آج : 29 February , 2020
مولانا عبدالحمید:

کرونا وائرس سے نجات کےلیے احتیاطی تدابیر کے ساتھ اجتماعی توبہ کی ضرورت ہے

کرونا وائرس سے نجات کےلیے احتیاطی تدابیر کے ساتھ اجتماعی توبہ کی ضرورت ہے

اہل سنت ایران کے ممتاز دینی رہ نما شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے اپنے اٹھائیس فروری دوہزار بیس کے خطبہ جمعہ میں کرونا وائرس کے پھیلاو کی جانب اشارہ کرتے ہوئے ’حفظانِ صحت‘ کے مسائل کی خیال داری کے ساتھ ساتھ روحانی آلودگیوں کو چھوڑ کر اجتماعی توبہ کی ضرورت پر زور دیا۔
مولانا عبدالحمید نے اپنے بیان کا آغاز قرآنی آیت: «وَمَا أَصَابَكُمْ مِنْ مُصِيبَةٍ فَبِمَا كَسَبَتْ أَيْدِيكُمْ وَيَعْفُو عَنْ كَثِيرٍ وَمَا أَنْتُمْ بِمُعْجِزِينَ فِي الْأَرْضِ ۖ وَمَا لَكُمْ مِنْ دُونِ اللَّهِ مِنْ وَلِيٍّ وَلَا نَصِيرٍ» [شوری:31-32] کی تلاوت سے کرتے ہوئے کہا: اللہ تعالی نے دنیا کو اسباب کی دنیا قرار دی ہے۔ کامیابی، ناکامی، مصیبت سمیت ہر چیز کے پیچھے کوئی نہ کوئی سبب ہے۔ مصیبت کے خاتمے کے بھی کچھ اسباب ہوں گے۔
انہوں نے مزید کہا: شریعت نے اسباب کے استعمال کی اجازت دی ہے لیکن ہرگز ان اسباب پر پوری طرح اعتماد نہیں کرنا چاہیے، بلکہ ہمارا اعتماد اور توکل اللہ تعالی کی ذات ہی پر ہونا چاہیے جو رب الاسباب ہے۔
شیخ الحدیث دارالعلوم زاہدان نے کہا: شریعت کا حکم ہے ڈاکٹر کے پاس جانے اور دوائی کے استعمال کے علاوہ، اللہ تعالی کی ذات پر توکل کرنا چاہیے جو حقیقی موثر ہے۔ اگر اللہ نے چاہا شفا حاصل ہوگی۔
انہوں نے کہا: اہم بات یہ ہے کہ ظاہری و معنوی دونوں قسم کے اسباب کو دیکھنا چاہیے؛ کرونا وائرس ایک ظاہری سبب ہے جسے ہم دیکھتے ہیں، لیکن ظلم و جور اور گناہوں کو کیوں نہیں دیکھتے ہیں جو آفات و مصائب کے روحانی اسباب ہیں؟ خدا جو موثر حقیقی ہے، اس کو کیوں نہیں دیکھتے ہیں؟
مولانا عبدالحمید نے سوال اٹھایا: اگر چینی باشندے سانپ، چوہے اور چمگادڑجیسے جانوروں کے کھانے سے کرونا وائرس سے متاثر ہوئے ہیں، پھر ان کے آباو ¿ اجداد کیوں اس بیماری سے دوچار نہیں ہوئے جو یہی جانور کھاتے تھے؟!
انہوں نے مزید کہا: ہم سب کو معلوم ہے کہ چینیوں کو اللہ تعالی نے انسانی حقوق کی پامالی، خدا کے انکار اور مسلمانوں پر ظلم و ستم کی وجہ سے کرونا وائرس سے مبتلا کیا ہے۔ دنیا کیوں آنکھیں بند کرکے چینیوں کا ظلم نہیں دیکھتی ہے؟ اللہ تعالی کے لیے شرک و کفر جیسے گناہ قابل برداشت ہیں، لیکن ظلم چاہے کسی جانور پر بھی ہو، اللہ تعالی کے لیے ناقابل برداشت ہے۔
صدر دارالعلوم زاہدان نے کہا: یہ غلط ہوگا اگر ہم یہ سمجھیں کہ کرونا وائرس کا گناہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ ہم حفظانِ صحت کے مشوروں کے مخالف نہیں ہیں، لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ کرونا کا تعلق قتل و خون ریزی، زنا و بدکاری، شراب ، چوری، الزام تراشی، غبن، مالی و اخلاقی فساد اور روحانی آلودگیوں سے بھی ہے۔ ہم کیوں ان حقائق کو نہیں دیکھتے ہیں؟!
مولانا عبدالحمید نے توبہ اور گناہ کی آلودگیوں سے دوری پر زور دیتے ہوئے کہا: جس طرح ظاہری امراض کا ظاہری علاج ہوتاہے، اسی طرح روحانی امراض اور آلودگیوں کا علاج دستیاب ہے۔ روحانی امراض کا علاج اجتماعی توبہ، دعا اور روحانی آلودگیوں کو چھوڑنے میں ہے۔
انہوں نے کہا: انسانی تاریخ اور قرآن و سنت کا مطالعہ کرنا چاہیے۔ جب حضرت یونسؑ کی قوم نے عذاب کے آثار و علامات کو دیکھ کر بچوں اور جانوروں سمیت شہر سے باہر گئے اور اجتماعی توبہ کی، اللہ تعالی نے عذاب ان سے دور فرمایا اور جب تک زندہ تھے، خوشحال رہے ، لیکن جن قوموں نے توبہ نہیں کی، عذابِ الہی سے ہلاک ہوئیں۔
خطیب اہل سنت زاہدان نے کرونا وائرس کو اہل دنیا کے لیے خطرہ یاد کرتے ہوئے کہا: کرونا وائرس چین کے علاوہ پوری دنیا کے لیے خطرہ ہے۔ لہذا سب کو توبہ کرکے گناہوں سے ہاتھ دھونا چاہیے۔ ہر قسم کی آفتوں اور بیماریوں سے نجات کی راہ گناہ چھوڑنا اور اللہ تعالی اور اس کے بندوں کے حقوق کی پاسداری ہے۔ اگر ہزارہا طبی مشوروں پر عمل کیا جائے، لیکن گناہ اور روحانی آلودگیوں کو ترک نہ کیا جائے، کرونا وائرس سے محفوظ رہنا ممکن نہیں ہوگا۔
انہوں نے کہا: ایسے حالات میں نبی کریم ﷺ کی سنت اور قوم یونسؑ کے طریقے پر عمل کرنا چاہیے۔ آپﷺ جب سورج گرہن، قحط اور طوفان جیسی چیزیں ظاہر ہوتیں، نماز اور دعا میں مصروف ہوجاتے تھے۔ امربالمعروف اور نہی عن المنکر سے کام لیں اور اجتماعی توبہ کرکے ظاہری و روحانی صحت کا خیال رکھیں۔

حکام زاہدان الیکشن کے بارے میں موجود شکوک و ابہامات کا ازالہ کریں
مولانا عبدالحمید نے حالیہ انتخابات میں پیش آنے والے واقعات اور پانے جانے والے شکوک پر تنقید کرتے ہوئے حکام سے مطالبہ کیا عوام کی پریشانیاں دور کریں۔ انہوں نے کہا اگر عوام کے ذہنوں میں یہ شبہات باقی رہے، اس کے خطرناک نتائج ہوسکتے ہیں۔
اہل سنت ایران کے ممتاز دینی رہ نما نے کہا: اکیس فروری کے پارلیمانی انتخابات ماضی کے تمام الیکشنوں سے مختلف حالات میں منعقد ہوئے۔ مہنگائی، غربت، بے روزگاری، مسافربردار طیارہ پر میزائل حملہ اور پیٹرول کی مہنگائی جیسے مسائل نے انتخابات میں شرکت کے لیے عوام کی دلچسپی پر اثر ڈالا تھا۔ ہمیں بھی شک تھا کہ انتخابات میں حصہ لیں یا خاموش رہیں۔
انہوں نے زاہدان میں رونما ہونے والے واقعات کی روداد بتاتے ہوئے کہا: امیدواروں کی اہلیت جانچ پڑتال کرنے والوں نے ہمارے طاقت ور افراد کو نااہل قرار دیا۔ اکثر غیرمشہور افراد کو الیکشن لڑنے کی اجازت دی گئی جو نوجوان تھے۔ انتخابات منعقد کرنے والوں میں ہمارا کوئی بندہ شامل نہیں تھا، کچھ سرکاری ملازمین کو شامل کیا گیا تھا جو کچھ کہنے کی صلاحیت نہیں رکھتے ہیں۔ انتخابات کی نگرانی کرنے والوں میں بھی ہمارے لوگ نہیں تھے۔
مولانا عبدالحمید نے مزید کہا: ان تمام مشکلات کے باجود ہماری طرف سے کچھ لوگوں نے انتخابات میں حصہ لیا۔ ووٹوں کی گنتی کے وقت فجر تک ہمارے ایک امیدوار سب سے آگے تھے، لیکن اچانک دیگر امیدواروں نے اپنی کامیابی کا اعلان کیا۔ پھر شکایت ہوئی لیکن فوری جانچ پڑتال کے بجائے ٹال مٹول سے کام لیا گیا۔ ہمیں توقع تھی کہ ایک دو دن میں باکسز کو کھول کر دوبارہ گنتی سے کام لیا جاتا اور سب کچھ واضح ہوتا۔
خطیب اہل سنت زاہدان نے کہا: ہمارے خیال میں زاہدان جیسے شہر میں جہاں شیعہ و سنی اکٹھے رہتے ہیں، مناسب یہی ہے کہ ایک شیعہ اور ایک سنی شہری پارلیمان میں جائیں۔ اتحاد و بھائی چارہ کے لیے یہی بہتر ہوگا۔
اب ایک ایسے شہر سے دو شیعہ باشندے پارلیمان جائیں گے جہاں اکثریت بلوچ سنی آبادی کی ہے۔الیکشن ختم ہوئے لیکن اس کے اثرات باقی رہیں گے۔

امن سب کی کوششوں کا نتیجہ ہے
اہل سنت ایران کی سب سے زیادہ بااثر شخصیت نے کہا: صوبہ (سیستان بلوچستان) میں قیامِ امن کا کریڈٹ کسی مخصوص حلقے کے نام نہیں جاتاہے۔اگر سکیورٹی ادارے کہیں ہم نے ہی امن قائم کیا ہے یا ہم ایسا کوئی دعویٰ کریں، یہ غلط ہوگا۔ ہم سب مل کر دشمن کے خلاف کھڑے ہیں۔ ہم انتہاپسندوں کے خلاف ڈٹ کر ان کا مقابلہ کرتے رہے۔ ہم ایسے خطروں سے آگاہ ہیں کہ حساس اداروں کے علم میں بھی نہیں ہے۔
انہوں نے مزید کہا: ہم ایک ہی جسم کے اعضا ہیں۔ ہم امتیازی سلوک کے شکار ہیں اور اسی لیے ہماری محنتیں اتحاد وبھائی چارہ کے لیے زیادہ ہیں۔ ہمارے ہاتھ میں کوئی اختیار نہیں، لیکن جتنا ہوسکا، ہم نے اتحاد کے لیے قدم بڑھایا۔ ملکی و صوبائی عہدوں میں ہمارے لیے کوئی جگہ نہیں ہے، اس حوالے سے عدل نافذ نہیں ہوا ہے۔ ہم مذہبی اقلیت نہیں ہیں، لیکن مسلکی لحاظ سے ہم دوسری اکثریت ہیں۔ دیگر ملکوں میں مذہبی اقلیتوں کے حقوق کے لیے بطورِ خاص اہتمام ہوتاہے۔
مولانا عبدالحمید نے کہا: ہم اتحاد و بھائی چارہ کے ساتھ ساتھ اپنی بات بھی کہتے ہیں۔ ہم جھڑپ، بم دھماکے اور تشدد کے خلاف ہیں، لیکن خاموش رہنے کے بھی خلاف ہیں اور اپنے مطالبات پیش کرتے رہیں گے۔ اگر یہ باتیں نہ کہی جائیں تو دھماکہ ہوگا۔ حکام بھی اپنی برداشت کا گراف اوپر کریں اور ان باتوں پر توجہ دیں۔
جامع مسجد مکی زاہدان کے خطیب نے کہا: ہم نے سنا ہے کہ حالیہ انتخابات میں بعض امیدواروں کو محض اس لیے نااہل قرار دیا گیا ہے کہ جامع مسجد مکی سے ان کے تعلقات ہیں۔ یہ بہت سنگین غلطی ہے۔ مکی مسجد ایران اور اسلام کے دشمنوں کے خلاف کھڑی ہے اور اعتدال و گفت وشنید اس کا طریقہ ہے۔ یہاں آمریت تو نہیں ہے۔ یہ اسلامی جمہوریہ کا نظام حکومت ہے۔ لہذا تنقید کو برداشت کرنی چاہیے۔ مکی اللہ سے وابستہ ہے اور پائیدار و ماندگار رہے گی۔ اس مسجد کا وجود ملک کے مفاد میں ہے۔


آپ کی رائے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

مزید دیکهیں