آج : 2 November , 2019

بھارت کے زیرانتظام مقبوضہ کشمیر میں نئے نظام کا نفاذ،کوئی پرچم، کوئی آئین نہیں ہوگا

بھارت کے زیرانتظام مقبوضہ کشمیر میں نئے نظام کا نفاذ،کوئی پرچم، کوئی آئین نہیں ہوگا

بھارت نے اپنے زیر انتظام متنازعہ ریاست جموں وکشمیر میں پارلیمان کے اگست میں منظور کردہ قانون نافذ کردیا ہے۔اس کے تحت مقبوضہ کشمیر کی نیم خودمختارحیثیت کو ختم کردیا گیا ہے اور اس متنازعہ علاقے کوبراہ راست وفاق کی عمل داری میں دے دیا گیا ہے۔
اس قانون کے تحت مقبوضہ ریاست جموں وکشمیر کو وفاق کے زیر انتظام دو علاقوں میں تقسیم کردیا گیا ہے۔بھارتی حکومت کے اس فیصلے کے نفاذ سے قبل ریاست میں سکیورٹی فورسز کو ہائی الرٹ کردیا گیا تھا اور پورے علاقے میں ہزاروں سکیورٹی اہلکاروں کو تعینات کیا گیا تھا۔انھوں نے جگہ جگہ چیک پوائنٹس قائم کر لیے ہیں۔اگست کے بعد سے مقبوضہ وادی میں بیشتر دکانیں ، اسکول اور کاروباری مراکز بند ہیں۔
وزیراعظم نریندرمودی کی حکومت نے جی سی مرمو کو ریاست کا نیا منتظم مقرر کیا ہے اور ان کے عہدے کو لیفٹیننٹ گورنر کا نام دیا گیا۔انھوں نے جمعرات کو اپنا منصب سنبھال لیا ہے۔پہلے اس متنازع ریاست کا منتظم اعلیٰ گورنر کہلاتا تھا۔
بھارتی حکام نے ریاست کے زیر انتظام ریڈیو اسٹیشن کا نام بھی تبدیل کردیا یے۔پہلے اس کا نام ریڈیو کشمیر سری نگرتھا۔اب اس کا نام آل انڈیا ریڈیو سری نگر ہوگا۔ واضح رہے کہ ریڈیو سری نگر نے 1947ء میں ہندوستان کی برطانیہ سے آزادی سے قبل اپنی نشریات شروع کردی تھیں۔
بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کے زیر قیادت انتہا پسند ہندو قوم پرست جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی حکومت نے ہزاروں سکیورٹی اہلکاروں کو اس متنازع قانون کے نفاذ سے قبل ریاست کشمیر کے شہروں اور دیہات میں تعینات دیا گیا تھا تاکہ بھارت مخالف مظاہروں پر قابو پایا جاسکے۔
بھارتی حکومت کےاس نئے اقدام کے تحت مقبوضہ جموں وکشمیر کے عوام کو ایک پرچم اور ریاستی آئین سے محروم کردیا گیا ہے لیکن اس متنازعہ قانون کے نفاذ سے بھارتی آئین کی ایک شق کے تحت کشمیریوں کو حاصل ملکیت کے خصوصی حق کی تنسیخ کردی گئی ہے۔اب مقبوضہ جموں وکشمیر میں بھارت کے دوسرے علاقوں سے تعلق رکھنے والے افراد بھی جائیدادیں خرید کرسکیں گے۔کشمیری عوام بھارت کے اس اقدام کو اپنی زمین ہتھیانے کا ہتھکنڈا قرار دے رہے ہیں۔
بھارتی پارلیمان کے ایک رکن اور ریٹائرڈ کشمیری جج حسین مسعودی نے اس اقدام پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’’آج (جمعرات کو) کشمیر میں ہر چیز تبدیل ہوگئی ہے ۔ہم ایک ریاست سے ایک بلدیہ میں تبدیل ہوکر رہ گئے ہیں۔یہ تمام مشق ہی غیرآئینی ہے۔اس کا طریقہ اور طریق کار غیر جمہوری ہے۔عوام کوبے توقیر کیا گیا ہے اور ان سے کبھی مشاورت نہیں کی گئی ہے۔‘‘

حسین مسعودی جموں وکشمیر کی بھارت نواز سیاسی جماعت نیشنل کانفرنس سے تعلق رکھتے ہیں مگر بھارتی حکام نے اس جماعت کے بیشتر لیڈروں کو اس نئے قانون کے خلاف احتجاج کی پاداش میں پابندِ سلاسل کررکھا ہے۔


آپ کی رائے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

مزید دیکهیں