آج : 9 August , 2019

’’مشورے‘‘ کی اہمیت: قرآن و سُنت کی روشنی میں

’’مشورے‘‘ کی اہمیت: قرآن و سُنت کی روشنی میں

ارشادِ ربّانی ہے: اور شریک مشورہ رکھو، انہیں ایسے (اہم اور اجتماعی) کاموں میں، پھر جب آپ (کسی معاملے میں) پختہ ارادہ کر لو تو اللہ پر بھروسا کرو ،بے شک اللہ محبت رکھتا (اور پسند فرماتا) ہے ایسے بھروسا کرنے والوں کو‘‘۔(سورۂ آل عمران ) اسی طرح مومنین کے بارے میں ارشاد فرمایا :اور جو اپنے (اہم) معاملات باہمی مشورے سے چلاتے ہیں۔ بلاشبہ مشورہ خیر و برکت، عروج و ترقی اور نزول رحمت کا ذریعہ ہے، اس میں نقصان اور ندامت و شرمندگی کا کوئی پہلو نہیں۔ رسول اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا: کوئی انسان مشورے سے کبھی نا کام اور نامراد نہیں ہوتا اور نہ ہی مشورہ ترک کر کے کبھی کوئی بھلائی حاصل کرسکتا ہے۔ (قرطبی۴/۱۶۱) ایک موقع پر آپﷺ نے یہ بھی ارشاد فرمایا: ’’ جس نے استخارہ کیا، وہ نا کام نہیں ہوا اور جس نے مشورہ کیا وہ شرمندہ نہیں ہوا۔‘‘ (المعجم الاوسط للطبرانی: ۶۸۱۶)اسی طرح آپﷺ کا یہ بھی ارشاد ہے: مشورہ شرمندگی سے بچاؤ کا قلعہ ہے اور ملامت سے مامون رہنے کا ذریعہ ہے۔‘‘(ادب الدنیا والدّین ۱/۲۷۷)
حضرت سعید بن مسیب ؓ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: کوئی انسان مشورے کے بعد ہلاک نہیں ہوتا۔‘‘( ابن ابی شیبہ:۶؍۲۰۷) حضرت علیؓ کا قول ہے: مشورہ عین ہدایت ہے اور جو شخص اپنی رائے سے ہی خوش ہوگیا، وہ خطرات سے دوچار ہوا۔ (المدخل: ۴/۲۸) خلاصہ یہ کہ مشورہ ایک مہتم بالشان امر ہے، رشدوہدایت اور خیر وصلاح اس سے وابستہ ہے، جب تک مشاورت کا نظام باقی رہے گا، فساد اور ضلالت و گمراہی راہ نہیں پاسکے گی، امن اور سکون کا ماحول رہے گا، یہی وجہ ہے کہ رسولِ اکرم ﷺنے ارشاد فرمایا: جب تمہارے حکام تم میں سے بہترین افراد ہوں اور تمہارے مال دار سخی ہوں اور تمہارے معاملات آپس میں مشورے سے طے ہواکریں تو زمین کے اوپر رہنا تمہارے لیے بہتر ہے اور جب تمہارے حکام بدترین افراد ہوں اور تمہارے مال دار بخیل ہوں اور تمہارے معاملات عورتوں کے سپرد ہوں تو زمین کے اندر دفن ہوجانا تمہارے زندہ رہنے سے بہتر ہوگا۔“ (روح المعانی: ۷/۵۳۱)
مشورے کو مسلمانوں کا وصف خاص قرار دیا گیا۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے : ایمان والے وہ ہیں جنہوں نے اپنے رب کے حکم کو مانا، نماز قائم کی اور ان کے کام باہم مشورے سے ہوتے ہیں اور جو ہم نے (مال انہیں) دیا ہے، اسے خرچ کرتے ہیں۔(سورۂ شوریٰ:۳۸) اس آیت میں مسلمانوں کے جو اوصاف بیان کیے گئے ہیں، ان میں ایک وصف باہمی مشورہ بھی ہے یعنی کسی اہم معاملے کو باہمی رائے کے ذریعے حل کیا جانا کامل اور پختہ ایمان مسلمانوں کی صفت ہے، اطاعت ِ خداوندی اور اقامت ِ صلوٰۃ کے بعد فوری طور پر مشورے کے معاملے کو بیان کرنے سے اس کی غیر معمولی اہمیت کا پتا چلتا ہے، شاید یہی وجہ ہے کہ صحابہٴ کرامؓ اور بالخصوص خلفائے راشدینؓ نے مشاورت اورباہمی مشورے کو اپنا معمول بنایا تھا۔
اللہ تعالیٰ نے رسولِ اکرم ﷺکو بھی مشورے کا حکم دیا، ارشاد فرمایا: اے نبیﷺ! آپ معاملات اور متفرق امور میں صحابہٴ کرامؓ سے مشورہ کیا کیجیے۔ (سورۂ آل عمران) بظاہر رسولِ اکرم ﷺکو مشورے کی حاجت نہیں تھی، کیوں کہ آپﷺ کے لیے وحی کا دروازہ کھلا ہوا تھا، آپﷺ چاہتے تو وحی کے ذریعے معلوم ہوسکتا تھا کہ کیا اور کس طرح کرنا چاہیے؟ اسی لیے مفسرینِ کرام نے یہاں بحث کی ہے کہ حکمِ مشورہ سے کیا مراد ہے؟ حضرت قتادہؓ، ربیع اوردوسرے بعض مفسرین کا خیال ہے کہ صحابہٴ کرامؓ کے اطمینانِ قلب اورانہیں وقار بخشنے کے لیے یہ حکم دیا گیا تھا،اس لیے کہ عرب میں مشورہ اور رائے طلبی باعثِ عزت و افتخار تھا۔
حقیقت یہ ہے کہ وحی کے ذریعے اگرچہ بہت سے امور میں آپﷺ کی رہنمائی کردی جاتی تھی، مگر حکمت اور مصلحتوں کے پیش نظر چند امور کو آنحضرت ﷺکی رائے اور صوابدید پر چھوڑ دیا جاتا، ان ہی مواقع میں آپ ﷺکو صحابہٴ کرامؓسے مشورےکا حکم دیا گیا، تا کہ امت میں مشورےکی سنت جاری ہوسکے اور لوگ یہ سمجھیں کہ جب رسول اللہ ﷺکو مکمل فہم و بصیرت ہونے کے باوجود مشورے کا حکم دیا گیا تو پھر ہم اس کے زیادہ محتاج اور ضرورت مند ہیں، چناںچہ فرمایا گیا: یاد رکھو! اللہ اور اس کے رسولﷺ مشورے سے بالکل مستغنی ہیں، لیکن اللہ تعالیٰ نے اسے امت کے لیے رحمت کا سبب بنایا ہے۔ (درمنثور: ۴/۳۵۹) (ترجمہ)اللہ تعالیٰ نے اس حکم کے ذریعے مسلمانوں کو مشورے کی فضیلت کا درس دیا ہے، تاکہ آپ کے بعد آپ کی امت اس کی پیروی کرے‘‘۔ (قرطبی:۲/۱۶۱)
حضرت ابوہریرہؓ کا بیان ہے کہ میں نےرسولِ اکرم ﷺسے زیادہ مشورہ کرنے والا کسی کو نہیں پایا یعنی آپ ہر قابلِ غور معاملے میں اپنے صحابہؓ سے مشورہ کر کے ہی کوئی فیصلہ فرماتے، مثلاً :جنگ بدر سے فراغت ہوچکی تو آپ نے اسیرانِ بدر کے بارے میں صحابہ کرامؓ سے مشورہ فرمایا کہ انہیں معاوضہ لے کر رہا کر دیا جائے یا قتل کیا جائے ۔ غزوہٴ اُحد کے بارے میں مشورہ کیا کہ کیا مدینہ شہر کے اندر رہ کر مدافعت کی جائے یا شہر سے باہر نکل کر۔ عام طور سے صحابہ کرام ؓ کی رائے باہر نکلنے کی تھی تو آپﷺ نے اسے قبو ل فرمایا۔ غزوہٴ خندق میں ایک خاص معاہدےپر صلح کرنے کا معاملہ درپیش ہوا تو حضرت سعد بن معاذ ؓ اورحضرت سعد بن عبادہ ؓ نے اس معاملے کو مناسب نہیں سمجھا، اس لیے ان دونوں نے اختلاف کیا، آپ ﷺنے ان دونوں کی رائے قبول کرلی، حدیبیہ کے ایک معاملے میں مشورہ لیا تو حضرت ابوبکرؓ کی رائے پر فیصلہ فرمایا،واقعہٴ اِفک میں صحابہٴ کرامؓ سے مشورہ لیا، اسی طرح اذان کی بابت بھی صحابہؓ سے مشورہ کیا کہ نماز کی اطلاع دینے کے لیے کیا طریقہ اختیار کرنا چاہیے؟ اس طرح کی بے شمار مثالیں ہیں جن سے معلوم ہوتا ہے کہ جن امور میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے کسی حکمت کی بناء پر کسی خاص جانب رہنمائی نہ کی جاتی، ان میں صحابہٴ کرامؓ سے آپ ﷺمشورہ فرماتے۔
قرآن و سنت کی تعلیمات سے یہ حقیقت واضح ہوتی ہے کہ نبی اکرمﷺ نہ صرف یہ کہ اہم امور اورمعاملات میں صحابۂ کرامؓ سے مشورہ لیتے ،بلکہ ان پر عمل بھی فرماتے تھے۔آپﷺ کے بعد جب صحابۂ کرامؓ کا دور آیا تو ان کے سامنے ایک طرف تو آپﷺ کا اسوہ ٔ حسنہ تھا اور دوسری طرف قرآن و حدیث۔ دونوں میں نہایت واضح ہدایات خود صحابہؓ کو دی گئی تھیں کہ وہ کس اساس پر اپنا سیاسی نظام قائم کریں اور اس میں قانون سازی کا طریقہ کیا ہو۔ اس سلسلے میں قرآن مجید میں اصولی ہدایت یہ دی گئی ہے: اور ان کا نظام باہمی مشورے پر مبنی ہے۔(سورۂ شوریٰ۔۳۸)اس اصولی ہدایت کی وضاحت بھی نبی کریم ﷺ نے اس طرح فرمائی تھی: حضرت ابوسلمہؓ کا بیان ہےکہ میں نے نبی اکرمﷺ سے عرض کیا کہ اگر کوئی ایسا معاملہ پیش آئے جس کا ذکر نہ تو کہیں قرآن میں ہو اور نہ سنت میں تو ایسی صورت میں کیا کیا جائے؟ آپﷺ نے فرمایا کہ اس معاملے پر مسلمانوں کے صالح لوگ غور کرکے اس کا فیصلہ کریں گے۔ (سنن دارمی)
مشورہ ہمیشہ ایسے شخص سے کرنا چاہیے جسے متعلقہ معاملے میں پوری بصیرت اور تجربہ حاصل ہو، چناںچہ دینی معاملات میں ماہر اور صاحب ِ نظر عالم ِ دین سے مشورہ کرنا چاہیے اور کسی بیماری اور جسمانی صحت کے بارے میں کسی اچھے طبیب کا انتخاب ہی مفید ہوگا۔ غرض جس طرح کا معاملہ ہے، اسی فن کے ماہرین اور تجربہ کار کا انتخاب کیا جائے، کیوں کہ تجربہ کے بغیر صرف عقل کامیابی سے ہمکنار نہیں کرسکتی، گویا مشورہ لینے کے لیے عقل اور تجربہ دونوں کا بیک وقت موجود ہونا نہایت ضروری ہے۔ ایک دوسرے کے بغیر صحیح رہنمائی نہیں مل سکتی۔ رسولِ اکرمﷺ نے ایک موقع پر ارشاد فرمایا: عقل مندوں سے مشورہ کرو، کامیابی ملے گی اور ان کی مخالفت نہ کرو، ورنہ شرمندگی ہوگی۔
رسولِ اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا : جس شخص سے مشورہ کیا جاتا ہے، وہ امانت دار ہوتا ہے ، اسے امانت داری کا پورا حق ادا کرنا چاہیے۔ ( جامع ترمذی )اسلام یہ تعلیم دیتا ہے کہ باہمی امور میں مشاورت سے کام لیا جائے ،یہ اللہ تعالیٰ کا حکم بھی ہے اور سنت ِ رسولﷺ بھی۔ لہٰذا ہر موقع پر مشورے اور مشاورت کا اہتمام ایک ضروری امر ہے۔


آپ کی رائے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

مزید دیکهیں