شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید:

بچوں کی صحیح تربیت، دینداری اور تعلیم کے لیے منصوبندی اور محنت کریں

بچوں کی صحیح تربیت، دینداری اور تعلیم کے لیے منصوبندی اور محنت کریں

خطیب اہل سنت زاہدان نے انیس فروری دوہزار اکیس کے خطبہ جمعہ میں ’بچوں کی درست تعلیم و تربیت اور دینداری کے لیے منصوبہ بندی“ کو کامیاب خاندانوں کی سب سے اہم خصوصیات میں شمار کرتے ہوئے والدین اور خاندانوں کے بڑوں کو اس موضوع پر توجہ دینے کی ترغیب دی۔
شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے سورت التحریم کی آیت نمبر6 سے خطاب کا آغاز کرتے ہوئے کہا: اللہ تعالی نے ہمیں حکم دیا ہے کہ اپنی اور اولاد کی نجات کے لیے محنت کریں۔ اگر کوئی خود نماز پڑھے، لیکن بچوں کی نماز اور امور کے حوالے سے غفلت کا مظاہرہ کرے، اس نے اپنی ذمہ داری پوری نہیں کی ہے۔ یہ بہت بھاری ذمہ داری ہے؛ بچوں کی تعلیم قرآن کے حوالے سے محنت کریں تاکہ وہ علم اور قرآن سیکھیں۔
انہوں نے مزید کہا: قرآن پاک اسلام کی حقانیت کی سند اور تمام سابقہ آسمانی کتابوں کا خلاصہ ہے۔ انسان کو چاہیے اللہ تعالیٰ کی عظمت کے سامنے اپنی عاجزی کا اظہار کرکے اس عظیم کتاب پر عمل کرے۔ قرآن آسان ہے اور اسے سیکھنے کے مواقع فراہم ہیں۔ کالجوں کے اساتذہ و لیکچررز سمیت تمام طبقوں کے لوگ قرآن سیکھنے کا اہتمام کریں۔
شیخ الحدیث دارالعلوم زاہدان نے کہا: اپنی اولاد سے غافل نہ رہیں۔ صرف ان کی شادی، کاروبار، تعلیم، سہولیات زندگی اور دنیا کے لیے مت سوچیں، ان کے ساتھ ساتھ ان کی ہدایت، دینداری، حیا اور صحیح تربیت کے لیے بھی سوچیں۔ انہیں اسلامی اور انسانی اقدار کے مطابق تربیت کریں۔ اولاد تمہارے اثاثہ اور جانشین ہیں، انہیں نصیحت کریں، فجر کی نماز کے لیے جگائیں اور انہیں اپنے ساتھ نمازِ جمعہ، عید اور دیگر مذہبی و دینی تقاریب میں ساتھ لے جائیں۔ جب تبلیغ یا کسی مصالحت اور کارِ خیر میں شرکت کرتے ہیں، بچوں کو بھی ساتھ لے جائیں۔
انہوں نے مزید کہا: اپنی اور اپنے گھروالوں کی جہنم سے نجات کے لیے سوچیں؛ یہی بے نمازی، کاہل نمازی، زنا، قتل، رشوت خوری، سودخوری، گناہ اور برے اعمال قیامت کے دن جہنم کی صورت اختیار کریں گے اور نیک اعمال ہی جنت میں بدل جائیں گے۔ نوجوانوں کو علم، تعلیم اور کاروبار کی جانب متحرک کرکے آگے لے جائیں۔ اولاد روزگار اور کاروبار کے بغیر گھروں میں نہ ہوں۔ حلال روزی کمانا عبادت اور اللہ کی رضامندی کا باعث ہے۔ نوجوان لڑکوں کو اپنے حال پر مت چھوڑیں کہ آوارہ لڑکوں کے ساتھ جاکر چوری، منشیات اور دیگر سماجی برائیوں کا شکار ہوجائیں۔ انہیں ماں باپ کے زیرسایہ بڑے ہونے دیں۔ ان کے ساتھ محبت کریں اور انہیں احترام کریں۔
خطیب اہل سنت زاہدان نے کہا: نوجوان طبقہ قابل قدر اور ہمارے اصل سرمایہ اور وارث ہیں، بہتر یہی ہے کہ وہ ہم سے علم، اخلاق، تقویٰ اور ایمان کو ورثہ میں حاصل کریں۔ بہترین میراث مال و دولت نہیں، بلکہ ایمان، تقویٰ، درست تربیت اور علمی وراثت ہے۔ بہترین خاندان وہی ہے جو اپنے بچوں کی تعلیم، دیانت، ادب اور تربیت کو اہم سمجھتاہے۔
انہوں نے بات آگے بڑھاتے ہوئے کہا: خواتین کو نجات دلانا ہماری ذمہ داری ہے۔ بعض خواتین شرعی مسائل پر کوئی توجہ نہیں دیتی ہیں، مہنگے کپڑوں اور زیب و زینت کے ساتھ اجنبی مردوں کے سامنے ظاہر ہوتی ہیں۔ مرد بھی خاموش ہیں، حالانکہ جو خاتون میک اپ کے ساتھ نامحرم اور اجنبی مردوں کے سامنے آتی ہے، وہ گناہ کبیرہ کا ارتکاب کرتی ہے۔ یہ بہت بڑا گناہ ہے اور ایسی خواتین اللہ کے عذاب سے دوچار ہوجائیں گی اور ان کے سرپرست بھی ذمہ دار ٹھہریں گے۔
مولانا عبدالحمید نے اپنے خطاب کے آخر میں کہا: آج کل شادی کی تقریبات میں شریعت کے خلاف کام ہوتاہے۔ بہت سارے گناہ جنہیں لوگ بھول چکے تھے، دوبارہ زندہ ہورہے ہیں۔ زلزلے، سیلاب، قحط، آفت و۔۔۔ سب اس وجہ سے ہیں کہ ہمارے اعمال انصاف سے دور ہیں۔ لہذا ہم سب کو توبہ کرنی چاہیے۔ اپنی زندگی بدل دیں، گناہوں سے دور رہیں اور اللہ سے اپنا تعلق مضبوط کریں۔


آپ کی رائے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

مزید دیکهیں