آج : 9 August , 2019

کرفیو کے باعث جامع مسجد سری نگر میں ہزاروں افراد نماز جمعہ ادا نہ کرسکے

کرفیو کے باعث جامع مسجد سری نگر میں ہزاروں افراد نماز جمعہ ادا نہ کرسکے

بھارتی حکومت نے مقبوضہ کشمیر میں 5 روز سے جاری کرفیو میں جمعے کی نماز کے موقع پر نرمی کا اعلان کیا اور شہریوں کو مقامی مساجد میں نماز ادا کرنے کی اجازت دی۔
امریکی خبررساں ادارے ’ اے پی‘ کے مطابق مقبوضہ کشمیر کے پولیس چیف دل باغ سنگھ نے بتایا کہ سری نگر کے اکثر علاقوں میں موجود افراد کو مخصوص مساجد میں جانے کی اجازت دی جائے گی۔
سری نگر میں عارضی طور پر کرفیو میں نرمی کی گئی لیکن اس کا وقت متعین نہیں کیا گیا تھا، نماز جمہ کا آغاز 12 بج کر 37 منٹ پر ہوا جو 20 منٹ تک جاری رہی۔
پریس ٹرسٹ آف انڈیا نے بتایا کہ بھارتی حکام کی جانب سے لوگوں کو چھوٹی مقامی مسجد میں نماز پڑھنے کی اجازت دی گئی لیکن تاریخی جامع مسجد میں جمعے کا خطبہ دینے کی اجازت نہیں دی گئی جہاں ہزاروں افراد نماز ادا کرتے ہیں۔
خیال رہے کہ سری نگر کی جامع مسجد نماز جمعہ کے بعد بھارت مخالف مظاہروں کا مرکز رہی ہے۔
بھارتی حکام نماز جمعہ کے بعد عوام کی نقل و حرکت پر کڑی نظر رکھیں گے جیسی وہ عموماً بھارت مخالف مظاہروں کے دوران رکھتے ہیں۔
پیر (12 اگست ) کو عیدالاضحیٰ کے موقع پر کرفیو کے تحت عائد پابندیوں میں مزید نرمی کا امکان ہے۔
گزشتہ روز بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے قوم سے خطاب میں مقبوضہ کشمیر کے مسلمانوں کو عید الاضحیٰ کی مبارک باد دیتے ہوئے کہا کہ ان کی حکومت سنجیدہ کوششیں کررہی ہے کہ عید کے موقع پر عوام کو مشکلات کا سامنا نہ ہو۔
بھارتی حکومت نے 5 اگست کو مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت کو ختم کرتے ہوئے آئین کے آرٹیکل 370 کو منسوخ کردیا تھا، جس کے ساتھ ہی جنوبی ایشیا میں ایک کشیدگی کی لہر دوڑ گئی تھی۔
پاکستان کی جانب سے بھارت کے اس اقدام کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے مسترد کردیا گیا تھا اور قومی سلامتی کمیٹی کے اجلاس میں بھارت کے ساتھ دوطرفہ تجارت معطل اور سفارتی تعلقات محدود کرنے کا فیصلہ کیا گیا تھا۔
اس کے بعد پاکستان نے بھارت کے ہائی کمشنر اجے بساریہ کو ملک سے واپس جانے کی ہدایت کردی تھی جبکہ اپنا ہائی کمشنر نئی دہلی نہ بھیجنے کا اعلان کیا تھا۔
یہی نہیں بلکہ موجودہ صورتحال کو دیکھتے ہوئے وزیر ریلوے شیخ رشید احمد نے پاکستان اور بھارت کے درمیان چلنے والی سمجھوتہ ایکسپریس کو بھی بند کرنے کا اعلان کیا تھا۔
خیال رہے کہ مقبوضہ وادی میں گزشتہ کئی روز سے کرفیو نافذ ہے جبکہ انٹرنیٹ اور ٹیلی فون سروس سمیت تمام مواصلاتی نظام تاحال معطل ہے۔
تاہم ان پابندیوں کے باوجود کشمیریوں نے بھارتی اقدام کے خلاف احتجاج کیا تھا، جن پر بھارتی فورسز نے فائرنگ کرکے 6 کشمیریوں کو شہید اور 100 سے زائد کو زخمی کردیا تھا، اس کے علاوہ قابض بھارتی فورسز نے وادی سے 500 سے زائد حریت رہنماؤں اور کارکنان کو گرفتار بھی کرلیا تھا۔


آپ کی رائے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

مزید دیکهیں