افغان امن معاہدہ۔ طاقت کی شکست، حق کی فتح

افغان امن معاہدہ۔ طاقت کی شکست، حق کی فتح

افغانستان میں امن کے قیام کے لیے جنگ کے دو بنیادی فریقوں امریکا اور طالبان کے درمیان تاریخی امن معاہدہ ہوگیا ہے جس پر ہفتے کی شام قطر کے دارالحکومت دوحا میں دستخظ کئے گئے۔
امریکا اور طالبان کے درمیان طے پانے والا افغان امن معاہدہ افغانستان میں پائے دار امن و استحکام کے قیام میں کس حد تک مددگار ثابت ہوگا اور بین الافغان مذاکرات کے دوران افغانستان کے مختلف طبقات اپنے ملک کو ایک طویل جنگ اور خانہ جنگی کے عذاب سے نجات دلانے کے لیے کس قدر بصیرت، خلوص اور مفاہمت کا مظاہرہ کر پائیں گے، یہ سوالات اپنی جگہ اہمیت رکھتے ہیں اور آیندہ چند ہفتوں کے دوران ان سوالات کا جواب بھی سامنے آجائے گا تا ہم آج کی تاریخ میں سب سے اہم بات یہ ہے کہ افغانستان میں امن کے لیے بالآخر وہ معاہدہ طے پا گیا ہے جس کا پوری دنیا کو انتظار تھا۔ اس معاہدے کی صورت میں جو چیز بہت واضح طور پر سامنے آئی ہے وہ یہ ہے کہ امریکا اور عالمی طاقتوں نے بعد از خرابی بسیار سہی، یہ تسلیم کرلیا ہے کہ افغان مسئلے کا کوئی عسکری حل نہیں ہے اور یہ کہ افغانستان کے مستقبل کا فیصلہ افغانوں نے خود کرنا ہے۔ اس لحاظ سے یہ افغانستان کے عوام کی بالعموم اور افغان قوم کی ناقابل تسخیر قوت مزاحمت کی شاندار علامت طالبان کی بالخصوص بہت بڑی کامیابی بلکہ پوری امت مسلمہ کے لیے ایک طرح کی فتح مبین ہے۔ آج ایک بار پھر قرآنِ مجید کی آیت: کم من فءۃ قلیلۃ غلبت فءۃ کثیرۃ باذن اللہ۔ (کتنی ہی قلیل جماعتوں نے کثیر لشکروں کو اللہ کے حکم سے شکست دی) کی عملی تفسیر دنیا کے سامنے آئی ہے اور مادہ پرستی اور الحاد کے اس دور میں اللہ تعالی نے دنیا کو بتادیا ہے کہ آج کے دور میں بھی اگر اہل حق ایمان، تقویٰ اور جہاد فی سبیل اللہ کے علم کو بلند کریں اور اللہ کی ذات پر کامل بھروسا رکھ کر باہمی اتحاد کی قوت سے آگے بڑھیں تو اللہ کی مدد آج بھی ان کے ہمرکاب ہوسکتی ہے اور ماضی کی طرح آج کی سپر طاقتیں بھی ان کے سامنے ڈھیر ہوسکتی ہیں۔
ویسے تو افغان قوم نے ہمیشہ حملہ آور قوتوں کو اپنی سرزمین پر دھول چٹائی ہے اور ماضی کی دو بڑی طاقتوں سلطنت برطانیہ اور سوویت یونین کو بھی عبرت ناک شکست دی ہے تا ہم نائن الیون کے بعد جس انداز سے چھتیس نیٹو ممالک اور ان کے دس دیگر اتحادی ممالک نے مل کر دنیا کی جدیدترین عسکری ٹیکنالوجی، انتہائی تباہ کن ہتھیاروں اور بے پناہ وسائل کے ساتھ پہلے سے تباہ حال افغانستان پر یلغار کی اور جس انداز میں خطے کے بیشتر ممالک نے ان کا ساتھ دیا، اس کو دیکھتے ہوئے بہت سے مبصرین کا یہ خیال تھا کہ طالبان بہت جلد تاریخ کا حصہ بن جائیں گے اور افغانستان میں عالمی قوتوں کی مرضی کا ہی راج قائم ہوگا، مگر دنیا نے یہ محیرالعقول تماشا دیکھا کہ افغان طالبان نے جن کے کندھے پر اس وقت میلی چادروں کے سوا کچھ نہیں تھا، طاقت کے فلسفے کے سامنے جھکنے سے انکار کردیا اور پوری جرأت، پامردی، استقلال اور استقامت کے ساتھ اپنے سے ہزاروں گنا زاید قوت کے حامل دشمن کا مقابلہ کرنا شروع کیا اور بہت تھوڑے ہی عرصے میں دنیا پر اپنی مزاحمت کی دھاک بٹھادی۔
یہاں اس امر کا تذکرہ بھی شاید دلچسپی سے خالی نہ ہو کہ سوویت یونین کے خلاف افغان جہاد کو بہت سے لوگ امریکا کے کھاتے میں ڈال دیتے ہیں اور امریکا کی جانب سے اس جنگ کی حمایت اور اس کے لیے وسائل کی فراہمی کے باعث سوویت یونین کی شکست ممکن ہوئی، اول تو یہ دعوی بھی تاریخی حقائق کے خلاف ہے کیونکہ افغان عوام نے سوویت یلغار کے خلاف اپنے بل بوتے پر اور اپنے روایتی ہتھیاروں کے ساتھ جہاد کا آغاز کیا تھا، امریکا اور دیگر عالمی قوتیں اس جنگ میں اس وقت کود پڑی تھیں جب انہیں یقین ہوگیا تھا کہ سوویت یونین افغانستان کے سنگلاغ پہاڑوں سے ٹکرا کر بکھرنے والی ہے۔ پھر طالبان کی موجودہ مزاحمت نے اس تصور اور تاثر کو پاش پاش کر کے رکھ دیا ہے کیونکہ نائن الیون کے بعد جب تمام عالمی قوتوں نے افغانستان پر آتش و آہن کی برسات کا آغاز کردیا تھا تو دنیا کا کوئی ایک ملک بھی ان کے ساتھ نہیں تھا، یہاں تک کہ جن تین اسلامی ممالک نے طالبان کی حکومت تسلیم کر رکھی تھی، انہوں نے بھی سفارتی ضابطوں کی پاس دار ضروری نہیں سمجھی اور عالمی اتحاد کا حصہ بنے۔ اس کے باوجود طالبان نے جس عزم، ہمت، بہادری اور ایمانی قوت کے ساتھ قابض افواج کے خلاف اپنی جد و جہد جاری رکھی، اس کی کوئی مادی اور منطقی توجیہ شاید ممکن نہیں ہے اور بلاشبہ یہ اسلام کا ایک معجزہ اور اسلام کی نظریہ جہاد کی حقانیت کی واضح دلیل ہے۔
ایک ایسے وقت میں جبکہ اسلامی دنیا میں کہیں سے بھی کوئی اچھی خبر سننے کو نہیں ملتی اور ہر طرف سے مایوس کن اطلاعات کی یلغار ہے، افغان امن سمجھوتے کی صورت میں جو تاریخی پیش رفت ہوئی ہے، اس پر پوری امت مسلمہ بالعموم، افغان قوم بالخصوص مبارک باد کی مستحق ہے۔ افغانستان کے وہ غیور نوجوان طالبان خاص طور پر مبارکباد کے مستحق ہیں جنہوں نے دفاع دین و ملت اور آزادی و خود مختاری کے اپنے مسلمہ پیدائشی حق کی خاطر ایک طویل اور صبر آزما جنگ لڑی، جو اپنی جانوں سے گزر گئے، جن کے بچے یتیم ہوئے، جن کی بیویوں کے سہاگ اجڑے۔ افغانستان کا ہر ہر باشندہ مبارک باد کا مستحق ہے جس نے بھوک، افلاس، تباہی اور مصائب کے لشکروں کا تو سامنا کیا لیکن حریت کیشی کی اپنی روایت کو زندہ رکھا۔ زمینی حقائق کا درست ادراک کر کے افغانستان کا مستقبل اس کے عوام کے حوالے کرنے کا امریکا کا فیصلہ بھی سراہے جانے کے لائق ہے۔ امن سمجھوتے کے لیے افغان مسئلے کے حل کے لیے خصوصی ایلچی زلمے خلیل زاد کی کاوشیں بھی قابل داد ہیں۔ عالمی طاقتوں کو اب اس حقیقت کا اعتراف کرنا ہوگا کہ طاقت کے بل بوتے پر اقوام اور ممالک کو اپنا غلام بنانے کا دور لد چکا ہے اور اس وقت کی واحد سپر طاقت سمجھے جانے والے ملک امریکا کا افغانستان کے بوریا نشینوں کے ساتھ مصافحہ اس بات کا اعلان ہے کہ اب دنیا میں طاقت کا نہیں بلکہ انصاف کا فلسفہ ہی چل سکتا ہے۔
روزنامہ اسلام کے قارئین گواہ ہیں کہ ہم نے حالیہ افغان جنگ کے ابتدائی ایام سے آج امن معاہدہ ہونے تک ہمیشہ یہ بات دوہرائی کہ افغانستان مسئلے کو کوئی عسکری حل نہیں ہے، امریکا اور اس کے اتحادی طاقت کے بل بوتے پر یہ جنگ نہیں جیت سکتے، ہم نے سینکڑوں بار یہ گزارش دوہرائی کہ افغان مسئلے کے سیاسی حل کے لیے امریکا کو اصل فریق طالبان سے بات کرنا ہوگی اور افغان قوم کو اپنے مستقبل کا فیصلہ خود کرنے کا حق دینا ہوگا۔ اللہ کا شکر ہے کہ عالمی طاقتوں نے بالاخر زمینی حقائق کو تسلیم کرنے کا عندیہ دیا جس کے بعد امن سمجھوتا ممکن ہوا۔ اللہ کرے کہ یہ سمجھوتا نہ صرف افغانستان یا جنوبی ایشائی خطے بلکہ پوری دنیا کے امن و استحکام کے لیے اہم سنگ میل بنے اور انسانیت کو دنیا کے کسی بھی خطے میں مزید جنگوں اور آزمائشوں کا سامنا نہ کرنا پڑے۔


آپ کی رائے

Leave a Reply

Your email address will not be published.

مزید دیکهیں