درود شریف کے فضائل و برکات

درود شریف کے فضائل و برکات

لفظ درود، نہ تو عربی کا ہے اور نہ ہی اردو کا لفظ ہے، بلکہ یہ لفظ درحقیقت فارسی کا ہے جس کے معنی ہیں ورد کرنے والی چیز، البتہ صلوۃ عربی کا لفظ ہے جس کے معنی ہیں مدح و ثنا، تعریف و توصیف، رحمت و غیرہ، اللہ جل شانہ کا فرمان ہے: ”إِنَّ اللَّـهَ وَمَلَائِكَتَهُ يُصَلُّونَ عَلَى النَّبِيِّ ۚ يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا صَلُّوا عَلَيْهِ وَسَلِّمُوا تَسْلِيمًا“ قرآن کریم کی اس آیت مبارکہ میں اللہ کی طرف جو صلوۃ کی نسبت کی ہے وہ کچھ یوں ہے، اللہ جل شانہ کا فرشتوں کے سامنے اپنے محبوب محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی مدح و ثنا کرنا ہے اور اپنی رحمت خاص کا نازل فرمانا ہے۔ فرشتوں کی طرف صلوۃ کی نسبت آقائے دو جہاں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے دعائے رحمت کرنا ہے اور ایمان والوں کی طرف سے صلوۃ کا مفہوم اپنے پیارے و آخری نبی محمد مجتبی علیہ السلام کے لیے اپنی زبانوں سے دل سے تعریف و توصیف و رحمت کی دعا کرنا ہے، رحمت کا محبت کا سلسلہ رکتا نہیں بلکہ یہ تو اب تک ہے اور قیامت تک حکم خداوندی چلتا رہے گا۔
”يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا صَلُّوا عَلَيْهِ وَسَلِّمُوا تَسْلِيمًا“ فرما کر یہ مہر ثبت کردی گئی کہ میرے محبوب کا ذکر ہر جگہ ہو ہر نماز میں، اذان میں، مساجد میں، خطبوں میں، محفلوں میں، مجالس میں، مدرسوں میں، میناروں میں ہو، گویا پورے عالَم میں محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کا نام گونجتا رہے، درود ہم سب کے آقا سید المرسلین و خاتم النبین محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے ہے، جنہوں نے گمراہوں کو وادیٗ ضلالت سے نکال کر منزل ہدایت پر پہنچایا۔ درود پڑھنا افضل ترین عمل ہے۔ درود و سلام وہ واحد عبادت ہے جو ہر حال میں قبول و منظور ہوتی ہے۔ گناہوں کا کفارہ ہے، قبولیت دعا کی ضمانت ہے، دین و دنیا کی تمام مہمات میں سریع التاثیر ہے۔

درود شریف کی برکت کا ایک واقعہ
حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کی خلافت کے زمانہ میں ایک شخص مالدار تھا، لیکن اس کا کردار اچھا نہیں تھا۔ درود پاک سے اسے بڑی محبت تھی، درود پاک سے کبھی غافل نہیں رہتا تھا۔ جب اس کا آخری وقت آیا تو اس کا چہرہ سیاہ ہوگیا اور بہت زیادہ تنگی لاحق ہوئی۔ اسی حالت میں اس نے ندا دی:
”اے اللہ کے محبوب! میں تو درود پاک کی کثرت کرتا ہوں۔“
اچانک ایک دم ایک پرندہ آسمان سے نازل ہوا اور اپنے پر اس شخص پر پھیر دیئے۔ فورا چہرہ نور سے لبریز ہوگیا۔ کستوری کی خوشبو مہک گئی اور وہ کلمہ پڑھتا ہوا دنیا سے رخصت ہوا۔ اسی رات کو ایک شخص نے خواب میں دیکھا کہ وہ زمین اور آسمان کے درمیان چل رہا ہے اور یہ آیت مبارکہ پڑھ رہا ہے: إِنَّ اللَّـهَ وَمَلَائِكَتَهُ يُصَلُّونَ عَلَى النَّبِيِّ ۚ يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا صَلُّوا عَلَيْهِ وَسَلِّمُوا تَسْلِيمًا. (درۃ الناصحین ص172)
”مواہب اللدنیه“ میں امام قسطانی رحمہ اللہ نے روایت کیا ہے کہ قیامت کے دن کسی مومن کی نیکیاں کم ہوجائیں گی اور گناہوں کا پلڑا بھاری ہوجائے گا، تو مومن پریشان کھڑا ہوگا۔ اچانک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میزان پر تشریف لائیں گے اور چپکے سے اپنے پاس سے بند پرچہ مبارک نکال کر اس کے پلڑے میں رکھ دیں گے، جسے رکھتے ہی اس کی نیکیوں کا پلڑا وزنی ہوجائے گا۔ اس شخص کو پتہ ہی نہیں چلے گا کہ یہ کون تھے جو اس کا بیڑا پار کر گئے۔ وہ پوچھے گا آپ کو ن ہیں؟ اتنے سخی، اتنے حسین و جمیل، آپ نے مجھ پر کرم فرما کر مجھے جہنم کا ایندھن بننے سے بچالیا اور وہ کیا پرچہ تھا جو آپ نے میرے اعمال میں رکھا؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہوگا: ”میں تمہارا نبی ہوں اور یہ پرچہ درود ہے جو تم مجھ پر بھیجا کرتے تھے۔“

آپ علیہ السلام انسانیت کے سب سے بڑے محسن
اس کائنات میں ایک مومن کا سب سے بڑا محسن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سوا کوئی نہیں ہوسکتا۔ آپ علیہ السلام کے جتنے احسانات اس امت پر ہیں، خاص طور سے ان لوگوں پر جنہیں اللہ جل شانہ نے ایمان کی دولت سے نوازا ہے، اتنے احسانات کسی پر نہیں۔ خود آپ علیہ السلام کا یہ حال تھا کہ اپنی امت کی فکر میں دن رات گھلتے رہتے تھے۔ ایک صحابی رضی اللہ عنہ آپ علیہ السلام کی حالت کو بیان کرتے فرماتے ہیں: کان دائم الفکر، متواصل الاحزان۔ جب بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھتا ہوں تو ایسا معلوم ہوتا ہے کہ آپ کسی فکر میں ہیں اور کوئی غم طاری ہے۔ علماء فرماتے ہیں کہ یہ فکر اور غم اس بات کا نہیں کہ آپ کو تجارت یا مال و دولت میں نقصان ہورہا تھا، بلکہ یہ فکر و غم اس امت کے لیے تھا کہ میری امت کسی طریقے سے جہنم کی آگ سے بچ جائے اور اللہ کی رضا حاصل ہوجائے۔ قربان ہوجائیں ہماری جانیں اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ہمارے بارے میں فکر کرنے پر ”اللھم صلی علی محمد النبی الامی و علی اٰله وسلم تسلیما۔“

درود شریف لکھنے اور پڑھنے کا اجر عظیم
حدیث مبارکہ میں ہے کہ اگر زبان سے ایک مرتبہ درود پڑھے تو ایسے شخص پر اللہ دس رحمتیں نازل فرماتے ہیں اور دس نیکیاں اس کے نامہ اعمال میں لکھتے ہیں اور دس گناہ معاف فرماتے ہیں، اگر کوئی تحریر میں صلی اللہ علیہ والہ و سلم لکھے تو حدیث مبارکہ میں آتا ہے کہ جب تک وہ تحریر باقی رہے گی اس وقت تک ملائکہ مسلسل اس پر درود بھیجتے رہیں گے۔ (معجم الاوسط الطبرانی)
معلوم ہوا کہ تحریر میں صلی اللہ علیہ وسلم لکھا تو اب جو شخص بھی اس تحریر کو پڑھے گا، اس کا ثواب لکھنے، پڑھنے والے دونوں کو ملے گا اور ایسے عمل سے وہ اپنے رب کے ہاں مقربین میں شامل ہوں گے۔ لہذا، جو تحریراً مختصراً پیارے نبی علیہ السلام کے مان کے ساتھ ’ص‘ یا ’صلعم‘ لکھتے ہیں وہ جان لیں کہ وہ ایسی برکت و ثواب سے محروم رہتے ہیں، کیونکہ یہ لوگ اپنے نبی آخر الزمان پر درود لکھنے میں اختصار سے کام لیتے ہیں، تو ایسی صورت میں قارئین درود نہیں پڑھتے۔

درود شریف اور قبولیت دعا
مفتی محمد تقی عثمانی صاحب دامت برکاتہم اصلاحی خطبات میں ایک جگہ رقم طراز ہیں کہ میرے شیخ حضرت ڈاکٹر عبدالحی صاحب رحمۃ اللہ علیہ نے ایک مرتبہ فرمایا:
جب آدمی کو کوئی دکھ اور پریشانی ہو یا کوئی بیماری ہو یا کوئی ضرورت اور حاجت ہو تو اللہ تعالی سے دعا تو کرنی چاہیے کہ یا اللہ! میری اس حاجت کو پورا فرما دیجئے۔ میری اس پریشانی اور بیماری کو دور فرما دیجئے، لیکن ایک طریقہ ایسا بتاتا ہوں کہ اس کے برکت سے اللہ تعالی اس کی حاجت کو ضرور ہی پورا فرمادیں گے۔ وہ یہ ہے کہ کوئی پریشانی ہو، اس وقت درود شریف کثرت سے پڑھیں، اس درود شریف کی برکت سے اللہ تعالی اس پریشانی کو دور فرمادیں گے۔

حضور علیہ السلام کی دعائیں حاصل کریں
دلیل اس کی یہ ہے کہ سیرت طیبہ میں یہ بات لکھی ہوئی ہے کہ جب کوئی شخص حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں کوئی ہدیہ لاتا تو آپ اس بات کی کوشش فرماتے کہ اس کے جواب میں اس سے بہتر تحفہ اس کی خدمت میں پیش کریں، تا کہ اس کی مکافات ہوجائے، ساری زندگی آپ علیہ السلام نے اس پر عمل فرمایا۔ یہ درود شریف بھی حضور اقدس علیہ السلام کی خدمت میں ہدیہ ہے اور چونکہ ساری زندگی میں آپ کا یہ معمول تھا کہ جواب میں اس سے بڑھ کر ہدیہ دیتے تھے، تو آج جب ملائکہ درود شریف آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پہنچائیں گے کہ آپ کے فلاں امتی نے آپ کی خدمت میں درود شریف کا یہ تحفہ بھیجا ہے، تو غالب گمان یہ ہے کہ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم اس ہدیہ کا بھی جواب دیں گے، وہ جوابی ہدیہ یہ ہوگا کہ وہ اللہ تعالی سے دعا کریں گے کہ جس طرح اس بندے نے مجھے ہدیہ بھیجا، اے اللہ! اس بندے کی حاجتیں بھی آپ پوری فرمادیں۔
اب اس وقت ہم لوگ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں جا کر یہ نہیں کہہ سکتے کہ آپ ہمارے حق میں دعا فرمادیجئے، دعا کی درخواست کرنے کا تو کوئی راستہ نہیں ہے۔ ہاں! ایک راستہ ہے، وہ یہ کہ ہم درود شریف کثرت سے بھیجیں، جواب میں حضور اقدس علیہ السلام ہمارے حق میں دعا فرمائیں گے۔ لہذا، درود شریف پڑھنے کا یہ عظیم فائدہ ہمیں حاصل کرنا چاہئے۔ اسی وجہ سے بہت سے بزرگوں سے منقول ہے کہ وہ بیماری اور دکھ کی حالت میں درود شریف کی کثرت کیا کرتے تھے۔ اس لیے دن بھر میں کم از کم سو مرتبہ درود شریف پڑھ لیا کریں۔ اگر پورا درود ابراہیمی پڑھنے کی توفیق ہوجائے تو بہت اچھا ہے، ورنہ مختصر درود پڑھ لیں:
۱۔ اللھم صلی علی محمدٍ النبی الامی و علی آله و اصحابه و بارک و سلم۔
اور مختصر کرنا چا ہو تو یہ پڑھ لو:
۲۔ اللھم صل علی محمد و سلم۔
یا ”صلی اللہ علیه وسلم“ پڑھ لیں، لیکن سو مرتبہ ضرور پڑھ لیں، اس کی برکت سے اجر و ثواب کے ذخیرے بھی جمع ہوجائیں گے اور ان شاء اللہ! اللہ کی رحمت سے بگڑے کام بھی سنور جائیں گے۔
(اصلاحی خطبات، ج۶، ص93)


آپ کی رائے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

مزید دیکهیں