مولانا نور عالم خلیل امینی اور صدر جمہوریہ ایوارڈ

مولانا نور عالم خلیل امینی اور صدر جمہوریہ ایوارڈ

ہم تمام خوشہ چینان امینی حکومت ہند کو مبارکباد پیش کرتے ہیں کہ اس نے صدر جمہوریہ ایوارڈ کے لیے بالکل درست انتخاب کیا ہے، حکومت کے اس فیصلے سے شیخ امینی کے تمام تلامذہ میں خوشی کی لہر دوڑ گئی ہے، اور تمام حلقوں سے اس فیصلہ کی ستائش کی جارہی ہے، دراصل یہ فیصلہ حضرت مولانا نور عالم خلیل امینی کے لیے بہت پہلے کیا جانا چاہیے تھا۔ لیکن دیر آید درست آید کے مطابق ہم اس فیصلہ کو سراہتے ہیں، اور میری تو بساط کیا ہے ملک کی دیگر اکابر، عبقری، علمی و ادبی شخصیات حضرت مولانا کو تہنیت و تبریک پیش کریں گی، تاہم ہماری خوشی بھی دیکھنے لائق ہے، کیونکہ ہم نے بھی اسی خوان ادب سے کچھ لذیذ ٹکڑے حاصل کئے ہیں، لہذا حضرت کے تمام شاگردوں کے لیے یہ بہت بڑی خوشی کا موقع ہے۔
واضح رہے کہ اس وقت ہندوستان کے اکثر مدارس میں عربی ادب کی خدمات انجام دینے والے عربی زبان وادب کے ماہرین بالواسطہ یا بلا واسطہ شیخ امینی کے ہی شاگرد ہیں، بلکہ بیرون ممالک میں بھی آپ کے بہت سے تلامذہ ہیں، آپ نصف صدی سے اس زبان کی خدمت بڑی خاموشی کے ساتھ انجام دے رہے ہیں، عربی زبان وادب آپ کا اوڑھنا بچھونا، غذا، دوا سب کچھ ہے، آپ کو اس زبان سے زبانی نہیں بلکہ عملی اور واقعی عشق ہے۔
آپ کی بڑی خصوصیت یہ ہے کہ آپ کے یہاں ادب کو نہلایا ، سنوارا، پاکیزہ، اور اخلاقیات سے لبریز کیا جاتا ہے، آپ دیگر ادیبوں کی طرح نہیں ہیں، جن کے یہاں زبان و ادب بے راہ روی کی شکار ہے، جو ادب کے نام پر معاشرے میں تمام طرح کی بے اخلاقی بلکہ فحاشی کو رواج دیتے ہیں، جن کے یہاں الفاظ بھی بے جامہ اور ننگے ہوتے ہیں، شیخ امینی اس طرح کے ادیبوں سے بہت کڑھتے ہیں، انھوں نے حال ہی میں چھپی اپنی کتاب ( تعلموا العربية فإنها من دينكم) میں اپنی اس تکلیف کا اظہار کیا ہے، اور ایسے تمام ادیبوں سے گزارش کی ہے کہ وہ زبان کو تعمیر نسل نو کا ذریعہ بنائیں، تخریب کاری اور اخلاق سوزی کا ذریعہ نہ بنائیں۔۔
شیخ امینی کی ایک بڑی خصوصیت یہ ہے کہ وہ جو لکھتے ہیں بہت محنت کے بعد لکھتے ہیں، اتنی محنت جس کا ہم اندازہ بھی نہیں لگا سکتے، چنانچہ وہ اپنی تحریر میں ہر لفظ کو وہ جگہ دیتے ہیں کہ اگر اسے وہاں سے ہٹا کر کسی اور جگہ رکھا جائے تو زبان اپنے معیار سے فروتر ہوجائے، ان کے لکھے ہوئے پر انگلی رکھنا بہت مشکل ہے، یہی وجہ ہے کہ عالم عرب کے چوٹی کے علماء اور ادبا یونیورسٹیوں کے پروفیسران آپ کی تحریروں کو پسندیدگی کی نگاہ سے دیکھتے ہیں اور اپنے طلبہ کو استفادہ کا مشورہ دیتے ہیں، اسی لیے ان کی تحریریں سند کا درجہ رکھتی ہیں۔
شیخ امینی کی ایک ممتاز خصوصیت یہ بھی ہے کہ وہ عربی کے ساتھ ساتھ اردو زبان میں بھی بہت صاف ستھرا اور پاکیزہ ذوق رکھتے ہیں، اردو کے اشعار، تعبیرات اور امثال و کہاوتوں پر آپ کو حیرت انگیز طور پر عبور حاصل ہے، جس کی گواہ آپ کی اردو زبان میں کئی کتابیں ہیں۔
میں دارالعلوم دیوبند میں پنجم عربی پڑھنے کے لیے داخل ہوا، شیخ امینی کے تعلق ایک بھاری بھرکم تصور میرے نازک اور معصوم ذہن و خیال اور دل و دماغ میں جاگزیں تھا، دوران تعلیم کبھی کبھار کتب خانہ اور صدر گیٹ کے راستے میں آپ کا دیدار ہوتا، آپ کے ساتھ علیا درجے کے چنیدہ طلبہ کا ایک گروپ ہوتا، آپ دیوبندی ٹوپی، موٹی عینک، شیروانی اور جوتوں میں ملبوس ہوتے، ہماری مرعوبیت کے بیان سے قلم عاجز ہے، یہ تصور بھی نہیں تھا کہ ہم جیسے کوتاہ علم اور ہیچمند کو شیخ امینی سے استفادہ کا موقع ملے گا، تاہم اس راہ عشق میں ہم شروع سے گستاخ ثابت ہوئے ہیں اور جنون کی اس راہ میں کسی کوہ پیمائی یا کوہ کنی سے کبھی نہیں گھبرائے، لیکن کیا کہیے مجنون بھی کبھی صحیح منزل تک پہنچ ہی جاتا ہے، اللہ نے اس معصوم تمنا کی لاج رکھ لی اور تکمیل ادب ( شعبہ عربی زبان وادب) میں اس نالائق زمان کا داخلہ ہوگیا۔ اگلی صف میں جگہ ملی، عربی زبان وادب کے اس بحر بے کنار سے خوب خوب استفادہ کا موقع ملا، طلبہ پر آپ کا رعب کسی سے مخفی نہیں، عام خیال یہ ہے کہ اس شعبے میں دیگر اساتذہ کی بنسبت طلبہ شیخ امینی سے زیادہ ڈرتے ہیں، اور ڈسپلن کا زیادہ اہتمام کرتے ہیں، کیونکہ اگر شیخ کے مزاج کے خلاف کسی طالب علم سے کوئی بات سرزد ہوئی تو زبان و ادب والی مناسب سزا بھی اسے سہنی پڑتی۔
اس کے بالمقابل شیخ امینی کے درس سے طلبہ کے چہروں پر جتنی خوشی اور مسکراہٹ آجاتی، دیگر اسباق میں انھیں یہ چیز حاصل نہیں ہوتی، طلبہ مولانا کے جملوں سے بہت محظوظ ہوتے، شیخ طلبہ کو خوب ہنساتے ہیں آپ کا سبق خشک نہیں ہوتا، ایک طرف آپ کا رعب اور دوسری طرف درسگاہ میں طلبہ کو ہنسانا یہ دو متضاد باتیں ہم نے صرف آپ کے یہاں دیکھی ہیں۔
اور گھر پر بعد عصر کی ملاقات میں شیخ امینی استاذ اور شاگرد کے مرتبے کو ملحوظ رکھتے ہوئے، بالکل کھل جاتے، خود بھی باتوں سے خوب خوب محظوظ ہوتے، ہنستے اور آنے والے طلبہ کو بھی خوب ہنساتے ہیں، لیکن استاد اور شاگرد کے حد فاصل کی دیوار مضبوطی کے ساتھ قائم رہتی ہے، جسے ہم آپ کی کرامت سمجھتے ہیں، واضح رہے کہ شیخ سے ملاقات کے لئے ایک دن قبل ٹیلیفون کے ذریعے اجازت لینی پڑتی ہے، شیخ بڑے نستعلیق اور وقت کے پابند منٹوں نہیں بلکہ سیکنڈوں کے اعتبار سے ہیں، ہمارے ساتھ شیخ کے وطن کے ایک ساتھی پڑھتے تھے، شیخ سے ملاقات کی میری ہمت نہیں ہوتی تھی، ہمارے مذکورہ ساتھی ایک بار شیخ سے ملاقات کے لئے جارہے تھے انہوں نے مجھ سے کہا تم بھی چلو میں نے شیخ کے اصول کا حوالہ دیتے ہوئے عرض کیا کہ میں نے بذریعہ فون اجازت نہیں لی ہے، انہوں نے کہا کہ ہمارے ساتھ چلیں ، ہم سنبھال لیں گے، چنانچہ کسی طرح کمر ہمت باندھی اور حاضری ہوئی، انہوں نے تو اپنے لئے پہلے سے اجازت لے رکھی تھی اور میں طفیلی بن کر پیچھے سے جیسے ہی داخل ہوا شیخ نے مسکراتے ہوئے فرمایا: تمہیں ہمارے اصول نہیں معلوم۔ میں نے معافی چاہی، ہمارے ساتھی نے بتایا کہ میں ہی اسے لے کر آیا ہوں، شرف حاضری حاصل ہوئی، مجلس اتنی زعفران زار تھی کہ تصور سے بالا تر، پھر کیا تھا حاضری پر حاضری ہونے لگی، شیخ کی کسی تحریر میں ایک لفظ مطالعہ میں آیا (قاسم مشترك) اپنی حد تک میں اس کے مفہوم تک پہنچنے میں ناکام رہا، عصر بعد کی مجلس میں پہنچا اور میں نے اس لفظ کو شیخ کی خدمت میں رکھ دیا اور استفسار کیا، شیخ نے اپنے انداز میں فرمایا کہ درسگاہ کے باہر ہم ایک لفظ کے ایک ہزار روپے لیتے ہیں، یہ کہہ کر خود بھی مسکرانے لگے اور حاضرین بھی ہنسنے لگے۔ ذیل میں شیخ امینی کے تعلق سے چند بنیادی معلومات پیش کی جاتی ہیں واضح رہے کہ یہ معلومات مکمل نہیں:

مولانا نور عالم خلیل امینی:
ہندوستان میں عربی زبان وادب کے مشہور ادیب و قلمکار ہیں، وہ ماہنامہ الداعی (عربی) دیوبند کے مدیر اعلیٰ اور دار العلوم دیوبند کے استاذ ادب ہیں۔

ولادت:
18/12/1952 بمطابق 28/4/1347ھ کو اپنے ننھیال بیشی ہر پور سیتامڑھی میں پیدا ہوئے۔ مولانا کا وطن (دادھیال )رائے پور ضلع سیتامڑھی ہے۔

تعلیمی لیاقت :
(الف)فاضل دارالعلوم دیوبند (ب)تخصص عربی زبان وادب دارالعلوم دیوبند (ج)عربی زبان و ادب کی تدریسی مہارت: کنگ سعود یونیورسٹی ریاض، سعودی عرب۔

تصنیفات:
مولانا کی عربی اردو کتابیں تقریباً 13 یا 14 چودہ ہیں جنمیں وہ کوہ کن کی بات ٬ فلسطین کسی صلاح الدین ایوبی کے انتظار میں، پس مرگ زندہ (اردو ) مفتاح العربیہ، فلسطين في انتظار صلاح دين، كيف تكون الكتابات مؤثرة؟ (عربی) تعلموا العربية فإنها من دينكم. الصحابة ومكانتهم في الإسلام. حرف شیریں، کیا اسلام پسپا ہورہا ہے، وغیرہ بہت مقبول ہیں۔

مقالات و مضامین:
مولانا کے عربی و اردو زبان میں 500 سے زیادہ مضامین ہند وبیرون ہند کے عربی اور اردو کے مختلف رسائل واخبارات میں شائع ہوچکے ہیں۔

بیرونی اسفار:
مولانا کانفرنسوں میں شرکت ودیگر علمی امور کے لیے مختلف ممالک کے اسفار کرچکے ہیں مثلًا سعودی عرب، کویت، مصر، متحدہ عرب امارات وغیرہ بلکہ شاید کوئی عرب ملک باقی ہو جہاں مولانا کانفرنس میں شرکت کے لئے تشریف نہ لے گئے ہوں۔

پسندیدہ شخصیات:
مولانا وحید الزماں کیرانوی، مولانا محمد میاں دہلوی٬ مولانا علی میاں ندوی، مولانا اشرف علی تھانوی۔


آپ کی رائے

Leave a Reply

Your email address will not be published.

مزید دیکهیں