہا: البتہ یہ بات ذہن میں رہے کہ کچھ لوگ خواتین کی آزادی اور حقوق کو عریانیت میں معنی کرتے ہیں، حالانکہ یہ خواتین کے حق میں بڑا ظلم ہے جسے مغربی دنیا نے ارتکاب کیا ہے۔ خواتین کی خوبصورتی اور زینت لباس پہننے میں ہے؛ کچھ لوگ اگر ان کی بے لباسی کو زینت تصور کرتے ہیں یہ ان کی نگاہوں کا مسئلہ اور غلطی ہے۔
انہوں نے مزید کہا: جسم کو ڈھانپنا انسانی فطرت کا حصہ ہے؛ سب مذاہب اور شرائع میں جسم کو ڈھانپنے کی تاکید آئی ہے۔ معیار جسم کو ڈھانپنا ہے، کسی خاص لباس کی تعیین نہیں ہوئی؛ لباس اور رنگ کا تعلق علاقائی ثقافتوں اور رواج پر ہے۔
شیخ الحدیث دارالعلوم زاہدان نے پردہ اور خواتین کے مسائل کے بارے میں علما اور فقہا کی مختلف آرا کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا: ہمارے خیال میں خواتین کے مسائل کے بارے میں قرآن و سنت، خلفائے راشدین کے عمل اور امام ابوحنیفہ سمیت سب ائمہ اور بزرگانِ دین کی آرا سے فائدہ اٹھانا چاہیے۔ امام اعظم ابوحنیفہ رحمہ اللہ کی آرا و افکار حکومتداری کے سلسلے میں بہت مفید اور کارساز ہیں۔ لہذا کوشش ہونی چاہیے کہ سب سے آسان ترین قول اور رائے پر عمل کیاجائے۔

صدر مملکت کا دورہ سیستان بلوچستان؛ امید ہے نگاہیں بدل جائیں
مولانا عبدالحمید نے صدر رئیسی کی سیستان بلوچستان آمد پراظہارِ خیال کرتے ہوئے کہا: آج کل صدر رئیسی ہمارے صوبے میں ہیں اور ان کا شکریہ ادا کرتے ہیں کہ انہوں نے صوبہ خوزستان کے بعد اپنی حکومت میں دوسرے نمبر پر ہمارے صوبے کا دورہ کیا تاکہ قریب سے مسائل کا انہیں پتہ چل جائے۔
انہوں نے مزید کہا: امید ہے صدر رئیسی کی آمد کے بعد نگاہیں بدل جائیں، پولیس گردی کا یہاں سے خاتمہ ہوجائے اور سکیورٹی کے نقطہ نظر کے بجائے اقتصادی اور تجاری نظر سے اس صوبے کو دیکھاجائے۔ اگر نگاہیں بدل جائیں، خوشحالی و ترقی کے سفر کی رفتار تیز ہوجائے گی۔
خطیب اہل سنت زاہدان نے ایران کی نئی حکومت کو مشورہ دیا صوبہ سیستان بلوچستان کی تمام لسانی و مذہبی برادریوں کے قابل افراد کی صلاحیتوں سے فائدہ اٹھائے اور پوری قوت کے ساتھ عوامی مسائل حل کرنے میں دلچسپی کا مظاہرہ کرے۔


آپ کی رائے

Leave a Reply

Your email address will not be published.

مزید دیکهیں