آج : 18, January 2020

گارڈین کونسل کی کارکردگی پوری طرح جانبدارانہ ہے

گارڈین کونسل کی کارکردگی پوری طرح جانبدارانہ ہے

شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے سترہ جنوری دوہزار بیس کے خطبہ جمعہ میں بڑے پیمانے پر پارلیمانی انتخابات میں امیداروں کی اہلیت ختم کرنے تنقید کرتے ہوئے گارڈین کونسل کی کارکردگی کو پوری طرح جانبدارانہ قرار دیا۔
خطیب اہل سنت زاہدان نے اپنے بیان میں جنوبی بلوچستان میں سیلاب کی تباہی کی جانب اشارہ کرتے ہوئے متاثرین کی مالی مدد پر زور دیا۔
سنی آن لائن نے مولانا عبدالحمید کی آفیشل ویب سائٹ کے حوالے سے رپورٹ دی، مولانا نے زاہدان میں خطبہ جمعہ دیتے ہوئے کہا: آنے والے انتخابات میں شرکت کے لیے مختلف طبقات سے تعلق رکھنے والے متعدد دانشور حضرات نے اپنے کاغذات جمع کرائے تھے، لیکن گارڈین کونسل کی جانب سے بڑے پیمانے پر امیداروں کو نااہل قرار دینے کا مسئلہ حیرت انگیز تھا۔
انہوں نے مزید کہا: گارڈین کونسل نے جانبداری کا مظاہرہ کرتے ہوئے مخصوص حلقوں کے لوگوں کو منظوری دی ہے جس سے واضح ہوتاہے جس سے ان کا مقصد واضح ہوجاتاہے۔
مولانا عبدالحمید نے کہا: بہت سارے امیدوار اس بہانے سے نااہل قرار پاچکے ہیں کہ اسلام پر عملی پابندی نہیں رکھتے ہیں۔ عجیب بات ہے کہ بہت سارے شیعہ و سنی علما کو اسی بنیاد پر نااہل قرار دیا جاچکاہے۔ اگر علما اسلام پر عمل نہیں کرتے ہیں پھر کون اسلام پر عمل کرتاہے؟
انہوں نے واضح کرتے ہوئے کہا: گارڈین کونسل نے امیدواروں کی اہلیت منظور کرنے کے لیے ’اسلام پر عملی التزام‘ کی شرط رکھی ہے؛ سوال یہ ہے کیا کسی مسجد کے لیے امام مقرر کرنا ہے یا مدرسہ کے لیے مدرس؟!
مولانا عبدالحمید نے کہا: مجلس شورائے اسلامی (پارلیمان) قانون سازی کا مقام ہے۔ وہاں ماہر سیاستدانوں اور داخلی و خارجی مسائل میں ماہر افراد کی ضرورت ہے۔ اگر ہم اپنے ملک کی ترقی چاہتے ہیں، ہمیں پختہ کار ماہرین کی خدمات لینے کے سوا کوئی چارہ نہیں ہے۔
انہوں نے کہا: انتخابات میں مختلف افکار و آرا کے لوگوں کو مشارکت دینی چاہیے۔ اس کے بغیر لوگوں میں ووٹ ڈالنے کے لیے کوئی رغبت باقی نہیں رہتی۔ ایسے میں ٹرن آوٹ بہت کم ہوگا۔
ممتاز سنی عالم دین نے کہا: پارلیمنٹ کو ایک ہی سوچ کے افراد کے لیے مخصوص کرنے سے ملک ترقی کی راہ پر گامزن نہیں ہوگا۔ مسائل کے تجزیے کے لیے مختلف افکار کے حاملین کا اکٹھے ہونا ضروری ہے۔ قوم کو مزید موقع دینا چاہیے۔ کسی حکومت کی بقا بندوق اور زورِ بازو سے ممکن نہیں ہے۔ اسلامی جمہوریہ ایران عوامی مطالبات پر توجہ دینے ہی سے باقی رہ سکتاہے۔ عوام کی آواز سننی چاہیے۔
شیخ الحدیث دارالعلوم زاہدان نے مزید کہا: ”اللہ“ اور ”عوام“ کسی بھی اسلامی نظام اور حکومت کے لیے بنیاد ہیں۔ سب سے پہلے اللہ تعالی کے قوانین کو بنیاد اور اساس قرار دینا چاہیے۔ اس کے بعد عوام کے مطالبات اور رضامندی پر توجہ دینی چاہیے۔ یہ عوام ہی ہیں جو براہ راست یا بالواسطہ اعلی حکام کو منتخب کرتے ہیں۔

داخلی و خارجی پالیسیوں میں یوٹرن کی ضرورت ہے
مولانا عبدالحمید نے اپنے چند ماہ قبل کے بیان کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا: اس سے پہلے بندہ تاکید کے ساتھ کہہ چکاہے کہ ملک کو داخلی و خارجی پالیسیوں میں یوٹرن کی ضرورت ہے۔ میرا یہ مشورہ خیرخواہی کی بناپر تھا، اگر اس پر توجہ ہوتی آج ہمارے حالات ایسے نہیں تھے اور ملک میں عوامی مظاہروں اور احتجاجوں کا نیا سلسلہ شروع نہیں ہوتا۔
انہوں نے مزید کہا: تجربہ سے ثابت ہوچکاہے کہ افراد اور اعلی افسران کی تقرری میں موجودہ قوانین و ضوابط ناکارآمد ہیں، بلکہ ان کا نقصان پورے ملک سہہ رہاہے۔ کمزور افسران کی وجہ سے نظام حکومت شدید نقصان سے دوچار ہوچکاہے۔
مولانا عبدالحمید نے کہا: اعلی افسران کی تقرری کے لیے صرف یہ نہ دیکھاجائے کہ نماز جمعہ میں شرکت کرتے ہیں یا نہیں، سرکاری ریلیوں میں حصہ لیتے ہیں یا نہیں؛ بلکہ لوگوں کی قومیت اور مسلک سے قطع نظر ان کی صلاحیت، سچائی اور دیانتداری کو معیار بناکر انہیں اہم پوسٹوں پر لگایا جائے۔ حتی کہ دیگر مذاہب کے مستعد و ماہر افراد کی صلاحیتوں سے استفادہ کرنا چاہیے۔ تب ملک ترقی و خوشحالی کی راہ پر گامزن ہوگا۔
انہوں نے کہا: جوکچھ کہاجارہاہے، سب جذبہ خیرخواہی کے تحت ہے۔ حکمت کی بات مومن کا متاع ہے، چاہے وہ کسی بھی شخص کی زبان سے نکلے۔ افسوس ہے کہ ہمارے ملک میں خیرخواہوں کی خیرخواہی پر توجہ نہیں دی جاتی ہے۔

اہل سنت ایران کے ممتاز دینی و سماجی رہ نما نے اپنے خطاب کے آخر میں ایران کے جنوبی بلوچستان میں سیلاب سے متاثرین کی امداد و بحالی پر سب کا شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے کہا: اس وقت مختلف ضروری اشیا کی ترسیل بڑے پیمانے پر ہوچکی ہے اور سب سے زیادہ اہم ان کی بحالی ہے۔ لہذا زرعی زمینوں کو صاف کرنا، سیلاب سے بچاو کے لیے ڈیم بنانا اور سڑکیں ٹھیک کرنے کی ضرورت ہے۔ یہ سب پیسہ اور نقد امداد سے ممکن ہے۔


آپ کی رائے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

مزید دیکهیں