یورپین یونین آسیہ اندرابی کی فوری رہائی کیلئے کردار ادا کرے، پاکستان

یورپین یونین آسیہ اندرابی کی فوری رہائی کیلئے کردار ادا کرے، پاکستان

پاکستان نے یورپین یونین پر زور دیا ہے کہ وہ بھارت کی بدنام زمانہ تہاڑ جیل میں قید مقبوضہ کشمیر سے تعلق رکھنے والی انسانی حقوق کی کارکن اور سیاسی رہنما آسیہ اندرابی کی فوری رہائی کے لیے اپنا کردار ادا کرے۔
پاکستان کی جانب سے یہ مطالبہ بیلجیئم لکسمبرگ اور یورپین یونین کے لیے پاکستانی سفیر ظہیر اے جنجوعہ نے یورپین اداروں، یورپین پارلیمنٹ میں موجود تمام سیاسی گروپوں کے سربراہان اور یورپین یونین کے خصوصی نمائندہ برائے انسانی حقوق کو لکھے گئے اپنے ایک خط میں کیا۔
پاکستانی سفیر نے مطالبہ کیا کہ 18 جنوری 2021 کو ایک ناجائز عدالت سے محترمہ اندرابی کو سزا سنائے جانے کا امکان ہے۔ یورپین یونین اس خطرے کو روکنے کے لیے فوری کردار ادا کرے۔
پاکستان کی جانب سے تحریر کیے جانے والے اس خط میں مطلع کیا گیا ہے کہ محترمہ اندرابی کو مختلف اوقات میں 15 سال سے زائد غیر قانونی اور غیر انسانی طور پر آرمڈ فورسز اسپیشل پاور ایکٹ (AFSPA) اور پبلک سیفٹی ایکٹ (PSA) جیسے مکروہ اور غلامانہ قوانین کے تحت جبری زیر حراست رکھا گیا ہے۔ جس کا آغاز 1992 میں ہوا تھا جب انہیں اپنے 6 ماہ کے بیٹے اور شوہر سمیت گرفتار کیا گیا تھا۔ 1992 سے لیکر 2016 تک وہ قابض فورسز کے ہاتھوں متعدد بار جیل بھیجی جا چکی ہیں۔
اب بھارت نے آسیہ اندرابی کو ان کی دیگر دو ساتھیوں ناہیدہ نسرین اور فہمیدہ صوفی کے ساتھ UAPA ایکٹ کے تحت شرمناک مقدمے میں بے جا الزامات عائد کرتے ہوئے جان بوجھ کر معمول کے عدالتی عمل کو ایک طرف رکھ دیا ہے اور مقدمے کو تیزی سے نپٹایا جا رہا ہے۔ اس عمل کے ذریعے ان کے واضح طور پر بدنیتی پر مبنی ارادے اور عدالتی قتل کی زد میں آنے کے اشارے مل رہے ہیں۔
کیونکہ UAPA ایکٹ (جس کے تحت یہ مقدمہ چلایا جا رہا ہے) اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے بین الاقوامی معیارات سے کسی قسم کی مطابقت نہیں رکھتا۔
پاکستان کی جانب سے لکھے جانے والے اس خط میں اپنے مخاطبین کو مزید آگاہی فراہم کرتے ہوئے بتایا گیا ہے کہ محترمہ اندرابی نے انسانی حقوق کی محافظ اور خواتین کو با اختیار بنانے کی ایک پرجوش وکیل کے طور پر گذشتہ چار دہائیوں سے ہندوستان کے غیر قانونی زیر قبضہ جموں و کشمیر کے لوگوں کے لیے سماجی انصاف اور بنیادی آزادیوں کے حصول کے لیے انتھک محنت کی ہے۔
انہوں نے دختران ملت( DM) کے نام سے ایک تنظیم قائم کی جو بھارت کے غیر قانونی مقبوضہ جموں و کشمیر (IIOJK) میں خواتین کے حقوق کی سب سے بڑی تنظیم ہے۔
یہ تنظیم خاص طور پر قابض بھارتی فورسز کے ہاتھوں ہونے والے جنسی تشدد اور بد سلوکی کے خلاف کام کرتی ہے۔
پاکستانی سفیر نے اپنے خط میں مزید مطلع کیا کہ محترمہ اندرابی کو قید تنہائی میں رکھنے کے علاوہ انہیں جیل میں جسمانی اور نفسیاتی تشدد کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ جبکہ جیل میں کورونا وباء کے پھیلاؤ اور ان کی طبیعت خراب ہونے کے باوجود انہیں کم ترین انسانی حالات میں قید رکھا گیا ہے جہاں وہ اپنی سزا کی منتظر ہیں۔
پاکستان کی جانب سے لکھے جانے والے اس خط میں بتایا گیا کہ پاکستان نے اقوام متحدہ، او آئی سی، ایمنسٹی انٹرنیشنل سمیت انسانی حقوق کی بین الاقوامی تنظیموں کے ساتھ ملکر بھارت کی جانب سے کشمیری عوام کے ساتھ روا رکھی جانے ولی متعدد سنگین انتظامی اور انسانی حقوق کی پامالیوں پر روشنی ڈالی ہے۔
آگے چل کر اپنے خط میں سفیر پاکستان ظہیر اسلم جنجوعہ نے یورپین یونین اور دیگر تمام سے پر زور مطالبہ کیا کہ وہ بھارت پر زور دے کر اسے قائل کریں کہ وہ اس غیر قانونی اور شرمناک ٹرائل کو فوری طور پر روکے۔ محترمہ آسیہ اندرابی، ان کے شوہر اور ساتھیوں کے خلاف تمام بے بنیاد اور من گھڑت مقدمات کو واپس لے اور ان کی باعزت اور فوری رہائی کیلئے راہ ہموار کرے۔


آپ کی رائے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

مزید دیکهیں