آج : 15 December , 2019
مولانا عبدالحمید:

اللہ کی یاد سے غفلت حقیقی دیوالیہ پن ہے

اللہ کی یاد سے غفلت حقیقی دیوالیہ پن ہے

خطیب اہل سنت زاہدان نے اپنے تیرہ دسمبر دوہزار انیس کے بیان میں ذکراللہ سے غفلت کو دیوالیہ پن یاد کرتے ہوئے قرآن کی روشنی میں مال و اولاد کو غفلت کے اسباب میں شمار کیا۔
سنی آن لائن نے مولانا عبدالحمید کی آفیشل ویب سائٹ کے حوالے سے رپورٹ دی، مولانا نے زاہدان میں مرکزی جامع مسجد میں نماز جمعہ سے پہلے خطبہ دیتے ہوئے سورت المنافقون کی آیت نمبر نو: “يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تُلْهِكُمْ أَمْوَالُكُمْ وَلَا أَوْلَادُكُمْ عَنْ ذِكْرِ اللَّهِ وَمَنْ يَفْعَلْ ذَلِكَ فَأُولَئِكَ هُمُ الْخَاسِرُونَ” سے اپنے خطاب کا آغاز کیا۔
انہوں نے کہا: قرآن پاک جو مسلمانوں کا سب سے بڑا سرمایہ و اثاثہ ہے انہیں یاددہانی کراتاہے کہ خیال رکھو کہیں مال و اولاد تمہاری غفلت کا باعث نہ بنیں۔
حضرت شیخ الاسلام نے مزید کہا: انسان کو سب سے زیادہ جو چیز پسند ہے، وہ مال ہی ہے۔ چنانچہ سورت العادیات میں ہے: “وَإِنَّهُ لِحُبِّ الْخَيْرِ لَشَدِيدٌ”۔ اسی لیے اللہ تعالی نے سورت المنافقون میں اولاد سے پہلے مال کا تذکرہ فرمایاہے۔ اسی مال کی وجہ سے بندے اللہ کی یاد سے غافل ہوجاتے ہیں۔
انہوں نے کہا: مال کی وجہ سے غفلت کے غلبہ کی ایک نشانی یہ ہے کہ بندہ زکات دینے سے گریز کرتاہے یا لوگوں کے حق اور قرضہ واپس نہیں کرتاہے۔
شیخ الحدیث دارالعلوم زاہدان نے مزید کہا: اولاد بھی انسان کی غفلت کا باعث بن جاتی ہیں؛ چنانچہ کچھ لوگ اولاد ہی کی خاطر اللہ تعالی کو بھول جاتے ہیں۔ بعض اوقات ان کے اخراجات کی خاطر حرام کمانے تک جاتے ہیں اور حرام مال سے اولاد کی پرورش کرنے لگتے ہیں۔
انہوں نے کہا: اللہ کی یاد کا مطلب ہے گناہوں سے پرہیز اور اللہ تعالی کے احکامات سے پیروی۔ خیال رکھیں مال و اولاد ہمیں اللہ کی یاد سے غافل نہ کریں، ورنہ بڑا نقصان ہوگا۔
مولانا عبدالحمید نے مزید کہا: دیوالیہ صرف وہ شخص نہیں ہے جو کسی بڑے سیاسی، معاشی یا سماجی خسارے کا شکار ہوچکاہے، حقیقی دیوالیہ پن اللہ کی یاد سے غفلت ہی ہے۔ اس دیوالیہ پن سے دین و دیانت کا نقصان ہوتاہے جو ناقابل تلافی ہے۔
انہوں نے بات آگے بڑھاتے ہوئے کہا: اگر کوئی شخص توبہ کیے بغیر گناہوں کی آلودگیوں سمیت اس دنیا سے چلاجائے، بلاشبہ اس کا بڑا نقصان ہواہے جو ناقابل تلافی ہے۔ موت کے بعد پچھتاوے کا کوئی فائدہ نہیں ہے۔ موت کے بعد ہر بندے کی خواہش ہوتی ہے کہ واپس دنیا آجائے اور صدقہ دے کر نیک بن جائے، لیکن ایسا ممکن نہیں ہوگا۔ معلوم ہوتاہے صدقہ دینے اور انفاق کرنے کا انسان کو نیک بنانے میں کلیدی کردار ہے۔
صدر شورائے مدارس اہل سنت نے کہا: افسوس کا مقام ہے کہ اکثر لوگوں کا رویہ کچھ اس طرح ہے کہ گویا جنت اور جہنم نام کی کوئی چیز نہیں تاکہ وہ جنت کے حصول اور جہنم سے بچنے کی کوشش کریں۔ اللہ کی یاد سے غفلت اور روزِ قیامت کو بھول جانے کی وجہ سے سماج میں بکثرت گناہ ہوتے ہیں اور لوگوں کا حق ضائع ہوتاہے۔
انہوں نے کہا: اللہ تعالی نے نفس و شیطان کو انسانوں کا دشمن یاد کیا ہے جو انہیں خدا کی یاد سے غافل کرتے ہیں۔ لہذا ہر مسلمان مال و اولاد سے پہلے اور ان سے زیادہ اللہ تعالی اور نبی کریم ﷺ سے محبت کرے۔
مولانا عبدالحمید نے آخر میں کہا: یہ مسلمانوں کے لیے شرم کی بات ہوگی کہ اللہ سے ان کی محبت بت پرستوں کی اپنی بتوں سے محبت سے کمتر ہو۔ لہذا اس سے پہلے کہ میدانِ محشر میں بے فائدہ حسرت کی نوبت آجائے، اسی دنیا میں قبر اور حساب و کتاب کے لیے تیاری کریں۔


آپ کی رائے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

مزید دیکهیں