آج : 28 August , 2019

بچوں کو مسجد لانے اور ان کی صف بنانے سے متعلق احکام

بچوں کو مسجد لانے اور ان کی صف بنانے سے متعلق احکام

بچے ملک و ملت کا مستقبل ہوتے ہیں، انہی پر معاشرے اور ملک کے مستقبل کا دار و مدار ہوتا ہے، ان کی بہتر تعلیم و تربیت سے ایک بہترین اور مثالی معاشرہ وجود میں آتا ہے؛ جب کہ ان کی تعلیم و تربیت سے غفلت کے نتیجے میں معاشرہ جہالت اور طرح طرح کی اخلاقی برائیوں کا شکار ہو کر تباہی کے دہانے پہ جا کھڑا ہوتا ہے، پھر ظاہر ہے کہ معاشرے کی اس زبوں حالی کے واحد ذمہ دار ہم خود ہیں۔

ہماری ذمہ داری
اس نازک صورت حال میں تمام والدین، تعلیمی اداروں کے ذمہ داران، اساتذہ کرام اور معاشرے کے سنجیدہ افراد سے انتہائی دردمندانہ گزارش ہے کہ گھر سے لے کر بازار تک اور مسجد سے لے کر تعلیمی اداروں تک؛ ہر جگہ ان بچوں کے لیے بہترین تعلیم و تربیت اور اعلیٰ اخلاق پر مشتمل ایک مثالی ماحول فراہم کرنے کی انتہائی سنجیدہ کوشش کی جائے اور ان کی بہترین اخلاقی تربیت کے لیے ترجیحی بنیادوں پر غور کیا جائے۔

بچوں کو مسجد لانے کی ضرورت اور اس کی شرعی حکم
بچوں کے لیے جس طرح گھر، اسکول اور مدرسہ تربیت گاہ ہیں اسی طرح مسجد بھی ایک بہترین تربیت گاہ ہے، جہاں بچوں کو تعلیم و تربیت کے بہترین مواقع میسر آسکتے ہیں؛ البتہ یہ بات واضح رہے کہ مسجد جہاں بچوں کی ایک تربیت گاہ ہے تو دوسری طرف مسجد ایک مقدس جگہ بھی ہے جس کی وجہ سے اس کے کچھ آداب بھی ہیں؛ اس لیے بچوں کو مسجد لانے کے معاملے میں دونوں پہلووں کو مدنظر رکھنا چاہیے کہ تا کہ معاملہ حدود و اعتدال میں رہے، اگر ان دونوں باتوں کو مدنظر نہ رکھا جائے تو اس سے کافی بے اعتدالی پیدا ہوتی ہے جس سے شریعت کی خلاف ورزی بھی لازم آتی ہے، بچوں کی تربیت کو بھی نقصان پہنچتا ہے اور مسجد کا تقدس بھی پامال ہوتا ہے اور اسی بے اعتدالی اور شریعت سے بے خبری کا نتیجہ ہے کہ بعض حضرات تو سرے سے بچوں کے مسجد آنے کے حق میں ہی نہیں، چاہے وہ بچے کسی بھی عمر کے ہوں؛ جب کہ بعض دیگر حضرات تو ایسے بے شعور بچوں کو بھی مسجد لے آتے ہیں جن کی خود شریعت ہی اجازت نہیں دیتی، یہ دونوں طرزِ عمل واضح غلطی پر مبنی ہیں؛ اس لیے بچوں کو مسجد لانے سے متعلق شریعت کا حکم اچھی طرح سمجھ لینا چاہیے۔

عمر اور شعور کے اعتبار سے بچے دو طرح کے ہوتے ہیں
جو بچے اس قدر چھوٹے اور ناسمجھ ہوں کہ مسجد کے تقدس کو ذرا بھی نہیں سمجھتے یا پاکی ناپاکی کا شعور نہیں رکھتے حتی کہ ان کی وجہ سے مسجد کے ناپاک ہونے کے غالب گمان ہو تو ایسے بچوں کو مسجد لانا ہی جائز نہیں، البتہ اگر مسجد کے ناپاک ہونے کا غالب اندیشہ نہ ہو اور ان کی وجہ سے مسجد کا تقدس بھی پامال نہ ہو اور نہ ہی کسی کی عبادت میں خلل آئے تو ایسی صورت میں انھیں مسجد لانا درست ہے اگرچہ بہتر یہی ہے کہ بلاضرورت انھیں مسجد نہ لایا جائے۔ (صحیح البخاری، حدیث: 707 مع عمدۃ القاری، ردالمحتار، فتاویٰ محمودیہ، فتاوی دارالعلوم زکریا)

جو بچے پاکی ناپاکی کا شعور رکھتے ہوں اور مسجد میں شور شرابہ بھی نہ کرتے ہوں جو کہ تقریباً سات سال کی عمر میں اس مقام تک پہنچ جاتے ہیں تو ایسے بچوں کو مسجد لانا جائز ہے، بلکہ ان کو مسجد لانا بھی چاہیے، تا کہ انھیں نماز کی عادت پڑے۔ (ردالمحتار، فتاویٰ محمودیہ، فتاویٰ دارالعلوم زکریا)

سرپرست حضرات کی ذمہ داری
بچوں کو مسجد لانے کے بعد ہر سرپرست کو چاہیے کہ وہ اپنے بچے کی نگرانی بھی کرے، تا کہ بچے مزید سلیقہ مندی کا مظاہرہ کریں۔ بعض ایسے باشعور بچے ناواقفیت کی بنا پر ابتدا میں شور و شرابہ میں مبتلا ہوجاتے ہیں تو ایسی صورت میں اگر ان کو سمجھا دیا جائے تو وہ سمجھ جاتے ہیں، اس لیے ساتھ ساتھ ان کو آداب مسجد سے بھی آگاہ کرتے رہنا چاہیے۔

بچوں کی صرف سے متعلق احکام
جہاں تک ایسے باشعور بچوں کی صف بنانے اور ان کو صف میں کھڑا کرنے کا مسئلہ ہے تو اس حوالے سے درج ذیل باتوں کا لحاظ رکھا جائے:
٭ اگر بچے اِکّا دُکّا ہی ہوں تو ان کو بڑوں ہی کی صف میں کھڑا کردیا جائے، اس سے بڑوں کی نماز پر کچھ اثر نہیں پڑتا، اس حالت میں ان کے پیچھے کھڑے ہونے والے حضرات کی نماز بھی بالکل درست ہے اور اس صورت میں ان کو پہلی صف میں کھڑا کرنا بھی درست ہے، البتہ مناسب یہ ہے کہ امام کے قریب کھڑا نہ کیا جائے، کیوں کہ امام کے قریب اہل علم و فہم افراد کو کھڑا ہونا چاہیے۔ (ردالمحتار، البحرالرائق، فتاویٰ محمودیہ)
اگر بچے متعدد ہوں تو ایسی صورت میں شریعت کا تقاضا، بلکہ سنت بھی یہی ہے کہ ان کو بڑوں کی صفوں میں کھڑا نہ کیا جائے، بلکہ ان کے لیے علیحدہ صف بنائی جائے، اور یہ صف بڑوں کی صفوں کے بعد بنائی جائے گی، جس کا طریقہ یہ ہے کہ جماعت شروع ہونے تک بڑوں کی صفیں جہاں تک مکمل ہوجائیں ان کے متصل بعد ہی ان بچوں کی صف بنائی جائے، اس صورت میں اگر بڑوں کی صف میں جگہ موجود بھی ہو تب بھی بچوں کی صف علیحدہ ہی بنائی جائے، پھر بعد میں آنے والے مرد حضرات پہلے اگلی صف مکمل کریں، اگر اگلی صف مکمل کرنے کے لیے ان کو مجبور میں بچوں کے آگے سے بھی گزرنا پڑے تو یہ بھی جائز ہے۔ پھر اس کے بعد بچوں کی صف میں اگر جگہ خالی ہو تو اس کو پُر کریں، پھر بچوں کی صف کے بعد صف بنائیں۔ اسی کے ساتھ یہ بات بھی بخوبی ذہن نشین کرلی جائے کہ بچوں کی صف کا پیچھے ہونا یہ اس وقت ہے جب جماعت شروع نہ ہوئی ہو، لیکن جب بچے مردوں کی صفوں کے بعد صف بنالیں اور نماز شروع ہوجائے تو ایسی صورت میں بعد میں آنے والے مرد حضرات بچوں کو پیچھے نہ کریں کیوں کہ وہ اپنے صحیح مقام پر کھڑے ہیں، اس صورت میں بڑے حضرات جب بچوں ہی کی صف میں کھڑے ہوجائیں یا وہاں جگہ نہ ہونے کی صورت میں بچوں کی صف کے بعد اپنی صف بنائیں تو اس سے ان کی نماز پر کوئی اثر نہیں پڑتا، البتہ یہ بات بھی سمجھنی چاہیے کہ اگر بچے سلیقہ مند نہ ہوں اور ان کی علیحدہ صف بنانے سے ان کے شور و شغف یا لوگوں کی نماز خراب ہونے کا غالب گمان ہو تو ایسی صورت میں ان کی علیحدہ صف نہ بنائی جائے، بلکہ ان کو متفرق طور پر بڑوں ہی کی صفوں میں کھڑا کردیا جائے۔ (ردالمحتار مع تقریراتِ رافعی، فتاویٰ محمودیہ، فتاویٰ دارالعلوم زکریا، فتاویٰ دارالعلوم دیوبند)

٭ صفوں کی یہ ترتیب اسی صورت میں بہترانداز میں بن سکتی ہے جب جماعت شروع ہونے سے پہلے تمام صفوں کو سیدھا رکھنے کا اہتمام کیا جائے، اور بچوں کی صف کو مردوں کی صفوں کے بعد بنایا جائے، اس لیے امام صاحب کو چاہیے کہ وہ مسجد میں آنے والے بچوں کی صف بنانے اور ان کو مناسب مقام پر کھڑا کرنے کا خصوصی اہتمام فرمائیں۔

اہم گزارش
مذکورہ بالا تفصیل کے مطابق جو بچے پاکی یا ناپاکی اور مسجد کا شعور رکھتے ہوں ان کو مسجد لانے کا اہتمام بھی ہونا چاہیے، ان کی حوصلہ افزائی بھی ہونی چاہیے، ان کے لیے مسجد میں تربیت کے دلچسپ سلسلے بھی ہونے چاہیے، ان کو مسجد کے آداب اور صف بنانے کے طریقہ کار سے بھی آگاہ کرتے رہنا چاہیے، ساتھ ساتھ ان کی نگرانی بھی ہونی چاہیے، اس سے رفتہ رفتہ ان میں شعور اور بہتری آتی جائے گی اور ان کی اچھی تربیت ہوسکے گی۔
آج کل افسوس ناک صورتحال یہ ہے کہ متعدد حضرات بچوں کے مسجد آنے اور ان کے صف میں کھڑے ہونے سے متعلق نہایت ہی منفی ذہن رکھتے ہیں، بلکہ بعض تو ذرا سی باتوں پر بچوں کو ڈانٹتے، بلکہ بے دردی سے مارتے بھی ہیں اور صورت حال یہاں تک پہنچ جاتی ہے کہ بچوں سے زیادہ ان حضرات کی وجہ سے مسجد کا تقدس پامال ہو رہا ہوتا ہے اور لوگوں کی عبادات میں خلل بھی آتا ہے، حالاں کہ اگر غور کیا جائے تو اگر کسی بچے نے مسجد میں شور یا شرارت کر بھی لی تو ظاہر ہے کہ اس کو تو گناہ نہیں ملے گا، کیوں کہ وہ مکلف نہیں، بلکہ ان کو تو تربیت کی ضرورت ہے، لیکن جو حضرات ان کو اس طرح ڈانٹتے ہیں کہ ان کی آواز اور انداز کی وجہ سے مسجد کا تقدس پامال ہو رہا ہوتا ہے یا لوگوں کی عبادات میں خلل آرہا ہوتا ہے تو ظاہر ہے کہ یہ گناہ کی باتیں ہیں، جس کی طرف توجہ دینے کی اشد ضرورت ہے، بچوں کو شرارت و غیرہ سے منع کرنے کے لیے حکمت اور بصیرت کی ضرورت ہوا کرتی ہے، اسی حکمت و بصیرت کی کمی کا اثر ہے کہ بچے ہمارے منع کرنے کے باوجود بھی باز نہیں آتے، اس لیے بچوں کو ان عادات سے باز رکھنے اور ان کی تعلیم و تربیت کے لیے مستقل نظام ہونا چاہیے، جس کی وجہ سے بچے آہستہ آہستہ باشعور ہوتے جائیں گے، بہر حال ہمیں یہ تمام نامناسب رویے اور نظریے کو تبدیل کرنے کی ضرورت ہے۔


آپ کی رائے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

مزید دیکهیں