آج : 26 March , 2020

قدرتی آفات، اسباب و عوامل اور ہماری ذمہ داری

قدرتی آفات، اسباب و عوامل اور ہماری ذمہ داری

کورونا وائرس کی ابتلاء عام سے جہاں دنیا کا ہر شخص پریشان ہے، وہیں اس ضمن میں قدرتی آفات سے متعلق فکری بحثیں بھی ہمیشہ کی طرح گرم ہیں۔
2005ء میں جب ملک کے شمالی حصے میں خوفناک زلزلہ آیا تھا، تب بھی اس موضوع پر سوالات اٹھائے گئے تھے۔ انہی سوالات کے جواب میں لکھا گیا اس وقت کا کالم ایک بار پھر پیش خدمت ہے۔ ”ہمارا یہ عقیدہ ہے کہ اس کائنات میں جو کچھ ہوتا ہے اللہ تعالی کی طرف سے ہی ہوتا ہے۔ اس لیے یہ سوال کہ زلزلہ کون لایا ہے بظاہر غیرضروری معلوم ہوتا ہے لیکن مجھے اس کی ضرورت اس لیے محسوس ہوئی کہ بعض دانشوروں کی طرف سے کھلے بندوں یہ کہا جارہا ہے کہ اس زلزلہ کو اللہ تعالی کی طرف سے تنبیہ یا سزا سمجھنے کی بجائے فطری قوانین اور نیچرل سورسز کی کارروائی سمجھا جائے کہ ایسا ہمیشہ ہوتا آیا ہے اور نیچرل سورسز کے حوالے سے یہ معمول کی کارروائی ہے۔ ایک ممتاز دانشور نے ایک بڑے قومی اخبار میں یہ بات تحریر کی تو میں نے انہیں خط لکھا کہ اگر فطری قوانین خودمختار اور خودکار ہیں تو اسے کسی حد تک قبول کیا جاسکتا ہے، لیکن اگر فطری قوانین اور نیچرل سورسز کے پیچھے کوئی کنٹرولر اور نگران موجود ہے تو یہ بات درست قرار نہیں پاتی۔
میرا مطلب یہ تھا کہ ان صاحب کے نزدیک یہ سادہ اور فطری قوانین ہی کائنات کی اصل قوت محرکہ ہیں اور ان کے پیچھے کسی ذات کے وجود کو وہ تسلیم نہیں کرتے۔ مگر ہم مسلمان اللہ تعالی پر ایمان رکھتے ہیں اور ہمارا عقیدہ ہے کہ کائنات میں کسی درخت کا ایک پتہ بھی اس کی مرضی کے بغیر حرکت نہیں کرتا۔ اس لیے ہم سب اس کو نیچرل سورسز کے کھاتے میں ڈال کر مطمئن نہیں بیٹھ سکتے۔ ان محترم دانشور نے اپنے کالم میں میرے اس خط کا ذکر کرکے اس کا یہ جواب دیا کہ نیچرل سورسز ”فیڈ“ کیے ہوئے پروگرام پر چلتی ہیں۔ میں نے گزارش کی کہ اس جواب سے بھی بات نہیں بن رہی، اس لیے کہ فیڈ کرنے والا پروگرام کو فیڈ کرنے کے بعد نہ تو بے اختیار ہوگیا ہے اور نہ ہی نیچرل سورسز کی کارروائی سے بے خبر ہے بلکہ سب کچھ اس کے علم اور مرضی کے مطابق ہو رہا ہے۔ اس لیے یہ بات تو عقیدہ کے طور پر بہر حال تسلیم کرنا ہوگی کہ اس زلزلہ کے دنیاوی اسباب کچھ بھی ہوں لیکن جو کچھ ہوا ہے اللہ تعالی کی طرف سے ہوا ہے اور اس کے علم اور حکم کے مطابق ہوا ہے۔ دوسرا سوال یہ ہے کہ یہ زلزلہ، سیلاب، طوفان، اور دیگر آفتیں کیوں آتی ہیں؟ ظاہر ہے کہ ان کے کچھ ظاہری اسباب بھی ہوں گے۔ ہمارے سائنس دان اور ماہرین ان اسباب کا ذکر کرتے ہیں اور ان کی نشاندہی بھی کرتے ہیں، ہمیں ان میں سے کسی بات سے انکار نہیں ہے۔
اسباب کے درجے میں ہم ہر معقول بات کو تسلیم کرتے ہیں لیکن ہم دیکھتے ہیں کہ قرآن کریم نے گزشتہ اقوام پر آنے والی ان آفتوں، زلزلوں، آندھیوں، طوفانوں، وباؤں، اور سیلابوں کا ذکر ان اقوام پر اللہ تعالی کی ناراضگی کے اظہار کے طور پر کیا ہے اور ان قدرتی آفتوں کو ان قوموں کے لیے خدا کا عذاب قرار دیا ہے۔ اور ہم یہ بھی دیکھتے ہیں کہ جناب سرور کائنات صلی اللہ علیہ وسلم نے قیامت سے پہلے اپنی امت میں آنے والی قدرتی آفتوں کا پیش گوئی کے طور پر تذکرہ فرمایا ہے اور اللہ تعالی کی طرف سے سزا یا تنبیہ کے طور پر ان کا ذکر کیا ہے۔
ان میں سے چند احادیث کا یہاں ذکر کرنا چاہوں گا۔ ترمذی شریف میں حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم نیکی کا حکم ضرور دیتے رہنا، لوگوں کو برائی سے ضرور منع کرتے رہنا، اور ظلم کرنے والے کا ہاتھ پکڑ کر اسے ظلم سے ضرور روکنا۔ ورنہ اللہ تعالی تمہارے دلوں کو ایک دوسرے پر مار دے گا اور تم پر اسی طرح لعنت کرے گا جیسا کہ پہلی امتوں پر کی تھی۔
ترمذی شریف میں حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ خدا کی قسم! تم امربالمعروف اور نہی عن المنکر کا فریضہ ضرور سرانجام دیتے رہنا، ورنہ تم پر اللہ تعالی کی طرف سے عذاب نازل ہوگا، پھر تم دعائیں کرو گے تو تمہاری دعائیں بھی قبول نہیں ہوں گی۔
ابوداؤد شریف میں سیدنا حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب لوگ معاشرہ میں منکرات یعنی نافرمانی کے اعمال کو دیکھیں اور انہیں تبدیل کرنے کی کوشش نہ کریں اور جب کسی ظالم کو ظلم کرتا دیکھیں اور اس کا ہاتھ پکڑا کر اسے ظلم سے نہ روکیں تو قریب ہے کہ سب پر خدا کا عذاب آجائے۔
ابن ماجہ شریف میں حضرت ابومالک اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میری امت میں بعض لوگ شراب پی رہے ہوں گے اور اس کا نام انہوں نے کچھ اور رکھا ہوگا، مردوں کے سروں پر لگانے کے آلات بج رہے ہوں گے، اور گانے والیاں گا رہی ہوں گی اور اللہ تعالی انہیں زمین میں دھنسا دے گا اور ان میں سے کچھ کو بندروں اور خنزیروں کی شکل میں مسخ کردے گا۔
ترمذی شریف میں حضرت علی رضی اللہ عنہ اور حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب غنیمت کے مالک کو ہاتھوں ہاتھ لوٹا جانے لگے، امانت کو غنیمت کا مال سمجھ لیا جائے، زکوۃ کو تاوان اور بوجھ سمجھا جانے لگے، تعلیم حاصل کرنے میں دین کے مقصد کو پس پشت ڈال دیا جائے، خاوند اپنی بیوی کا فرمانبردار ہوجائے، بیٹا اپنی ماں کا نافرمان ہوجائے، بیٹا اپنے دوست کو قریب کرے اور باپ کو خود سے دور رکھے، مسجدوں میں شور و غل ہونے لگے، قبیلہ کا سردار اس کا فاسق شخص ہو، قوم کا لیڈر اس کا رذیل ترین شخص ہو، کسی شخص کی عزت صرف اس کے شر سے بچنے کے لیے کی جانے لگے، ناچنے والیاں اور گانے بجانے کے آلات عام ہوجائیں، شرابیں پی جانے لگیں، اور امت کے بعد والے لوگ پہلے لوگوں پر لعن طعن کرنے لگیں تو پھر خدا کے عذاب کا انتظار کرو جو سرخ آندھی، زلزلوں، زمیں میں دھنسائے جانے، شکلوں کے مسخ ہونے، پتھر برسنے، اور ایسی دیگر نشانیوں کی صورت میں اس طرح لگا تار ظاہر ہوگا جیسے کسی ہار کی ڈوری ٹوٹ جائے اور موتی لگا تار گرنے لگیں۔
اسی طرح آقائے نامدار حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں بتایا کہ یہ قدرتی آفتیں پہلی امتوں کی طرح اس امت میں بھی آئیں گی اور اللہ تعالی کی ناراضگی کا اظہار ہوں گی۔ اس لیے زلزلہ کے ظاہری اسباب پر ضرور نظر کی جائے اور ان کے حوالے سے بچاؤ اور تحفظ کی ضرور کوشش کی جائے لیکن اس کے ساتھ بلکہ اس سے زیادہ ضروری ہے کہ اس کے باطنی اسباب اور روحانی عوامل کی طرف بھی توجہ دی جائے اور ان کو دور کرنے کے لیے بھی محنت کی جائے۔ جب ہم یہ بات کہتے ہیں تو اس پر ایک سوال اٹھایا جاتا ہے کہ سزا اور تنبیہ تو مجرموں کو ہوتی ہے، جو لوگ جرائم میں شریک نہیں ہیں ان کا کیا قصور ہے اور معصوم بچوں اور عورتوں کا کیا جرم ہے کہ وہ بھی بہت بڑی تعداد میں زلزلہ کی زد میں آگئے ہیں۔ اس کے جواب میں گزارش ہے کہ یہ بات بھی جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے متعدد ارشادات میں واضح فرمائی ہے۔ جب حضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے آنے والی ان آفتوں کا ذکر کیا تو یہ سوال خود آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے بھی کیا گیا تھا کہ کیا نیک لوگوں پر بھی یہ عذاب آئے گا؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا جواب اثبات میں دیا تھا۔
بخاری شریف میں حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب کسی قوم پر خدا کا عمومی عذاب آتا ہے تو نیک و بد سب اس کا شکار ہوتے ہیں۔ البتہ قیامت کے دن سب لوگ اپنی نیتوں کے مطابق اٹھائے جائیں گے۔
مسلم شریف میں ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مجھے خواب میں دکھایا گیا ہے کہ میری امت کا ایک شخص حرم مکہ میں پناہ لیے ہوگا اور میری امت کا ہی ایک لشکر اس کے تعاقب میں مکہ مکرمہ کی طرف یلغار کرے گا۔ لیکن ابھی وہ بیداء کے مقام پر ہوں گے کہ سب لوگ زمین میں دھنسا دیے جائیں گے۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ میں نے دریافت کیا کہ ان میں بہت سے لوگ غیرمتعلق بھی ہوں گے؟ اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ان میں مستبصر بھی ہوں گے یعنی وہ لوگ جو اپنی مرضی کے ساتھ شریک ہوں گے، کچھ مجبور بھی ہوں گے جو کسی مجبوری کی وجہ سے ساتھ ہوں گے، اور ابن السبیل یعنی راہ گیر بھی ہوں گے جن کا ان سے کوئی تعلق نہیں ہوگا لیکن جب زمین پھٹے گی تو سب لوگ اس میں سما جائیں گے، البتہ قیامت کے دن سب لوگ اپنی اپنی نیتوں پر اٹھائے جائیں گے۔
بخاری شریف میں ام المومنین حضرت زینب بنت جحش رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ ایک موقع پر جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے امت کے کسی حصے پر آنے والے عمومی عذاب کا ذکر فرمایا تو ام المومنین نے سوال کیا کہ کیا نیک لوگوں کی موجودگی میں ایسا ہوگا؟ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ ہاں جب خباثتوں کی کثرت ہوجائے گی تو ایسا ہی ہوگا۔
مسلم شریف میں ام المومنین حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے بھی اس نوعیت کی روایت ہے کہ انہوں نے جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا کہ جو شخص نافرمانوں کے ساتھ شریک نہیں ہوگا، کیا اس پر بھی عذاب آئے گا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہاں دنیا کے عذاب میں سب ایک ساتھ ہوں گے، پھر قیامت کے دن ہر شخص اپنی نیت پر اٹھایا جائے گا۔“
چنانچہ یہ اللہ تعالی کا قانون اور ضابطہ ہے جس کی جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم وضاحت فرما رہے ہیں۔ اس کے مطابق ہمیں جہاں یہ عقیدہ رکھنا ہے کہ یہ سب کچھ اللہ تعالی کی طرف سے ہے، وہاں یہ بھی سمجھ لینا چاہیے کہ یہ اللہ تعالی کی طرف سے ناراضگی کا اظہار ہے، سزا ہے، تنبیہ ہے، اور عبرت کے لیے ہے جس سے ہمیں سبق حاصل کرنا چاہیے۔


آپ کی رائے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

مزید دیکهیں