آج : 25, January 2020
شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید:

مناسب تھا صوبائی ٹی وی کے ڈائریکٹر عوام سے معافی مانگتے

مناسب تھا صوبائی ٹی وی کے ڈائریکٹر عوام سے معافی مانگتے

اہل سنت ایران کے ممتاز عالم دین مولانا عبدالحمید نے اپنے چوبیس جنوری دوہزار بیس کے خطبہ جمعہ میں سرکاری ٹی وی کے صوبائی چینل میں امتیازی رویے اور کرائسز مینجمنٹ کے اجلاس کی کوریج پر عوامی غم وغصہ کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا: سرکاری ٹی وی کا رویہ اتحاد کے خلاف تھا، مناسب تھا کہ ٹی وی ڈائریکٹر عوام سے معافی مانگتے۔
سنی آن لائن نے مولانا عبدالحمید کی آفیشل ویب سائٹ کے حوالے سے رپورٹ دی، ایرانی بلوچستان کے جنوبی اضلاع میں حالیہ سیلاب کے بعد صدر روحانی کی زیر صدارت منعقد کرائسز مینجمنٹ کے اجلاس کے دوران جب سنی برادری کے سماجی و مذہبی رہ نما مولانا عبدالحمید خطاب کے لیے اسٹیج پر آئے، اچانک لائیو کوریج بند کردی گئی۔ اس واقعے پر مختلف حلقوں خاص کر نوجوانوں نے شدید ردعمل دکھایا۔
زاہدان کے مولانا عبدالحمید نے کہا: میرا خطاب جس کی لائیو کوریج بند ہوئی، کسی کے خلاف نہیں تھا۔ بندہ نے صرف سیلاب سے پیدا ہونے والی تباہیوں کی رپورٹ پیش کی، عوام کی بعض ضرورتوں مثل پینے کا پانی، زرعی اراضی کو صاف کرنے اور قصبوں کے آس پاس پشتہ بند لگانے کی بات کی اور اپنی تجاویز اس سلسلے میںحاضرین کے سامنے رکھ دی۔
انہوں نے کہا: میں نے اپنے خطاب میں کسی پر تنقید نہیں کی، سرکاری ٹی وی کی یہ حرکت ہمارے اتحاد کے خلاف تھی۔ اس واقعے سے سیلاب متاثرین بھی ناراض و افسردہ دل ہوئے اور دیگر طبقوں میں بھی تشویش کی لہر دوڑگئی۔
صدر دارالعلوم زاہدان نے کہا: ہرچند ہمارے خیال میں لائیو کوریج روکنے کی کوئی معقول وجہ نہیں تھی، لیکن مناسب یہی تھا کہ سرکاری ٹی وی اور ریڈیو کے صوبائی سربراہ اس واقعے کی تفصیلات اور اپنے اعذار پیش کرتے اور مجھ سے نہیں بلکہ عوام سے معافی مانگتے تاکہ ان کی رنجش کا کچھ ازالہ ہوجائے۔ معافی مانگنے کی جرات خود ایک قسم کی قوت اور فرد کی اعلی ظرفی کی نشانی ہے۔
ممتاز بلوچ عالم دین نے مذکورہ بالا واقعے پر عوام کے غم و غصہ اور شدید احتجاج پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا: میرا اندازہ یہ نہیں تھا کہ معزز شہری اور نوجوان اس حد تک ایسے واقعات پر رنجیدہ خاطر ہوجاتے ہیں۔ میں آپ کا شکریہ ادا کرتاہوں اور تاکید کرتاہوں کوئی پریشانی کی بات نہیں ہے۔ امید ہے آپ اپنے جذبات پر قابو پاکر مزید احتجاج سے گریز کریں گے۔ کافی تنقید ہوچکی ہے۔
انہوں نے متعلقہ حکام سے مطالبہ کیا آئندہ ایسی کمزوریوں کے ازالہ کے لیے کوشش کریں اور مناسب منصوبہ بندی سے ایسی مشکلات کے سدباب کے لیے محنت کریں۔

سرکاری میڈیا بلوچی زبان اور اہل سنت کی تقریبات پر مزید توجہ دے
مولانا عبدالحمید نے اپنے خطاب جاری رکھتے ہوئے ملک میں اتحاد قائم رکھنے پر زور دیا۔ انہوں نے کہا: ہمارے خیال میں شیعہ و سنی میں کوئی فرق نہیں ہے، لیکن افسوس ہے کہ کچھ لوگ ایسا نہیں سوچتے ہیں۔
ممتاز عالم دین نے مزید کہا: یہ ایک حقیقت ہے کہ صوبہ سیستان بلوچستان میں اکثریت اہل سنت کی ہے، لہذا حکام اپنے سنی بھائیوں پر مزید توجہ دیں۔ سرکاری ٹی وی اور ریڈیو کسی مخصوص مسلک یا گروہ کے لیے نہیں ہے، اس کے اخراجات پوری قوم پر ہیں اور سب اس میں شریک ہیں۔
مولانا عبدالحمید نے کہا: اہل سنت کی مذہبی تقریبات کی کوریج صوبائی ٹی وی میں ہمارے لوگوں کو ہرگز پسند نہیں ہے۔ لوگوں کو شکایت ہے کہ نماز جمعہ کی تقریب کو انتہائی کمزور الفاظ کے ساتھ سرسری انداز میں پیش کی جاتی ہے۔
سرکاری ٹی وی میں بلوچی زبان پر کم توجہ دینے پر تنقید کرتے ہوئے انہوں نے کہا: تمام زبانیں اور ثقافتیں قابل احترام ہیں، لیکن بلوچی زبان کو جتنا وقت اور توجہ دی جاتی ہے، وہ ہرگز ہمارے لوگوں کے لیے قابل قبول نہیں ہے۔ مقامی زبانوں کو صوبائی ٹی وی میں مزید وقت ملنا چاہیے۔
شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے کہا: افسوس کی بات ہے کہ اہل سنت کی اذان سرکاری میڈیا میں نشر نہیں ہوتی ہے حالانکہ آئین کے مطابق جن علاقوں میں سنی اکثریت میں ہیں وہاں قوانین اور پروگرام ان کے مسلک کے مطابق ہونے چاہییں۔ یہ قانون بھی بعض دیگر قوانین کی طرح بھلادیا گیا ہے۔
انہوں نے کہا: یہ انتہائی افسوسناک بات ہے کہ قوانین پر اس وقت تک توجہ دی جاتی ہے اور ان پر عمل کیا جاتاہے جب وہ نافذین قانون کے مفاد میں ہوں، بصورت دیگر قوانین پر کوئی توجہ نہیں دی جاتی ہے۔

اگر ایران میں اہل سنت کے حقوق کی پاسداری ہوتی، ملک کی مقبولیت دنیا میں اس سے بڑھ کر ہوتی
خطیب اہل سنت زاہدان نے ایران کی سنی برادری کے حقوق پر زور دیتے ہوئے کہا: یہ ایک حقیقت ہے کہ اگر ہمارے ملک سنی برادری پر توجہ دی جاتی تھی اور انہیں صوبائی و قومی عہدوں پر مقرر کیا جاتا، آج دنیا میں ایران کی مقبولیت اس سے کہیں بڑھ کر ہوتی۔
انہوں نے مزید کہا: شیعہ و سنی بھائی بھائی ہیں اور ہم ان میں تفرق اور جدائی کے سخت مخالف ہیں۔ ہم امت واحدہ پر یقین رکھتے ہیںاور ہمارے لیے شیعہ و سنی کا کوئی فرق نہیں ہے۔ ہم ملک و ملت کے اعتبار سے بھائی بھائی ہیں اور ہمارا تعلق اسی ملک سے ہے۔ لہذا ان دو برادریوں پر یکساں توجہ دینی چاہیے۔

مولانا عبدالحمید نے زاہدان میں ہزاروں فرزندانِ توحید سے خطاب کرتے ہوئے جنوبی بلوچستان میں سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں بحالی کے لیے اساسی اور بنیادی کاموں کی ضرورت ہے۔
انہوں نے پوری ایرانی قوم کا شکریہ ادا کیا جنہوں نے اس حادثے میں یکجہتی کا مظاہرہ کرتے ہوئے متاثرین کی مدد کی۔


آپ کی رائے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

مزید دیکهیں