آج : 11 March , 2020

جامعہ فاروقیہ کراچی کی تقریب دستاربندی

جامعہ فاروقیہ کراچی کی تقریب دستاربندی

اِن دنوں مدارس عربیہ میں تکمیل بخاری شریف کی تقریبات ہو رہی ہیں۔ چند دن اور گزریں گے کہ مدارس میں سالانہ امتحانات کا آغاز ہوجائے گا۔ گزشتہ اتوار کے روز اس ناچیز کو جامعہ فاروقیہ کی تقریب دستاربندی میں شرکت کا موقع ملا، اس بات میں کوئی شبہ نہیں کہ جامعہ فاروقیہ کراچی کا شمار ملک کے بہترین مدارس میں ہوتا ہے، یہ ام المدارس ہے، یہاں کے فضلاء نے جابجا مدارس قائم کیے ہیں۔ جس طرح جامعہ علوم اسلامیہ بنوری ٹاؤن، دارالعلوم کراچی، جامعہ خیرالمدارس ملتان، دارالعلوم حقانیہ اکوڑہ خٹک کی اپنی الگ الگ پہچان اور مزاج ہے، اسی طرح جامعہ فاروقیہ کی بھی اپنی ایک پہچان ہے۔ یہاں کے اساتذہ اور طلبہ اپنا ایک الگ رنگ ڈھنگ رکھتے ہیں۔ ہمیں جامعہ فاروقیہ کے سالانہ جلسہ دستاربندی کی دعوت ملی تو سوچا ضرور شرکت کرنی ہے، اس طرح فاروقیہ سے اپنا رشتہ وفا بھی تازہ ہوجائے گا۔
اتوار کی صبح جب فاروقیہ فینر ٹو پہنچے تو جنگل میں منگل کا سماں تھا۔ حب چوکی کی جانب سے جاتے ہوئے جوں ہی پہاڑی ڈھلان سے کوچ نیچے اتری، بائیں جانب فاروقیہ کی پر شکوہ عمارت نظر پڑی، سینکڑوں چھوٹی بڑی گاڑیاں ترتیب سے کھڑی تھیں۔ سفید اجلے لباس میں چلتے پھرتے طلبہ فرشتے معلوم ہورہے تھے۔ طلبہ کرام کے لیے تو جلسہ دستاربندی گویا عید کا دن ہوتا ہے اور ان کی خوشی دیدنی ہوتی ہے۔ فضلاء کے والدین اور عزیز و اقارب بھی آئے ہوئے تھے۔ پروگرام جاری تھا۔ جلدی سے وضو تازہ کیا اور پہلے بانی جامعہ فاروقیہ رئیس المحدثین حضرت مولانا سلیم اللہ خان رحمۃ اللہ علیہ کے مزار پر حاضری دی۔ دیر تک وہاں کھڑا رہا اور بساط بھر ہدیہ ثواب پیش کرتا رہا۔ وہاں سے واپس آکر مسجد کے ہال اور برآمدے کا طائرانہ جائزہ لیا، اسٹیج کے عقب میں بہت بڑے سائز کا سادہ مگر جاذب نظر پینا فلیکس لگا ہوا تھا۔ اسٹیج کو سجانے میں بھی سلیقے سے کام لیا گیا تھا۔ کراچی کے اکثر اکابر علماء کرام خصوصی نشستوں پر تشریف فرما تھے، خاص بات جو نوٹ کی وہ یہ کہ کہیں ویڈیو بنتی نظر نہیں آئی، راقم کچھ دیر نظارہ کرتا رہا، پھر مسجد کے صحن میں جا کر بیٹھ گیا۔
مرشد العلماء حضرت مولانا مفتی محمدیوسف افشانی دامت برکاتہم کا دلپذیر بیان ہو رہا تھا۔ ہمارے استاذ محترم، جرنیل دینی مدارس، ناظم اعلی وفاق المدارس حضرت مولانا قاری محمد حنیف جالندھری دامت برکاتہم تشریف لاچکے تھے۔ آپ کا بیان ہوا، آپ نے حضرت شیخ سلیم اللہ خان رحمہ اللہ کے ساتھ اپنی کم و بیش چالیس سالہ رفاقت کی یادوں کو کھنگالا، مدارس کا مقدمہ شرکاء کے سامنے رکھا۔ مدارس کے خلاف باطل کے عزائم کے سامنے سد سکندری بنے رہنے کا عزم کیا۔ ساتھ ہی انہوں نے اہل مدارس کی ڈھارس بندھائی کہ ان شاء اللہ مدارس کے تحفظ کے لیے کوئی دقیقہ فرو گزاشت نہیں کیا جائے گا۔
بریگیڈیئر (ر) مولانا قاری فیوض الرحمن صاحب جدون نے اپنی باری میں سپاہیانہ گھن گرج کے ساتھ جب آیت ”وَ اَعِدُّوا لَھُم مَا استَطعتُم من قوۃ۔۔۔“ تلاوت کی تو لطف ہی آگیا۔ آپ درجنوں کتابوں کے مصنف، مترجم، کہنہ مشق مجود اور بہترین قاری ہیں، انہوں نے علماء کو تجوید و قرائت کی تعلیم کے حوالے سے بہت اہم توجہ دلائی۔ انہوں نے اس تمنا کا اظہار کیا کہ ہمارے ہر عالم کو بہترین قاری بھی ہونا چاہیے۔ مولانا اورنگزیب فاروقی اور مولانا راشد محمود سومرو کے شعلہ نوا بیانات ہوئے۔ دینی اجتماعات میں ان کا جوڑ فٹ بیٹھ رہا ہے، اگر یہ دو حضرات مسلسل ایک اسٹیج پر نمودار ہوتے رہے تو ان شاء اللہ اس کے اچھے اثرات مرتب ہوں گے۔ تجوید و قراء ت کے دو بڑے نام مولانا قاری محمد اکبر مالکی اور قاری محمد ابراہیم کاسی نے اپنی بے مثال تلاوت سے سماں باندھ دیا۔ طلبہ کے ایک گروپ نے ترانہ دارالعلوم دیوبند پڑھا تو روح وجد میں آگئی۔ سرمایہ اہل علم حضرات حضرت شیخ الاسلام مولانا مفتی محمد تقی عثمانی حفظہ اللہ تعالی و رعاہ کا بے تکلف علمی خطاب اور فضلاء کرام کو اپنی سند خصوصا شیخ حسن مشاط اور شیخ فادانی رحمہمااللہ کی اسناد کے ساتھ مسلسلات کی اجازت حدیث طلبہ کے لیے خوان یغما سے کم نہیں تھا۔ آپ نے اپنی جلالت علمی کے باوصف اکابر علماء کو اپنی مسلسلات کی اجازت دیتے ہوئے جس تواضع اور انکسار کا مظاہرہ کیا وہ ہم ایسے چھوٹوں کے لیے ایک سبق ہے۔
پروگرام کے دوران میں طلبہ کی دستاربندی بھی ہوئی۔ دورہ حدیث شریف کی تکمیل کرنے والے طلبہ کے تمتماتے چہرے ’وجوہ یومئذ مسفرہ‘ کا عکس لگ رہے تھے۔ جب دستار فضیلت کے لیے طلبہ کرام کے نام پکارے جارہے تھے تو اندازہ ہوا کہ فاروقیہ نے کیسے کیسے لوگوں کو زیور علم سے آراستہ کیا ہے۔ جب شامت خان اور گچوخان کے بیٹوں کو بھی فاروقیہ عالم بنادے تو جانیے کہ اصل تبدیلی یہی ہے۔ ویسے فاروقیہ کا یہ امتیاز بھی ہے کہ اس کی آغوش میں معاشرے کے بہت نچلے طبقے کے بچے آئے، یہاں پلے بڑھے اور پڑھے، آج وہ آسمان علم پر درخشاں ستاروں کی مانند جگمگا رہے ہیں۔ شفیق الامہ صدر وفاق المدارس، شیخ الحدیث حضرت مولانا ڈاکٹر عبدالرزاق اسکندر صاحب دامت فیوضہم کی نصیحت آموز باتیں وقت کی آواز تھیں۔ آپ نے اپنے مختصر خطاب میں طلبہ کو بہت قیمتی نصیحت کرتے ہوئے فرمایا ”ہماری پہچان اسلام ہے، اللہ تعالی نے اسلام ہی کو ہمارے لیے پسند فرمایا ہے، لہذا اسلام ہی پر ہم نے زندگی گزارنی ہے اور اسلام ہی پر ہم نے مرنا ہے۔“ مختصر نصیحت ہے مگر اپنے اندر معانی کا جہان رکھتی ہے، اسلام پر قائم رہنا معمولی بات نہیں، چو می گویم مسلمانم، بلرزم۔۔۔ نرم دم گفتگو گرم دم جستجو، حضرت مولانا عبیداللہ خالد مدظلہم کا خطاب لوح دل پر نقش کرنے کے قابل تھا۔ مدارس کی تاریخ، روایت، علمائے دیوبند کا تصلب فی الدین، حضرت شیخ الحدیث مولانا سلیم اللہ خان رحمہ اللہ کا مزاج و مشرب، دینی مدارس کے خلاف باطل کی سازشیں اور ان سے بچنے کی فکر آپ کے بیان کا خلاصہ تھیں، مدرسہ ڈسکورسز کے حوالے سے آپ نے طلبہ کو بطور خاص متنبہ کیا۔ ایک خاص بات یہ ہوئی کہ آپ کے خطاب کے دوران کسی نے موبائل سے فوٹو یا ویڈیو بنانے کی کوشش کی تو آپ نے بلاتامل ٹوک دیا۔ بانی جامعہ فاروقیہ کا یہی مزاج و مسلک تھا۔
حضرت رئیس المحدثین رحمہ اللہ کے جانشین مولانا ڈاکٹر عادل خان کے خطیبانہ گھن گرج کے ساتھ بیان نے صبح سے جم کر بیٹھے سامعین میں ایک تازگی اور حرارت بھر دی۔ آپ نے جامعہ فاروقیہ کی نسبت فاروقی کو اور اس کے تقاضوں کو خوب کھول کر بیان کیا، علماء اور فضلاء کو ان کی ذمہ داریوں سے آگاہ کیا۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ محض اکابر کے واقعات بیان کرکے کام نہیں بنے گا، بلکہ ان کی سیرت و کردار کو بھی اپنانا ہوگا۔ وقت کافی ہو چلا تھا، آپ نے آخر میں دعا کے لیے صاحب طرز خطیب مولانا تنویر الحق تھانوی کو دعوتِ دعا دیتے ہوئے ان کے والد حضرت مولانا احتشام الحق تھانوی نوراللہ مرقدہ کا ایک یادگار واقعہ بھی سنایا۔ مولانا تنویرالحق تھانوی نے جو دعا کرائی سو کرائی۔۔۔ حیرتوں کے پہاڑ اس وقت ٹوٹے جب انہوں نے متعدد بار قائد ملت اسلامیہ حضرت مولانا فضل الرحمن کے حق میں بلند کلمات کہتے ہوئے دعا کی۔ یہ بہت اہم بات ہوئی اور بڑی بات ہوئی۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اہل حق علماء جو پہلے مختلف اور منتشر تھے اب متحد ہورہے ہیں۔۔۔ ہم خیال ہو رہے ہیں۔۔۔ فرقتیں قربتوں میں بدل رہی ہیں۔ ابھی چند دن قبل ہی شیخ الاسلام حضرت مولانا مفتی محمد تقی عثمانی صاحب دامت برکاتہم جامعہ قاسم العلوم ملتان تشریف لے گئے تو وہاں مولانا فضل الرحمن مدظلہم کی موجودگی میں بخاری شریف کا آخری سبق پڑھا آئے ہیں، آپ نے بھی وہاں مولانا فضل الرحمن کے حق میں دعائیں کیں۔ اکابر علماء دیوبند کی یہ محبتیں، قربتیں بڑی خیر و برکت والی ہیں، اللہ انہیں نظر بد سے بچائے، آمین۔
حضرت مولانا ڈاکٹر عادل خان اور حضرت مولانا عبیداللہ خالد کی کاوشوں کا نتیجہ تھا کہ جامعہ فاروقیہ میں اجتماع و اتحاد بین الدیوبندیین کا شاندار مظاہرہ دیکھنے میں آیا۔ یہ ہر حوالے سے ایک یادگار اور شاندار تقریب تھی۔ اللہ پاک سے دعا ہے کہ جامعہ فاروقیہ کی آن ہان شان تا ابد یونہی برقرار رہے، آمین


آپ کی رائے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

مزید دیکهیں