آج : 12 November , 2019
مولانا عبدالحمید:

رسول اللہﷺ نے دنیا کو بھائی چارہ، انصاف اور درست عقائد کی جانب بلایا

رسول اللہﷺ نے دنیا کو بھائی چارہ، انصاف اور درست عقائد کی جانب بلایا

اہل سنت ایران کی ممتاز دینی و سماجی شخصیت نے نبی کریم ﷺ کی بعثت کو دنیا کے سب سے بڑے اور اہم واقعات میں شمار کرتے ہوئے ’بھائی چارہ‘، ’محبت‘، ’درست عقائد‘ اور ’نفاذِ عدل‘ کو آپﷺ کی رسالت کے اہم نتائج میں شمار کیا۔
شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے سورت الانبیا کی آیت 107 کی تلاوت سے اپنے خطاب کا آغاز کرتے ہوئے زاہدان کے مرکزی اجتماع برائے نماز جمعہ کے حاضرین سے کہا: ربیع الاوّل نبی کریم ﷺ کی ولادت کا مہینہ ہے۔ آپﷺ کا میلاد در حقیقت رحمت، نور، خیر اور ہدایت کا میلاد ہے۔ آپﷺ ایک ایسے دور میں پیدا ہوئے جب پوری دنیا میں اندھیرا چھاگیا تھا، ہرسو فساد وگمراہی، اخلاقی و عملی گراوٹ، ظلم و ناانصافی اور تکبر و شرک اپنی آخری حدوں کو پہنچ چکے تھے۔
انہوں نے مزید کہا: خانہ کعبہ جو توحید کی نشان ہے، اس میں 360 بت رکھ کر انہیں پوچا جاتھا۔ ایسے میں نبی کریم ﷺ کی رسالت پوری دنیا کے لیے رحمت تھی۔ تمام آسمانی مذاہب کے پیروکار آپ ﷺ کی بعثت و رسالت کا انتظار کررہے تھے۔ آپ ﷺ کی رسالت سے اللہ تعالی کے وعدے اور پیش گوئیاں جو سابق آسمانی کتابوں میں تھیں، سب محقق ہوگئیں۔
مولانا عبدالحمید نے کہا: عقیدہ بہت اہم ہے، اس سے بڑھ کر کوئی چیز اہم نہیں ہے۔ جب تک عقیدہ ٹھیک نہ ہو، نیک اعمال کو قبولیت نصیب نہیں ہوگی۔ عقیدہ توحید کے بغیر جب عمل کیا جائے، اس کا فائدہ صرف اسی دنیا میں ملے گا۔ آخرت میں کوئی اجر و ثواب نہیں ہوگا۔

اسلام جامع دین ہے
انہوں نے بات آگے بڑھاتے ہوئے کہا: اسلام کا حکم ہے کہ سب کے ساتھ پرامن دوستانہ زندگی گزاریں۔ سب کا احترام کریں۔ عدل و انصاف کا معاملہ کرکے اچھائی کا مظاہرہ کریں۔ اسلام نے مواسات و ہمدردی اور دوسروں کے غم و خوشی میں مشارکت پر زور دیا ہے، چاہے وہ مسلمان ہوں یا غیرمسلمان۔
خطیب اہل سنت زاہدان نے کہا: اسلام ایک جامع و وسیع دین ہے، اس کے احکام کسی مخصوص خطے یا زمانے کے لیے نہیں ہیں۔ یہ ہمیشہ کے لیے ہے اور قیامت تک تمام اقوام اور خطوں کے لوگوں کے لیے اسلام میں رہنمائی پائی جاتی ہے۔
نبی کریم ﷺ کی رسالت سے پہلے کے حالات پر تبصرہ کرتے ہوئے انہوں نے کہا: رسول اللہ ﷺ ایک ایسے دور میں مبعوث ہوئے جب قتل و خونریزی، ظلم و جبر اور ہر قسم کے گناہ عام ہوچکے تھے۔ لوگ انصاف کو ترس رہے تھے۔ آپ ﷺ نے دنیا کے مختلف کونوں میں اسلام اور انصاف کا بول بالا کیا اور صحابہؓ کی درست تربیت کے بعد انہیں اسلام کا پیغام پہنچانے کے لیے بھیجا۔ سرکشوں کی گردنیں اڑادی گئیں اور قبائل و سماجی اکائیوں کو عزت دی گئی۔ غلاموں اور لونڈیوں کے حقوق پر زور دیا گیا۔ آپ ﷺ کے یہاں سب برابر تھے کسی تفریق کی اجازت نہیں تھی۔
شیخ الحدیث دارالعلوم زاہدان نے کہا: جو انصاف آپﷺ نے فراہم کیا، اس کی مثال دنیا میں نہیں ملتی۔ آقا ﷺ نے جب بدر کے اسیروں کو فدیہ لے کر آزاد کرایا، اپنے ہی خاندان کے لوگوں کو بھی فدیہ کے بدلے آزاد کرایا۔ آج کے مسلمان بھی اگر کامیاب ہونا چاہتے ہیں، انہیں نبی کریم ﷺ کی سیرت مبارکہ اپنانے کے بغیر کوئی چارہ نہیں ہے۔ اسی صورت میں ہم امت واحدہ بن جائیں گے۔


آپ کی رائے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

مزید دیکهیں