ڈاکٹر خالد محمود سومرو شہید۔ شخصیت اور کردار

ڈاکٹر خالد محمود سومرو شہید۔ شخصیت اور کردار

جمعیت علمائے اسلام صوبہ سندھ کے سابق سیکریٹری جنرل، سابق سینیٹر، ہر دلعزیز رہنما علامہ ڈاکٹر خالد محمود سومرو کی شہادت کو 6 سال مکمل ہوگئے ہیں، مگر تا حال ان کا خونِ ناحق انصاف کے منتظر ہے۔ ان کی مظلومانہ شہادت کا ہائی پروفائل مقدمہ اے ٹی سی (انسداد دہشت گردی عدالت) سکھر میں سست روی کا شکار ہے اور اب تک قتل ناحق کے ذمے داروں کے خلاف قانونی کارروائی میں خاطرخواہ پیشرفت نہیں ہوسکی ہے۔ کیس میں نامزد چہ ملزمان اگرچہ گرفتار ہوچکے ہیں، مگر حضرت شہید کے مظلوم ورثا اور لاکھوں کارکنان مقدمے کی حتمی انصاف کی طرف پیشرفت کی راہ دیکھ رہے ہیں۔
حضرت علامہ ڈاکٹر خالد محمود سومرو کو 29 نومبر 2014ء کو سکھر کے علاقے گلشن اقبال میں واقع مسجد میں نماز فجر کے دوران مسلح افراد نے فائرنگ کرکے بے دردی سے شہید کردیا تھا۔ ملزمان کے خلاف سکھر سینٹرل جیل میں قائم انسداد دہشت گردی کی عدالت میں انسائیڈ کیس چل رہا ہے، قانون کے مطابق اے ٹی سی کسی بھی کیس کا فیصلہ کم سے کم 7 دن میں اور زیادہ سے زیادہ 3 ماہ کی مدت میں کرسکتی ہے، لیکن حضرت علامہ صاحب کی شہادت کا مقدمہ پچھلے 6 سالوں سے اعصاب شکن سست روی کا شکار ہے، اس مقدمے میں جے یو آئی سندھ کے ناظم عمومی اور علامہ ڈاکٹر خالد محمود سومرو شہید کے فرزند مولانا راشد محمود سومرو سمیت دیگر گواہوں، مجسٹریٹ اور سرکاری ڈاکٹر کے بیانات مکمل ہو چکے ہیں، جبکہ ایک گواہ، انویسٹی گیشن آفیسر اور اسلحہ برآمد کرنے والے اہلکاروں کے بیانات ہنوز ریکارڈ نہیں کیے جاسکے، اس لیے کہ اے ٹی سی میں مقدمے کی سماعت نہ چلنے کی وجہ سے ہر 15 دن میں تاریخ پر تاریخ دی جارہی ہے۔ حالانکہ ہائی پروفائل کیس ہونے کی وجہ سے اس کی سماعت روزانہ کی بنیاد پر ہونی چاہیے جو نہیں ہو رہی ہے۔ ملزمان کے وکلا کیس کو لٹکانے کیلئے اکثر غیر حاضر رہتے ہیں، جبکہ دوسری طرف اے ٹی سی کی سست روی کی وجہ سے کیس کیچوے کی رفتار سے چل رہا ہے۔
جے یو آئی کی طرف سے کیس کو ملٹری کورٹ منتقل کرنے کیلئے متعدد بار احتجاجی مظاہرے اور دھرنے دیے گئے لیکن حکومت سندھ اس کیس کو ملٹری کورٹ منتقل کرنے سے گریز پا ہے۔ اے ٹی سی میں ملزمان کی جانب سے ضمانت کی بار بار درخواستیں دائر کی گئیں جو عدالت نے خارج کردیں، سندھ ہائی کورٹ سکھر بینچ نے دوبار ملزمان کی ضمانت کی درخواست خارج کردی اور اے ٹی سی سکھر نے کیس تین سے 6 ماہ کے اندر نمٹانے کا حکم بھی دیا، مگر افسوس کی بات یہ ہے کہ کیس کا فیصلہ چہ ماہ کے اندر ہونا تو درکنار سالہا سال گزرنے کے باوجود مثبت پیشرفت ہنوز معدوم دکھائی دے رہی ہے، جو واضح طور پر سندھ ہائی کورٹ کی حکم عدولی اور توہین عدالت ہے۔ 2014ء میں اس وقت کے ایس ایس پی سکھر تنویر تینو نے شہید ڈاکٹر خالد محمود سومرو قتل کیس میں نماز ملزمان حنیف بھٹو، مشتاق مہر، الطاف جمالی، دریا جمالی، لطف اللہ جمالی اور سارنگ ٹوٹانی کو گرفتار کیا تھا جبکہ قتل میں استعمال ہونے والی کار اور اسلحہ بھی لاڑکانہ میں ملزم حنیف بھٹو کے قبضے سے برآمد ہوا۔ اس قدر واضح شواہد کے باوجود اس ہائی پروفائل کیس کو بلائنڈ کیس کی طرح چلانا سمجھ سے بالاتر اور انصاف میں ترجیح اور امتیاز کا واضح ثبوت ہے، جو بجائے خود انصاف کا قتل ہے۔
شہید علامہ ڈاکٹر خالد محمود سومرو سندھ دوست عالم دین اور بارسوخ مذہبی سیاسی رہنما تھے، ایم ایم اے کے پلیٹ فارم سے 2006ء سے 2012ء تک وہ سینیٹ آف پاکستان کے ممبر رہے۔ اس دوران علامہ خالد محمود سومرو نے کالاباغ ڈیم اور بھاشا ڈیم سمیت سندھ کے تمام حقوق اور عوامی مسائل کے ساتھ ساتھ اسلام کی سربلندی کے لیے بھرپور آواز اٹھائی۔ سندھ کے حقوق کے لیے وہ مسجد کے منبر سے بھی آواز اٹھاتے رہے اور ہر مسجد سے پارلیمنٹ تک ہر فورم پر انہوں نے دین اسلام اور باب الاسلام کا مقدمہ بڑی جرات و بہادری سے لڑا۔
ڈاکٹر خالد محمود سومرو نے ایم بی بی ایس کی ڈگری چانڈ کا میڈیکل کالج لاڑکانہ سے حاصل کی اور دینی تعلیم اپنے والد گرامی کے مدرسے میں حاصل کی۔ وہ مصر کے مختلف تعلیمی اداروں سے بھی فارغ التحصیل تھے۔ ڈاکٹر خالد محمود سومرو کی نماز جنازہ ملکی تاریخ کا ایک بڑا جنازہ تھا جس میں لاکھوں افراد نے شرکت کی اور بھیگی پلکوں، آہوں اور سسکیوں کے ساتھ الوداع کیا۔ شہید ڈاکٹر خالد محمود سومرو نے جمعیت علمائے اسلام کی ذیلی شاگرد تنظیم جے ٹی آئی کے پلیٹ فارم سے چانڈ کا میڈیکل کالج میں دوران تعلیم ہی سیاست کا آغاز کیا۔ ایم آر ڈی کی تحریک کے دوران جیل میں قید کاٹی، وہ سات بار جمعیت علمائے اسلام سندھ کے جنرل سکریٹری چنے گئے۔
سندھ کے حقوق کے لئے انہوں نے ہر محاذ پر جد و جہد کی۔ اس سلسلے میں سندھ کی قوم پرست جماعتیں بھی ان پر مکمل اعتماد کرتی تھیں اور ان کے قائدانہ کردار کو سلام پیش کرتی تھیں۔ ان پر اعتماد کا یہ عالم تھا کہ عالم دین ہونے کے باوجود ان کی ایک آواز پر تمام قوم پرست سیاسی قوتیں اکٹھی ہوجاتی تھیں۔ یہ شہید اسلام علامہ ڈاکٹر خالد محمود سومرو ہی تھے جو کالاباغ ڈیم کے خلاف چاروں صوبوں کے علمائے کرام سے فتوی لینے میں کامیاب رہے کہ دریائے سندھ پر کالاباغ ڈیم کی تعمیر غیرقانونی اور غیرشرعی ہے، دریائے سندھ پر پانی کا پہلا حق سندھیوں کا ہے، مولانا خالد محمود سومرو نے سندھ میں جے یو آئی کو منظم اور مضبوط کیا، کالاباغ ڈیم سمیت دیگر سندھ دشمن منصوبوں کے خلاف صف اول میں کردار ادا کیا۔ انہوں ن ے لاکھوں لوگوں کے ساتھ ملین مارچ اور ریلیاں نکالیں۔ ہر مکتب فکر میں ان کا احترام کیا جاتا تھا۔ شہید ڈاکٹر خالد محمود نے کئی بار انتخابات میں حصہ لیا۔ انہوں نے محترمہ بینظیر بھٹو شہید کے خلاف بھی بارہا الیکشن لڑا۔ ڈاکٹر خالد محمود سومرو عظیم دینی اسکالر ہونے کے ساتھ ادب اور شاعری سے بھی لگاؤ رکھتے تھے۔ انہوں نے کئی حمد و نظم اور نعتیں لکھیں۔
ڈاکٹر خالد محمود سومرو کی شہادت سے قبل بھی کئی بار ان پر قاتلانہ حملے کئے گئے۔ قاتلوں نے 29 نومبر 2014ء کو سکھر امن کانفرنس میں ان کی ریکی بھی کی تھی مگر سکیورٹی کی وجہ سے ناکام ہوئے اور بعد از اں گلشن اقبال سکھر کی مسجد میں موقع پا کر نماز فجر کے دوران انہیں شہید کردیا۔
جے یو آئی سندھ نے سکھر میں ڈاکٹر خالد محمود سومرو کی شہادت پر شہید اسلام و آزادی مارچ کانفرنس کا انعقاد کیا، جبکہ ان کی شہادت سے لے کر اب تک سندھ بھی میں قاتلوں اور ان کے سرپرستوں کو سزا دلوانے کیلئے ہر سطح پر پرامن احتجاجی مظاہروں کا اہتمام ہوتا رہا ہے۔ اس حوالے سے جے یو آئی سندھ کے سیکرٹری جنرل مولانا راشد خالد محمود سومرو اور مولانا ناصر خالد محمود سومرو کا کہنا ہے کہ 6 سال گزرنے کے باوجود شہید بابا کی شہادت کا کیس آہستہ آہستہ چل رہا ہے اور تاریخ پر تاریخ دی جارہی ہے۔ انصاف میں تاخیر انصاف کی موت کے مترادف ہے۔ ان کا مطالبہ ہے کہ قانون کے مطابق کیس کو فوری طور پر آگے بڑھا کر علامہ خالد محمود سومرو کے قاتلوں کو کیفر کردار تک پہنچایا جائے۔


آپ کی رائے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

مزید دیکهیں