آج : 3 September , 2019

انٹرنیٹ کے منفی استعمال کے نقصانات

انٹرنیٹ کے منفی استعمال کے نقصانات

اس میں کوئی شک نہیں کہ انٹرنیٹ مختلف معلومات کے لیے ایک ایسا اہم ذریعہ بن چکا ہے، جس کے ذریعہ انسان مختصر وقت کے اندر معمولی لاگت سے بے شمار دینی، علمی، اقتصادی اور سیاسی معلومات تک رسائی حاصل کرنے کے ساتھ ساتھ حالاتِ حاضرہ سے بھی واقفیت حاصل کرسکتا ہے، اسی طرح اس کے توسط سے آپ میں معلومات کے تبادلے سے متعلق بھی کافی آسانیاں پیدا ہوچکی ہیں، یہی وجہ ہے کہ دورِ حاضر میں بے شمار لوگ اس کے ثناخواں نظر آتے ہیں، اور اپنی مجالس میں اس کی خوبیاں گننے اور بیان کرنے سے نہیں تھکتے۔
البتہ ایک افسوس ناک پہلو یہ ہے کہ انٹرنیٹ کی ستائش کرنے والے اور اس پر فریقہ ہونے والے اکثر حضرات اس کے نقصانات اور اُس کے منفی گوشوں پر سنجیدگی کے ساتھ غور نہیں کرتے، جس کی وجہ سے وہ آہستہ آہستہ مختلف دینی، جسمانی اور نفسیاتی مشکلات کے شکار ہوجاتے ہیں۔
ایسے آلات جدیدہ کو جو مختلف الجہات یعنی فوائد و نقصانات دونوں پر مشتمل نظر آتے ہوں، اس قوت تک استعمال کرنے کی کوشش نہ کریں، جب تک ان کے مثبت و منفی دونوں گوشوں پر غور اور دونوں کے درمیان موازنہ نہ کریں، اس لیے کہ انسان جلد باز واقع ہوا ہے، وہ مثبت گوشوں سے جلد متأثر ہوتا ہے اور منفی گوشوں سے غفلت برتتا ہے، چنانچہ ذرائع ابلاغ و اشتہارات کے ذریعہ جب کسی نئی چیز کے فوائد اس کے علم میں آتے ہیں تو وہ فوراً اس کی طرف پیش قدمی کرتے ہوئے اس کے منفی گوشوں اور نقصانات پر غور کرنے کی کوشش نہیں کرتا، جس کے نتیجے میں وہ آہستہ آہستہ اس کے نقصانات کا شکار ہوجاتا ہے اور اس کو اندازہ بھی نہیں ہوتا، اور بالآخر بہت بڑا نقصان اُٹھاتا ہے۔“

پہلا نقصان: انٹرنیٹ کا پہلا نقصان یہ ہے کہ وہ بے حیائی و عریانیت پھیلانے، فسق و فجور کے مناظر پیش کرنے کا سب سے بنیادی اور سستا ذریعہ ہے، اس کے ذریعہ اخلاقی و دینی تباہی، نوجوان مرد و خواتین کی بے راہ روی و گمراہی، شر و فساد کی وادیوں میں ان کی ہلاکت اور اسلامی اقدار و پاکیزہ روایات سے ان کی لاتعلقی عام ہوتی جارہی ہے! کتنے والدین ایسے ہیں جو انٹرنیٹ سے منسلک ہونے کے بعد اپنی اولاد کی گمراہی کا رونا رو رہے ہیں؟! اور کتنی نوجوان لڑکیاں ایسی ہیں جنہیں اس انٹرنیٹ کے توسط سے سبز باغ دکھایا گیا اور وہ دھوکہ کھا کر اپنے گھروں سے بھاگ گئیں؟! کچھ عرصہ تک دھوکہ بازوں کی مذموم خواہشات کا نشانہ بن کر پھر بے یار و مددگار چھوڑی گئیں، جس سے دنیا و آخرت دونوں کا نقصان اُنہیں اُٹھانا پڑا۔

دوسرا نقصان: انٹرنیٹ کے نقصانات میں سے دوسرا نقصان یہ ہے کہ اس سے منسلک اکثر لوگوں کے قیمتی اوقات اس کے استعمال کی وجہ سے ضائع ہوجاتے ہیں! وہ گھنٹوں تک بے حس و حرکت ہو کر اس کی اسکرین پر نظریں جما کر بیٹھتے ہیں، اور اکثر غیر ضروری بلکہ نقصان دہ اُمور کا مشاہدہ کرتے ہوئے ایک ہی نشست میں اپنے قیمتی اوقات میں سے ایک اچھا خاصا حصہ ضائع کردیتے ہیں اور اُن کو اندازہ تک نہیں ہوتا۔

تیسرا نقصان: ماہرین کا کہنا ہے کہ انٹرنیٹ کے زیادہ استعمال سے انسان ذہنی تناؤ اور نفسیاتی بیماریوں کا شکار ہوکر ہائی بلڈپریشر، شوگر، جسمانی کاہلی و سستی اور وزن و موٹاپے کی زیادتی اور دیگر قلبی و اعصابی بیماریوں میں مبتلا ہوجاتا ہے، اس لیے کہ جب انسان طویل وقت تک ایسی حالت میں اسکرین کے سامنے بیٹھا ہوا ہوتا ہے کہ صرف دماغ کے علاوہ اس کے دیگر اعضاء ساکت ہوں تو سارا دباؤ دماغ ہی پر ہوتا ہے، جسے وہ برداشت نہیں کرسکتا اور تناؤ کا شکار ہوجاتا ہے، اور باقی اعضاء طویل وقت تک حرکت نہ کرنے کی وجہ سے دیگر امراض کے شکار ہوجاتے ہیں!

چوتھا نقصان: احقر جس مسجد میں امامت و خطابت کی ذمہ داری انجام دے رہا ہے، اس مسجد کے نمازی حضرات اور دیگر متعلقین میں سے مختلف لوگوں نے بتایا کہ اُن کے بچے انٹرنیٹ کی کثرت استعمال کی وجہ سے تعلیمی میدان میں کافی پیچھے رہ گئے، پڑھنے اور مطالعہ کرنے سے ان کا تعلق کمزور پڑ گیا، اس لیے کہ وہ اپنا اچھا خاصا وقت انٹرنیٹ سے منسلک لیپ ٹاپ اور موبائل فون کی اسکرین کے سامنے بیٹھ کر خرچ کرتے ہیں اور جب تھک جاتے ہیں تو باقی وقت کھیل کود، کھانے پینے اور سونے میں خرچ کرتے ہیں، پڑھنے کے لیے ان کے پاس وقت نہیں بچتا۔

پانچواں نقصان: انٹرنیٹ دوسروں کی معلومات چُرا لینے کا ذریعہ بھی بن گیا ہے، چنانچہ بعض لوگ اس کے ذریعہ دوسروں کی خفیہ معلومات تک جو اُن کے خصوصی اُمور یا بینک کے حسابات سے متعلق ہوں رسائی حاصل کر لیتے ہیں اور پھر کبھی تو ان کے ذاتی معاملات میں دخل اندازی کرتے ہیں اور کبھی بینکوں سے ان کی رقوم چرا لیتے ہیں! اسی طرح کچھ لوگ انٹرنیٹ کے ذریعہ مختلف علماء کی تالیفات و مضامین تک آسانی کے ساتھ رسائی حاصل کرلیتے ہیں اور پھر اُن میں کچھ رد و بدل کرکے اپنی طرف منسوب کرتے ہیں، تا کہ وہ محنت و جد و جہد کے بغیر مصنفین کی فہرست میں شامل ہوجائیں۔

چھٹا نقصان: انٹرنیٹ کے زیادہ استعمال کی وجہ سے اولاد و والدین، میاں بیوی اور دیگر قریبی رشتہ داروں کے درمیان دوریاں پیدا ہو رہی ہیں جس سے اُن کے آپس کے حقوق متأثر ہو کر ناچاقیاں جنم لے رہی ہیں، اور میاں بیوی کے درمیان تلخیاں بڑھتی جارہی ہیں! یہاں تک کہ بعض دفعہ طلاق تک نوبت پہنچتی ہے۔ اور اس میں کوئی شک و شبہ نہیں کہ خاندانی جھگڑے، قریبی رشتہ داروں اور میاں بیوی کے درمیان تلخیاں اور دوریاں پیدا ہونا بڑی ناکامی اور محرومی کی بات ہے۔

ساتواں نقصان: انٹرنیٹ کے ذریعے دینی و دنیوی موضوعات سے متعلق بڑے پیمانے پر غلط معلومات کی اشاعت کا کام بھی کیا جارہا ہے، باطل تحریکات مسلمانوں کے ذہنوں میں شکوک و شبہات پیدا کرنے، ان کے عقائد کو بگاڑنے اور اپنے باطل عقائد و نظریات کو پھیلانے کی کوشش کرتی ہیں، اسی طرح خود مسلمانوں میں سے بعض کم علم یا باطل افکار کے حامل لوگ تفسیر و حدیث و فقہ اور دیگر دینی علوم سے متعلق ایسی غلط معلومات انٹرنیٹ کے ذریعے پھیلاتے ہیں جنھیں درست سمجھ کر ایک عام مسلمان دینی موضوعات سے متعلق غلطیوں کا شکار ہوجاتا ہے، لہذا! جب تک کسی مستند ذریعے سے تصدیق نہ کی جائے اس وقت تک صرف انٹرنیٹ کی معلومات پر اعتماد نہ کیا جائے۔
انٹرنیٹ کے نقصانات میں سے مذکورہ بالا ایسے بنیادی سات نقصانات ہیں جن سے بچنے کے لیے ہر مسلمان مرد و خاتون کو ہوشیار رہنا چاہیے۔

انٹرنیٹ کے نقصانات سے بچنے کا راستہ
اب ہم اللہ تعالی کی توفیق سے مندرجہ ذیل چند ایسی باتوں کا تذکرہ کرتے ہیں کہ اگر مسلمان مرد و خواتین ان باتوں کو ذہن نشین کرتے ہوئے ان پر عمل کریں گے، تو امید ہے کہ انٹرنیٹ کے نقصانات سے بچ سکیں گے:
پہلی بات: اللہ تعالی نے قرآن پاک میں ہر مسلمان مرد و خاتون کو نگاہ کی حفاظت کا حکم دیتے ہوئے فرمایا ہے:
“قُل لِّلْمُؤْمِنِينَ يَغُضُّوا مِنْ أَبْصَارِهِمْ وَيَحْفَظُوا فُرُوجَهُمْ ۚ ذَٰلِكَ أَزْكَىٰ لَهُمْ ۗ إِنَّ اللَّـهَ خَبِيرٌ بِمَا يَصْنَعُونَ ﴿٣٠﴾ وَقُل لِّلْمُؤْمِنَاتِ يَغْضُضْنَ مِنْ أَبْصَارِهِنَّ وَيَحْفَظْنَ فُرُوجَهُنَّ” (النور: 31-30)
اے پیغمبر! ایمان والوں سے کہہ دو کہ اپنی نظریں نیچی رکھیں اور اپنی شرم گاہوں کی حفاظت کریں، یہ ان کے لیے بڑی پاکیزگی کی بات ہے، بلاشبہ جو کچھ یہ کرتے ہیں اللہ اس سے باخبر ہے، اور ایمان والی عورتوں سے کہہ دو کہ وہ اپنی نظریں نیچی رکھیں اور اپنی شرم گاہوں کی حفاظت کریں۔
اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بدنگاہی کی تباہ کاری کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا ہے:
”النظر سهم من سهام إبلیس مسمومة“ (رواہ الحاکم فی المستدرک، ج: ۴، ص: 349)
نظر شیطان کے زہر آلود تیروں میں سے ایک تیر ہے۔“
لہذا! ہر مسلمان مرد و خاتون کے لیے ضروری ہے کہ مندرجہ بالا نصوص کو مدِّ نظر رکھتے ہوئے بدنگاہی اور بے حیائی و فساد کے مناظر سے اجتناب کرے، کیا خوب کہا ہے ایک عرب شاعر ابومحمد عبداللہ بن اندلسی قحطانی نے اپنے قصیدہ نونیہ ہیں:
و إذا خلوتَ برِیبة فی ظلمة والنفس داعیة إلی الطغیان
فاستحی من نظر الالٰه و قل لھا إن الذی خلق الظلام یرانی
”جب تمہیں تنہائی میں کسی تہمت والے کام کا موقع ملے اور تمہاری خواہش تمہیں گناہ کی دعوت دے رہی ہو تو ایسی حالت میں تم اللہ کی غیبی نگاہ سے شرم کرتے ہوئے اپنی خواہش سے کہو کہ جس ذات نے تاریکی پیدا کی ہے، وہ مجھے دیکھ رہی ہے۔

دوسری بات: اللہ تعالی نے اپنے مسلمان بندوں کو جہاں عبادت کرنے کا حکم دیا ہے، وہاں ان کے رشتہ داروں اور زیارت کرنے والوں اور خود ان کی اپنی ذات کے حقوق کو بجا لانے کا بھی حکم دیا ہے، چنانچہ فرماتے ہیں:
”إِنَّ الصَّلَاةَ كَانَتْ عَلَى الْمُؤْمِنِينَ كِتَابًا مَّوْقُوتًا“ (بے شک مؤمنوں پر مقررہ اوقات میں نماز فرض ہے)، اور فرماتے ہیں: ”وَآتِ ذَا الْقُرْبَىٰ حَقَّهُ“ (اور رشتہ داروں کو اس کا حق دو)۔
اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ سے فرمایا:
”فإن لجسدک علیک حقاً و إن لعینیک علیک حقاً، و إن لزوجک علیک حقاً و إن لزورک علیک حقا“ (رواہ البخاری، ج: ۱، ص: 265)
”تیرے جسم کا تیرے اوپر حق ہے، اور تیری آنکھوں کا تیرے اوپر حق ہے، اور تیری بیوی کا تیرے اوپر حق ہے، اور تیرے زائرین کا تیرے اوپر حق ہے۔“
لہذا ہر مسلمان کے ذمے یہ ضروری ہے کہ ان تمام حقوق کا خیال رکھے اور اپنا نظام الاوقات اس طرح بنادے کہ حقوق اللہ اور حقوق العباد سب کے سب اپنے اپنے اوقات میں ادا ہوتے رہیں، اور انٹرنیٹ کے بے جا استعمال سے اپنا قیمتی وقت ضائع نہ کرے اور نہ ہی اپنی صحت کو برباد کرے، اس لیے کہ صحت و فراغت اللہ کی بڑی نعمتوں میں سے ہیں، اگرچہ اکثر لوگ ان کی قدر نہیں کرتے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی مندرجہ ذیل حدیث ملاحظہ ہو:
”عن ابن عباس رضی اللہ عنھما قال: قال رسول اللہ صلی اللہ علیه وسلم: نعمتان مغبون فیھما کثیر من الناس: الصحة و الفراغ۔“ (رواہ البخاری، ج: ۲، ص: 949)
”حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ: اللہ تعالی کی نعمتوں میں سے دو نعمتیں ایسی ہیں کہ بہت سے لوگ اُن کی ناقدری کرتے ہوئے دھوکے میں پڑے ہوئے ہیں، ان میں سے ایک نعمت صحت و تندرستی اور دوسری نعمت فرصت و فراغت ہے۔“

تیسری بات: والدین اور سرپرستوں کے ذمے ضروری ہے کہ اپنی اولاد اور بچوں کو انٹرنیٹ کے نقصانات اور منفی گوشوں سے اچھی طرح آگاہ کریں، اور انہیں ان نقصانات سے بچنے کی تلقین کریں، اور خلوتوں میں ان کی سرگرمیوں کی کڑی نگرانی کریں، ان کو اس طرح آزاد ہرگز نہ چھوڑیں کہ وہ جو چاہیں کریں، تا کہ وہ شر و فساد کی خطرناک وادیوں میں ہلاکت سے محفوظ رہیں۔

چوتھی بات: اگر کسی کا اپنے اوپر یہ اعتماد نہیں کہ وہ انٹرنیٹ کے استعمال کی صورت میں اس کے منفی گوشوں سے بچ سکتا ہے تو ایسے شخص کے لیے شریعت کی روشنی میں اس کا استعمال تنہائی میں جائز نہیں، لہذا وہ نیک لوگوں کی صحبت اختیار کرے اور بوقت ضرورت صرف مثبت انداز میں اپنے بزرگوں یا نیک ساتھیوں کی موجودگی میں اسے استعمال کرے۔
اپنے اس مضمون کے آخر میں شاعر مشرق علامہ اقبال مرحوم کا ایک شعر ذکر کرنا مناسب معلوم ہوتا ہے:
ہے دل کے لیے موت مشینوں کی حکومت
احساس مروّت کو کچل دیتے ہیں آلات
اللہ تعالی تمام مسلمانوں اور بالخصوص ان کی نئی نسل کو اپنے دین پر استقامت عطا فرماتے ہوئے دشمنان اسلام کے پھندوں اور شیطان کے فریبوں سے محفوظ فرمائے۔


آپ کی رائے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

مزید دیکهیں