آج : 25 November , 2019
شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نماز جمعہ کے اجتماع میں:

سودی معاملات سے سب کچھ تباہ ہوجائے گا

سودی معاملات سے سب کچھ تباہ ہوجائے گا

خطیب اہل سنت زاہدان نے بائیس نومبر دوہزار انیس کے خطبہ جمعہ میں سودی اور شریعت کے خلاف ہونے والے معاملات کو تباہ کن اور خطرناک یاد کرتے ہوئے معاملات میں شرعی حدود اور حقوق الناس کے خیال رکھنے پر زور دیا۔
سنی آن لائن نے مولانا عبدالحمید کی ویب سائٹ کے حوالے سے رپورٹ دی، خطیب اہل سنت نے زاہدان میں ہزاروں فرزندانِ توحید سے خطاب کرتے ہوئے کہا: اسلام بحیث ایک جامع و کامل دین، معاملات اور کاروبار کے بارے میں بھی درست اور جامع قوانین کے حامل ہے۔ جس طرح ہمارا اخلاق، عقیدہ، معاشرات اور برتاؤ اسلامی ہونا چاہیے، اسی طرح لین دین اور معاملات کو بھی اسلامی اور درست انداز میں کرنا چاہیے۔
انہوں نے مزید کہا: مسلمانوں کو چاہیے اسلام کی حدود میں رہ کر زندگی گزاریں اور ہر کام میں اسلامی قوانین و احکام کو مدنظر رکھیں۔ افسوس کی بات ہے کہ آج کل بکثرت کاروبار میں شریعت کی خلاف ورزی ہورہی ہے۔ مارکیٹس میں کام کرنے والے تاجر حضرات شریعت کا خیال رکھیں، اگر انہیں شک ہو،اہل علم سے پوچھ کر تسلی حاصل کریں۔
شیخ الحدیث دارالعلوم زاہدان نے کہا: کچھ مسلمان منشیات اور ایسی چیزیں درآمد کرتے ہیں جن سے معاشرہ میں فساد پھیلتاہے۔ درآمد کرنے والے خیال رکھیں کہیں ایسی چیزیں نہ لائیں جس سے معاشرہ میں خرابی پیدا ہوتی ہے۔ خلاف شریعت معاملات سے شخص کی جائیداد اور مال تباہ ہوکر رہ جاتے ہیں۔
انہوں نے ربا اور سودی لین دین کو تباہ کن یاد کرتے ہوئے کہا: کچھ لوگ سودی لین دین کرکے زیادہ پیسہ کماتے ہیں اور یہ سمجھتے ہیں کہ زیادہ پیسہ کماکر وہ کامیاب ہوچکے ہیں۔ حالانکہ یہ ایک شکست ہے۔ حرام روزی سے جان و مال، صحت و خاندان اور پوری زندگی تباہ ہوجائیں گے۔
مولانا عبدالحمید نے زور دیتے ہوئے کہا: تم پر کوئی تکلیف اور حکم نہیں کہ گھروالوں کے خرچے کے لیے حرام، ربا، چوری اور منشیات کے کاروبار سے پیسہ کمایاجائے۔ اگر آپ کے بچے زیادہ خوشحالی میں نہ ہوں، یہ بہتر ہے اس سے کہ تمہاری اور اہلکاروں کی جان خطرے میں پڑجائے اور ایک سماج متاثر ہوجائے۔ روزی حلال اور پاک ہونی چاہیے۔ کم حلال زیادہ حرام سے بہت بہتر ہے۔
منشیات کے کاروبار کی تباہ کاریوں کی جانب اشارہ کرتے ہوئے ممتاز سنی عالم دین نے کہا: تمام شہریوں سے درخواست کی جاتی ہے کہ درست کاروبار کی طرف چلیں اور دوسروں کے لیے روزگار فراہم کریں۔ کچھ لوگ قانونی کاروبار کے ذریعے سے اتنا پیسہ کماتے ہیں کہ دوسرے لوگ حرام کاروبار سے بھی اتنا نہیں کماسکتے۔

میراث کی تقسیم میں خواتین و یتیموں کے حقوق کا خیال رکھیں
خطیب اہل سنت نے میراث کی تقسیم کی اہمیت واضح کرتے ہوئے کہا: میت کے کفن اور دفنانے کے بعد سب سے اہم مسئلہ میراث کی تقسیم ہے جو شریعت کے مطابق ہونی چاہیے۔ اچھے خاندان میت کے مال و جائیداد کو درست طریقے سے وارثوں میں تقسیم کرتے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا: یتیم کا مال ہڑپنا اور خواتین کو میراث نہ دینا بہت بڑی زیادتی ہے۔ یتیم کے حق کو پامال کرنے والوں پر سخت وعید آئی ہے۔ خواتین کو بھی میراث میں شریک کرنا چاہیے جس طرح قرآن میں آیاہے۔ کچھ خواتین اپنے حق سے دستبردار ہوتی ہیں، یہ علاقائی رسم و رواج ہے اور جبر کا نتیجہ ہے؛ اسی لیے اس کا کوئی اعتبار نہیں ہے۔
مولانا عبدالحمید نے کہا: لوگوں کے حقوق کے حوالے سے سخت ہوشیار رہیں۔ اگر کوئی مسلمان حج کرے، تہجد اور صلاۃ التسبیح کا اہتمام کرے، لیکن لوگوں کے حقوق اس کے ذمے پر ہوں، ایسے شخص کو جنت جانے کی اجازت نہیں ملے گی۔

پیٹرول مہنگا کرنے کا فیصلہ واپس لیا جائے
اپنے خطاب کے دوسرے حصے میں اہل سنت ایران کے ممتاز دینی و سماجی رہ نما نے پیٹرول مہنگا کرنے کے حکومتی فیصلے پر رد عمل ظاہر کرتے ہوئے کہا: یہ فیصلہ تمام جوانب کو مدنظر رکھ کر منظور نہیں ہوا ہے، حکام کو چاہیے نظرثانی کریں۔
شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے کہا: پیٹرول مہنگا کرنے سے ملک میں کچھ مسائل پیدا ہوئے۔ عوام کی اکثریت کا خیال ہے پیٹرول کی نئی قیمت حد سے زیادہ ہے جس سے لوگوں پر دباؤ آتاہے۔
انہوں نے مزید کہا: جن ماہرین نے حکام بالا کو پیٹرول کی نئی قیمت کا مشورہ دیا ہے انہوں نے درست انداز میں مسئلے کے تمام پہلوؤں کو پرکنے کی زحمت نہیں اٹھائی ہے۔ ان کی رپورٹ ناقص معلومات پر مبنی تھی۔
نامور سنی عالم دین نے کہا: ایرانی قوم ظالمانہ معاشی پابندیوں سے دوچار ہے، تجارتی کاروبار بھی شدید خسارے سے دوچار ہوچکے ہیں۔ عام لوگ سخت معاشی مسائل سے دوچار ہیں۔ جن ماہرین نے پیٹرول کی موجودہ قیمت کا مشورہ دیا ہے انہوں نے کیوں عوام کا خیال نہیں رکھا ہے؟ کیوں ایسی کوئی قیمت تجویز نہیں ہوئی جو لوگوں کے لیے قابل برداشت ہو۔
مولانا عبدالحمیدنے مزید کہا: اگرچہ حکام نے زور دیا ہے کہ اشیائے ضروری کی قیمتیں اوپر نہ جائیں، پھر بھی خواہ ناخواہ بعض چیزیں جن کا تعلق پیٹرول سے ہے مہنگی ہوجائیں گی۔
انہوں نے آخر میں حکام بالا کو مشورت دی ملک و ملت کے مفادات کو مد نظر رکھتے ہوئے پیٹرول کی قیمت میں نظرثانی کریں۔


آپ کی رائے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

مزید دیکهیں