سفارت کاروں اور این جی اوز نہیں صرف غیرملکی فوجیوں کیلیے خطرہ ہیں، طالبان

سفارت کاروں اور این جی اوز نہیں صرف غیرملکی فوجیوں کیلیے خطرہ ہیں، طالبان

افغان طالبان کے ترجمان سہیل شاہین نے کہا کہ کابل ایئرپورٹ، سفارت کاروں اور این جی اوز کی حفاظت کے بہانے غیر ملکی فوجیوں کی افغانستان میں موجودگی کو ملک پر قبضہ اور معاہدے کی خلاف ورزی تصور کرتے ہوئے بھرپور ردعمل دیں گے۔
برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی کو انٹرویو میں طالبان کے دوحہ میں سیاسی دفتر کے ترجمان سہیل شاہین نے افغانستان سے غیر ملکی فوجوں کے انخلا، سیکیورٹی فورسز سے اکثر اضلاع کا کنٹرول حاصل کرنے اور طالبان کی پالیسیوں پر کھل کر گفتگو کی۔
ایک سوال کے جواب میں ترجمان سہیل شاہین نے واضح کیا کہ طالبان سفارت کاروں، سفارت خانے کے عملے اور غیر ملکی این جی اوز کے خلاف نہیں ہیں اور نہ ان لوگوں کو طالبان سے کوئی خطرہ ہے تاہم غیر ملکی فوجیوں کی ملک میں موجودگی کے خلاف ہیں اور انہی کے لیے خطرہ ہیں۔
طالبان ترجمان نے خبردار کیا کہ اگر ایک بھی امریکی فوجی کابل ایئرپورٹ، سفارت کاروں اور این جی اوز کے بہانے افغانستان میں رکتا ہے تو اس عمل کو امن معاہدے کی خلاف ورزی اور ملک پر قبضہ تصور کیا جائے گا اور طالبان قیادت بھرپور ردعمل کا فیصلہ بھی کرسکتی ہے۔
ترجمان سہیل شاہین ایک بار پھر یاد دہانی کرائی کہ افغانستان سے غیر ملکی فوجیوں کے انخلا کی حتمی تاریخ 11 ستمبر 2021 ہے اور اس مقررہ تاریخ تک مریکی اور نیٹو افواج کو دوحہ امن معاہدے فروری 2020 کے تحت افغانستان خالی کرنا ہوگا۔
واضح رہے کہ وائٹ ہاؤس انتظامیہ کابل ایئرپورٹ، سفارت کاروں اور دیگر اہم مقامات کی حفاظت کے لیے ایک ہزار امریکی فوجی افغانستان میں چھوڑنے پر غور کررہی ہے تاہم ابھی سرکاری سطح پر اس کی تردید یا تصدیق نہیں کی گئی ہے۔


آپ کی رائے

Leave a Reply

Your email address will not be published.

مزید دیکهیں