عبرت کی نشانیاں

عبرت کی نشانیاں

آپ کا اور ہمارا قبرستان جانا ہوتا ہی رہتا ہے، کبھی کسی کی تدفین میں اور کبھی فاتحہ پڑھنے کی غرض سے، یہ عمل اتنی مرتبہ انجام دیا جا چکا نہ تو میرے ذہن میں ہے اور نہ آپ کے ذہن میں ہوگا کہ کتنی بار قبرستان گئے مگر یہ بات یقیناً کسی گوشے میں ضرور محفوظ ہوگی کہ قبرستان پہنچنے کے بعد قبروں کو دیکھ کر ہمارے دل میں یہ خیال بھی آیا ہے کہ جتنے لوگ یہاں مدفون ہیں ان میں سے کچھ یقیناً ہمارے عزیز بھی ہیں، کچھ ملنے جلنے والے اہل تعلق اور شناسا بھی ہیں، یہ سب دنیاوی زندگی کو چھوڑ کر مسافرت کی زندگی اختیار کرنے والے کسی وقت اور کسی زمانے میں ہمارے درمیان تھے، ہمارا ان سے رشتہ تھا، محبت تھی، عقیدت تھی، معاملات تھے، لین دین تھا، ملنا جلنا تھا، باتیں تھیں، گفتگو تھی، جب یہ زندگی تھے ہمارے ساتھ اٹھتے بیٹھتے تھے، چلتے پھرتے اور زندگی کی سرگرمیوں میں حصہ لیتے تھے، کسی سے کسی موڑ پر ملاقات ہوگئی، کسی سے کسی تقریب میں شرفِ نیاز حاصل ہوا اور کوئی سر راہ مل گیا۔ مگر آج یہ سب لوگ اس ویرانے کے مکیں ہیں، کبھی ان کا ٹھکانا ہماری جیتی جاگتی دنیا تھی، یہ قبریں ان لوگوں کی ہیں، جو امیر بھی تھے، متوسط حال بھی اور غریب بھی، صاحب مرتبہ بھی اور بے مرتبہ بھی، ان میں سے کچھ کا حکم چلتا تھا اور کچھ ان میں سے محکوم تھے۔ سب اس وقت تک زندہ رہے جب تک سانس چلتی رہی سانس کا سلسلہ ٹوٹا زندگی محروم ہو کر اپنے ہی بھائیوں کے کاندھے پر قبرستان پہنچے اور اپنوں ہی نے منوں مٹی کے نیچے دفنا دیا۔ اب یہ سب برابر ہیں، سب کی ایک حیثیت ہے نہ کوئی حاکم، نہ کوئی محکوم، نہ با مرتبہ، نہ بے مرتبہ، اگر کوئی فرق ہے تو وہ عمل کا فرق ہے دنیا میں جیسا عمل رہا ویسا ہی معاملہ یہاں ہوگا۔
ہمارے لیے یہ قبریں نشانِ عبرت ہیں، یہ ہمیں بتا رہی ہیں کہ ایک دن ہمیں بھی یہیں آنا ہے۔ دل کی دھڑکنیں بند ہوں گی، رگوں میں گردش کرتا خون تھمے گا، دماغ سو جائے گا، ہاتھ پاؤں کی حرکت بند ہوجائے گی، روح اپنا عارضی مسکن چھوڑ چکی ہوگی اور ہم مٹی کے ڈھیلے کی طرح پڑے ہوں گے، نہ ہماری کوئی قمیت اور نہ کوئی وقعت جو دوسروں کے ساتھ ہوا وہی ہمارے ساتھ ہوگا، غسل، تجہیز و تکفین، نماز جنازہ اور پھر قبرستان میں ہمیشہ ہمیشہ کے لیے سپرد خاک۔ دفن کرنے والے ”منھا خلقناکم و فیھا نعیدکم و منھا نخرجکم تارۃً اخریٰ“ کہتے ہوئے مٹی ڈالیں گے، فاتحہ پڑھیں گے اور پھر اپنی دنیا میں لوٹ جائیں گے۔ اب آپ ہیں، آپ کی تنہائیاں ہیں، گوشہ قبر ہے، قیامت تک یہی آپ کا مکان ہے اور یہی قیام گاہ۔ یہاں آپ کا نہ کوئی ساتھی ہے نہ غمخوار، نہ مونس اور نہ کوئی ہمدرد، اگر کوئی ساتھی ہے تو وہ آپ کے نیک اعمال ہیں۔ آپ کی نمازیں ہیں، آپ کے روزے ہیں، آپ کی زکوۃ ہے، آپ کا حج ہے، آپ کے معاملات ہیں، آپ کی خوش اخلاقی ہے، ذکر الہی ہے، پاک دامنی ہے، حق گوئی و راست بازی ہے اور سب سے بڑھ کر فضل الہی ہے۔ یہ سب کچھ ہے تو قبر آرام کی بہترین جگہ اور رحمت الہی کے نزول کا مستقر، جو لوگ اپنے گھروں کو لوٹ رہے ہیں، ان کے لیے یہ قبریں عبرت کی نشانیاں ہیں۔ وہ پکار پکار کر کہہ رہیں ہیں ہمیں دیکھو اور خود کو سنوارو، سنبھلو او رنیکیاں اختیار کرو۔
تمہارے لیے ابھی موقع ہے تم ابھی زندہ ہو عمل کے دروازے کھلے ہوئے ہیں، اپنی آخرت سنوار سکتے ہو، اپنی دنیا اچھی بنا سکتے ہو، سرکشی نہ کرو، نافرمانی کے مرتکب نہ ہو، احکام الہی پر کار بند رہو، اسوہ رسول کو زندگی سمجھو، دین ہی سب کچھ ہے دنیا کچھ نہیں ہے، آخرت کے مسافروں کے لیے دنیا ایک قید خانہ کی حیثیت رکھتی ہے اور قیدخانے سے نکلنے کی تمنا ہر قیدی کے دل میں انگڑائیاں لیتی ہے۔ اس قید خانہ سے آزادی ملے گی اور یہاں سے رخصت ہو کر اس عالم کی طرف جانا ہوگا جہاں سے پھر نئے عالموں کا سلسلہ شروع ہوجائے گا۔ بقول شاعر:
میاں زندگی کا اختتام کہاں ہوتا ہے
ایک اور راہ نکلتی ہے خاک تربت سے
کتنی خواہشیں تھیں ان مرنے والوں کی، کتنی آرزوئیں تھیں ان دنیا چھوڑنے والوں کی۔ سب کچھ یہیں رہ گیا کوئی کچھ نہیں لے کر گیا، ہمارا بھی یہی معاملہ ہوگا۔ سمجھنا چاہیے کہ اللہ نے انسان کو اس دنیا میں سیر و تفریح کرنے انتشار بر پا کرنے، ہنگامے اور فسادات اور جھگڑے پھیلانے کے لیے پیدا نہیں فرمایا، خواہشات نفسانی کی تکمیل، حرام کھانا، شراب جوا، سٹہ، ڈاکہ زنی چوری جھوٹ، فریب، دھوکا، دشنام طرازی، بہتان، اتہام، و غیرہ لگانے شرک، کفر یا بت پرستی کے لیے پیدا نہیں فرمایا، یہ کائنات رب دو عالم کے اختیار اور قدرت کا مظہر ہے، اس میں غور کیجئے! اپنے رب کی کاریگری، صناعی اور قدرت کاملہ کے بے شمار نمونے دیکھئے یہ چاند اور سورج، یہ آسمان اور زمین، یہ ستارے، یہ جنگل یہ بیابان، یہ دشت و صحرا، یہ پہاڑ یہ سمندر، یہ دریا، اس کائنات کی ہر چھوٹی سے چھوٹی چیز اللہ رب العزت کی ربوبیت کو بیان کر رہی ہے۔ وہ بتا رہی ہے کہ اللہ اکیلا ہے اور وہی سزاوارِ عبادت اور معبود حقیقی ہے اس کی حاکمیت، اس کے اقتدار اور اس کی حکمرانی کے لیے کوئی چیلنج نہیں جو بھی مدعی ہے وہ پچھلے مدعیان کی تباہی و بربادی سے سبق حاصل کرے ان میں کچھ دریابُرد ہوگئے، کچھ کو زمین نے نگل لیا غرض سب کا وجود مٹ گیا۔ ان میں سے بہت سے تو وہ ہیں جن کی کوئی علامت بھی باقی نہیں رہی، یہ قبریں ہمیں بتا رہی ہیں کہ دنیا فنا ہونے کے لیے ہے، اور فنا ہونے والے کے پیچھے اپنی طاقت و قوت صرف کرنا عقل و فہم سے دور کی بات ہے۔ صاحب فہم اور صاحب دانش ختم ہونے والی کسی چیز پر اپنا سرمایہ نہیں لگاتا۔ اس کی خواہش ہوتی ہے کہ سرمایہ وہاں لگائے جس میں دوام ہو اور ترقی ہو۔ ترقی تو دنیاوی زندگی گذرنے کے بعد ہے کہ ہم اس سے ایک اور بہتر عالم میں اور ہمیشہ رہنے والے عالم میں اپنا ٹھکانا بنائیں وہ ٹھکانا جنت ہے۔ جنت کے حصول کی جو شرائط ہیں ان کی تکمیل ہر انسان کے لیے لازمی ہے۔ ہمیں اپنی دولت، اپنی قوت، اپنا زور اس عالم کو سنوارنے میں صرف کرنا اور لگانا چاہیے جو ہمیشہ رہے گا کبھی ختم نہ ہوگا۔


آپ کی رائے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

مزید دیکهیں