آج : 28 November , 2019

خاتون ارم

خاتون ارم

میں اپنی زندگی کے ۶۳ سال گزار چکی ہوں، اس عرصے میں ایسی شریک حیات نہ میکے میں نہ سسرال میں نہ آس پاس میں نے دیکھی نہ سنی
ماں باپ نے ان کا نام ’م‘ رکھا لیکن نانا پیار سے خاتون ارم کہتے تھے یعنی جنت کی خاتون اور وہ واقعی اسم بامسمی ثابت ہوئیں۔ ۱۶ سال کی عمر میں ان کی شادی ۳۶ سال کی عمر کے صاحب سے ہوئی جن کے دو بچے تھے۔ پہلے ہی دن اُن کے شوہر نے کہہ دیا تھا کہ اگر چہ یہ بچے آپ سے عمر میں ۸،۶ سال ہی چھوٹے ہیں مگر آپ نے ان کو ماں کا پیار دینا ہے۔
خاتون ارم نے اس قدر محبت سے سوتیلے بچوں کو رکھا کہ خاندان میں مثال قائم ہوگئی۔ آج تک ان کے سوتیلے بچے اُن کو یاد کرتے ہیں۔ پاکستان بننے کے تھوڑے عرصے بعد وہ شوہر کے ساتھ پاکستان آگئیں۔ آتے ہی شوہر کو سرکاری نوکری مل گئی۔۔۔ پھر کچھ دور کے سسرالی رشتے دار بھی ساتھ رہنے لگے۔ خود بھی ان کا بے حد خیال رکھتیں اور شوہر کو بھی ہر وقت سمجھاتیں کہ کوئی بات ایسی نہ ہو کہ اُن کا دل دکھ جائے۔ اس زمانے میں راشن کی دکان سے کپڑا ملتا تھا، جب مردانہ کپڑے آتے تو شوہر سے کہتیں کہ پہلے آپ اپنے بھائی سے پسند کروائیں پھر بیٹے سے۔ میرے یہ چچا ہمیشہ یہ قصے سناتے کہ بھائی صاحب اور بھابھی صاحبہ اپنے بیٹے پر مجھے ترجیح دیتے تھے۔ سوتیلی بیٹی کو جہیز میں ہر چیز بڑھ بڑھ کر دلوائی۔
خاتون ارم کے شوہر کا ایک لگا بندھا معمول تھا۔ فجر کے بعد ناشتہ، ۱۱ بچے دوپہر کا کھانا، ۳ بجے سہ پہر چائے، مغرب کے بعد رات کا کھانا، ساری زندگی شوہر کو ان کے وقت کے مطابق کھانا اور ناشتہ دیا، چاہے بیمار ہوں یا نیند قربان کرنا پڑے۔ اکثر شادیوں میں لوگ شادی والے گھر میں رات گزارتے ہیں، خاتون ارم نے کبھی ایسا نہیں کیا کہ صبح ناشتے کی شوہر کو تکلیف ہوگی۔ کبھی ان کے بھائی و غیرہ باہر سے آتے تو سب باتوں میں لگے ہوتے لیکن خاتون ارم گھڑی دیکھ کر ڈھائی بجے اٹھ جاتیں کہ شوہر کو چائے دینی ہے۔
اُن کے شوہر ناراض بھی ہوتے کہ سنوجی تم نے تو ہمیں ایسا رشتے داروں کے سامنے پیش کر رکھا ہے کہ جیسے ہم بہت غصے والے ہیں، ایک دن چائے وقت پر نہ ملی تو ہم برا بھلا کہیں گے۔۔۔ تو کہتیں کہ آپ کی عادت کا سب کو پتا ہے، میں اپنی خوشی سے آتی ہوں۔ اپنی بیٹیوں کو بھی شوہر کی خدمت کی تلقین کرتیں، شوہر کا نام لینے پر اور تم کہہ کر مخاطب کرنے پر بہت ناراض ہوتیں کہ شوہر نہ ہوئے چھوٹے بھائی ہوگئے۔
وہ کہا کرتی تھیں کہ میں تو اپنی ذاتی غرض کے لیے کہ شوہر کی خدمت کرتی ہوں تا کہ جس دروازے سے چاہوں جنت میں چلی جاؤں۔ ایک دفعہ عید پر ان کی بیٹی نے والد سے کہا مجھے کریم کلر کا سوٹ لائیں تو والد صاحب کو رنگ بہت ہلکا لگا، وہ ہرے رنگ کالے آئے اور خاتون ارم کو کریم کلر کا۔ بیٹی نے کہا میں کریم کلر والا ہی لوں گی تو خاتون ارم نے فوراً دے دیا اور کہا کہ میں ہرا بنالوں گی۔ ان کے شوہر نے کہا یہ تو بہت گہرا رنگ ہے اور آپ کو تو ہرا رنگ پسند نہیں ہے تو کہنے لگیں کہ کوئی بات نہیں پیسے تو بچ جائیں گے۔ کمیٹیاں ڈال ڈال کر شوہر کے برے بھلے وقت میں مدد کردیتیں، اکثر مالی مسائل کے وقت اپنا زیور بیچنے کے لیے دے دیتیں۔
ایک بار ان کی شوہر سے لڑائی ہوگئی اور بات کچھ بڑھ گئی تو انہوں نے خط لکھ کر بیٹی کو دیا کہ اپنے والد کو دے دیں۔ تجسس انسان کی فطرت ہے، بیٹی سے امانت میں خیانت ہوگئی او رانہوں نے وہ خط پڑھ لیا۔ اس وقت تو کسی کو نہیں بتایا مگر بعد میں بہت عرصے کے بعد بتایا کہ پورے خط میں صرف یہی لکھا تھا کہ میرا قصور تھا مجھ سے بہت بڑی غلطی ہوئی مجھے معاف کردیں۔
ننھیالی رواج تھا کہ مہر ۵۱ہزار لڑکیوں کا ہوتا، شوہر کو بار بار کہتیں کہ میں نے مہر معاف کردیا ہے، آپ اپنے اوپر کوئی اس کا بار نہ رکھیں تو شوہر کہتے کہ تم نے تو معاف کردیا مگر ہم تو دیں گے، یہ مروت کے خلاف ہے۔
پھر اس کا اتنا اچھا حل نکالا کہ ریٹائر ہونے کے بعد پنشن کے پیسوں میں سے جب شوہر نے مہر دینے کا ارادہ کیا تو کہا گھر خرید کر مجھے دے دیں۔ یوں سب کا بھی فائدہ ہوگیا اور شوہر کو بھی سر خرو کردیا۔
ایک زمانے میں برتن دھونے کے لیے اسٹیل کے سنک آنے شروع ہوئے، پروانے زمانے کے کچن تو بہت چھوٹے ہوتے تھے تو خاتون ارم کہنے لگیں کہ کچن کی دیوار کے ساتھ برآمدے میں لگواؤں گی اور اس مقصد کے لیے کمیٹی ڈال لی ہے۔ جب کمیٹی نکل آئی تو سنک لگوالیا۔ ان کے شوہر کو سنک اور جگہ بہت پسند آئی اور کہا کہ بس یہ میرے وضو کرنے کے لیے ہے، ایک دفعہ بھی منع نہیں کیا اور کچن میں بیٹھ کر ہی برتن دھوتی رہیں۔
کبھی کبھی کہتیں کہ میں نے اللہ سے تین چیزیں مانگی ہیں: سہاگن دنیا سے جاؤں، چلتے ہاتھ پیر جاؤں، رمضان یا جمعہ کو جاؤں۔ اللہ نے تینوں باتیں پوری کیں، ۵۸ سال کی عمر میں سہاگن رہ کر انتقال ہوا۔ جمعے کے دن صبح فجر کی نماز پڑھ کر لیٹیں اور ۵ منٹ بھی نہیں لگے کہ آرام سے چلی گئیں۔
یہ تھیں میری والدہ محترمہ۔۔۔ اللہ ان کی مغفرت فرمائے آمین!


آپ کی رائے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

مزید دیکهیں