آج : 4 November , 2019
مولانا عبدالحمید:

ذکر اور اللہ کی یاد ’غفلت‘ کا بہترین علاج ہے

ذکر اور اللہ کی یاد ’غفلت‘ کا بہترین علاج ہے

شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے زاہدان میں یکم نومبر دوہزار انیس کے خطبہ جمعہ میں اللہ کی یاد اور ذکر کو غفلت کی بیماری کا بہترین علاج یاد کرتے ہوئے کہا اللہ کی یاد انسان کو گناہوں اور دشمنوں سے حفاظت کرتی ہے۔
سنی آن لائن نے شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید کی ویب سائٹ کے حوالے سے رپورٹ دی، خطیب اہل سنت زاہدان نے اپنے خطاب کا آغاز سورت آل عمران کی آیات 190 اور 191کی تلاوت سے کرتے ہوئے کہا: افسوس کا مقام ہے کہ آج کل غفلت عام ہوچکی ہے۔ غفلت انتہائی خطرناک اور ضرررساں ہے۔ غفلت ہی کی وجہ انسان کی روحانیت اور اس کا تعلق رب سے متاثر ہوجاتا ہے۔
انہوں نے مزید کہا: غفلت کے خاتمے کا بہترین ذریعہ ذکراللہ ہے۔ اللہ کی یاد بہت بڑی نعمت ہے؛ ہرجگہ اللہ کو یاد کریں، زبان سے بھی اور دل سے بھی۔ پوری توجہ اللہ ہی کی طرف ہونی چاہیے۔
شیخ الحدیث دارالعلوم زاہدان نے کہا: اللہ کی یاد بندوں کے لیے انرجی اور طاقت ہے۔ حدیث میں ذاکر انسان کو زندہ اور غافل کو مردہ کہا گیا ہے۔ اللہ کے نام میں برکت اور بڑی تاثیر ہے۔ اسی لیے اللہ تعالی نے کسی بھی عبادت کے لیے کثرت سے کرنے کا نہیں کہا ہے سوائے ذکر اللہ کی؛ ’اذکروا اللہ ذکرا کثیرا‘۔
انہوں نے مزید کہا: ذکر اور اللہ کی یاد کے لیے وضو کی بھی ضرورت نہیں ہے۔ یہاں تک کہ حالت جنابت میں بھی اللہ نے ہمیں ذکر کی اجازت دی ہے تاکہ ہم اس عبادت اور تعلق سے محروم نہ رہیں۔ ارشادِ الہی ہے کہ میں اپنے بندے کے ساتھ ہوں جب وہ مجھے یاد کرتاہے اور جب وہ مجھے تنہائی میں یاد کرتاہے، میں اسے تنہائی میں یاد کرتاہوں اور جب وہ مجھے کسی مجلس میں یاد کرتاہے، میں اسے ایک بہتر مجلس میں یعنی فرشتوں کے مجمع میں اسے یاد کرتاہوں۔
مولانا عبدالحمید نے ذکر کے بعض فوائد اور آثار پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا: اللہ کی یاد سے بندہ محبوب بن جاتاہے، اس کے جسم اور دل نورانی بن جاتے ہیں اور اس کو نیک اعمال کی توفیق نصیب ہوجاتی ہے۔ پوری زندگی سراسر برکتوں اور رحمتوں سے مالامال ہوجاتی ہے۔ شریعت پر عمل، سنت کی اتباع اور گناہ سے پرہیز کی توفیق مل جاتی ہے اور امن و سکون مل جاتاہے۔
انہوں نے حاضرین کو ترغیب دیتے ہوئے کہا: روزانہ اللہ کو یاد کریں اور نبی کریم ﷺ پر درود بھیجیں۔ خاص طورپر جمعہ کے دن نماز جمعہ کے بعد اللہ کا حکم ہے کہ اسے بکثرت یاد کریں۔ اللہ تعالی سے مضبوط تعلق قائم کرنے کی راہ ہموار ہے؛ کیوں نہ ہم ذکر، نماز، تلاوت، بیماروں کی عیادت، قبرستان جانے اور صلہ رحمی جیسی عبادات سے اپنا تعلق اللہ سے مضبوط نہ کریں؟
صدر دارالعلوم زاہدان نے کہا: بندوں کو چاہیے ہر حال میں اللہ سے پناہ مانگیں۔ سختیوں میں اللہ ہی کو یاد کریں۔ اللہ سے پناہ مانگنا دنیا و آخرت میں باعثِ نجات ہے۔ اللہ ہمارے انتظار میں ہے کہ ہم ہر سختی میں اسی سے پناہ مانگیں۔ توبہ کرکے استغفار کریں۔ کائنات و مخلوقات میں غور و تدبر کریں۔
سیستان بلوچستان تہران سے زیادہ پرامن ہے
ممتاز سنی عالم دین نے اپنے خطاب کے ایک حصے میں صوبہ سیستان بلوچستان میں امن کی صورتحال کے بارے میں غلط پروپگینڈوں کی تردید کرتے ہوئے کہا: بعض دانا دشمنوں کا پروپگینڈا ہے کہ سیستان بلوچستان میں بدامنی پائی جاتی ہے اور یہاں لوگوں کو قتل کیا جارہاہے۔ ان کی کوشش ہے کہ صوبے کو بدامن دکھائیں۔
مولانا عبدالحمید نے واضح کرتے ہوئے کہا: پوری جرات کے ساتھ کہہ سکتے ہیں کہ سیستان بلوچستان تہران سمیت بہت سارے علاقوں سے زیادہ پرامن ہے۔ عوام کی بڑی تعداد اس بات کا اعتراف کرتی ہے۔
انہوں نے مزید کہا: پوری ایرانی قوم شریف ہے، لیکن سیستان بلوچستان کے لوگ سب سے زیادہ شریف اور معزز شہریوں میں شمار ہوتے ہیں۔ یہاں کے لوگوں کی مہمان نوازی خاص و عام میں مشہور ہے۔ اگر سیاح اور داخلی و خارجی سرمایہ کار یہاں سفر کریں، مہمان نوازی اور عزت کے سوا کچھ نہیں دیکھیں گے۔
مولانا عبدالحمید نے سرکاری ٹی وی پر تنقید کرتے ہوئے کہا: منفی پروپگینڈوں سے لوگوں کا ذہن خراب ہوتاہے۔ سرکاری ٹی وی کیوں ایرانی قومیتوں کا تعارف پیش کرنے میں سستی کرکے غفلت کا مظاہرہ کرتی ہے؟
اپنے خطاب کے آخر میں خطیب اہل سنت زاہدان نے سیستان بلوچستان کی سڑکوں اور شاہراہوں پر آئے روز سانحات رونما ہوتے ہیں۔ ایک ہی دن میں پندرہ افراد جاں بحق ہوگئے ہیں جبکہ ایک ہفتہ میں تیس افراد کی موت واقع ہوئی ہے۔
انہوں نے ڈرائیوروں کو مشورت دی ٹریفک قوانین کا احترام کریں، پولیس بھی کنٹرول سخت کرے اور متعلقہ ادارے بھی سڑکوں کی توسیع کا کام جلدازجلد یقینی بنائیں۔


آپ کی رائے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

مزید دیکهیں