آج : 18 August , 2019
مولانا عبدالحمید صوبائی ادارتی مجلس میں:

تعلیم عوام اور حکام کی پہلی ترجیح ہونی چاہیے

تعلیم عوام اور حکام کی پہلی ترجیح ہونی چاہیے

صوبہ سیستان بلوچستان میں عبوری وزیر تعلیم کی موجودگی میں خطاب کرتے ہوئے ممتاز سنی عالم دین نے تعلیم کو کسی بھی سماج کی ترقی کی اساس یاد کرتے ہوئے تعلیم کے شعبے میں درست منصوبہ بندی و پالیسی سازی پر زور دیا۔
شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید کی آفیشل ویب سائٹ نے پندرہ اگست دوہزار انیس کو رپورٹ شائع کرتے ہوئے ان کے حوالے سے لکھا: تعلیم کسی بھی سماج کی ترقی کے لیے سنگ بنیاد کا کام کرتی ہے۔ ہوشیار قومیں سب سے زیادہ اہمیت تعلیم ہی کو دیتی ہیں اور ان کے لیے بچوں کی تعلیم بہت ضروری مسئلہ ہوتاہے۔
انہوں نے مزید کہا: ہمیں توقع ہے کہ تمام ادارات و محکمے خاص کر صوبائی گورنر تعلیم کے حوالے سے حساس رہیں اور تعلیم ہم سب کی اہم ذہنی مشغولیت ہونی چاہیے۔ تعلیم ہی سے امن، ترقی اور خوشحالی میں بہتری آسکتی ہے۔
خطیب اہل سنت زاہدان نے عبوری وزیرِ تعلیم کو مخاطب کرتے ہوئے کہا: سب سے اہم مسئلہ پالیسی سازی اور منصوبہ بندی ہے۔ اگر تعلیم کے میدان میں درست پالیسی سازی سے کام لیا جائے اور ان ہی پالیسیوں کے مطابق آگے چلیں، کامیابی حاصل ہوجائے گی۔
انہوں نے مزید کہا: پالیسی سازی میں اب بات کا خصوصی اہتمام ہونا چاہیے کہ اس صوبے میں تمام قومیتوں اور مسالک کے لوگوں کے تعلیمی میدان میں اکٹھے رکھاجائے۔ انسانی قوت کسی بھی ادارے کے لیے اہم ہے؛ اس حوالے سے بھی کوشش کی جائے کہ ماہر اساتذہ سے کام لیاجائے جو یہاں ٹھہر کر خدمت کریں۔
صدر شورائے مدارس اہل سنت سیستان بلوچستان نے امید ظاہر کی صوبہ سے تعلیمی پس ماندگی کا خاتمہ ہوجائے جو ملکی سطح پر صوبہ سیستان بلوچستان کو آخری سطح تک پہنچادیاہے۔
مولانا عبدالحمید نے آخر میں سکول تعمیر کرنے والے خیراتی اداروں اور افراد کا شکریہ ادا کرتے ہوئے ان کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا۔
یاد رہے اسلامی جمہوریہ ایران کے عبوری وزیر تعلیم نے پندرہ اور سولہ اگست کو صوبہ سیستان بلوچستان کا دورہ کرتے ہوئے مختلف علاقوں میں تعلیمی سرگرمیوں اور تعلیمی اداروں کو قریب سے دیکھا۔ سیستان بلوچستان میں شرح خواندگی کمترین سطح پر جبکہ تعلیم چھوڑنے والوں کی تعداد سب سے زیادہ ہے۔


آپ کی رائے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

مزید دیکهیں