دارالعلوم دیوبند کا سلسلہ سند و استناد

دارالعلوم دیوبند کا سلسلہ سند و استناد

برصغیر میں جب مسلمانوں کے کاروان شوکت پر برطانوی سامراج نے شب خوں مارا، تو حکیم مطلق جل شانہ نے اسلامی تعلیمات و احکام اور تہذیب و ثقافت کو بچانے کے لیے شاہ ولی اللہ محدث دہلوی اور ان کی اولاد و احفاد کو آگے کردیا، ان بزرگوں کے سامنے دو منزلیں تھیں: ایک یہ کہ مسلمانوں کی لٹی شوکت کیسے واپس لی جائے۔ دوسری یہ کہ سیاسی تنزل کے اس دور میں اسلامی علوم و احکام کی گرتی دیوار کو کس طرح سہارا دیا جائے۔ پہلی منزل تک پہنچنے کے لیے محدث دہلوی رحمہ اللہ نے معاشی انقلاب، صحابہ سے انتساب اور قوم کو جہد و جہاد کی راہ دکھائی، ان تینوں امور کو واضح کرنے کی غرض سے حجۃ اللہ البالغہ، مصفّی و مسویٰ اور ازالۃ الخفاء جیسی بلند پائی کتابیں لکھیں اور ان کے پوتے شاہ اسماعیل دہلوی رحمہ اللہ نے حضرت سید احمد شہید دہلوی رحمہ اللہ اور حضرت شاہ عبدالحئی بڈھانوی کے ساتھ عملاً جہاد میں شرکت کی۔
دوسری منزل تک پہنچنے کے لیے ان محدثین دہلی نے قرآن و حدیث کے درس اور اسلامی علوم و فنون کی اشاعت سے اسلامی اعمال و اخلاق کی متزلزل دیوار کو سہارا دیا؛ چناں چہ عین اس وقت میں جب کہ سید احمد شہید اپنے جاں باز رفقاء کے ساتھ میدان کارزار میں دادِ شجاعت دے رہے تھے، حضرت شاہ عبدالعزیز کے نواسے اور تلمیذ و جانشین دہلی کی مسندِ تدریس پر قال اللہ و قال الرسول کا غلغلہ بلند کیے ہوئے تھے۔ دارالعلوم دیوبند اسی علم و فکر کا وارث اور محدثین دہلی کے اسی خاندان سے وابستہ ہے اور آج برصغیر ہند و پاک اور بنگلہ دیش میں اہل سنت والجماعت کا مرکز ثقل یہی دارالعلوم اور اس سے وابستہ علمائے دیوبند ہیں۔
مسلک دیوبند درحقیقت فکر و عمل کے اس طریقے کا نام تھا جو دارالعلوم دیوبند کے بانیوں اور اس کے مستند اکابر نے اپنے مشائخ سے سند متصل کے ساتھ حاصل کیا تھا۔ جس کا سلسلہ حضرات صحابہ رضی اللہ عنہم و تابعین رحمہم اللہ سے ہوتا ہوا سرکار رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم سے جڑا ہوا ہے۔ یہ فکر و اعتقاد کا ایک مستند طرز تھا، یہ اعمال و اخلاق کا ایک مثالی نظام تھا۔ یہ ایک معتدل مزاج و مذاق تھا جو صرف کتاب پڑھنے یا سند حاصل کرنے سے نہیں بلکہ اس مزاج میں رنگے ہوئے حضرات کی صحبت سے ٹھیک اسی طرح حاصل ہوسکتا ہے جس طرح صحابہ کرام نے سرکار دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم سے، تابعین رحمہم اللہ نے حضرات صحابہ رضی اللہ عنہم سے اور ان کے مستند شاگردوں نے تابعین رحمہم اللہ سے حاصل کیا تھا۔

دارالعلوم کا سلسلہ سند
دارالعلوم دیوبند کا سلسلہ سند مسندِ ہند شاہ ولی اللہ محدث دہلوی رحمہ اللہ سے گزرتا ہوا نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم سے جا ملتا ہے دارالعلوم اور جماعت دیوبندی کے مورثِ اعلیٰ حضرت شاہ ولی اللہ رحمہ اللہ ہی ہیں جن کے علمی و فکری منہاج و طریق پر منتسبین دارالعلوم اور بالفاظ واضح دیوبندی مکتب فکر کی تشکیل ہوئی ہے۔ اس لیے بحمداللہ دیوبندی مکتب فکر کوئی نوپید جماعت نہیں بلکہ علمی، دینی اور سیاسی احکام و امور میں علمائے دیوبند مسند ہند شاہ ولی اللہ کے توسط سے سلف صالحین سے پوری طرح مربوط ہیں۔
حجۃ الاسلام حضرت مولانا محمد قاسم نانوتوی قدس سرہ نے ولی اللہی سلسلہ کے تلمذ سے اس رنگ کو نہ صرف اپنایا جو انھیں ولی اللہی خاندان سے ورثہ میں ملا تھا بلکہ مزید تنور کے ساتھ اس کے نقش و نگار میں اور رنگ بھرا۔ وہی منقولات جو حکمت ولی اللہی میں معقولات کے لباس میں جلوہ گر تھے، حکمت قاسمیہ میں محسوسات کے لباس میں جلوہ گر ہوگئے۔ پھر آپ کے سہل ممتنع انداز بیان نے دین کی انتہائی گہری حقیقتوں کو جو بلاشبہ علم لدنی کے خزانہ سے ان پر بالہام غیب منکشف ہوئیں، استدلالی اور لمیاتی رنگ میں آج کی خوگر محسوس یا حس پرست دنیا کے سامنے پیش کردیا۔ اور ساتھ ہی اس خاص مکتب فکر کو جو ایک خاص طبقہ کا سرمایہ اور خاص حلقہ تک محدود تھا، دارالعلوم دیوبند جیسے ہمہ گیر ادارہ کے ذریعہ ساری اسلامی دنیا میں پھیلا دیا۔ اس لیے کہا جاسکتا ہے کہ ولی اللہی مکتب فکر کے تحت دیوبندیت درحقیقت ’قاسمیت‘ یا قاسمی طرز فکر کا نام ہے۔
حضرت مولانا محمد قاسم نانوتوی قدس سرہ کے انتقال کے بعد اس دارالعلوم کے سرپرست قطب ارشاد حضرت مولانا رشید احمد گنگوہی قدس سرہ نے قاسمی طرز فکر کے ساتھ دارالعلوم کی تعلیمات میں فقہی رنگ بھرا، جس سے اصول پسندی کے ساتھ فروع فقہیہ اور جزئیاتی تربیت کا قوام بھی پیدا ہوا۔ اور اس طرح فقہ اور فقہاء کے سرمایہ کا بھی اس میراث میں اضافہ ہوگیا۔ ان دونوں بزرگوں کے بعد دارالعلوم کے اولین صدر مدرس جامع العلوم اور شاہ عبدالعزیز ثانی حضرت مولانا محمد یعقوب قدس سرہ نے دارالعلوم کی تعلیمات میں عاشقانہ اور والہانہ جذبات کا رنگ بھرا، جس سے صہبائے دیانت دو آتشہ ہوگئی۔
پھر دارالعلوم دیوبند کے سرپرست ثالث اور حضرت نانوتوی رحمہ اللہ کے تلمیذ خاص حضرت مولانا محمود حسن قدس سرہ صدرالمدرسین دارالعلوم دیوبند ان تمام علوم و فیوض کے محافظ ہوئے۔ انھوں نے چالیس سال دارالعلوم کی صدارت تدریس کی مسند سے علوم و فنون کو تمام منطقہائے اسلامی میں پھیلایا اور ہزارہا تشنگان علوم ان کے دریائے علم سے سیراب ہوکر اطراف عالم میں پھیل گئے۔

اکابر دارالعلوم کا سلسلہ سند حدیث
تمام اکابرین دارالعلوم دیوبند کا سند حدیث کا سلسلہ خاندان ولی اللہی سے جڑا ہوا ہے۔ اکابرین دارالعلوم دیوبند کے استاذ شاہ عبدالغنی المجددی رحمہ اللہ ہیں۔ جس کے بعد ترتیب اس طرح ہے: الشاہ عبدالغنی المجددی عن الشاہ محمد اسحاق الدہلوی عن الشاہ عبدالعزیز المحدث الدہلوی عن مسند الہند الشاہ ولی اللہ المحدث الدہلوی رحمہم اللہ تعالی۔
حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلوی رحمہ اللہ سے اوپر کا سلسلہ تمام مشہور و متدوال کتب حدیث کے مصنفین کرام تک پہنچتا ہے اور پھر وہاں سے سند متصل کے ساتھ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تک جاملتا ہے۔
مثال کے طور پر بخاری کا سلسلہ سند اس طرح ہے:
(۱) الشاہ ولی اللہ المحدث الدہلویؒ (۲) الشیخ ابوطاہر المدنیؒ (۳) الشیخ ابراہیم الکردیؒ (۴) الشیخ احمد القشاشیؒ (۵) الشیخ احمد بن عبدالقدوس الشناویؒ (۶) الشیخ شمس الدین محمد بن الرملیؒ (۷) شیخ الاسلام زکریا بن محمد الانصاریؒ (۸) الشیخ احمد بن حجر العسقلانیؒ (۹) الشیخ ابراہیم بن احمد التنوخیؒ (10) الشیخ احمد بن ابی طالب الحجارؒ (11) الشیخ حسین بن مبارک الزبیدیؒ (12) الشیخ عبدالاول بن عیسی الہرویؒ (13) الشیخ عبدالرحمن بن مظفر الداؤدیؒ (14) الشیخ عبداللہ بن احمد السرخسیؒ (15) الشیخ محمد بن یوسف الفربریؒ (16) الشیخ محمد بن اسماعیل البخاری (رحمہم اللہ)

اکابر دارالعلوم دیوبند کا سلسلہ احسان و سلوک
علمائے دیوبند احسان و تصوف یا اہل اللہ اور اولیائے کرام کے سلاسل اور طرق تربیت کے منکر نہیں بلکہ وہ خود ان سلسلوں سے بندھے ہوئے ہیں، البتہ وہ بے بصر معتقدین کی غلوزدہ رسموں اور نقالیوں کے منکر ہیں۔ ان کے نزدیک سیدھا اور بے غل و غش راستہ سنت نبوی کا اتباع اور سلف صالحین صحابہ و تابعین، ائمہ مجتہدین اور فقہائے دین کا تلقین کردہ راستہ ہی سلامتی کا طریق ہے جو مستند علمائے ربانیین سے معلوم ہوسکتا ہے۔ حاصل یہ ہے کہ اولیائے کرام اور صوفیائے عظام کا طبقہ مسلک علمائے دیوبند کی رو سے امت کے لیے روح رواں کی حیثیت رکھتا ہے جس سے امت کی باطنی حیات وابستہ ہے جو اصل حیات ہے۔
حضرات اکابر دیوبند احسان و تصوف کے چاروں سلاسل طیبہ (چشتیہ، قادریہ، نقشبندیہ اور سہروردیہ) کا یکساں احترام کرتے ہیں اور ان سلاسل کے بزرگان کی محبت و عظمت کو تحفظ ایمان کے لیے مفید و ضروری سمجھتے ہیں، مگر غلو کے ساتھ اس محبت و عقیدت میں معاذ اللہ انھیں ربوبیت کا مقام نہیں دیتے۔ بلکہ حضرات اکابر دیوبند اپنی باطنی اصلاح اور ایمانی ترقی کے لیے ان سلاسل سے باضابطہ مربوط بھی ہیں۔
مثال کے طور پر اکابر دیوبند (حضرت مولانا محمدقاسم نانوتوی رحمہ اللہ اور حضرت مولانا رشید احمد گنگوہی رحمہ اللہ) سلوک و تصوف میں سیدالطائفہ حضرت حاجی امداداللہ مہاجر مکی رحمہ اللہ سے بیعت تھے جن کا چشتی سلسلہ درج ذیل ہے:
۱۔ حضرت حاجی امداداللہ مہاجر مکی، ۲۔ الشیخ نورمحمد جھنجھانوی، ۳۔ الشاہ عبدالرحیم شہید، ۴۔ الشیخ عبدالباری امروہوی، ۵۔ الشیخ عبدالہادی امروہوی، ۶۔ الشیخ عضدالدین امروہوی، ۷۔ الشیخ محمد مکی، ۸۔ الشیخ الشاہ محمدی، ۹۔ الشیخ محب اللہ الہ آبادی، 10۔ الشیخ ابوسعید گنگوہی، 11۔ الشیخ نظام الدین البلخی، 12۔ جلال الدین تھانیسری، 13۔ الشیخ عبدالقدوس گنگوہی، 14۔ الشیخ محمد العارف ردولوی، 15۔ الشیخ احمد العارف ردولوی، 16۔ الشیخ عبدالحق ردولوی، 17۔ الشیخ جلال الدین پانی پتی، 18۔ الشیخ شمس الدین الترک پانی پتی، 19۔ الشیخ علاء الدین صابر کلیری، 20۔ الشیخ فریدالدین گنج شکر، 21۔ الشیخ قطب الدین بختیار کاکی، 22۔ شیخ المشائخ معین الدین چشتی، 23۔ الشیخ عثمان الہارونی، 24۔ السید الشریف الزندانی، 25۔ الشیخ مودود الچشتی، 26۔ الشیخ ابویوسف الچشتی، 27۔ الشیخ ابومحمد الچشتی، 28۔ الشیخ احمد الابدال الچشتی، 29۔ الشیخ ابواسحاق الشامی، 30۔ الشیخ ممشاد علوی الدینوری، 31۔ الشیخ ابوہبیرۃ البصری، 32۔ الشیخ حذیفہ المرعشی، 33۔ الشیخ ابراہیم بن ادہم البلخی، 34۔ الشیخ فضیل بن عیاض، 35۔ الشیخ عبدالواحد بن زید، 36۔ الشیخ حسن البصری،رحمہم اللہ 37۔ سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ، 38۔ سیدنا و رسولنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم۔
الغرض دارالعلوم اور بالفاظ دیگر علمائے دیوبند مکمل طور پر صحابہ کرام سے لے کر محدثین دہلی اور صوفیائے عظام تک اسناد اسلام کی ہر کڑی سے پورے وفادار رہے اور سلف صالحین کی اتباع کے اس حد تک پابند رہے کہ چھوٹی سے چھوٹی بدعت کو بھی دین نہ بننے دیا۔ تسلسل اسلام اور اسناد دین کو کمزور کرنے والے مختلف طبقوں سے دارالعلوم اور اس کے علماء نے اختلاف کیا، تو اس لیے نہیں کہ وہ اختلاف پسند تھے یا انھیں کسی طبقے سے ذاتی بغض تھا بلکہ محض اس لیے کہ اسلام جس مبارک و پاکیزہ سلسلے سے ہم تک پہنچاہے اس سے پوری وفا کی جائے۔ ان کے الحادی یا بدعی نظریات کی تردید و تخریب اس لیے ضروری تھی کہ اس کے بغیر اسلام کی تعمیر و بقاء کی کوئی صورت نہیں تھی؛ لیکن ان کی یہ تردید بھی اصولی رہی اور انداز جدل بھی احسن رہا جس کی تعلیم خود قرآن نے دی ہے ”و جادلھم بالتی ھی أحسن“ (سورۃ النحل، آیت 125)

مآخذ:
۱: علمائے دیوبند کا دینی رخ اور مسلکی مزاج: حضرت قاری محمد طیب صاحب رحمہ اللہ
۲: سلاسل طیبہ، حضرت مولانا حسین احمد مدنی رحمہ اللہ

دارالعلوم دیوبند کی جامع و مختصر تاریخ
زیر سرپرستی مولانا مفتی ابوالقاسم نعمانی، مہتمم دارالعلوم دیوبند
ترتیب: مولانا محمداللہ قاسمی


آپ کی رائے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

مزید دیکهیں