آج : 12 November , 2019

تاریخ انسانیت میں ایک نئے دور کا آغاز

تاریخ انسانیت میں ایک نئے دور کا آغاز

نئے افراد اور نئی امت
اس وسیع و عمیق ایمان، اس محکم پیغمبرانہ تعلیم، اس دقیق و حکیمانہ تربیت، اپنی عجیب و غریب طاقت و شخصیت اور اس محیرالعقول آسمانی کتاب کے ساتھ کہ جس کے عجائب و غرائب ختم ہونے کو نہیں آتے، اور جس کی تازگی میں کبھی فرق نہیں پیدا ہوتا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جاں بلب انسانیت میں ایک نئی زندگی پیدا کردی، انسانیت کے وہ ذخائر جو خام اشیاء کی شکل میں پڑے پڑے ضائع ہو رہے تھے، جن کی افادیت اور مصرف کی کسی کو خبر نہ تھی، اور جن کو جہالت، کفر اور کم ہمتی نے برباد کر رکھا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی زندگی کا رخ بدل دیا، اس میں خدا کی مدد سے ایمان و عقیدہ پیدا فرمادیا، زندگی کی نئی روح پھونک دی، دبی ہوئی صلاحیتیں ابھار دیں اور اندرونی استعدادیں اجاگر کردیں، پھر ہر ایک کو اس کی صحیح جگہ عطا فرمائی گویا کہ اسی کے لیے اس کا وجود تھا اور گویا کہ جگہ خالی تھی اور اس کی منتظر تھی، وہ بے جان پتھر تھا، اب وہ ایک جیتا جاگتا انسان بن گیا، وہ بے حس و حرکت مردہ تھا، اب وہ زندہ ہوکر دنیا پر حکومت کرنے لگا، پہلے نابینا تھا جس کو خود رستہ کا پتہ نہ تھا، اب ساری دنیا کا رہبر و رہنما بن گیا:
”بھلا وہ جو مردہ ہو ہم نے اس کو زندہ کیا اور اس کو ایک نور عنایت کیا جس کے ذریعہ وہ لوگوں میں چلتا ہو اس جیسا ہے جو اندھیروں میں گم ہو، نکل نہ سکتا ہو“۔
آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی توجہ و تعلیم سے عرب کی برباد شدہ قوم میں ایسا انقلاب ہوا کہ دنیا نے تھوڑے ہی عرصہ میں ان میں وہ عظیم الشان شخصیتیں دیکھیں جو عجوبہ روزگار اور دنیا کی تاریخ میں یادگار ہیں، وہ عمر رضی اللہ عنہ جو اپنے باپ خطاب کی بکریاں چرایا کرتے تھے، اور ان کے باپ ان کو جھڑکا کرتے تھے اور جو کہ قوت و عزم میں قریش کے متوسط لوگوں میں تھے، جن کو کوئی غیر معمولی امتیاز حاصل نہ تھا، ان کے معاصر ان کو غیرمعمولی اہمیت نہیں دیتے تھے، وہی عمر رضی اللہ عنہ تھے کہ یکبارگی تمام عالم کو اپنی عظمت و صلاحیت سے متحیر بنادیتے ہیں، اور قیصر و کسریٰ کو تخت و تاج سے محروم کردیتے ہیں، اور ایسی اسلامی سلطنت کی بناء ڈالتے ہیں، جو بیک وقت ان دونوں حکومتوں پر حاوی ہے، اور تدبیر و حسن انتظام میں ان سے فوقیت رکھتی ہے، ورع و تقویٰ اور عدل کو چھوڑ دیجیے کہ ان میں تو وہ ضرب المثل ہیں۔
یہ ولید کے فرزند خالد رضی اللہ عنہ قریش کے نوجوان حوصلہ مندوں میں سے ایک شخص تھے، مقامی جنگوں میں انہوں نے نام پیدا کیا تھا، قریش کے سردار قبائلی جنگوں میں ان سے مدد لیتے تھے انہوں نے جزیرۃ العرب کے علاقوں میں کوئی بڑی شہرت بھی حاصل نہیں کی تھی، اچانک وہ آسمانی تلوار (سیف من سیوف اللہ) بن کر چمکتے ہیں، جو چیز سامنے آتی ہے کٹ جاتی ہے، یہ خدائی تلوار روم پر بجلی بن کر گرتی ہے، اور تاریخ کے طول و عرض میں اپنے تذکرے چھوڑ جاتی ہے۔
یہ ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ ہیں جن کی امانت اور نرمی کی تعریف کی جاتی تھی وہ مسلمانوں کے چھوٹے چھوٹے لشکروں کی قیادت کرلیا کرتے تھے، ان کو دیکھئے کہ مسلمانوں کی سب سے بڑی قیادت کا بوجھ سنبھال لیتے ہیں، غریب اس پر وداعی نظر ڈالتا ہے، اور کہتا ہے، اے ملک شام تجھ کو رخصتی سلام، ایسا سلام جس کے بعد کبھی ملاقات نہیں ہوگی۔
یہ عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ ہیں، جن کا شمار قریش کے سمجھدار لوگوں میں تھا، قریش ان کو حبشہ کا سفیر بنا کر بھیجتے ہیں تا کہ مسلمان مہاجرین کو واپس بنا کر بھیجتے ہیں تا کہ مسلمان مہاجرین کو واپس لے آئیں مگر ناکام واپس ہوتے ہیں، ان کو دیکھئے، مصر فتح کرتے ہیں، اور زبردست اقتدار کے مالک بن جاتے ہیں۔
اور یہ سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ ہیں، اسلام سے قبل ان کے متعلق نہ کسی بڑی فوجی قیادت کا پتہ چلتا ہے، اور نہ کسی ماہر جنگ کی حیثیت سے ان کی شہرت ہے ان کو دیکھئے! مدائن کی کنجیاں سنبھالتے ہیں، اور عراق و ایران کو اسلامی سلطنت میں شامل کرکے ہمیشہ کے لیے فاتح عجم کہلاتے ہیں۔
یہ سلمان فارسی رضی اللہ عنہ ہیں، ایک مذہبی عہدہ دار کے بیٹے تھے، فارس کا ایک گاؤں وطن تھا، ایک غلامی سے دوسری غلامی اور ایک مصیبت سے دوسری مصیبت دیکھتے ہوئے مدینہ پہنچتے ہیں اور اسلام قبول کرتے ہیں،ان کو دیکھئے! اپنی ہی قوم کے عظیم الشان دارالسلطنت (مدائن) کے حاکم بن کر پہنچتے ہیں، کل جہاں کی رعیت کے ایک فرد تھے، آج اس ملک کے حکمراں ہیں، اور اس سے زیادہ تعجب خیز بات یہ ہے کہ اس سے ان کے زہد و سادگی میں فرق نہیں پڑتا، لوگ ان کو اس حال میں دیکھتے ہیں کہ ایک جھونپڑی میں قیام ہے، سر پر بوجھ ڈھوتے ہیں۔
یہ بلال حبشی رضی اللہ عنہ ہیں، فضیلت و عزت میں اس درجہ کو پہنچتے ہیں کہ امیرالمومنین حضرت عمر رضی اللہ عنہ ان کو اپنا سردار کہتے ہیں، یہ سالم ابوحذیفہ کے آزاد کردہ غلام ہیں، جن میں حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو خلافت کی صلاحیت نظر آتی ہے، فرماتے ہیں: اگر حیات ہوتے تو میں ان کو خلیفہ بناتا“۔
یہ زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ ہیں جنگ مؤتہ کے لیے مسلمانوں کے لشکر کی قیادت کرتے ہیں، اور اسی لشکر میں جعفر بن ابی طالب رضی اللہ عنہ، خالد بن ولید رضی اللہ عنہ جیسے ممتاز لوگ بھی موجود ہیں، اور ان کے بیٹے اسامہ اس لشکر کی قیادت کرتے ہیں جس میں ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما جیسے افراد موجود تھے۔
یہ ابوذر، مقداد، ابوالدرداء، عمار بن یاسر، معاذ بن جبل اور ابی بن کعب رضی اللہ عنہم ہیں، اسلام کی باد بہاری کا ایک جھونکا چل جاتا ہے، اور وہ دنیا کے نامور زاہدوں اور جلیل القدر عالموں میں دیکھتے دیکھتے شمار ہونے لگتے ہیں۔
یہ علی بن ابی طالب اور عائشہ اور عبداللہ بن مسعود اور زید بن ثابت اور عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہم ہیں جو نبی امی (صلی اللہ علیہ وسلم) کی گود میں پل کر دنیا کے عظیم ترین عالموں میں شمار ہونے لگے، جن سے علم کی نہریں بہتی ہیں، اور حکمت ان کی زبان پر جاری ہوتی ہے، قلب کے سچے، علم کے گہرے اور تکلف سے دور، بات کرتے ہیں تو زمانہ ہمہ تن گوش ہوکر سننے لگتا ہے، خطاب کرتے ہیں تو دنیا کے مؤرخ کا قلم لکھنے میں مشغول ہوجاتا ہے کہ کوئی لفظ ضائع نہ ہو۔

متوازن انسانی مجموعہ
پھر تھوڑا عرصہ بھی نہیں گزرتا کہ متمدن دنیا دیکھتی ہے کہ وہ خام اشیاء جو بکھری پڑی تھیں، جن کی معاصر قوموں نے بھی ذرا قدر نہ کی تھی، اور پڑوسی ملکوں نے جن کا مذاق اڑایا تھا، اس سے ایک ایسا مجموعہ تیار ہوتا ہے کہ انسان تاریخ نے اس سے زیادہ متوازن و مکمل مجموعہ کمالات نہیں دیکھا، جیسے ایک ڈھلا کرہ، یہ معلوم ہی نہیں ہوسکتا کہ اس کا سر کدھر ہے، یا باران رحمت کی طرح کہ اس کا پتہ نہ چل سکے کہ اس کا پہلا چھینٹا مبارک ہے یا آخری، ایسا مجموعہ جو انسانی زندگی کے ہر شعبہ کی صلاحیت رکھتا ہے، دین و دنیا کی ہر ضرورت کے لیے اس کے پاس سامان موجود ہے، اس لیے اس کو کسی سے مدد کی ضرورت نہیں، لیکن دنیا اس کی مدد کی محتاج ہے۔
اس نوزائیدہ جماعت نے اپنی تہذیب کی خود بنیاد ڈالی، نئی حکومت کی داغ بیل ڈالی، حالانکہ اس کو اس سے پہلے اس کا کوئی تجربہ نہ تھا، اس کے باوجود اس کو ذرا ضرورت نہ پڑی کہ کسی دوسری قوم سے کوئی آدمی مستعار لے، یا کسی انتظام میں کسی حکومت سے مدد چاہے، ایسی حکومت کی بنیاد ڈالی جس کا سکہ دو بڑے بر اعظموں کے وسیع رقبہ میں چلتا تھا، اس کے ہر شعبہ اور ہر ضرورت کے لیے متعدد آدمی ایسے تھے، جو اپنی لیاقت، کارکردگی، امانت و دیانت، قوت اور احساس ذمہ داری میں بے نظیر تھے، یہ عالمگیر سلطنت قائم ہوئی تو اس نوزائیدہ قوم نے جس پر تھوڑا ہی عرصہ گزرا تھا اس کو پورے آدمی فراہم کیے جن میں کوئی عادل حاکم تھا، کوئی امانت دار خازن، کوئی منصف قاضی تھا اور کوئی عبادت گزار قائد، کوئی پرہیزگار اور متقی فوجی تھا، اس ذہنی تربیت کی برکت سے جس کا کام مسلسل جاری تھا، اور اس اسلامی دعوت کی مدد سے جو مستقل چل رہی تھی، اس اسلامی حکومت کو اہل ترین خدا ترس، فرض شناس و مستعد کارکن ملتے رہے، حکومت کی ذمہ داری ان ہی اشخاص کے سپرد ہوتی جو ہدایت کو تحصیل وصول کے جذبہ پر ترجیح دیتے، جو اپنے کو بجائے تحصیل دار کے مبلغ و ہادی سمجھتے جن کی شخصیت میں صلاحیت و صلاح اور دین و دنیا کا صحیح امتزاج ہوتا ان کے اثر سے اسلامی تہذیب اپنی پوری خصوصیتوں کے ساتھ جلوہ گر ہوئی، اور دین کے برکات اس طرح وجود میں آئے کہ پھر کسی دور میں بھی دیکھنے میں نہیں آئے۔
حقیقت میں محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نبوت کی کنجی انسانی فطرت کے قفل پر رکھ دی تھی، بس وہ کھل گیا اور اس کے تمام خزانے، عجائبات، طاقتیں اور کمالات دنیا کے سامنے آگئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جاہلیت کہ شہِ رگ کاٹ دی اور اس کے طلسم کو پاش پاش کردیا، آپ نے سرکش اور ضدی دنیا کو خدا کی طاقت سے مجبور کردیا کہ زندگی کی ایک نئی شاہراہ پر گامزن ہوکر تاریخ میں انسانیت کے ایک بالکل نئے دور کا آغاز کرے، یہ وہ اسلامی دور ہے جو تاریخ کی پیشانی پر ہمیشہ دمکتا رہے گا۔


آپ کی رائے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

مزید دیکهیں