بانی دارالعلوم زاہدان مولانا عبدالعزیزؒ؛ کچھ یادیں (۱)

بانی دارالعلوم زاہدان مولانا عبدالعزیزؒ؛ کچھ یادیں (۱)

نوٹ: علامہ مولانا عبدالعزیز ملازادہ رحمہ اللہ(24 نومبر-1916 12 اگست 1987) ایران میں خاص کر صوبہ سیستان بلوچستان میں محتاج تعارف نہیں ہیں۔ آپؒ نے ابتدائی تعلیم اپنے آبائی علاقہ میں حاصل کرکے اعلی تعلیم کے لیے دیوبند اور دہلی کا رخ کیا جہاں وقت کے اکابر مولانا سیدحسین احمد مدنی، مولانا اعزازعلی اور مفتی کفایت اللہ ؒ سمیت متعدد بزرگوں سے استفادہ کیا۔ جامعہ امینیہ دہلی سے فراغت کے بعد آپؒ نے دو سال تک مدرسہ صولتیہ مکہ مکرمہ میں تدریسی خدمات انجام دینے کے بعد وطن واپس ہوئے۔ ضلع سرباز میں دینی مدرسہ قائم کرنے کے بعد جب زاہدان کے باشندوں نے انہیں وہاں مستقل رہائش اختیار کرنے کا مشورہ دیا، آپؒ نے 1955ء میں زاہدان کا رخ کیا اور آخری دم تک وہیں رہے۔ زاہدان میں انہوں نے متعدد مساجدو مدارس کے قیام یا تعمیرِ نو میں کردار ادا کیا۔ ان کی سب سے بڑی یادگار جامعہ دارالعلوم زاہدان ہے جس کے ساتھ جامع مسجد مکی واقع ہے۔ یہ ایران میں اہل سنت کے سب سے بڑا مدرسہ اور مسجد ہے۔ مولانا عبدالعزیز رحمہ اللہ کے بارے میں متعدد مقالے اور کتابیں چھپ چکی ہیں۔
مولانا دین محمد درکانی دامت برکاتہم متعدد نصابی و غیرنصابی کتابوں کے شارح اور مصنف یا مترجم ہیں جن میں اصول الشاشی، عرفان حافظ اور مثنوی معنوی شامل ہیں۔ موصوف جامعہ تعلیم القرآن شورشادی (ضلع زاہدان تحصیل کورین) کے بانی و مہتمم ہیں۔ مولانا درکانی دامت برکاتہم نے مولانا عبدالعزیز رحمہ اللہ کے بارے میں اپنے تاثرات کا اظہار ایک مقالے کی صورت میں کیا ہے جس کی ایک کاپی ’سنی آن لائن‘ ادارے کو موصول ہوئی ہے۔ اس کے بعض حصوں کو اردو میں ترجمہ کرکے اپنے قارئین کو پیش کررہے ہیں۔

پہلی ملاقات
مارچ 1964ء کو حصولِ علم کے غرض سے میں زاہدان شہر گیا اور اسی وقت پہلی دفعہ حضرت مولانا عبدالعزیز رحمہ اللہ سے ملاقات ہوئی۔ اس وقت ان کی داڑھی سیاہ اور سنت کے مطابق تھی، کچھ سفید بال بھی تھے۔ ان کا گھر مسجد نور کے ساتھ واقع تنگ گلی میں تھا۔ آپؒ سابق جامع مسجد (مسجد عزیزی) میں امام تھے۔ مسجد عزیزی کی عمارت کچھی تھی۔

اس وقت زاہدان میں صرف دو مولوی تھے؛ ایک مولانا عبدالعزیزاور دوسرے ہمارے استاد مولانا یارمحمد رحمہمااللہ تھے۔ دینی تعلیم کا سلسلہ صرف تین مسجدوں میں جاری تھا؛ مسجد عزیزی، سید حاجی مسجد (مسجد فاروقی اور سابق تبلیغی مرکزجس کے امام مولانا یارمحمد تھے) اور مسجد حسن خان جس کے امام و مدرس حاجی ملاعبدالرحمن مینگل تھے۔ ان مساجد کے طلبہ لوگوں کے گھروں سے چندہ کرکے دن رات کے کھانے کا بندو بست کرتے تھے۔

زاہدان میں نماز جمعہ دو جگہوں پر پڑھی جاتی تھی؛ مسجد عزیزی اور مسجد فاروقی میں۔ ان دونوں مساجد کی عمارتیں کچھی تھیں اور چھوٹی ہونے کے باوجود نمازیوں سے پر نہیں ہوتی تھیں۔ صرف مسجد عزیزی میں وعظ ہوتا اور عام لوگوں کی اصلاح و ارشاد کے لیے کوئی اور ذریعہ نہیں تھا۔ اس وقت کم عمری کی وجہ سے مولانا عبدالعزیز ؒ سے میرے تعلقات زیادہ نہیں تھے۔

پاکستان سے واپسی کے بعد
جب میں نے پاکستان میں اپنی تعلیم مکمل کی اور 1974ء میں حضرت مولانا عبدالعزیزؒ نے جامعہ دارالعلوم زاہدان کی بنیاد رکھی، تو اللہ کے فضل وکرم سے یہ روحانی تعلق دن بدن بڑھتا گیا۔ 1977ء میں جب میری تعلیم مکمل ہوئی، مولانا عبدالعزیز کی صحبت کا فیض زیادہ سے زیادہ اٹھانے کی سعادت حاصل ہوئی اور اس کے مثبت اثرات آج تک محسوس کررہاہوں۔ زندگی کے امور میں ان کی باتیں میرے لیے مشعل راہ ہیں اور فتنوں سے دور ایک پرسکون زندگی کو ان ہی کی دعاؤں اور صحبت کا نتیجہ سمجھتاہوں۔

یہ بات واضح ہے کہ زاہدان میں اگر دینی سرگرمیاں عروج پر ہیں اور بطورِ خاص جامعہ دارالعلوم زاہدان اور اس کے متعلقہ مدارس میں حضرت مولانا عبدالحمید اور ان کے ساتھیوں کی محنت سے ترقی نظر آرہی ہے، یہ سب مولانا عبدالعزیزؒ کی دیانت، اخلاص، سچائی اور پرخلوص دعاؤں کا نتیجہ ہے۔

جن اصحاب علم و بصیرت نے حضرت مولانا عبدالعزیز رحمہ اللہ کی روحانی، انفرادی، اجتماعی، مذہبی اور سیاسی زندگی کو قریب سے دیکھا ہے، وہ بخوبی جانتے ہیں کہ آپؒ علمائے ربانی کے حقیقی نمونہ اور ہند کے علمائے حقانی کے مظہر تھے۔ جو رنگ انہوں نے برصغیر کے علما سے لیا تھا، وہ آخری دم تک ان کے ساتھ رہا۔ آپ مادی مظاہر اور تمدن سے متاثر نہیں ہوئے۔ آپؒ نے اس پرفتن دور کی دلدل سے پاک و صاف دامن کے ساتھ گزرے اور تاریخ کے صفحات پر اپنے ذکر جمیل کو نقش کرکے اس فانی دنیا سے کوچ کرگئے۔
جاری ہے۔۔۔

دوسری قسط پڑھنے کے لیے یہاں کلک کریں


آپ کی رائے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

مزید دیکهیں