آج : 18 September , 2019

ایشیا کے دل میں چند دن!

ایشیا کے دل میں چند دن!

جنوبی ایشیا کا ایک اہم ملک افغانستان ہے، جس کو علامہ اقبال نے ایشیاء کا دل کہا ہے اور کہا ہے کہ اس کے فساد سے پورے ایشیاء کا فساد اور اس کے امن سے پورے ایشیاء کا امن متعلق ہے:
آسیا یک پیکرِ آب وگِل است
ملتِ افغان در آں پیکر دل است
از فساد اُو فساد ِ آسیا
در گشاد اُو گشاد آسیا
چٹھی صدی قبل مسیح تک یہ ایران میں شامل تھا، ۳۳۰ ق م میں اس کو سکندر اعظم نے فتح کیا، اس کے بعد سے یہ ہمیشہ طالع آزما فرماں رواؤں کا میدان کارزار رہا ہے، حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے دور میں احنف بن قیسؒ نے ایران کے بادشاہ یزدگرد کو شکست دے کر خراسان کو فتح کر لیا، جو ایران سے متصل علاقہ ہے، یہ ہجرت کے تیسرے سال بصرہ میں پیدا ہوئے، یعنی حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی حیات طیبہ میں ہی ان کی ولادت ہوئی؛ لیکن آپ کی صحبت نہیں پا سکے، حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی خدمت میں ایک وفد کے ساتھ حاضر ہوئے اور پھر بصرہ لوٹ گئے، جنگ صفین میں حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ساتھ تھے، قبیلۂ تمیم کے سردار اور اپنے قبیلہ میں بے حد مقبول تھے، ان کی حلم وبردباری کی مثال دی جاتی تھی، ۷۲ھ میں کوفہ میں وفات ہوئی، پھر حضرت عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے عہد میں عبد االلہ بن عامرؒ نے کابل کو فتح کیا، اس وقت تک افغانستان میں تین مذاہب فروکش تھے، زرتشت، بودھ اور ہندو (جو اس زمانے میں برہمن کہلاتے تھے) فتح کابل کے بعد یہاں اسلام کی دعوت اور اشاعت کا بھی کام ہوا، اور پچاس ہزار سے زیادہ عرب بھی یہاں آباد کئے گئے، یہ پورا ملک پہاڑی سلسلوں سے گِھرا ہوا ہے، کابل اور ہرات کے درمیان ہوائی جہاز سے گزرتے ہوئے ددور دور تک پہاڑ ہی نظر آرہے تھے،اور بہت سی پہاڑی چوٹیوں پر برف جمی ہوئی تھی، اس ملک کی سرحدیں ایران، پاکستان، تاجکستان، ازبکستان، ترکمانستان اور چین سے ملتی ہیں؛ اگرچہ اس کو ساحل سمندر حاصل نہیں ہے؛ لیکن اس کے پہاڑوں پر برف جمنے کی وجہ سے پانی کے اعتبار سے یہ بہت مال دار ملک ہے، جو نہ صرف اس سے اپنی ضرورت پوری کرتا ہے؛ بلکہ پاکستان، ایران اور تاجکستان کو بھی وافر مقدار میں یہاں کے دریاؤں کا پانی حاصل ہوتا ہے۔
اس ملک نے اسلامی علوم، ادب اور تصوف میں بڑی بڑی شخصیتیں عطا کی ہیں، جن کا نام پوری دنیا میں احترام کے ساتھ لیا جاتا ہے، جیسے امام ابو حنیفہ کے دادا زوما، ابراھیم بن ادھمؒ (متوفی:۱۶۱ھ)، مشہور محدث ابو داؤد سجستانیؒ(۲۰۴-۲۷۵ھ)،معروف ریاضی داں اور ماہر فلکیات ابوالمعاشر بلخیؒ(۷۸۷-۸۸۶ھ)، ابراھیم بن طہان ہرویؒ (متوفی: ۱۶۸ھ) علم حدیث میں جن کا مقام اتنا بلند تھا کہ امام احمد بن حنبلؒ ٹیک لگائے ہوئے تھے، جب ان کے سامنے آپ کا ذکر آیا تو ازراہ ادب بیٹھ گئے، ابو ریحان البیرونی(۲۱۳-۲۷۶ھ)،معروف فلسفی اور سائنس داں ابن سینا کے والد،مشہور صوفی ابوالحسن فردوسی طوسی (۳۳۹-۴۱۶ھ) ، مولانا رومؒ،مولود بلخ،(۶۰۴-۶۷۲ھ)مولانا عبد الرحمن جامیؒ، مشہور مفسر امام فخر الدین رازیؒ اور کن کن کا نام لیا جائے، حقیقت یہ ہے کہ افغانستان کے مختلف شہر کابل، ہرات اور اس سے متصل ایران، تاجکستان اور ازبکستان وغیرہ کے علاقے دنیائے عجم کے بغداد کی حیثیت رکھتے تھے، جہاں سے بڑے بڑے محدثین اور فقہاء پیدا ہوئے۔
یہ وہ عظیم نسبتیں ہیں جن کی وجہ سے ایک زمانہ سے اس علاقے کے سفر کی آرزو تھی؛ لیکن وہاں کے سیاسی نشیب وفراز کی وجہ سے ہمت نہ ہوتی تھی، ادھر دو سال سے ایک مخلص عزیز مولانا محمد یونس سادات اور افغانستان کے دوسرے علماء وہاں کے سفر کی دعوت دے رہے تھے، رمضان المبارک ۱۴۴۰ھ سے پہلے پیش کش کی گئی کہ عید کے چند ہی روز بعد یہاں کا سفر ہو، میں نے بھی ابتدائََ مناسب وقت ہونے کی وجہ سے اسے منظور کر لیا تھا؛ لیکن پھر اپنی علالت کی وجہ سے معذرت کر دی، پھر میزبان نے میری سہولت کے لحاظ سے پروگرام کو مؤخر کیا، اس طرح اس پُرسعادت دعوت کو قبول کرنے کے سوا چارہ نہیں تھا؛ چنانچہ راقم الحروف اسلامک فقہ اکیڈمی انڈیا کے شعبۂ علمی کے رفیق مولانا امتیاز احمد قاسمی سلمہ کے ساتھ ۲۵؍جون ۲۰۱۹ء کو ۳؍بجے دن کام ائیر لائز کے ذریعہ دہلی ائیرپورٹ سے نکلے اورافغانستان کے وقت کے لحاظ سے ۷؍ بجے احمد کرزئی ائیرپورٹ کابل پہنچ گئے، جب ہم لوگ دہلی سے چلے تو سخت گرمی تھی اور جھلسا دینے والی ہوا چل رہی تھی ؛لیکن جوں ہی کابل ائیرپورٹ پر پہنچے، خوش گوار باد نسیم نے استقبال کیا۔
کابل کے خوش گوار موسم کا بہترین نقشہ شاعر اسلام علامہ اقبالؒ نے کھینچا ہے، جن میں سے چند اشعار اس طرح ہیں:
شہر کابل خطۂ جنت نظیر
آبِ حیواں از رگ تاکش بگیر
آن دیار خوش سواد، آں پاک بوم
بادِ او خو شتر زِباد شام وروم
آبِ او براق وخاکش تاب ناک
زندہ از موجِ نسیمش مردہ خاک
’’شہر کابل جنت نظیر خطہ ہے، اس کے انگور کی رگوں سے آبِ حیات جاری ہوتا ہے،یہ بہترین منظر اور پاکیزہ موسم کا علاقہ ہے، اس کی ہوا شام وروم کی ہوا سے بھی بہتر ہے، اس کا پانی خوب روشن اور اس کی مٹی تاب ناک ہے، اس کی بادنسیم کے جھونکے سے مردہ مٹی زندہ ہو جاتی ہے‘‘۔
علامہ اقبال نے کابل کے موسم اور ماحول کے بارے میں ان اشعار میں جو بات کہی ہے، وہ آج بھی وہاں سر کی آنکھوں سے دیکھا جا سکتا ہے، علامہ اقبالؒ نے افغانیوں کے بارے میں کہاہے کہ وہ بہت ہی سیر چشم واقع ہوئے ہیں، خوبصورت لعل وگہر کی طرح ہیں، ان کی مثال اس تیغ کی ہے، جو خود اپنے جوہر سے بے خبر ہوتا ہے:
ساکنا نش سیر چشم وخوش گہر
مثلِ تیغ از جوہرِ خود بے خبر
واقعی افغانستان اور اہل افغانستان اس کا مصداق ہیں۔
چوں کہ افغانستان کی جنگ میں یہ ائیرپورٹ بھی تباہ ہوگیا تھا؛ اس لئے اس کی تعمیری کام چلاؤ حالت میں ہے، رن وے اوربلڈنگ دوسرے ملکوں کے اعتبار سے معمولی ہے، چھتیں ٹین شیڈ کی ہیں، جن کے نیچے سیلنگ بھی نہیں کی گئی ہے، وسعت بھی کم ہے، اور مطلوبہ سہولتیں یا تو کم ہیں یا نہیں ہیں، سولار کی لائٹ کا انتظام ہے، شاید اسی وجہ سے روشنی بھی مدھم ہے، مسافروں کی کئی مرحلوں میں چیکنگ ہوتی ہے اور سامان کا بھی بار بار جائزہ لیا جاتا ہے، ہم لوگوں کے سامان میں کچھ کتابیں بھی تھیں، ائیرپورٹ کے عملے نے اس کو اتنی اہمیت کے ساتھ دیکھنے کی کوشش کی کہ گویا بم اور بارود رکھا ہوا ہو؛ لیکن ان سب کے باوجود جہاز سے لے کر ائیرپورٹ تک افغانی عملہ بہت با اخلاق اور شریف نظر آئے، چاہے ایمیگریشن آفیسر ہوں یا کسٹم افسر، یا پولیس اور فورس کے ارکان، سبھی لوگ مسافرین کے ساتھ بہت اچھی طرح پیش آتے ہیں، اور ہم جیسے لوگ جن کی ظاہری وضع قطع دین داروں کی سی ہے، سے تو بہت ہی عقیدت کا اظہار کرتے ہیں۔
جوں ہی ہم لوگ کسٹم ہال سے باہر نکلے، میزبانوں کی ایک جماعت باہر موجود تھی، مولانا محمد ابراہیم صاحب، مولانا محمد اسحاق، مولانا محمد یونس، مفتی نثار احمد، حاجی امجد بَہار، جناب عبدالقیوم انجینئر وغیرہ، ہم لوگ دو گاڑیوں میں سوار ہو کر نکلے، کابل میں سرِشام ہی دکانیںبند ہو جاتی ہیں؛ اس لئے سڑکوں پر اژدہام کم ہوگیا تھا، ۳۰؍۴۰؍ منٹ میں ہم لوگ دارالعلوم نعمانیہ پہنچ گئے،یہیں’’ مجمع الفقہ الاسلامی افغانستان ‘‘کا تیسرا سیمینار تھا، جو اگلے دن ظہر بعد ہونا تھا،اسی کے مہمان خانہ میں قیام کا انتظام کیا گیا تھا، مولانا محمد یونس سادات نے ہماری راحت کے لئے کوشش کی کہ زیادہ لوگوں کو اس کی اطلاع نہ کی جائے، پھر بھی دو چار حضرات ملاقات کے لئے آگئے، اور ہم لو گ رات کے بارہ بجے ہی بستر پر جا سکے، مولانا بشیر الدین صاحب جو دارالعلوم زاہدان کے فارغ ہیں ، اردو کم بولتے ہیں؛ لیکن ماشاء اللہ عربی زبان پر بہت اچھی قدرت رکھتے ہی، اور فارسی اور پشتو تو ان کی مادری زبان ہے، وہ شروع ہی سے راحت پہنچانے میں لگے رہے، اور ہر طرح آرام کا خیال رکھا، ماشاء اللہ یہ ذہین نوجوان ہیں، انہوں نے دارالعلوم زاہدان میں تخصص کے لئے تعدد ازدواج کے موضوع پر اپنا مقالہ لکھا ہے، ماشاء اللہ اچھا مقالہ ہے، ان کی خواہش پر میں نے اِس کتاب کے لئے تقریظ بھی تحریر کی۔
دارالعلوم نعمانیہ کی بنیاد ۱۴۳۴ھ میں رکھی گئی، مولانا سید محمد رفیق صاحب اس کے بانی اور نگران اعلیٰ ہیں، عمر ۸۰؍ سال سے متجاوز ہے، کھلا ہوا رنگ، سفید اور گھنی داڑھی، سر پر عمامہ اور ہاتھوں میں عصا، کمر جھکی ہوئی، خلیق اور شفیق، چہرے سے لے کر لباس تک گویا نور میں نہلایا ہوا وجود، باوجود ضعف کے تشریف لائے، ملاقات کی، دعائیں دیں، اور اپنے لئے دعاء کی خواہش کی، دارالعلوم کے مہتمم مولانا سید محمد ابراہیم صاحب ہیں، جو افغانستان کی تبلیغی جماعت کی شوریٰ کے رکن ہیں، اور بہت ہی مرنجا مرنج شخصیت کے مالک ہیں، مفتی محمد اسحاق صاحب ناظم تعلیمات ہیں، کم گو اور متواضع آدمی ہیں، انہوں نے کئی اہم اردو کتابوں کا فارسی میں ترجمہ کیا ہے، ان کی خواہش پر میں نے ان کی ایک کتاب کے لئے تقریظ بھی لکھائی، اچھا قلمی ذوق رکھتے ہیں، مولانا محمد یونس صاحب شعبۂ افتاء کے ذمہ دار ہیں، ان کی فراغت بھی دارالعلوم زاہدان سے ہے، نوجوان ہیں اور جدوجہد کا جذبہ رکھتے ہیں، انہوں نے ہندوستان کا سفر کیا، تمام علمی مراکز پر پہنچے، وہاں کے بزرگوں سے ملاقاتیں کی، اسلامک فقہ اکیڈمی انڈیا بھی آئے اور بار بار آئے، یہاں کے طریق کار کو دیکھا، سیمینار میں شرکت کی اور اس کے گہرے نقوش لے کر افغانستان گئے، پھروہاں اسی نہج پر اپنے بزرگوں کے مشورے سے اور اسلامک فقہ اکیڈمی انڈیا سے رہنمائی حاصل کرتے ہوئے مجمع الفقہ الاسلامی افغانستان کی بنیاد رکھی، ابھی یہ ادارہ ابتدائی مرحلہ میں ہے؛ لیکن اس کے ذمہ داروں اور کارکنوں کی صلاحیت اور جذبۂ جدوجہد کو دیکھتے ہوئے امید ہے کہ بہت جلد یہ چھوٹا سا پودا ایک تناور درخت بن کر ابھرے گا۔
اگلے دن ۲۶؍جون ۲۰۱۹ء کو نماز ظہر کے بعد سیمینار کی افتتاحی مجلس منعقد ہونے والی تھی اور ظہر تک کا وقت خالی تھا، رات کو یہ طے ہوا تھا کہ اس وقت کو شہر کے اہم مقامات کے دیکھنے میں گزارا جائے؛ چنانچہ صبح کے ناشتے کے بعد ہم لوگ اپنی قیام گاہ سے نکلے اور سب سے پہلے شہدائے صالحین نامی محلہ میں پہنچے، یہ ایک پہاڑی کے دامن میں واقع ہے، جس پر کافی دور تک دودیواریں بنی ہوئی ہیں، کہا جاتا ہے کہ اس وقت پہاڑ کے اوپر کھینچی گئی یہ دیواریں سرحدیں تھیں، جن کی ایک طرف بت پرستوں کی حکومت تھی اور دوسری طرف آتش پرستوں کی، اسی پہاڑ کے دامن میں ایک مدفن ہے، جس میں اجتماعی قبر ہے، کہا جاتا ہے کہ اس میں ۷۲؍ قبریں ہیں، ان کے نام کا کتبہ بھی باہر لگا ہوا ہے، جس میں بعض صحابہ، بعض تابعین اور صحابہ کی اولاد ہیں، یہ حضرات فتح کابل کے جہاد میں شامل تھے اور انہوں نے اس دیار میں اسلام کی دعوت کا کام بھی کیا تھا، یہاں سے چند فرلانگ کے فاصلے پر ایک اور مقبرہ ہے جس میں حضرت تمیم انصاری اور جبیر انصاری کی قبریں ہیں، یہ اس لشکر میں شامل تھے، جو ۲۸؍تا ۳۰؍ھ میں حضرت عثمان غنی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی ہدایت پر حضرت عبدالرحمن بن سمرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور حضرت عبدالرحمن بن حبیب قریشی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی سرکردگی میں ایران سے یہاں وارد ہوا، اس وقت یہاں کا بادشاہ اِعراج شاہ تھا، جو لشکر اسلامی کے مقابلہ میں مغلوب ہوا، اور مشرف بہ اسلام ہوگیا، کتب رجال سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت عبدالرحمن بن سمرہ فتح مکہ کے موقع سے مسلمان ہوئے اور ان ہی کے ہاتھوں سجستان اور کابل کا علاقہ فتح ہوا، وہ خود تو ایران کی طرف واپس ہوگئے؛ لیکن ان دونوں انصاری صحابہ کو کابل ہی میں چھوڑ گئے؛ تاکہ وہ یہاں اسلام کی دعوت وتبلیغ کا فریضہ انجام دیں، ناموں کی بعض تفصیلات اس مقبرہ کے ایک کتبہ پر لکھی ہوئی ہیں، یہ علاقہ ہرا بھرا ہے اور کچھ بلندی پر پانی کا چشمہ بھی ہے؛مگر میں اپنی صحت کی وجہ سے وہاں تک نہیں جا سکا، یہ دیکھ کر افسوس ہوا کہ اس کے سامنے جو آبادی ہے وہ نہایت ہی غربت وافلاس کی حالت میں ہے، مٹی کی کچی دیواریں ہیں، ٹین کا چھپر ہے، گھر وں میں لکڑی کے دروازے بھی نہیں ہیں، صرف پردہ لٹکا دیا گیا ہے، مسلسل جنگ کی وجہ سے آبادی کا ایک اچھا خاصا حصہ اسی صورت حال سے گزررہا ہے، اللہ تعالیٰ خیر کا معاملہ فرمائے۔
یہاں سے نکل کر ہم لوگ جامعہ قاسمیہ پہنچے، یہ محلہ شور بازار میں واقع ہے، اس ادارے کے دونوں طرف مندر اور گردوارے ہیں، اور محلے کے اندر بھی ہندو اور سکھ بھائیوں کی اچھی خاصی آبادی نظر آتی ہے؛ لیکن کہیں کوئی خوف ودہشت اور نفرت کا ماحول نہیں ہے، بالکل برادرانہ ماحول میں تمام مذاہب کے ماننے والے رہتے ہیں، اس سے بڑی مسرت ہوئی، اور اندازہ ہوا کہ میڈیا کے لوگ جو کچھ کہتے ہیں، وہ زیادہ تر جھوٹ پر مبنی ہے، جامعہ میں لوگ پہلے سے سراپا انتظار تھے اور اساتذہ اور طلبہ لائن بنا کر اپنے اس حقیر بھائی کے استقبال کے لئے کھڑے تھے، اس ادارے کے مہتمم حضرت مولانا حبیب اللہ حقانی ہیں، جو پاکستان کے شہر پشاور کے رہنے والے ہیں،انہوں نے ہی اس ادارے کی تجدید کی ہے، وہ بیمار ہونے کی وجہ سے اپنے وطن ہی میں مقیم ہیں، یہاں ان کے نائب قاری اجمل طیب صاحب انتظامی امور کو انجام دیتے ہیں، جو نوجوان فاضل ہیں، یہ چوں کہ سفر پر تھے؛ اس لئے ان سے ملاقات نہیں ہو سکی؛ لیکن واپسی میں انہوں نے قیام گاہ پہنچ کر ملاقات کی، اور جب ہندوستان واپسی کے لئے ہم لوگ ائیرپورٹ گئے تو ائیرپورٹ پہنچانے میں بھی ساتھ ساتھ رہے، اس ادارے کے سینئر استاذ اور تربیت افتاء کے ذمہ دار حضرت مولانا عبد المنان قاسمی زید مجدہ ہیں، جو اسلامک فقہ اکیڈمی انڈیا کے سیمینار میں تشریف لا چکے ہیں، وہی ادارہ میں حاضری کے محرک تھے، وہ ایک متواضع، منکسر المزاج اور وسیع النظر عالم دین ہیں، اور دارالعلوم دیوبند سے عشق کے درجہ میں محبت رکھتے ہیں، میرے ساتھ بھی ان کی غیر معمولی شفقتیں شریک حال رہیں، فجزاہ اللہ خیر الجزاء، یہاں عربی کی متوسطات تک جماعتیں تو پہلے سے قائم ہیں، اس سال تخصص فی الفقہ کا شعبہ قائم ہوا ہے، اسی کے افتتاح کے لئے اس حقیر کو مدعو کیا گیا تھا۔
راقم نے طلبہ کو درمختار کے مقدمہ کی ابتدائی سطروں کی عبارت خوانی کروائی اور علوم اسلامی میں فقہ کی اہمیت، ضرورت، جامعیت اور اس میں پائے جانے والے توازن واعتدال پر گفتگو کی گئی، اس ادارے کے اصل بانی مشہور مصنف اور عالمِ معقولات میر زاہد ھرویؒ ہیں، اُن کی پیدائش ہندوستان ہی کی ہے، وہ شاہ جہاں کے عہد میں وقائع نویس اور اورنگ زیب عالمگیرؒ کے دور میں فوجیوں کے محتسب تھے، ۱۱۰۰ھ میں کابل میں وفات پائی،ان کی کتاب حاشیہ میر زاہد عرصہ تک ہندوستان کے مدارس میں داخل نصاب تھی، شاہ ولی اللہ صاحبؒ کے والد ماجد شاہ عبدالرحیم صاحبؒ نے اسی درسگاہ میں ملا میر زاہد سے کسب فیض کیا تھا، یہ ایک قدیم اور وسیع مسجد میں واقع ہے، طویل عرصہ سے یہ مدرسہ بالکل ویران تھا، اب آہستہ آہستہ اس کی رونق بحال ہو رہی ہے، یہیں سے قریب مسجد ملا محمود ہے، جس میں تحریک آزادی کے دوران مولانا عبید اللہ سندھیؒ نے سات سال قیام کیا تھا، وہ شیخ الہندمولانا محمود حسن دیوبندیؒ کی ہدایت پر افغانستان کے فرماں روا امان اللہ خان سے ملنے آئے تھے، اورکابل میں مقیم ہو کر آزادی کی جدوجہد میں لگے ہوئے تھے۔
آج بعد نماز ظہر دارالعلوم نعمانیہ میں مجمع الفقہ الاسلامی افغانستان کی افتتاحی نشست تھی، جس میں تلاوت کے بعد مفتی محمد اسحاق سادات (ناظم تعلیمات دارالعلوم نعمانیہ) نے فارسی میں اور مفتی عبد الحق حقانی( استاذ دارالعلوم افغان )نے پشتو میں استقبالیہ کلمات پیش کئے، یہ دونوں یہاں کی سرکاری اور عوامی زبانیں ہیں،مولانا عبدالحق حبیبی نے افتتاحی کلمات کہے اور مُعلِن کے فرائض انجام دیے، مفتی نورآغا استاذ جامعہ قاسمیہ کابل نے اس حقیر کا تعارف کرایا، بلخ کے ممتاز عالم مفتی عبد الحفیظ قرشی اور دارالعلوم فراہ کے مفتی آقا محمد نے تأثرات پیش کئے، اور اخیر میں اس حقیر نے اپنی معروضات پیش کیں، خاص طور پر یہ بات عرض کی گئی کہ نئے مسائل کیوں کر پیدا ہوتے ہیں، ان کے حل کے لئے فقہاء نے کیا اصول متعین کئے ہیں، اور قرآن وحدیث سے ہمیں اس سلسلہ میں کیا روشنی ملتی ہے؟ ہر زمانے کی کچھ ضرورتیں ہوتی ہیں، بعض ادارے موجودہ دور کی ضرورت ہے، جیسے بینکنگ نظام، انشورنس کا نظام، اسٹاک اکسچنج، پہلے زمانے میں معاشی نظام کا دائرہ محدود تھا، تیز رفتار لیکن پُر خطر ٹکنالوجی کا استعمال نہیں تھا، کاروباری پروجیکٹ چھوٹے چھوٹے ہوتے تھے، ان اداروں کی ضرورت نہیں پڑتی تھی؛ لیکن آج کی صورت حال پہلے سے مختلف ہے، اب اگر ہم صرف اس قدر کہہ دیں کہ یہ ناجائز ہے اور اس میںفلاں خرابی ہے، تو یہ بات درست نہیں ہوگی؛ بلکہ ہمیں اس کا حل اور اس کا جائز متبادل پیش کرنا ضروری ہے،نیز اس کے ذیل میں اسلامک فقہ اکیڈمی انڈیا کا تعارف کرایا گیا۔
دوسری نشست مغرب تا عشاء منعقد ہوئی اور عشاء کی نماز تاخیر سے ادا کی گئی، اس سیمینار کا مرکزی موضوع بیع وفا اور مال مرہون سے استفادہ تھا، اس سلسلہ میں چھ سوالات کئے گئے تھے، جو مقالات آئے تھے ہر سوال نمبر کے لحاظ سے ایک ایک فاضل نے فارسی زبان میں جوابات کی تلخیص پیش کی، اس کے بعد مرحلہ تھا تمام مباحث کو سامنے رکھتے ہوئے عرض مسئلہ پیش کرنے کا، جس میںکسی رائے کو ترجیح دی جاتی ہے، پھر اس پر بحث کی جاتی ہے؛ چنانچہ ایک فاضل نے فارسی میں اور ایک نے پشتو زبان میں عرض مسئلہ پیش کیا، اس کے بعد مختصر مناقشہ ومذاکرہ ہوا، جس میں کچھ سوالات اُٹھائے گئے، حاضرین کے اصرار پر اس موضوع سے متعلق میرے مقالہ کا خلاصہ مولانا امتیاز احمد قاسمی رفیق شعبۂ علمی اسلامک فقہ اکیڈمی انڈیا نے پڑھ کر سنایا اور اس کے بعد اس حقیر نے مختصر گفتگو کی، جس کا حاصل یہ تھا کہ احکام شریعت میں دونوں باتوں کی اہمیت ہوتی ہے، ایک: کسی عمل کی شکل وہیئت، دوسرے: اس کے مقاصد ، خریدوفروخت کی یہ صورت کہ کوئی چیز اس شرط پر بیچی جائے کہ خریدار اس سے فائدہ اُٹھائے اور جب بیچنے والے کو اتنی رقم مہیا ہو جائے تو اسے واپس خرید کر لیا جائے، شکل کے اعتبار سے خریدوفروخت کی ایک صورت ہے،اس لحاظ سے اسے جائز ہونا چاہئے؛ لیکن مقصد اس کا یہ ہے کہ چوں کہ قرض دے کر اس پر نفع لینا سود ہے؛ اس لئے اس کو بہ ظاہر تجارت کی شکل دی جائے، پیسہ دینے والا اس شئی سے فائدہ اُٹھالے اور پیسہ لینے والابعد میں پورے پیسے واپس کر کے سامان واپس لے لے، انہین دو نوعیتوں کی وجہ سے حکم متعین کرنے میں فقہاء کے درمیان اختلاف ہوا ہے؛ البتہ معاملات میں زیادہ اہمیت مقاصد کی ہوتی ہے، آپ اس کی روشنی میں غور فرما سکتے ہیں، بہر حال اخیر میں تجویز کمیٹی کا اعلان ہوا اور دعاء پر مجلس ختم ہوئی۔
اگلے دن ۲۷؍جون کو صبح تا نماز ظہر سیمینار کی آخری نشست ہوئی، جس میں کابل اور افغانستان کے چار زون کے نمائندوں نے اپنے اپنے علاقہ میں دارالافتاء کے کاموں کی رپورٹ پیش کی، یہ جان کر بڑی خوشی ہوئی کہ ہر علاقہ میں علماء اہم فقہی مسائل کے بارے میں اجتماعی طور پر غورخوض کرتے ہیں، کاش! ہندوستان میں بھی اس کی کوئی صورت پیدا ہو، پھر چند حضرات نے تأثرات پیش کیے، اس کے بعد تجویز کمیٹی کی مرتب کردہ تجاویز پیش کی گئیں، اسلامک فقہ اکیڈمی انڈیا، مجمع الفقہ الاسلامی مکہ مکرمہ اور ادارۃ المباحث الفقہیہ جمعیۃ علماء ہند نے اس مسئلہ پر جو فیصلے کئے ہیں، بالآخر اسی کے قریب تمام لوگوں کا اتفاق ہوا، سیمینار کا فیصلہ چھ تجاویز اور ہدایات پر مشتمل ہے، جس میں یہ بات کہی گئی ہے کہ مالِ مرہون سے نفع اُٹھانا جائز نہیں ہے، نہ ہیوی ڈپازٹ اور معمولی کرایہ جائز ہے؛ البتہ فقہاء نے بیع وفا کے درست ہونے کے لئے جوشرائط مقرر کی ہیں، ان کی رعایت کے ساتھ بیع وفا جائز ہے، یہ آخر الذکر نکتہ دوسری اکیڈمیوں کے فیصلے سے کسی قدر مختلف ہے اور وہاں کے عرف ورواج کے پس منظر میں ہے، اخیر میں حاضرین کے اصرار پر پھر اس حقیر نے کچھ گزارشات پیش کیں، جن میں اہم بات یہ تھی کہ یہ ملک مسلسل مغربی طاقتوں کی یلغار کا ہدف رہا ہے، اور مغربی استعمار کا یہ مزاج ہے کہ وہ جہاں کہیں پہنچتے ہیں ،اپنی فکر کو بھی نافذ کرنے کی کوشش کرتے ہیں، اور نوجوان نسل بالخصوص جدید تعلیم یافتہ گروہ اس سے متأثر ہو جاتا ہے؛ اس لئے اس کی طرف بھی توجہ کرنا ضروری ہے، میرے خطاب سے پہلے کابل کے ایک بزرگ عالم دین اور محدث مولانا عبدالحمید حماسی کا بھی خطاب ہوا اور انہوں نے افغانستان اور کابل کے بارے میں ڈھیر ساری قیمتی معلومات فراہم کیں، ماشاء اللہ ان کا پورا خاندان علمی خانوادہ ہے، اور سبھوں کو حدیث سے عشق رہا ہے، وہ مجھ سے افغانستان کے حالات بیان کرتے ہوئے سسکیاں لے کر رونے لگے، انہوں نے بتایا کہ کتنے ہی شاگرد ہیں جن کو ہم شعبان میں رخصت کرتے ہیں، اور جب شوال میں ان کے بارے میں معلوم کرتے ہیں تو پتہ چلتا ہے کہ وہ شہید کر دئے گئے، پھر مغلوب الجذبات ہو کر کہنے لگے کہ ان شاء اللہ شہیدوں کا یہ خون رائیگاں نہیں جائے گا، اور افغانستان ایک معیاری اور مثالی اسلامی مملکت بن کر رہے گا، بہر حال اخیر میں مولانا ابراہیم صاحب مہتمم دارالعلوم نعمانیہ نے ہدیۂ تشکر پیش کیا اور اس حقیر کی دعاء پر سیمینار کا اختتام عمل میں آیا، اس سیمینار میں افغانستان کے تمام علاقوں سے ۱۱۵؍ نمایاں علمی شخصیتیں اور خاص کر ارباب افتاء شریک ہوئے اور تیس مقالات پیش ہوئے، جو نو سو صفحات پر مشتمل ہیں۔
نماز ظہر کے بعد میزبانوں نے ہم لوگوں کے لئے ایک تفریحی پروگرام طے کیا تھا؛ چنانچہ پہلے ہم کابل سے کچھ فاصلے پر قرغہ نامی جھیل لے جائے گئے، یہ بڑی خوبصورت اور صاف وشفاف جھیل ہے، جہاں برف کا پگھلا ہوا پانی جمع ہوتا ہے، اس کے چاروں طرف ہرے بھرے درخت اور خوب صورت پھولوں کے پودے ہیں، لوگ اس وسیع وعریض جھیل میں کشتیوں اور بوٹوں کے ذریعہ سیر کرتے ہیں، ہم لوگ تھوڑی دیر یہاں رُک کر اور اس قدرتی نظارہ کا لطف اُٹھا کر آگے بڑھے، یہاں سے دو تین کیلو میٹر کے فاصلے پر پغمان نامی مقام ہے، اس کے چوراہے پر’’ باب آزادی‘‘ بنا ہوا ہے، جو انگریزوں سے آزادی حاصل کرنے کی یادگار ہے، کہا جاتا ہے کہ امان اللہ خان انگریزوں پر فتح حاصل کرنے کے بعد اسی راستے سے کابل میں داخل ہوئے تھے، جیسے دہلی کے انڈیا گیٹ پر مجاہدین آزادی کے نام کندہ کئے گئے ہیں، اسی طرح برطانوی استعمار سے آزادی حاصل کرنے کی جنگ میں جو لوگ شہید ہوئے، یہاں ان کے نام کندہ کئے گئے ہیں، سابق صدر افغانستان احمد کرزئی صاحب نے یہاں اپنے دور میں ایک خوبصورت اور وسیع پارک بنایا ہے، اس پارک میں ایک محل بھی تعمیر کیا گیا ہے، جو کافی بلندی پر ہے، اور مختلف ہالوں اور سنگ مرمر کے وسیع صحن پر مشتمل ہے،نیچے دور تک سبزہ زار اور خوبصورت پھولوں اور ہرے بھرے درختوں کا منظر نہایت ہی دل کش ہے، اور چوں کہ یہ پہاڑی پر واقع ہے؛ اس لئے سبک خرام ہواؤں کا قافلہ بھی اٹھکھیلیاں کرتے ہوئے گزرتا اور آنے والوں کے لئے راحت کا سامان مہیا کرتا ہے،افغانستان اور بعض دیگر وسط ایشیائی ممالک میں اہل فارس کا قدیم تیوہار نوروز منایا جاتا ہے، اور ہر سال باری باری کسی ایک ملک میں نوروز کی مرکزی تقریب رکھی جاتی ہے، چند سال پہلے یہ تقریب افغانستان کے حصہ میں آئی تھی، اس تقریب کے لئے بہت ہی کم وقت میں اس پارک کی تعمیر ہوئی؛ لیکن تقریب کے منعقد ہونے سے پہلے ہی طالبان نے اعلان کر دیا کہ نوروز کی تقریب غیر اسلامی فعل ہے؛ اس لئے وہ اس کی اجازت نہیں دیں گے، نتیجہ یہ ہوا کہ یہ تقریب یہاں کے بجائے صدارتی محل میں منعقد ہوئی؛ لیکن اس بہانے یہ خوبصورت تفریح گاہ بن گئی، عصر کی نماز ہم لوگوں نے اسی پارک میں ادا کی۔
ہمارا قافلہ جو ۲۵؍۲۶؍افراد پر مشتمل تھا،یہاں سے کابل کے مرکز دعوت وتبلیغ کی طرف روانہ ہوا،یہ مرکز شہر کے اہم علاقہ میں شارع عام سے متصل اور قصر صدارت کے قریب واقع ہے، مرکز کی چار منزلہ مسجد بہت ہی وسیع وعریض ہے اور اس میں ہزاروں افراد کے قیام کی گنجائش ہے، یہاں بہت سارے افراد سے ملاقات ہوئی، ان میں ایک تعداد اردو سمجھنے والوں کی بھی تھی، جماعت کے حلقہ میں اس وقت جو اختلاف چل رہا ہے، اس کا اثر افغانستان میں بھی ہے؛ لیکن کابل کا یہ مرکز پاکستان کے مرکز رائے ونڈ کے تحت کام کررہا ہے۔
آج احباب نے عشائیہ کا انتظام مرکز کے قریب ’’صلح ریسٹورینٹ‘‘ میں رکھا تھا، یہ ریسٹورنٹ گویا ایک پارک کی شکل میں تھا، جس میں ہرے بھرے پودے اور سبزہ زار بھی تھے اور جگہ جگہ چھوٹے چھوٹے چھپر کے کیبن بھی بنے ہوئے تھے، میز اور کرسیوں کا بھی نظم تھا، اور افغانی ثقافت کے مطابق فرش، گاؤ تکیہ اور دسترخوان کا بھی ، افغانستان میں پکوان عمدہ اور لذیذ ہوتے ہیں؛ لیکن کم سے کم تیل اور مسالہ کا استعمال ہوتا ہے؛ اس لئے طبیعت پر کوئی بوجھ بھی نہیں ہوتا، افغانی پلاؤ میں مغزیات اور کشمش کا بہت استعمال کیا جاتا ہے، جو اس کی لذت کو دوچند کرتا ہے، روٹیاں بھی مختلف قسم کی ہوتی ہیں ،اور کباب بھی انواع واقسام کے بنتے ہیں، یہاں مختلف قسم کے کباب اور نان سے دسترخوان سجایا گیا، مجھ جیسے لوگوں کو افغانستان جیسے جنگ زدہ ملک میں ایسے کھانے کا تصور نہیں تھا؛ لیکن جب کسی چیز کا اعلیٰ ذوق ہوتا ہے تو وہ ہر حال میں قائم رہتا ہے، یہ بات یہاں دیکھنے کو ملی۔
۲۸؍جون کو جمعہ کا دن تھا، کابل کے احباب میں ایک مخلص دوست مولانا گل محمد نورستانی ہیں، انہوں نے اپنے ادارہ مدرسہ فاروقیہ فتحیہ کی بنیاد رکھنے کے لئے دعوت دی، یہ شہر کے کنارے کی جگہ ہے، اور پہاڑ کے دامن میں واقع ہے، جگہ تو ہموار اور وسیع ہے؛ لیکن فی الحال کوئی عمارت نہیں ہے؛ بلکہ ایک خیمہ ڈال دیا گیا ہے، اسی میں محلہ کے بچے آتے ہیں، اور ابتدائی تعلیم حاصل کرتے ہیں، یہ منظر دیکھ کر مدرسہ صفہ کی یاد آگئی، جس میں صحابہ کی رہائش محض ایک چبوترے پر تھی، اور دارالعلوم دیوبند کا بھی خیال آیا، جسے انار کے درخت کے نیچے قائم کیا گیا تھا، محلے کے اہم افراد اور مقامی لیڈران بھی آگئے، جن میں زمین وقف کرنے والے حضرات بھی شامل تھے، موقع کی مناسبت سے مدرسہ کی اہمیت پر مختصر گفتگو کرتے ہوئے دعاء کی گئی، کابل کا موسم کچھ ایسا ہے کہ حالاں کہ دھوپ تھی؛ لیکن خیمہ کے اندر گرمی کا احساس نہیں ہوتا تھا۔
کابل کی ایک نو تعمیر شدہ بڑی اور خوبصورت مسجد’’ جامع حاجی عبدالرحمن ‘‘ہے، جس کے چاروں طرف ہرے بھرے چمن بنے ہوئے ہیں، یہیں جمعہ کی نماز ادا کی گئی، جمعہ کے خطیب مولانا محمد یونس سادات کے ہم درس تھے، جو اس وقت کابل کے محکمۂ اوقاف کے ذمہ دار ہیں، اسی جگہ’’ کندوز ریسٹورینٹ‘‘ میں ظہرانہ تناول کیا گیا، اس کے مالکان تبلیغی جماعت سے تعلق رکھتے ہیں، اور علماء کے بے حد قدرداں ہیں؛ حالاں کہ ہمارے ساتھ ۱۴؍۱۵؍افرادتھے اور پہلے سے ان کو اطلاع نہیں کی گئی تھی؛ لیکن انہوں نے بہت عمدہ ضیافت کی اور پیسہ لینے سے بھی انکار کر دیا،فجزاہ اللہ خیر الجزاء۔
کابل کی تاریخی عمارتوں میں ایک قصر’’ دارالامان ‘‘ہے، یہ افغانیوں کے بابائے قوم امیر امان اللہ خان کا محل ہے، جنگ میں یہ عمارت تباہ وبرباد ہوگئی تھی، اب پھر اس کی مرمت کرائی جا رہی ہے، اس کے پیچھے افغانستان کی نو تعمیر شدہ پارلیامنٹ ہے، جس کو حکومت ہند نے تعمیر کرایا ہے، اس کا ڈیزائن افغان طرز تعمیر کے مطابق ہے، عمارت کے اوپر ایک خوبصورت سرخی مائل سنہرے رنگ کا چمکتا ہوا بڑا سا گنبد ہے، اسی راستہ میں گلبدین حکمت یار کا مکان ہے، جو جنگ افغانستان کے مشہور مجاہدین میں سے ہیں، اور اس وقت حکومت میں شامل ہیں،یہ جگہ انہیں حکومت کی طرف سے دی گئی ہے، ان کے علاوہ جنگ روس کے دوسرے اہم مجاہدین کو بھی بڑی بڑی جگہیں دی گئی ہیں؛ چنانچہ پغمان کے قریب ایک اور فوجی کمانڈر جناب عبد رسول رب سیاف کا مکان بھی ایک وسیع قطعۂ زمین میں واقع ہے، وہاں سے بھی ہم لوگوں کا گذر ہوا، یہ اچھی بات ہے کہ حکومت نے سابق مجاہدین کی قدردانی کی ہے۔
یہاں سے قریب ایک مقبرہ ہے، مشہور ہے کہ، لیث بن قیس بن عباس ، یعنی عم رسول حضرت عباس کے پوتے کا مقبرہ ہے ؛لیکن تاریخ ورجال کی کتابوں سے اس کی تصدیق نہیں ہوتی؛ کیوں کہ حضرت عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے صاحب زادے کے تذکرے میں لیث نام کے کسی صاحب زادے کا ذکر نہیں ہے، شاید حجاز سے آنے والے قافلے میں لیث نامی شخص رہے ہوں اور ان کے والد کا نام بھی عباس ہو، اس سے لوگوں کو اشتباہ ہو گیا ہوواللہ اعلم۔
یہاں ایک مسجد ہے جو ’’مسجد شاہ دوشمشیر‘‘ سے معروف ہے، مسجد پر لگے ہوئے کتبہ کے مطابق حضرت عبدالرحمن بن سمرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اس کی بنیاد رکھی تھی، یہ فتح مکہ کے موقع سے مسلمان ہوئے تھے، انہوں نے سجستان اور کابل کا علاقہ فتح کیا تھا، اور عبداللہ بن عامر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ان کو سجستان کا والی بنایا تھا، ان کی وفات ۵۰ھ یا ۵۱ھ میں بصرہ میں ہوئی، اس مسجد کو ’’ مسجد شاہِ دو شمشیر‘‘ اس لئے کہا جاتا ہے کہ جو فوج کابل کو فتح کرنے کے لئے آئی تھی، اس میں ایک مجاہد بیک وقت دونوں ہاتھوں سے تلوار چلاتے تھے، کچھ ہی فاصلے پر دریائے کابل ہے، جس کی دونوں طرف پتھر کی دیواریں بنی ہوئی ہیں، اس کا عرض وسیع ہے، ابھی تو پانی کی مقدار کم تھی؛ لیکن بارش اور برف کے موسم میں پورا دریا لبریز ہو جاتا ہے، اس کے ساحل پر ایک وسیع اور قدیم مسجد ہے، جو ’’ پُل خِشتی مسجد‘‘ کہلاتی ہے، لوگ بتاتے ہیں کہ اس مسجد میں چھ ماہ خواجہ حسن بصریؒ کا قیام ہوا تھا، اوریہیں ان کے درس کی محفلیں لگتی تھیں، یہیں سے کچھ آگے ’’مسجد تخت سلیمان‘‘ ہے، اس جگہ کو لوگ’’ خواب گاہِ سلیمان‘‘ کہتے ہیں، لوگوں میں یہ بات مشہور ہے کہ حضرت سلیمانؑ اس جگہ قیلولہ کیا کرتے تھے، مسجد پُل خِشتی کے باہر بہت ہی مشغول بازار ہے، جس میں برصغیر کے قدیم بازاروں کی طرح چھوٹی چھوٹی فٹ پاتھ کی دکانیں ہیں اور شور وہنگامہ برپا رہتا ہے، یہ مسجد جنگ کے دوران کافی متأثر ہو گئی تھی، اس کا فرش اور صحن افغانستان کے سفید اور ٹھنڈے سنگ مرمر سے تیار کیا گیا ہے۔
مسجد پُل خِشتی سے ہم لوگ ائیرپورٹ کی طرف اور وہاں سے ہرات کے لئے روانہ ہوئے، اس سفر میں مولانا امتیاز احمد قاسمی صاحب کے علاوہ دارالعلوم ہرات کے شیخ الحدیث حضرت مولانا عبداللہ وثیق احمد صاحب بھی شامل تھے، یہ ایک پختہ کار مقبول مدرس اور باصلاحیت مفتی ہونے کے ساتھ ساتھ متواضع اور ملنسار شخصیت کے حامل ہیں، جوفارسی اور پشتو کے علاوہ اردو بھی اچھی خاصی جانتے ہیں، ایک گھنٹے کی مسافت طے کر کے ہم لوگ ہرات پہنچے، یہاں دارالعلوم ہرات کے ناظم مفتی سروَر صاحب، مولانا عبدالخالق صاحب (جو طالبان کے دور حکومت میں وزیر اوقاف تھے) نیز دارالعلوم کے اساتذہ کے بہ شمول تقریباََ پندرہ بیس افراد ائیرپورٹ پر موجود تھے، ہم لوگ ائیرپورٹ سے سیدھے دارالعلوم پہنچے، یہاں اساتذہ، طلبہ اور منتظمین نے بڑی محبت کے ساتھ استقبال کیا، مولانا عبدالشکور (فاضل دارالعلوم زاہدان) کو ہم لوگوں کی ضیافت پر مامور کیا گیا تھا، انہوں نے بڑی محبت کے ساتھ ایک ایک ضرورت کا خیال رکھا، مولانا عبدالخالق صاحب کافی معمر ہیں؛ لیکن واقعی مرد مجاہد ہیں، وہ عوام وخواص کے درمیان بڑی عزت کی نظر سے دیکھے جاتے ہیں، ان کا وطن ہرات سے قریب فراہ نامی جگہ میں ہے۔
اگلے دن ۲۹؍جون کو دارالعلوم میں دو پروگرام تھے، ایک تو بخاری کا افتتاح کرنا تھا، یہ سعادت اس حقیر کے ذمہ تھی، اساتذہ وطلبہ کے اصرار پر اجازت حدیث بھی دی گئی، شیخ الحدیث مولانا عبداللہ وثیق صاحب نے فارسی زبان میں ترجمہ کیا، یہاں دورۂ حدیث کے ایک طالب علم حافظ قمر الدین سے ملاقات ہوئی، جو قرآن مجید کے ساتھ ساتھ بخاری شریف کے بھی حافظ ہیں، دارالعلوم میں آج دوسرا پروگرام بعد نماز ظہر دارالعلوم کے وسیع ہال میں تھا، اس میں ہرات کے مختلف مدارس کے اونچے اساتذہ، شہر کے اہم علماء اور یونیورسٹیوں کے بعض اساتذہ مدعو تھے، میزبان کی طرف سے استقبالیہ اور اس حقیر کے لئے کلمات سپاس پیش کئے گئے، پھر ہرات یونیورسیٹی کے تحت شیخ عبدالرؤف مخلص ازہری نے افغانستان اور ہرات کی تاریخ اور مسلمانوں کے موجودہ مسائل پر عربی زبان میں اپنا مقالہ پیش کیا، ان کا مقالہ خاصا طویل تھا، اس کے بعد اس حقیر کا خطاب ہوا، راقم نے اپنے خطاب میں اعتدال، اسلام کا دفاع اور مغرب کی طرف سے اسلام کے خلاف ہونے والی فکری یلغار پر خصوصی توجہ دلائی اور عرض کیا کہ آج کا اصل جہاد یہی ہے کہ دین کی فکری سرحدوں کی حفاظت کی جائے۔
آج کا دن اس سفر کا بہت ہی اہم دن تھا، جس میں کئی یادگاروں کو جانے اور تاریخی مقامات کو دیکھنے کا موقع ملا،سب سے پہلے ہم لوگ امام فخر الدین رازیؒ’’ صاحب مفاتیح الغیب ‘‘ کی قبر پر گئے، قبر کی زیارت کی اور فاتحہ پڑھا، یہاں ایک مدرسہ بھی ہے،وہاں سے قریب ملا حسین واعظ کاشفی کی قبر پر حاضری کا موقع ملا،’’ تفسیر حسینی ‘‘کے نام سے فارسی زبان میں ان کی تفسیر ہے، جس میں اسرائیلی اور موضوع روایتیں بھی اچھی خاصی ہیں، ان کو اہل سنت بھی اپنا بزرگ مانتے ہیں اور شیعہ بھی، شیعہ حضرات اہل بیت کے بارے میں ان کے اشعار محرم کے موقع پر پڑھتے ہیں، اس کے بعد مشہور شاعر اور نعت گو مولانا عبدالرحمن جامیؒ کے مرقد پر حاضری ہوئی، مولانا جامیؒ کی قبر کے ایک طرف ان کے استاذ علامہ کاشغری ؒاور دوسری طرف ان کے تلمیذ رشید علامہ عبد الغفور لاری کی قبریں ہیں، یہاں سے پھر ہم لوگ آگے بڑھے، ایک اور بزرگ کی قبر پر لے جایا گیا، ان کا نام خواجہ یحیٰ عمار سجستانیؒ ہے اور یہ خواجہ غلطان کے نام سے مشہور ہیں، ان کی مزار کے پاس ایک پتھر رکھا ہوا ہے، کہا جاتا ہے کہ جو اس پر سر رکھتا ہے، وہ کروٹ بدلتے ہوئے چھ سات قدم تک جاتا ہے، ہم لوگوں کے سامنے بھی بعض لوگوں نے پتھر پر سر رکھا اور وہ اسی طرح الٹتے پلٹتے ہوئے کچھ فاصلے پر جاکر رُکے، معلوم نہیں یہ کرتب ہے یا اس میں کچھ حقیقت ہے، یا کسی اَن دیکھی مخلوق کا فعل اس میں شامل ہے؟
یہاں سے آگے ہم لوگ شیخ ابو الولید آزادانی کے مزار پر پہنچے، یہ امام بخاریؒ کے استاذ اور امام احمد بن حنبلؒ کے تلمیذ ہیں، بخاری نے اپنی کتاب میں ان سے ۱۳؍یا ۱۴؍روایتیں لی ہیں، یہاں کچھ دیر تک توقف کیا اور فاتحہ پڑھا، اس کے پیچھے ان عرب شہداء کا مقبرہ ہے، جو روسیوں سے لڑتے ہوئے شہید ہو گئے تھے، یہاں ایک بزرگ استاذ العلماء حضرت مولانا نور احمد فائز مدظلہ سے ملاقات کا شرف حاصل ہوا، یہ اس دیار کے بڑے عالم استاذ الاساتذۃ مولانا نصیر الدین غو غشتیؒ کے واحد شاگرد ہیں، جو باحیات ہیں، ان کی عمر ۹۰؍سال سے زیادہ ہے، اور ۶۰؍سال سے تدریس کی خدمت میں مصروف ہیں، فارسی زبان ہی میں بات کرتے ہیں، عربی بھی بہت کم بولتے ہیں، دیکھنے میں بھی بہت معصوم اور نورانی صفت کے ہیں، میری خواہش پر میرے لئے دعاء بھی کی اور پھر مجھ سے بھی اصرار کر کے اپنے لئے دعاء کرائی، یہاں سے نکل کر جس سڑک سے ہم لوگ آگے بڑھے، اس کے چوراہے پر ’’باب قندھار‘‘ کا علاقہ ہے، اس جگہ مجاہدین اور شہداء کی ایک مصوّر یادگار بنائی گئی ہے، بتایا گیا کہ روس نے ایک ہی دن میں بم باری کر کے ۲۴؍ ہزار افراد کو شہید کر دیا تھا، یہ اسی کی یادگار ہے، آگے بڑھتے ہوئے ایک سڑک ملی، جس کا نام’’ شارع ملا علی قاریؒ‘‘ ہے، شارح مشکوٰۃ ملا علی قاریؒ کا تعلق ہرات ہی سے تھا، یہ سڑک ان ہی کے نام سے موسوم ہے۔
پھر دارالعلوم ہرات آکر اور کچھ دیر آرام کر کے ہم لوگ شیخ عبداللہ انصاریؒ کے مزار پر گئے، اس مزار کو سب سے بڑھ کر لوگوں کا مرجع پایا، ان کو’’ پیر ہرات‘‘ کہا جاتا ہے، ان کے مزار کے قریب ہی مشہور افغانی حکمراں امیر دوست محمد خان مرحوم کی قبر بھی ہے، یہاں فاتحہ پڑھنے کے بعد ہم لوگ ایک قومی یادگار پر لے جائے گئے، جو درختوں سے ڈھکی ہوئی بلند پہاڑیوں پر بنائی گئی ہے، یہ بڑی خوبصورت جگہ ہے، جو ایک تفریحی مرکز بن گئی ہے، جس سے پورا شہرِ ہرات نظر آتا ہے، اس جگہ روس کی شکست کے بعد ایک یادگار تعمیر کی گئی ہے، جس کو’’خانۂ جہاد‘‘ کا نام دیا گیا ہے، ہم لوگوں نے یہیں عصر کی نماز بھی ادا کی، اس پہاڑی سے اترنے کے بعد کچھ ہی فاصلے پر ہندوستانی سفارت خانہ ہے، جس پر ترنگا جھنڈا لہرا رہا ہے، اپنے ملک سے باہر اپنا جھنڈا دیکھ کر بڑی خوشی محسوس ہوئی، ہندوستان نے وہاں بہت سارا ترقیاتی اور فلاحی کام کرایا ہے، پارلیامنٹ کے علاوہ سڑکوں اور ہاسپیٹلوں کی تعمیر وغیرہ، اسی طرح معلوم ہوا کہ چار سو بسیں افغانستان کو ہندوستان کی طرف سے تحفہ میں دی گئی ہیں، ہندوستانی آٹو بھی وہاں مقبول ہے؛ حالاں کہ پاکستان اور خود افغانستان کی بنائی ہوئی تین پہیوں کی گاڑیاں بھی موجود ہیں؛ لیکن ہندوستانی آٹو زیادہ مقبول ہے، اور ہندوستان کے سلوک کی وجہ سے عمومی طور پر لوگ ہندوستان کے احسان مند ہیں، طالبان کو عام طور پر میڈیا میں ہندوستان مخالف باور کرایا جاتا ہے؛ لیکن وہاں لوگوں نے بتایا کہ ایسا نہیں ہے، وہ کہتے ہیں کہ ہماری لڑائی صرف امریکہ سے ہے، نہ کسی اور ملک سے ہے اور نہ کسی مذہب سے۔
ہندوستانی سفارت خانہ سے گزرتے ہوئے کچھ آگے بڑھے تو ایک میوزیم نظر آیا، ہماری خواہش پر مفتی سروَر صاحب اور ان کے رفقاء ہمیں یہاں بھی لے گئے، جانے کے بعد احساس ہوا کہ اگر اس میوزیم میں نہ آئے ہوتے تو ایک اہم چیز چھوٹ جاتی، یہ جہاد افغانستان کا میوزیم ہے، مجاہدین نے روسیوں کے چھوٹے بڑے بہت سے ہتھیار چھین لئے تھے، یہاں ان کو یادگار کے طور پر رکھا گیا ہے، جس میں پستول سے لے کر فوجی ہیلی کاپٹر تک سب کو بڑے سلیقے سے سجایا گیا ہے، میوزیم کی اندرونی عمارت میں مجسموں کے ذریعہ میدان جنگ کی بہترین نقاشی کی گئی ہے، روسی فوجیوں کو آتے ہوئے اور واپس جاتے ہوئے دکھایا گیا ہے، دیکھنے والے کو ایسا محسوس ہوتا ہے کہ گویا وہ میدان جنگ میں ہے، اسماعیل خان کی دعوت پر روس کے خلاف جہاد کے لئے قبائلی سرداروں کی میٹنگ’’ غُور‘‘کے قصبہ ساغر میں منعقد ہوئی تھی، اس کو بھی مجسموں کے ذریعہ دکھایا گیا ہے، بیرونی پارک میں بنائی گئی دیواروں پر ۲۸؍سو شہداء کے نام کندہ ہیں، یہ مشہور اور اہم شہداء ہیں، جنہوں نے مادرِوطن اور دین کے لئے قربانیاں دی تھیں، بہر حال یہ بڑا ایمان افروز میوزیم ہے، جس کو دیکھ کر اللہ کی نصرت پر یقین بڑھتا ہے۔
چوں کہ ہم لوگوں کو بہت اشتیاق جامع ہرات کو دیکھنے کا تھا اور مغرب کا وقت قریب تھا؛ اس لئے ہم لوگ وہاں سے تیز تیز مسجد کی طرف روانہ ہوئے، اس مسجد کو ’’جامع شریف‘‘ کہا جاتا ہے، محمد حکم ناہض نے ’’ قاموس جغرافیہ افغانستان ‘‘ میں اور بعض دوسرے واقعہ نویسیوں نے لکھا ہے کہ پورے خراسان اور ماوراء النہر میں اس سے خوبصورت کوئی مسجد نہیں ہے، واقعی اس دعویٰ میں صداقت معلوم ہوتی ہے، اس مسجد کا صحن چار ہزار نو سو بیس مربع میٹر پر مشتمل ہے، قبلہ کی سمت دائیں اور بائیں نیز صحن کے دونوں طرف مسقف مسجد کے مختلف ہال ہیں، جاڑے کے موسم میں اسی حـصے میں نماز ادا کی جاتی ہے، دائیں بائیں اور سامنے تینوں طرف سے مسجد میں داخل ہونے کے دروازے ہیں، صحن میں وضوء کے لئے خوبصورت حوض ہے اور قبلہ کی مخالف سمت والے برآمدے میں ایک دیگ رکھی ہوئی ہے، جس کی چوڑائی ڈیڑھ میٹر اور گہرائی دو میٹر ہے، اس دیگ میں متبرک دنوں اور راتوں میں شربت بنایا جاتا اور حاضرین کو پلایا جاتا ہے، یہ پہلے آتش پرستوں کی عبادت گاہ تھی، جب یہاں کے باشندے مسلمان ہو گئے تو انہوں نے اس جگہ کو مسجد میں تبدیل کر کے اس کی تعمیر نو کی، اس کی دیواروں پر بہت خوبصورتی کے ساتھ نقشے بنائے گئے ہیں، میں نے ایران کے علاوہ کہیں ایسی آراستہ اور مزیّن دیواریں نہیں دیکھیں؛ چوں کہ ہرات کا علاقہ بھی ایران سے متصل ہے؛ اس لئے طرز تعمیر کی یکسانیت باعث تعجب نہیں، مسجد کے اندر دو عالیشان مینارہیں اور معلوم ہوا کہ چاروں طرف بحیثیت مجموعی بارہ مینارہیں۔
نماز کے بعد ہم لوگ یہاں سے قریب ہی جامع علامہ سعد الدین تفتازانیؒآئے، علامہ سعدالدین تفتازانیؒ کی اہمیت برصغیر کے کسی عالم کے لئے محتاج بیان نہیں ، اس مسجد میں علامہ تفتازانیؒ نے دو بار دو دو سال قیام کیا ہے،اور بلاغت ومعانی پر اپنی مشہور کتاب مطول کے مسودے کی اسی مسجد میں تبییض کی ہے، اس وقت اس مسجد میں’’ دارالعلوم عالی ہرات‘‘ قائم ہے، جس میں دورۂ حدیث اور اس کے بعد تخصصات تک تعلیم ہوتی ہے، دورۂ حدیث میں ۱۲۰؍طلبہ ہیں، یہاں کے ذمہ دار اعلیٰ حضرت مولانا جلیل اللہ صاحب دامت برکاتہم ہیں، جو بخاری کا درس دیتے ہیں، ان کی عمر ۹۰؍ سال سے متجاوز ہے، وہ کثیر التصنیف عالم ہیں، اور متعدد کتابوں کا فارسی میں ترجمہ کیا ہے، فارسی زبان میں ۳۰؍ جلدوں پر مشتمل تفسیر لکھی ہے، جن میں بعض جلدیں طبع ہو چکی ہیں اور بعض زیر طبع ہیں، اس حقیر کے ساتھ بڑی محبت سے پیش آئے، قاموس الفقہ اور جدید فقہی مسائل کی دل کھول کر تعریف کی اور فرمایا کہ مجھے آپ سے غائبانہ محبت ہے، بے حد شفقت کا معاملہ فرمایا، یہاں بہت سے علماء جمع ہوگئے، جن میں اس دارالعلوم کے اساتذہ بھی تھے اور شہر کی سر برآوردہ شخصیتیں بھی، ان میں ایک نمایاں نام حضرت مولانا صبغۃ اللہ صاحب کا ہے، جو مولانا جلیل اللہ صاحب کے صاحبزادے ہیں، یہ بھی صاحب تصنیف علماء میں ہیں، اور فقہ وفتاویٰ کا مرجع تصور کئے جاتے ہیں؛ چوں کہ یہ ایک بار اکیڈمی کے سیمینار میں تشریف لا چکے ہیں؛ اس لئے یہ پہلے سے مانوس تھے،یہیں نماز مغرب ادا کی گئی، امام صاحب نے بڑی نفیس قرأت کی اور افغانستان میں ہر جگہ ہی ائمہ مساجد بہت عمدہ قرأء ت کرتے ہیں۔
حقیقت یہ ہے کہ ہرات عہد تابعین ہی سے علماء کا مرکز رہا ہے، اس کے قرب وجوار میں بھی بہت سے فقہاء ومحدثین اور صوفیاء ومجاہدین آسودۂ خاک ہیں، مشہور حنفی فقیہ ابو جعفر ھندوانی کا وطن’’ ہِندوان‘‘یہاں سے صرف چار کیلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے، یہیں سے قریب ایک قصبہ گلِ رانا ہے جو شہر بند تعلقہ میں پڑتا ہے، مصابیح کے مصنف محی الدین بن فرّا بغویؒ (۴۳۶– ۵۱۶ ھ) یہیں کے رہنے والے تھے، بعض اہل علم نے اس قصبہ کا نام ’’ یغشور‘‘ لکھا ہے، یہاں سے ۶۰؍کیلومیٹر کے فاصلے پر سلسلۂ چشتیہ کے مؤسس شیخ مودود چشتیؒ(۴۳۰–۵۲۷ھ ) کا وطن چِشت ہے،۳۵؍کیلو میٹر کے فاصلے پر کَرّوخ واقع ہے، ابوالحسن کروخ(۴۶۲– ۵۴۸ھ ) یہیں کے رہنے والے تھے، جوسنن ترمذی کے مشہور ناقلین ہیں، ہندوستان میں ترمذی کا جو نسخہ متداول ہے، وہ ان ہی کے واسطہ سے ہے،فاتح عراق عبد اللہ بن عامرؓ (۴–۵۹ھ) کی قبر یہاں سے دو سو کیلومیٹر کے فاصلے پر ہے، غرض کہ فارسی شاعر کے بقول:

زفرق تا بقدم ہرکجا کہ می نگرم
کر شمہ دامنِ دل می کَشد کہ جا ایں جا ست

’’سر سے لے کر پاؤں تک جہاں بھی دیکھتا ہوں، محبوب کا کرشماتی حُسن دل کو اپنی طرف کھینچتا ہے کہ یہی جگہ اصل جگہ ہے‘‘۔
اگلی صبح ۳۰؍جون ۲۰۱۹ء کو ہم لوگ بذریعہ فلائٹ کابل واپس ہو گئے، آج دو اداروں کو دیکھنے کا موقع ملا، ایک دارالعلوم افغان، اس کے بانی اور سرپرست اعلیٰ روس افغانستان جنگ کے مشہور مجاہد ملا عبدالسلام ضعیف ہیں، ملا ضعیف پاکستان میں طالبان کے سفیر تھے؛ لیکن امریکہ کے مطالبہ پر نہایت بے شرمی کے ساتھ حکومت پاکستان اور اس کے سربراہ پرویز مشرف نے ان کو امریکہ کے حوالہ کر دیا، ظاہر ہے یہ عمل نہ اسلامی واخلاقی نقطۂ نظر سے درست تھا،نہ بین الاقوامی قانون کے لحاظ سے ،پھر امریکی فوج نے ان پر نہایت انسانیت سوز مظالم ڈھائے، انہوں نے اپنی جیل کی آپ بیتی تحریر کی ہے ،جس کو پڑھ کر آنکھیں اشکبار ہو جاتی ہیں اور امریکہ کے جبرواستبداد کی تصویر سامنے آتی ہے۔ بہر حال اب ملا ضعیف کی محنتوں کا رُخ تعلیم کی طرف ہے، انہوں نے لڑکوں اور لڑکیوں کے لیے الگ الگ مدارس اور یونیورسیٹیاں قائم کی ہیں، اور بعض فلاحی ادارے بھی چلا رہے ہیں، ان کے ادارہ کا نام دارالعلوم افغان ہے،دارالعلوم افغان ظاہری ومعنوی دونوں پہلوؤں سے تیزی کے ساتھ ترقی کی طرف گامزن ہے، یہاں کا تعلیمی نظام بہت اچھا سمجھا جاتا ہے، مولانا محب اللہ یہاں کے شیخ الحدیث ہیں، مدرسہ کے مہتمم مولانا نورا اللہ عزام ہیں اور برادر خورد مولانا عبد الحق حماد بھی فعال مدرس ہیں، اور خوش اخلاق نوجوان ہیں، ظہرانہ کے بعد مسجد کے اندر اردو زبان میں میرا خطاب ہوا اور وہاں کے استاذ مفتی عبد الرؤف قاسمی صاحب نے بڑی عمدگی سے اور دلچسپ انداز میں پشتو میں ترجمہ کیا،میں نے اپنے خطاب میں عرض کیا کہ ایک تو وہ جہاد ہے، جو آپ نے انگریزوںاور روسیوں سے استعمار کے خلاف کیا ہے، اور اللہ تعالیٰ نے اس میں افغان قوم کو کامیابی عطا فرمائی؛ لیکن اس سے اہم جہاد وہ ہے، جس کی ضرورت فکری میدان میں ہے، جس کو ’’الغزوالفکری‘‘ کہتے ہیں، یعنی مغرب کی طرف سے اسلام کے خلاف جو شکوک وشبہات اٹھائے جاتے ہیں، علماء ان کا جواب دینے اور غلط فہمیوں کو دور کرنے کا کام کریں، یہ جہاد اپنے اثرات ونتائج کے اعتبار سے جہاد بالسیف سے بھی زیادہ اہم ہے۔
کابل میں ایک اہم جامعہ دارالعلوم عالی امام اعظم ابو حنیفہؒ بھی ہے، یہ حکومت کے زیر انتظام ہے، اس میں تین ہزار طلبہ پڑھتے ہیں، جن میں سے ایک ہزار دارالاقامہ میں رہتے ہیں،اس دارالعلوم کا کیمپس کافی بڑا ہے، عمارت بھی خوبصورت اور وسیع ہے، بڑا احاطہ ہے، اور اس میں چمن بندی کا بہت اچھا انتظام ہے، اتنا وقت نہیں تھا کہ وہاں جایا جائے؛ لیکن میری خواہش ہوئی کہ گاڑی پر بیٹھے بیٹھے کم سے کم احاطہ کا ایک چکّر ہی لگا لیا جائے؛ کیوں کہ اس کے نصاب تعلیم اور نظام تعلیم کو مرتب کرنے کے لئے امیر افغانستان امان اللہ خان نے علامہ سید سلیمان ندویؒ اور دیگر علماء کو دعوت دی تھی، بہر حال جب ہم لوگ پہنچے تو نماز عصر ہو چکی تھی اور دفاتر بند ہو چکے تھے، صرف’’ مدیر تنفیذ‘‘ جس کو فارسی میں ’’مدیر اجرائی‘‘ کہتے ہیں، سے سرسری ملاقات ہوئی، وہ چاہتے تھے کہ ہم لوگ تھوڑی دیر رُکیں؛ لیکن اس کا موقع نہیں تھا؛ اس لئے ہم لوگ واپس ہوگئے؛ تاہم یہ دیکھ کر خوشی ہوئی کہ افغانستان میں حکومت کی طرف سے بھی بڑے بڑے مدارس کا انتظام ہے؛ اگرچہ وہاں سرکاری دارالعلوم میں بھی باضابطہ تعلیم وتعلم کا نظم ہے، اتنا بُرا حال نہیں ہے جو ہندوستان کے بورڈ کے مدارس میں دیکھا جاتا ہے؛ لیکن جیسے ہمارے ملک میں حکومت کے اثر سے آزاد دینی مدارس جس بہتری کے ساتھ تعلیمی خدمت کرتے ہیں، سرکاری بورڈ کے مدارس میں اس کا فقدان ہے، کسی قدر فرق کے ساتھ یہی کیفیت وہاں بھی ہے، اور یہ چنداں باعث تعجب نہیں؛ کیوں کہ آزاد مدارس میں ہزار کمیوں کے باوجود کچھ نہ کچھ اللہ کی رضا جوئی کا جذبہ ضرور باقی رہتا ہے، مگر حکومت کے زیر اثر چلنے والے اداروں میں یہ جذبہ عملاََ مفقود ہوتا جا رہا ہے، اور ایک دنیوی کاروبار کی طرح اس کو انجام دیا جاتا ہے۔
افغانستان رقبہ کے اعتبار سے ایک بڑا ملک ہے، ملک کی وسعت کی وجہ سے بھی اور امن وامان کی صورت کے لحاظ سے بھی میرا یہ سفر کابل اور ہرات تک محدود رہا، دوسرے علاقوں میں جانے کی نوبت نہیں آئی؛ لیکن فقہی سیمینار کی نسبت سے ملک کے اکثر علاقوں قندھار، بلخ، نیمروز، بدخشتان، مزار شریف وغیرہ کے منتخب علماء سے ملاقات ہوئی، ان میں ایک اہم نام محب گرامی حضرت مولانا عبدالہادی حماد (قندھار) کا ہے، جو اسلامک فقہ اکیڈمی انڈیا کے سیمینار میں تشریف لا چکے ہیں، وہ قندھار کے ایک دارالعلوم کے ذمہ دار ہیں، اور اگر یہ کہا جائے تو بے جا نہ ہوگا کہ اس ملک میں قندھار علماء کا سب بڑا مرکز ہے، اور گویا مذہبی راجدھانی ہے، اللہ تعالیٰ مولانا موصوف کو جزائے خیر عطا فرمائے کہ بڑی محبت سے پیش آئے اور ان کی ملاقات نے سفر کے لطف کو دوبالا کر دیا۔

افغانستان کے سفر میں بحیثیت مجموعی دل میں جو احساسات ابھرے، ان کا تذکرہ مناسب معلوم ہوتا ہے، ان میں پہلی بات استقامت اور ثابت قدمی ہے، اپنی ثابت قدمی اور قوت ایمانی کے ذریعہ انھوں نے انگریزوں اور روسیوں کو افغانستان سے نکلنے پر مجبور کر دیا، اور امریکہ بھی اپنی شکست کے آخری مرحلہ پر ہے؛ حالاں کہ ان کے پاس ان جدید ہتھیاروں کا عشر عشیر بھی نہیں تھا، جو اُن پر حملہ کرنے والی ظالم طاقتوں کے پاس تھا؛ اس لئے اس میں کوئی شبہ نہیں ان کے جذبۂ ایمانی اور اس کی وجہ سے اللہ تعالیٰ کی نصرت ومدد نے اس دور میں عہد صحابہ کی یاد تازہ کر دی، اس سفر میں بہت سے علماء ، عوام اور خواص سے ملاقات ہوئی، ان میں ایک تعداد ان لوگوں کی تھی، جن کے اعزہ اس مہم میں شہید کر دیے گئے؛ لیکن نہ کسی کی زبان پر آہ وبکا کے کلمات سننے میں آئے اور اور نہ ان کو اپنی تقدیر پر شکوہ سنج پایا؛ بلکہ ہر ایک کی زبان پر شکر کے الفاظ اور اللہ پر یقین کے کلمات ہی سنے گئے، یہ وہ اسوہ ہے جو پوری دنیا کے مسلمانوں کے لئے قابل توجہ ہے۔
دوسری چیز جو مجھے غیر معمولی محسوس ہوئی وہ ان کا جذبۂ قناعت ہے، جو ملک کئی دہوں سے جنگ کو جھیل رہا ہو، وہاں کے لوگ معاشی اعتبار سے کن حالات سے دو چار ہوں گے؟ یہ محتاج بیان نہیں؛ لیکن ان کے اندر غیر معمولی جذبۂ قناعت محسوس ہوا، کھونے کے بعد بھی پانے کا احساس اور لُٹ جانے کے بعد بھی استغناء کی شان ،ان کا عجیب وصف ہے، جو لوگ جس حال میں ہیں، وہ اس پر راضی ہیں، اہل مدارس سے لے کر عوام تک ہر جگہ یہ کیفیت محسوس ہوئی، سرکاری ملازمین کی تنخواہیں بھی بہت کم ہیں؛ لیکن لوگ اپنے حالات پر مطمئن ہیں۔
تیسری چیز جس نے کم سے کم مجھے بہت متأثر کیا، وہ ہے علماء کے ساتھ عوام کا نیاز مندانہ رویہ، اس کا تجربہ دہلی میں واقع افغانی سفارت خانہ سے لے کر افغانستان تک ہر جگہ ہوا؛حالاں کہ موجودہ حکومت اور طالبان کے درمیان ٹکراؤ کی وجہ سے انہیں ہم جیسے حلیہ والے لوگوں سے بظاہر نفور ہونا چاہئے تھا؛ لیکن عوام تو عوام پولس، فورس اور سیکوریٹی گارڈ والے بھی ہم جیسے لوگوں کے ساتھ بڑی رعایت اور احترام کا معاملہ رکھتے ہیں، فجزاھم اللہ خیر الجزاء۔
بعض باتیں محل نظر بھی محسوس ہوئیں، ان میں سب سے اہم بات یہ ہے کہ اس قدر دین داری اور مذہبیت کے باوجود نسلی اور لسانی تعصب کے اثرات اب بھی یہاں محسوس کئے جاتے ہیں، پشتو، تاجک، ازبک مختلف نسلوں کے مسلمان یہاں رہتے ہیں، ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ان کے درمیان پوری ہم آہنگی نہیں ہے، مثلاََ روس سے جنگ کے دوران جو لوگ شہید ہوئے، جنھوں نے بڑے مجاہدانہ کارنامے انجام دیے، ان میں اوروں کی تو کہیں تصویر نظر نہیں آئی؛ لیکن احمد شاہ مسعود شہید کی تصویر ہر جگہ لگائی گئی ہے، نسلی تعصب بعض دفعہ لسانی تعصب میں بھی تبدیل ہو جاتا ہے؛ چنانچہ یہاں فارسی اور پشتو میں رقابت کا جذبہ نظر آتا ہے، علماء کی ذمہ داری ہے کہ وہ ایسے تعصبات کو ختم کرنے اور اسلامی اخوت کے رشتہ کو مضبوط کرنے میں اہم کردار ادا کریں؛ ورنہ اہل مغرب اس اختلاف کو ایک بڑی نزاع میں تبدیل کر سکتے ہیں، جیسا کہ مختلف مسلم ملکوں میں کیا ہے۔
ایک اور قابل توجہ بات یہ ہے کہ ہندوستان کی طرح وہاں بھی بے ضرورت چھوٹے چھوٹے مدارس کا سیلاب آیا ہوا ہے، چند اداروں کو چھوڑ کر ان اداروں میں محض پچیس پچاس طلبہ ہوتے ہیں، بلا ضرورت مدارس کی کثرت ملت کے کثیر سرمایہ کے ضیاع، عوام میں علماء کے تئیں بے اعتمادی اور خود علماء کے درمیان تنافس کا باعث بنتا ہے، بظاہر اس کا سبب یہ ہے کہ جنگِ روس کے درمیان افغانستان کے مسلمانوں کی بڑی تعداد نے پاکستان ہجرت کی، وہاں نوجوانوں نے دینی مدارس میں داخلہ لیا اور تعلیم حاصل کی، پھرجب وہ اپنے ملک واپس ہوئے تو انہیں مدارس کے قیام کے سوا کوئی اور راستہ نظر نہیں آیا؛ حالاں کہ اس وقت وہاں اسلامیات کے ساتھ عصری تعلیم کے اداروں، خدمت خلق کی تنظیموں اور زندگی کے مختلف میدانوں میں افراد کار کی ضرورت ہے۔
اس بات کا پورا امکان ہے کہ آئندہ افغانستان میں ایسی حکومت قائم ہو، جس میں شریعت اسلامی کا نفاذ عمل میں آئے، ایسی صورت میں ایسے علماء کی ضرورت پڑے گی، جن کو مختلف شعبہائے زندگی سے متعلق مہارت حاصل ہو؛ اس لئے ضروری ہے کہ مدارس صرف درس نظامی کی کتابوں تک اپنی تعلیم محدود نہیں رکھیں؛ بلکہ ضروری حد تک عصری علوم کو بھی شامل کریں؛ ورنہ علماء کی جدوجہد مساجد ومدارس کی چہار دیواریوں تک محدود ہو کر رہ جائے گی اور مسلمانوں کا اسلام سے صرف عبادات کی حد تک رشتہ قائم رہے گا، اس کے ساتھ ساتھ یہ بھی ضروری ہے کہ فضلاء مدارس عصری تعلیم گاہوں کا بھی رُخ کریں اور اس میں اعلیٰ درجے کی صلاحیت حاصل کریں؛ تاکہ وہ زندگی کے تمام میدانوں میں ملک کی قیادت کر سکیں،وباللہ التوفیق۔


آپ کی رائے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

مزید دیکهیں