آج : 12 October , 2019
شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید:

صوبائی و ملکی حکام متعصب افراد کے سامنے ڈٹ جائیں

صوبائی و ملکی حکام متعصب افراد کے سامنے ڈٹ جائیں

زاہدان (سنی آن لائن) اہل سنت ایران کے ممتاز عالم دین نے اپنے گیارہ اکتوبر دوہزارانیس کے بیان کے ایک حصے میں ’نفاذِ عدل‘ پر زور دیتے ہوئے صوبائی و ملکی حکام کو تنگ نظر اور متعصب افراد کے سامنے ڈٹ جانے کا مشورہ دیا۔
سنی آن لائن نے شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید کی ویب سائٹ کے حوالے سے رپورٹ دی، خطیب اہل سنت زاہدان نے نفاذِ عدل پر تاکید کرتے ہوئے کہا: عدل و انصاف دین کے اہم ارکان میں شامل ہے جس کا نفاذ انبیا علیہم السلام اور دین کا مطلوب و مقصود تھا۔ نفاذ عدل ذاتی، جماعتی، مسلکی اور خاندانی مسائل سے بڑھ کر زیادہ اہم ہے۔
انہوں نے مزید کہا: عدل و انصاف کا نفاذ کسی ملک اور ریاست سے بھی بالاتر ہونا چاہیے۔ سب کی مصلحت اور بقا کا راز عدل ہی میں ہے۔ کسی بھی قسم کے ذاتی، خاندانی اور جماعتی رجحان کو عدل کے سامنے رکاوٹ نہیں بننا چاہیے۔ جس طرح اللہ کا حکم آیاہے، اسی طرح عدل نافذ ہونا چاہیے۔
شیخ الحدیث دارالعلوم زاہدان نے کہا: قرآن پاک کے مطالعہ سے یوں معلوم ہوتاہے کہ انسانوں میں ہمیشہ ایک جماعت درست راستے پر گامزن رہتی ہے جس کی تلاش ہے عدل و انصاف نافذ ہو۔ یہ پیغمبروں اور ہر قوم کے بڑوں پر مشتمل جماعت ہے، لیکن اس کے برخلاف ایک ایسی جماعت بھی ہے جو لسانی و مذہبی رجحانات کو ترجیح دیتی ہے، یہ لوگ دوراندیش نہیں ہوتے ہیں۔ اللہ تعالی نے سورت الروم آیت نمبر ساٹھ میں نبی کریم ﷺ کو ان لوگوں کے سامنے صبر کرنے کا حکم دیاگیا ہے جو آپ ﷺ کو اوچھا بنانے کی کوشش کررہے تھے۔
انہوں نے مزید کہا: اللہ تعالی نے حضرت موسی و ہارون علیہماالسلام کو سورت یونس میں مخاطب کرکے فرمایا ہے: تمہاری دعا قبول کرلی گئی تو تم ثابت قدم رہنا اور بے عقلوں کے رستے نہ چلنا۔ کسی خطہ اور ملک کے حکام کو بھی چاہیے ایسے افراد کی بات نہ مانیں جو تعصب اور تنگ نظری کا شکار ہوچکے ہیں۔ ورنہ اس کا نقصان ان کی وحدت، ریاست اورحکومت کو پہنچے گا۔ لہذا چھوٹے درجے کے بیوروکریٹس مرشد اعلی اور صدر مملکت کی پیروی کریں۔
مولانا عبدالحمید نے کہا: اس قوم کا کیا حال بنے گا جس کے بڑے اپنے چھوٹوں کی پیروی کریں اور لسانی و جماعتی اور مسلکی تعصب کا شکار ہوکر عدل و انصاف کو پاؤں تلے روندیں۔ تنگ نظر اور متعصب افراد کی اتباع کسی بھی قوم اور ملک و ریاست کے لیے نقصان دہ ہے۔
انہوں نے کہا: ایک پیش امام کی حیثیت سے بندہ کے لیے شیعہ سنی کا کوئی فرق نہیں ہے۔ میرے نزدیک دونوں انسان ہیں اور ان کے عقائد کا ان کے حقوق سے کوئی تعلق نہیں ہے، سب کے حقوق کا خیال رکھنا چاہیے۔
ممتاز سنی عالم دین نے مزید کہا: میرا عقیدہ ہے کہ دنیا کے تمام مذاہب اور مسالک و اقوام کو ایک ہی نگاہ سے دیکھنا چاہیے، سب کے حقوق کی پاسداری ضروری ہے۔عہدوں کی تقسیم میں لوگوں کے لسانی، مسلکی اور مذہبی تعلق پر توجہ دینے کے بجائے ان کی صلاحیتوں اور دیانتداری کو دیکھاجائے۔

اہل سنت بطور خاص میرٹ کو نظرانداز کرنے سے نالاں ہیں
شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے بات آگے بڑھاتے ہوئے کہا: ہمارا شکوہ اور بہت سارے لوگوں کی شکایت بھی ہے کہ ملک میں عہدوں کی تقسیم میں میرٹ کا خیال نہیں رکھا جاتاہے۔ حالانکہ سینئر حکام کو چاہیے صرف لوگوں کی صلاحیتوں کو دیکھیں؛ یہ نقطہ نظر عدل و انصاف کے مطابق ہے اور اسی سے اللہ تعالی کی رضامندی حاصل ہوسکتی ہے۔
انہوں نے مزید کہا: شیعہ و سنی علمائے کرام اور دانشوروں کو چاہیے مذہبی و لسانی تعلقات سے بالاتر ہوکر صرف لوگوں کے استعداد، تخصص اور صلاحیتوں کو دیکھیں۔ اللہ تعالی کی رضامندی اور عدل کا تقاضا اسی میں ہے۔ اس کے بغیر اللہ کی نصرت نصیب نہیں ہوسکتی ہے۔
شورائے مدارس اہل سنت سیستان بلوچستان کے صدر نے صوبہ سیستان بلوچستان کے حکام کو مخاطب کرکے کہا: صوبائی حکام اور ڈائریکٹرز لسانی و مسلکی نگاہوں سے بالاتر ہوکر لوگوں کے ٹیلنٹ دیکھیں اور میرٹ ہی کی بنیاد پر ان سے کام لیں۔ امن و اتحاد اور ملک و ریاست کی بقا کے لیے ایسا کرنا ضروری ہے۔
انہوں نے کہا: صوبے کے مرکز میں سب قومیتیں اور مسالک کے لوگ بھائی چارہ کے ساتھ رہتے ہیں اور یہاں ایک دوستانہ فضا قائم ہے۔ ان میں عدل کا نفاذ ان کے اتحاد کو مزید گہرا بنادے گا اور اس سے دشمن بھی مایوس ہوکر رہیں گے۔
اپنے خطاب کے آخر میں مولانا عبدالحمید نے وزارت تعلیم کے صوبائی ڈائریکٹر (حمیدرضا رخشانی) کی موجودی کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا: نئی نسل کی تربیت اور تعلیم معاشرے کے اہم ترین امور سے ہے۔ تعلیم تمام اقوام اور حکومتوں کا ذہنی مشغلہ بن چکی ہے جو اس میدان میں پیسہ لگاکر سرمایہ کاری کرتی ہیں۔


آپ کی رائے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

مزید دیکهیں