آج : 11 September , 2019

جامعہ منبع العلوم کے اساتذہ کی گرفتاری پر سنی علما کا احتجاج

جامعہ منبع العلوم کے اساتذہ کی گرفتاری پر سنی علما کا احتجاج

سرباز (سنی آن لائن) ایرانی بلوچستان کے ممتاز دینی ادارہ جامعہ منبع العلوم کوہ ون کے بعض اساتذہ کی گرفتاری و طلبی پر احتجاج کرتے ہوئے بعض سنی علمائے کرام نے خطبہ جمعہ میں مدارس کو امن کے گہوارے قرار دے کر مطالبہ پیش کیا کہ علمائے کرام کو ہراساں کرنے کا سلسلہ بند کیا جائے۔
’سنی آن لائن‘ کی رپورٹ کے مطابق، شمالی صوبہ گلستان کے مایہ ناز عالم دین مولانا محمدحسین گرگیج نے کہا: ہمارا کوئی مدرسہ امن اور ریاست کے خلاف نہیں ہے۔ کوئی بدامنی پھیلانے کی منصوبہ بندی نہیں کررہا۔
جامعہ فاروقیہ گالیکش کے صدر و مہتمم نے اتحاد پر زور دیتے ہوئے کہا: ہم سماج کے افراد میں پھوٹ اور اختلاف نہیں چاہتے ہیں۔ لہذا حکام عوام کو متحد رکھنے کی کوشش کریں۔
خاش کے سنی خطیب مولانا محمدعثمان نے اپنے بیان جامعہ منبع العلوم کے ایک استاذ کی گرفتاری کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا: حافظ عطاء اللہ کے ساتھ نامناسب رویہ اور بے احترامی ایک غلط اقدام تھا۔ہم مسلم ملک میں رہتے ہیں اور یہاں قانون و عدالت کا راج ہونا چاہیے۔
جامعہ مدینۃ العلوم خاش کے صدر نے کہا: دینی مدارس محترم ادارے ہیں، اگر حکام سمجھتے ہیں کوئی شخص وہاں منفی سرگرمیوں میں ملوث ہے، سب سے پہلے مدرسے کے مہتمم سے بات کریں یا تحریری نوٹس بھیج کر فرد کو بلالیں۔ لہذا حکام اب تک گرفتار علما و اساتذہ کو رہا کرکے عوام کی پریشانیوں کا ازالہ کریں۔
سرباز کے مشہور عالم دین مولانا فضل الرحمن کوہی نے جامعہ منبع العلوم کوہ ون کے اساتذہ کی گرفتاری پر احتجاج کرتے ہوئے کہا: ایسے اقدامات سے عوام مایوس ہوکر ریاست کے حوالے سے منفی سوچ پکڑیں گے۔ لہذا مولوی امان اللہ بلوچی کی پھانسی کی سزا ختم ہونی چاہیے اور اس طرح کے دباؤ اور دھمکیوں کا خاتمہ کرنا چاہیے۔
نصیرآباد سرباز کے خطیب نے بھی اپنے بیان میں جامعہ منبع العلوم کے استاد کی رہائی کا مطالبہ پیش کیا۔
جامعہ ہذا کے مہتمم حافظ عبداللہ ملازئی نے بیان شائع کرتے ہوئے اساتذہ کی گرفتاری کو دینی مدارس اور علمائے اہل سنت کی توہین قرار دیا ہے۔
جامعہ منبع العلوم کوہ ون ایرانی بلوچستان کے ضلع سرباز میں واقع ہوچکاہے جس کے بانی مولانا محمدعمر سربازی رحمہ اللہ ہیں۔اس جامعہ کا شمار ایرانی اہل سنت کے معروف اور بڑے دینی مدارس میں ہوتاہے۔


آپ کی رائے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

مزید دیکهیں