مولانا عادل کی شہادت پر سیاسی اور مذہبی رہنماؤں کی مذمت

مولانا عادل کی شہادت پر سیاسی اور مذہبی رہنماؤں کی مذمت

سیاسی اور مذہبی رہنماؤں نے وفاق المدارس کے سربراہ مولانا سلیم ﷲ خان کے صاحبزادے مولانا ڈاکٹر عادل خان کی شہادت کی مذمت کرتے ہوئے قاتلوں کی فوری گرفتاری کا مطالبہ کیا ہے۔
وفاقی وزیر مذہبی امور نور الحق قادری نے کہا ہےکہ مولانا عادل اور ڈرائیور کی شہادت دشمنان وطن و دین کی بزدلانہ کوشش ہے۔ حملہ آوروں کو گرفتار کر کے نشان عبرت بنایا جائے گا۔
جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن کا کہنا ہے کہ مولانا عادل خان بڑے عالم دین تھے، محب وطن پاکستانی، خوش اخلاق اور ملنسار دوست سے محروم ہوگئے۔
مولانا فضل الرحمٰن نے ڈاکٹر عادل کے قاتلوں کی فوری گرفتاری کا مطالبہ کیا ہے۔
ادھر جمعیت علمائے اسلام سندھ کے سیکریٹری جنرل مولانا راشد سومرو نے کہا ہے کہ مولانا عادل جید عالم اور امت مسلمہ کا قابل فخر سرمایہ تھے۔
جماعت اسلامی کراچی کے امیر حافظ نعیم نے کہا کہ مولانا عادل کے قتل کا مقصد فرقہ واریت کو ہوا دینا ہے۔
مجلس وحدت مسلمین کے سیکریٹری علامہ باقر عباس نے کہا کہ مولانا عادل کا قتل شہر کا امن تباہ کرنے کی سازش ہے، سندھ حکومت واقعے میں ملوث دہشت گردوں کو فوری گرفتار کرے۔
سیکرٹری جنرل شیعہ علماء کونسل علامہ عارف حسین واحدی نے بھی مولانا عادل خان کے قتل کی مذمت کی ہے۔
امیر جماعت اسلامی پاکستان سراج الحق اور رہنما جمعیت علمائے اسلام قاری محمد عثمان نے بھی مولانا عادل کے قتل کی مذمت کی ہے۔

مولانا عادل کا قتل امن خراب کرنے کی کوشش ہے، آرمی چیف
آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے معروف عالم دین مولانا عادل کے قتل کی مذمت اور اظہار افسوس کیا ہے۔
آرمی چیف نے کہا کہ مولانا عادل کا قتل پاکستان دشمنوں کی جانب سے امن خراب کرنے کی کوشش ہے۔
آرمی چیف نے مجرموں کو کٹہرے میں لانے کے لیے سول انتظامیہ کی ہر ممکن مدد کی ہدایت کی۔
ادھر وزیر اعظم عمران خان نے بھی مولانا عادل کے قتل کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ بھارت پاکستان میں علما کو قتل کرا کے شیعہ سنی فرقہ وارانہ تنازع پیدا کرنا چاہتا ہے۔
علاوہ ازیں گورنر سندھ عمران اسماعیل نے واقعے کی رپورٹ طلب کرلی جبکہ وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کی جانب سے بھی مولانا عادل کے قتل کی مذمت کی گئی ہے۔

کراچی میں شہید کیے گئے مولانا عادل خان کون تھے؟
کراچی کے علاقے شاہ فیصل کالونی میں شہید کیے گئے مولانا ڈاکٹر محمد عادل خان کی عمر 63 سال تھی، مرحوم عالم اسلام کے معروف علمی شخصیت شیخ الحدیث مولانا سلیم اللّٰہ خان کے بڑے صاحبزادے تھے۔ 1973 میں دینی درسگاہ جامعہ فاروقیہ سے ہی سند فراغت حاصل کی، کراچی یونیورسٹی سے 1976 میں بی اے ہیومن سائنس، 1978میں ایم اے عربی اور 1992 میں اسلامک کلچر میں پی ایچ ڈی کی، 1980ء( اردو انگلش اور عربی ) میں چھپنے والے رسالے الفاروق کے تاحال ایڈیٹر رہے۔
تحریک سواد اعظم میں اپنے والد محترم مولانا سلیم اللّٰہ خان کے شانہ بشانہ رہے، 1986ء سے 2010 تک جامعہ فاروقیہ کراچی کے سیکرٹری جنرل رہے اور اسی دوران آپ نے اپنے والد سے مل کر جامعہ کے بہت سے تعلیمی و تعمیری منصوبوں کی تکمیل کی، پھر کچھ عرصہ امریکا میں مقیم رہے، جہاں ایک بڑا اسلامی سینٹر قائم کیا۔
مولانا ڈاکٹر محمد عادل خان نے ملائیشیا کولالمپور کی مشہور یونیورسٹی میں 2010ء سے 2018 تک کلیۃ معارف الوحی اور انسانی علوم میں بطور پروفیسر خدمات انجام دیں۔
2018 میں ریسرچ و تصنیف و تحقیق میں ملائیشیا ہائیر ایجوکیشن کی جانب سے فائیو اسٹار رینکنگ ایوارڈ سے نوازا گیا، یہ ایوارڈ آپ کو ملائیشیا کے صدر کے ہاتھوں دیا گیا۔ وفاق المدارس العربیہ کے مرکزی کمیٹی کے سینئر رکن اور وفاق المدارس کی مالیات نصابی اور دستوری کمیٹی جیسی بہت سی اہم کمیٹیوں کے چیئرمین بھی رہ چکے ہیں۔
مولانا ڈاکٹر عادل خان کو اردو انگلش اور عربی سمیت کئی زبانوں پر عبور حاصل تھا، وہ بہترین معلم، خطیب اور ادیب ہونے کے ساتھ ساتھ علوم القرآن، علوم الحدیث، تعارف اسلام، اسلامی دنیا، اسلامی معاشیات، اخلاقیات فقہی مسائل آیات احکام القرآن اور احکام فی الاحادیث، مقاصد شریعہ، تاریخ اسلام، خاص کر تاریخ پاکستان اور اردو و عربی ادب جیسے موضوعات پر عبور رکھتے تھے۔
مولانا عادل خان نے پسماندگان میں مولانا مفتی محمد انس عادل، مولانا عمیر، مولانا زبیر، مولانا حسن، ایک بیٹی، بیوہ، دو بھائی مولانا عبیداللّٰہ خالد اور عبدالرحمٰن سوگوار میں چھوڑے، دو بیٹے مولانا زبیر اور مولانا حسن اور ایک بیٹی ملائیشیا میں مقیم ہیں۔
مولانا عادل خان 2017 ء میں والد مولانا سلیم اللّٰہ خان رحمۃ اللّٰہ تعالیٰ علیہ کے انتقال کے بعد پاکستان واپس آئے دینی درسگاہ جامعہ فاروقیہ کی دونوں شاخوں کا نظم و نسق سنبھالا اور شیخ الحدیث کے عہدے پر فائز ہوئے، بعدازاں جامعہ فاروقیہ شاہ فیصل اپنے بھائی مولانا عبیداللّٰہ خالد کے حوالے کرکے اپنی تمام تر توجہ جامعہ فاروقیہ حب چوکی پر مرکوز کی جس کو وہ ایک جدید خالص عربی پر مبنی تعلیمی ادارہ اور یونیورسٹی بنانا چاہتے تھے، آپ جامعہ فاروقیہ شاہ فیصل کے سرپرست اور جامعہ فاروقیہ حب چوکی کے مہتمم تھے۔

واضح رہے کہ وفاق المدارس کے سربراہ مولانا سلیم ﷲ خان کے صاحبزادے مولانا ڈاکٹر عادل خان مہتمم جامعہ فاروقیہ کراچی و رکن مجلس عاملہ وفاق المدارس العربیہ پاکستان اور ان کے ساتھی گزشتہ روز شاہ فیصل کالونی میں قاتلانہ حملے میں جاں بحق ہوگئے تھے۔


آپ کی رائے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

مزید دیکهیں