آج : 24 August , 2019
مولانا عبدالحمید:

جبری اعتراف لینا اسلامی تعلیمات کے خلاف ہے

جبری اعتراف لینا اسلامی تعلیمات کے خلاف ہے

زاہدان (سنی آن لائن) اہل سنت ایران کی ممتاز دینی و سماجی شخصیت نے اپنے تئیس اگست دوہزار انیس کے بیان میں ملزموں سے ’جبری اعتراف‘ لینے کی مذمت کرتے ہوئے ایسے اقدامات کو اسلامی شریعت کے خلاف قرار دیا۔
شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے زاہدان میں ہزاروں فرزندانِ توحید سے خطاب کرتے ہوئے اپنے خطبہ جمعہ کے ایک حصے میں حال ہی میں ایرانی نیوکلیئر سائنسدانوں کے ٹارگٹ کلنگ کیس کی نئی تفصیلات کے انکشاف پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا: حال ہی میں نیوکلیئر سائنسدانوں کے قتل کے الزام میں گرفتار ہونے والوں کے بارے میں میڈیا میں نئی تفصیلات سامنے آئی ہیں جن کے مطابق ملزمان سے زبردستی اور ٹارچر کے بل بوتے جعلی اعتراف لیا گیا ہے۔
انہوں نے مزید کہا: اسلام کے مطابق کوئی بھی اعترافی بیان جو دباؤ اور اذیت و ٹارچر کے بل بوتے لیا جائے، ناقابل قبول ہے اور اسلام میں اس کی اجازت نہیں ہے۔ جو لوگ زورزبردستی کرکے ٹارچر کے سہارے لوگوں سے اعتراف لیتے ہیں، ان کی شناخت اسلام ہی سے غلط ہے۔
خطیب اہل سنت زاہدان نے کہا: کچھ لوگ دیگر افراد کو اغوا کرکے ٹارچر کے بعد ان سے اعترافی بیان لیتے ہیں کہ اتنے پیسے ان سے چاہتے ہیں یا وہ فلاں جرم کا ارتکاب کرچکے ہیں، ایسے اعترافات ہرگز قابل قبول نہیں ہیں۔ جبری اعتراف لینا اسلامی شریعت کے خلاف ہے۔
مولانا عبدالحمید نے واضح کرتے ہوئے کہا: ہم سب کو اسلامی جمہوریہ ایران میں اسلامی تعلیمات کی پیروی و اتباع کرنی چاہیے۔ اگر کوئی جج اعتراف لینے کے لیے ’تعزیر‘ کا حکم دیتاہے، اس کا یہ فیصلہ اسلامی تعلیمات کے سراسر خلاف ہے اور اس طرح کے اعترافات اسلام میں نامعتبر ہیں۔ لہذا اسلامی جمہوریہ ایران کے ذمہ داران سے ہمارا مطالبہ ہے کہ کسی بھی ادارے میں اس طرح کے واقعات کی اجازت نہ دیں۔
انہوں نے بعض پالیسیوں میں نظرثانی پر زور دیتے ہوئے کہا: ہم سب انسان ہیں اور ہوسکتاہے ہم سے غلطی سرزد ہوجائے، لہذا یہ اہم ہے کہ ہم اپنی غلطی تسلیم کرکے تبدیلی کی کوشش کریں۔
ممتاز عالم دین نے کہا: نئے چیف جسٹس کی آمد سے عدلیہ میں اصلاح اور اقتصادی بدعنوانیوں کے خلاف ایکشن لینے کے حوالے سے کوششیں دیکھنے میں آرہی ہیں جو خوش آئند اقدام ہے۔ تمام ادارے اور شعبے اپنی پالیسیوں میں نظرثانی و اصلاح و تبدیلی کے محتاج ہیں۔


آپ کی رائے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

مزید دیکهیں