نئے صدر عوام کے معاشی مسائل اور امتیازی سلوک کے خاتمے کو ترجیح دے

نئے صدر عوام کے معاشی مسائل اور امتیازی سلوک کے خاتمے کو ترجیح دے

مولانا عبدالغنی بدری نے زاہدانی نمازیوں سے خطاب کرتے ہوئے ایران کے نئے صدر کی تقریب حلف برداری کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا ایرانی قوم معاشی مسائل اور امتیازی پالیسیوں سے تنگ آچکی ہے؛ ان مسائل کو حل کرنا نئی حکومت کی پہلی ترجیح ہونی چاہیے۔

چھ اگست دوہزار اکیس کو زاہدان میں نماز جمعہ سے پہلے بیان کرتے ہوئے نائب خطیب اہل سنت نے کہا: سابقہ حکومت نے کسی حد تک عوامی مسائل حل کرنے کی کوشش کی، لیکن زیادہ کامیاب نہ ہوسکی۔ مسالک کی آزادیوں اور قومیتوں کے حقوق کے بارے میں جو وعدے دے گئے، وہ پورے نہیں ہوئے۔ بطور خاص معاشی مسائل روز بڑھتے گئے اور عوام کو سخت مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔

انہوں نے مزید کہا: آیت اللہ رئیسی نے بطور نئے صدر اعلان کیا ہے کہ ان کی حکومت ’عمل‘ کی حکومت ہوگی اور وہ ملک میں تبدیلی لائیں گے۔امید ہے ملک میں ایک حقیقی تبدیلی آجائے اور دوبارہ عوام کی امیدیں مایوسی میں تبدیل نہ ہوجائیں۔

استاذ الحدیث دارالعلوم زاہدان نے کہا: ایران مختلف قسم کے وسائل اور نیچرل ریسورسز سے مالامال ہے، تیل اور گیس کی بہتات ہے، ان ہی وسائل کے بل بوتے آس پاس کے ممالک خوشحالی میں ہیں اور ہمارے عوام سخت معاشی مسائل سے دوچار ہیں۔ اس کی وجہ بعض غلط پالیسیاں اور طرز عمل ہیں۔

انہوں نے اہل سنت برادری کی توقعات کو بطور خاص یاد کرتے ہوئے کہا: ایران کی سنی برادری نئی حکومت سے توقع رکھتی ہے کہ امتیازی سلوک اور پالیسیاں ختم ہوجائیں اور وہ خود دوسرے یا تیسرے درجے کے شہری محسوس نہ کریں۔

مولانا بدری نے امید ظاہر کی رئیسی حکومت، عوامی اور عمل کرنے والی حکومت ہو۔

اپنے بیان کے ایک حصے میں لوکل کونسلز کے نئے ارکان کی حلف برداری کی طرف اشارہ کرتے ہوئے نائب خطیب اہل سنت زاہدان نے کہا: زاہدان کی نئی سٹی کونسل کے ارکان اپنے فن میں ماہر ہیں۔ ہمیں امید ہے کہ سب عوام کی خدمت کے لیے کمربستہ ہوجائیں گے اور شہر کا چہرہ بدل دیں گے۔

مولانا عبدالغنی بدری نے بدلیہ حکام کو مشورت دی کہ وہ عوام سے تعاون کریں، ان کی خدمت کیا کریں اور عوام بھی بدلیہ حکام کے تعاون سے شہری مسائل کی بہتری کے لیے محنت کریں۔


آپ کی رائے

Leave a Reply

Your email address will not be published.

مزید دیکهیں