آذربائیجان، آرمینیا تنازع: روس میں ہونے والے مذاکرات کامیاب، دونوں جنگ بندی پر اتفاق

آذربائیجان، آرمینیا تنازع: روس میں ہونے والے مذاکرات کامیاب، دونوں جنگ بندی پر اتفاق

آرمینیا اور آذربائیجان نے متنازع نوگورنو قرہباخ خطے میں عارضی جنگ بندی کا اعلان کر دیا ہے۔
روس کے وزیرِ خارجہ سرجی لیوروو نے ماسکو میں 10 گھنٹے طویل مذاکرات کے بعد اس معاہدے کا اعلان کیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ اس کے بعد دونوں ممالک کے درمیان باضابطہ مذاکرات کا آغاز ہو گا۔
اب تک دونوں ممالک کے درمیان 27 ستمبر سے شروع ہونے والی اس کشیدگی کے باعث 300 سے زیادہ افراد ہلاک ہو چکے ہیں جبکہ ہزاروں افراد نقل مکانی کرنے پر مجبور ہوئے ہیں۔
معاہدے کے مطابق دونوں ممالک کے درمیان سنیچر کو مقامی وقت کے مطابق دن 12 بجے فائر بندی عمل میں آئے گی تاکہ دونوں اطراف سے قیدیوں اور لاشوں کا تبادلہ کیا جا سکے۔
واضح رہے کہ ناگورنو قرہباخ کو بین الاقوامی طور پر آذربائیجان کا حصہ تسلیم کیا جاتا ہے لیکن سنہ 1994 میں دونوں ممالک کے درمیان جنگ ختم ہونے کے بعد سے اس کا حکومتی انتظام آرمینیائی نسل کے مقامی افراد کے پاس ہے۔
حالیہ برسوں میں ناگورنو قرہباخ پر آرمینیا اور آذربائیجان کے درمیان ہونے والی یہ سخت ترین لڑائی ہے جس میں دونوں ممالک نے ایک دوسرے پُرتشدد کارروائیوں کے الزامات لگائے ہیں۔
دونوں ممالک سوویت یونین کے خاتمے سے قبل اس کے زیرِ انتظام تھے اور ان دونوں نے حالیہ کشیدگی کی ذمہ داری ایک دوسرے پر عائد کی ہے۔
روس کا آرمینیا میں ایک فوجی اڈہ ہے جبکہ دونوں ممالک تنظیم کلیکٹو سکیورٹی ٹریٹی آرگنائزیشن (سی ایس ٹی او) کے رکن بھی ہیں۔ تاہم ماسکو کے آذربائیجان کے ساتھ بھی اچھے روابط ہیں۔

خطے کی تازہ ترین صورتحال کیا ہے؟
جمعے کے روز آرمینیا کی وزارتِ دفاع کی جانب سے سامنے آنے والے بیان کے مطابق ماسکو میں ہونے والے مذاکرات کے باوجود پورا دن جھڑپیں جاری رہیں۔
جمعرات کے روز آرمینیا نے الزام عائد کیا تھا کہ آذربائیجان نے متنازع علاقے ناگورنو قرہباخ میں جاری لڑائی کے دوران ایک تاریخی گرجا گھر کو گولہ باری کا نشانہ بنایا ہے۔
تصاویر میں شوشا شہر کے ہولی سیویئر گرجا گھر کے اندر اور باہر ہونے والے نقصان کو دیکھا جا سکتا ہے۔
دوسری جانب آذربائیجان نے الزام عائد کیا تھا کہ اس کے دوسرے سب سے بڑے شہر گینجہ اور گوران بائے کے علاقے میں آرمینی فوج نے گولہ باری کی ہے جس میں کم از کم ایک شہری ہلاک ہو گیا ہے۔


آپ کی رائے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

مزید دیکهیں