آج : 19 March , 2020

مولانا عبدالحمید: اہل سنت کو شیعہ بنانا فخر کی بات نہیں ہے

مولانا عبدالحمید: اہل سنت کو شیعہ بنانا فخر کی بات نہیں ہے

شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے ایران کے شیعہ دینی مدارس کے مہتمم آیت اللہ علیرضا اعرافی کو خط لکھتے ہوئے ’جامعة المصطفیٰ العالمیة‘ کی سرگرمیوں اور اہل سنت کو شیعہ بنانے کے منصوبے پر اپنے تحفظات کا اظہار کیا اور باہر ملک پر خرچ کرنے کے بجائے غریب ایرانی قوم پر توجہ دینے کی ضرورت واضح کی۔

خطیب اہل سنت زاہدان کی آفیشل ویب سائٹ نے مولانا عبدالحمید کے خط کا حوالہ دیتے ہوئے لکھا ہے ایران میں کرونا وائرس پھیلنے کے سبب کے بارے میں ان کی اطلاعات کی بنیاد ’مشہد میڈیکل سائنسز یونیورسٹی‘ کے صدر ہیں جنہوں نے کہا تھا قم میں زیرِ تعلیم سات سو چینی طلبا یہ وائرس چین سے لائے ہیں۔ اسی بنا پر ہم نے تحقیقات کی درخواست کی تھی، لیکن اگر جامعة المصطفیٰ کے ذمہ داران اس کی تردید کرتے ہیں، ہم بھی اس پر اصرار نہیں کرتے ہیں۔

آیت اللہ اعرافی جامعة المصطفیٰ کے سابق صدر اور ’حوزہ علمیہ قم‘ سمیت ایران کے تمام شیعہ دینی مدارس کے مہتمم ہیں جو سرکاری خرچے پر چلتے ہیں۔ موصوف نے حال ہی میں مولانا عبدالحمید کو تفرقہ ڈالنے والے شخص اور ان کے بیان کو غیرذمہ دارانہ قرار دیا ہے۔

یاد رہے گزشتہ جمعہ تیرہ مارچ کو مولانا عبدالحمید نے ایک ویڈیو بیان میں سرکاری حکام کے بیانات کی روشنی میں کہا ہے ایران میں کرونا وائرس پھیلنے کی وجہ قم میں پڑھنے والے چینی طلبا ہیں اور اس بارے میں تحقیق ہونی چاہیے۔ یہ طلبا جامعة المصطفیٰ میں زیرِ تعلیم ہیں جس کی شاخوں میں ہزاروں سنی طلبا پڑھتے ہیں اور انہیں شیعہ بناکر واپس بھیجنے کا سلسلہ کئی سالوں سے جاری ہے۔ مذکورہ مدرسہ کو سرکاری بجٹ سے بھاری رقم ملتی ہے۔ نئے شمسی سال کے لیے اعلان شدہ کل بجٹ کے مطابق جامعة المصطفیٰ کو ایران کے آٹھ بڑے سرکاری جامعات کے بجٹ سے بھی بڑھ کر پیسہ ملے گا۔

مولانا عبدالحمید نے جامعة المصطفی کی سرگرمیوں کو امت مسلمہ کے اتحاد کے تقاضوں کے خلاف یاد کرتے ہوئے اپنے ویڈیو بیان میں کہا تھا کہ اہل سنت کو شیعہ بنانے کی کوشش اسلامی جمہوریہ ایران کی اعلان شدہ پالیسیوں کے خلاف ہے جو اتحاد بین المسلمین کے نعرے بلند کرتاہے۔

ممتاز سنی عالم دین نے اپنے خط میں جامعة المصطفیٰ کے سابق صدر کے ایک انٹرویو کا حوالہ دیتے ہوئے لکھاہے: جامعة المصطفیٰ کی سرگرمیوں کے بارے میں (ہمارے تحفظات) کی سب سے بڑی دلیل آنجناب کا انٹرویو ہے جو تیس جولائی دوہزار سترہ کو مہر نیوز ایجنسی میں شائع ہوا ہے جہاں آپ سے پوچھا گیا ہے کہ ”جامعة المصطفیٰ نیٹ ورک کے ذریعے سے اب تک دنیا میں کتنے لوگ شیعہ ہوچکے ہیں؟“ اور آپ نے جواب دیا ہے: ”اہل بیتؑ کی توجہ سے جامعة المصطفیٰ نیٹ ورک سے پوری دنیا میں اب تک پانچ کروڑ افراد شیعہ ہوچکے ہیں۔“ آگے جاکر آپ نے کہا ہے: ”اس وقت جامعة المصطفیٰ میں سات ہزار اہل سنت کے طلبا زیرتعلیم ہیں۔“

مولانا عبدالحمید نے مزید کہا ہے: ظاہر سی بات ہے کہ یہ پانچ کروڑ افراد اہل سنت تھے، چونکہ آگے آپ نے غیرملکی اہل تشیع کے لیے وضاحت پیش کی ہے کہ اس جامعہ کی ’خدمات‘ کیا ہیں۔ سات ہزار طلبہ کے بارے میں آپ نے کچھ نہیں کہا ہے کہ وہ اپنے مسلک پر باقی رہے ہیں یا انہوں نے بھی مسلک تبدیل کیا ہے۔

رابطہ عالم اسلامی کی مجلس اعلی کے رکن نے آیت اللہ اعرافی کو کہا ہے: فخر کی بات یہ ہوتی کہ جامعة المصطفیٰ پانچ کروڑ افراد کو مشرف بہ اسلام کرتا۔

مولانا نے مزید کہاہے یہ عرف کے خلاف ہے کہ کسی مسلک کے طلبا کو دیگر مسالک کے اساتذہ پڑھائیں۔

صدر دارالعلوم زاہدان نے جامعة المصطفیٰ سے بھاگنے والے بعض طلبا کی معلومات کو دلیل پیش کرتے ہوئے کہا ہے: جامعة المصطفیٰ سے بھاگنے والے طلبہ کے ذریعے سے ہمیں معلوم ہوا ہے کہ کس طرح اسلامی جمہوریہ ایران کے سفارتی نمائندوں کے ذریعے سے کن طریقوں اور وعدوں کے ساتھ غیرملکی طلبا کو یہاں لایا جاتاہے اور پھر ان کے پاسپورٹس تین سال کے لیے ضبط ہوتے ہیں اور انہیں واپس گھر جانے کی اجازت نہیں ملتی۔ لگتاہے تین سال کو ان کی سوچ تبدیل کرانے اور برین واشنگ کے لیے خاص کیا جاتاہے۔

مولانا عبدالحمید نے بعض شیعہ طلبا کی آمد اور اہل سنت کے مدارس میں ان کی تعلیم حاصل کرنے کی خواہش پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھا ہے: بہت سارے شیعہ حضرات ہمارے مدارس میں پڑھنے کے لیے آتے ہیں، لیکن ہم نے ان کی درخواستیں مسترد کی ہے تاکہ فرقہ وارانہ اختلافات پیدا نہ ہوجائیں۔۔۔ اسی طرح متعدد شیعہ حضرات نے مسلک تبدیل کرکے سنی ہونے کے لیے ہم سے رابطہ کیا ہے، لیکن ہم نے تعاون نہیں کیا ہے تاکہ اختلاف اور بدگمانی پیدا نہ ہوجائے۔

انہوں نے ایران میں الحاد اور دین گریزی کے بڑھتے ہوئے رجحان پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے حکام کو نصیحت کی ہے کہ ملک سے باہر اپنے مسلک کی تبلیغ و ترویج کے بجائے اپنی توجہ ملک میں رہنے والوں پر مبذول کرائیں اور قوم کی غربت کو مدنظر رکھ کر، اپنے ہی لوگوں پر پیسہ خرچ کریں۔

مولانا عبدالحمید نے ’قیام امن و اتحاد‘ اور ’انتہاپسندی اور سامراجی سازشوں کے خلاف‘ دارالعلوم زاہدان اور سنی علما کی کاوشوں کا تذکرہ کرتے ہوئے لکھا ہے: جناب آیت اللہ اعرافی! آپ مجھے خوب جانتے ہیں؛ متعدد کانفرنسز اور جامعة المصطفیٰ میں ہماری کئی ملاقاتیں ہوچکی ہیں۔ فرقہ واریت پھیلانا اور انتہاپسندی میرا طریقہ نہیں ہے۔ ہم اعتدال کی راہ پر چلتے ہیں اور ہمارے لیے شیعہ سنی کا کوئی فرق نہیں ہے۔ اسی لیے کئی مرتبہ شیعہ و سنی انتہاپسندوں کی جانب سے ہمیں دھمکیاں ملی ہیں؛ اس بارے میں سکیورٹی اداروں کے ریکارڈز گواہ ہیں۔

زاہدان سے تعلق رکھنے والے عالم دین نے آخر میں جامعة المصطفیٰ کے بارے میں اپنے تحفظات کے اظہار کو جذبہ خیرخواہی اور اصلاح کی بنیاد پر یاد کرتے ہوئے مذکورہ جامعہ کے ذمہ داران کو تبدیلی لانے اور تقریب بین المسالک یونیورسٹی کی طرح معاملات صاف پیش کرنے کی نصیحت کی ہے۔


آپ کی رائے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

مزید دیکهیں