آج : 18 August , 2019
مولانا عبدالحمید:

سچائی اخلاقی خوبیوں کے سرفہرست ہے

سچائی اخلاقی خوبیوں کے سرفہرست ہے

شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے سولہ اگست دوہزار انیس کے خطبہ جمعہ میں سچائی و راست گوئی کو اخلاقی خوبیوں کے سرفہرست یاد کرتے ہوئے کہا تمام آسمانی مذاہب خاص کر اسلام سچ بولنے پر زور دیتے ہیں۔
خطیب اہل سنت زاہدان نے ہزاروں فرزندانِ توحید سے خطاب کرتے ہوئے کہا: سچائی اسلام سمیت دیگر ابراہیمی ادیان میں انتہائی اہم ہے۔ بہترین اخلاقی خوبیوں میں سچائی شامل ہے جبکہ جھوٹ بدترین اخلاقی رذائل کے زمرے میں آتاہے۔ اسلامی تہذیب کے نمایان محاسن میں سچائی شامل ہے جو کسی بھی شخص کے لیے ایک عظیم سرمایہ ہے۔
انہوں نے مزید کہا: سچائی نبی کریم ﷺ کی ممتاز صفات میں ایک ہے۔ یہاں تک کہ جب نبی اکرم ﷺ کوہِ صفا پر چڑھ کر لوگوں کو توحید کی دعوت دی، سب نے ان کی بات سنی۔ چونکہ انہیں پتہ تھا یہ شخص جھوٹا نہیں ہے۔ آپﷺ نے پوری زندگی میں ایک مرتبہ بھی جھوٹ نہیں بولا۔ ہمیں بھی جھوٹ سے پرہیز کرنا چاہیے جو دیگر متعدد گناہوں اور برائیوں کی جڑ ہے۔
شیخ الحدیث دارالعلوم زاہدان نے کہا: صداقت و صدقہ دونوں ایک ہی مصدر سے ماخوذ ہیں؛ صدقہ ایمان کا نتیجہ ہے اور جو صدقہ دیتاہے اور سچ بولتاہے، وہ اپنے ایمان میں سچا ہے۔
انہوں نے مزید کہا: جس طرح سچ بولنے کے مثبت اثرات ہوتے ہیں، اسی طرح جھوٹ بولنے کے منفی اثرات ہوتے ہیں۔ جھوٹ اور دروغ گوئی بندے کو اندر ہی سے خراب کردیتی ہے۔ سچائی انسان کو نجات دیتی ہے اور جھوٹ اس کی ہلاکت و بربادی کا باعث بنتاہے۔
ایک حدیث شریف کا حوالہ دیتے ہوئے مولانا عبدالحمید نے کہا: نبی کریمﷺ کا ارشاد ہے اگر تم چھ چیزوں کی مجھے گارنٹی دوگے، میں تمہیں جنت کی گارنٹی دے دوں گا۔ ان میں پہلی چیز سچائی ہے کہ جب بات کرتے ہو، سچ بولو۔ حتی کی مزاح میں بھی جھوٹ مت بولو۔نیز ایک دوسری روایت میں ہے کہ جو مجھے اپنے دو جبڑوں کے درمیان چیز (زبان) اور دو ٹانگوں کے درمیان چیز (شرمگاہ) کی ضمانت دے، میں اسے جنت کی ضمانت دیتاہوں۔
انہوں نے کہا: اپنی زبان کی حفاظت کیا کریں؛ باتونی افراد خواہ مخواہ جھوٹ، غیبت، بہتان تراشی اور فضول باتوں سے دوچار ہوتے ہیں۔ جس بات میں نہ دنیا کا فائدہ ہے نہ دین کا، اس سے بچنا چاہیے۔ جھوٹ صرف اس وقت جائز ہے جب مصالحت کرانے کے لیے کوئی چارہ نہ ہو یا بیوی کا دل خوش کرنے کے لیے اس کا سہارا لیاجائے۔

سچے تاجر پیغمبروں کے ساتھ ہے
بات آگے بڑھاتے ہوئے مولانا عبدالحمید نے کہا: افسوس کی بات ہے کہ آج کل کاروبار اور لین دین میں جھوٹ بولنے کا رواج ہوچکاہے۔ ہوسکتاہے جھوٹ کا سہار لے کر کوئی اپنا مال زیادہ قیمت پر بیچ دے، لیکن ایسے پیسے میں کوئی برکت نہیں ہوتی۔ مال کی خوبیوں کے ساتھ ساتھ، اس کی خامیوں کو بھی بتانا چاہیے۔ غیرضروری تعریف سے بھی بچنا چاہیے۔
حدیث شریف کی روشنی میں گفتگو کرتے ہوئے خطیب اہل سنت زاہدان نے کہا: آپﷺ کا ارشاد ہے کہ سچے اور دیانتدار تاجر پیغمبروں، شہدا، صالحین اور صدیقین کے ساتھ محشور ہوجائے گا۔

مولانا عبدالحمید نے اپنے خطاب کے آخر میں ایران میں چھوٹی صنعتوں کی حمایت کے قومی دن کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا: دوسروں کے لیے روزگار فراہم کرنا انتہائی اہم ہے۔ چھوٹے کاروبار اور صنعتیں کھولنے سے متعدد افراد کو روزگار فراہم ہوجائے گا جو ایک بڑی کامیابی ہے۔ نوجوان طبقہ بطور خاص تعلیم اور کاروبار پر توجہ دے اوردیگر علاقوں کے نوجوانوں کے لیے نمونہ بن جائیں۔


آپ کی رائے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

مزید دیکهیں