آج : 6 August , 2019

مقبوضہ کشمیر: نئی آزمائش

مقبوضہ کشمیر: نئی آزمائش

بھارت نے جموں و کشمیر کے تنازع پر امریکی صدر ٹرمپ کی جانب سے ثالثی کی پیشکش یہ کہہ کر ٹھکرا دی تھی کہ وزیراعظم مودی کسی کی ثالثی کے بغیر ہی یہ مسئلہ حل کرنے کا طریقہ جانتے ہیں، چنانچہ اقوام متحدہ کی قراردادوں، پاکستان کے شدید انتباہ، کشمیری عوام کی خواہشات اور عالمی برادری کے تحفظات کی پروا نہ کرتے ہوئے پیر کو اس نے یہ امن دشمن طریقہ اختیار کرکے بھارتی آئین کی دفعہ370 اور35 اے کو منسوخ کرکے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی آئینی حیثیت ختم کر دی۔
بھارتی صدر نے اس سلسلے میں حکمنامہ جاری کر دیا جبکہ وزیر داخلہ امیت شاہ نے پارلیمنٹ میں ان دفعات کے خاتمے کا بل پیش کیا، جس پر ایوان میں ہنگامہ ہوگیا اور اپوزیشن نے بل کو مسترد کر دیا۔ دفعہ370کے تحت مقبوضہ کشمیر کو نیم خودمختار حیثیت حاصل تھی اور بھارتی پارلیمنٹ کا کوئی قانون یہاں اس وقت تک لاگو نہیں ہو سکتا تھا جب تک ریاست کی کٹھ پتلی اسمبلی اس کی منظوری نہ دیدے۔ اسی طرح دفعہ35اے کے تحت کوئی غیر کشمیری مقبوضہ کشمیر میں جائیداد خرید سکتا نہ نوکری کر سکتا تھا۔ ان دفعات کی تنسیخ کے بعد ایک تو ریاست کو باضابطہ بھارت میں ضم کر دیا گیا ہے، دوسرا مسلم اکثریت کو اقلیت میں تبدیل کرنے کی راہ ہموار ہو گئی ہے۔ مقبوضہ کشمیر اب الگ ریاست کے بجائے بھارت کی یونین ٹیریٹری یعنی وفاق کا علاقہ تصور ہوگا۔ لداخ کو بھی کشمیر سے الگ کرکے یہی حیثیت دے دی گئی ہے۔
بھارت کے اس جابرانہ اقدام کے خلاف مسلمانوں کے شدید ردعمل کو کچلنے کیلئے فوج کی تعداد میں تو پہلے ہی اضافہ کر دیا گیا تھا، اب پوری ریاست میں دفعہ144 نافذ کرکے کرفیو لگا دیا گیا ہے اور حریت رہنمائوں کے علاوہ بھارت نواز لیڈروں محبوبہ مفتی، عمر عبداللہ اور سجاد لون وغیرہ کو بھی گرفتار یا نظربند کر دیا گیا ہے۔
ریاست کی تمام سیاسی پارٹیوں نے اس اقدام کے خلاف مشترکہ لائحہ عمل اختیار کرنے کا اعلان کیا ہے۔ سابق وزیراعلیٰ فاروق عبداللہ نے تو خصوصی حیثیت کے خاتمے کو بھارت سے ریاست کے نام نہاد مشروط الحاق کا خاتمہ قرار دیا ہے، اس کے ساتھ ہی بھارت نے مقبوضہ کشمیر میں ظالمانہ فوجی کارروائیاں تیز کر دی ہیں اور گزشتہ24 گھنٹے میں مزید گیارہ کشمیری نوجوانوں کو شہید کر دیا ہے۔ پاکستان اور آزاد کشمیر میں بھارتی اقدامات کے خلاف شدید ردعمل کا اظہار کیا گیا ہے۔ صدر مملکت نے صورتحال کا جائزہ لینے کیلئے منگل کو پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس طلب کر لیا ہے جبکہ آرمی چیف نے مقبوضہ کشمیر میں بھارت کے اقدامات اور ایل او سی کی صورتحال پر غور کیلئے کور کمانڈر کانفرنس بلا لی ہے۔
ادھر وزارتِ خارجہ کے ترجمان نے مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے کے بھارتی اعلان کو مسترد کر دیا ہے اور کہا ہے کہ یہ عالمی سطح پر تسلیم شدہ متنازع علاقہ ہے، بھارت اسے یکطرفہ فیصلے سے ختم نہیں کر سکتا۔ ترجمان کا کہنا تھا کہ پاکستان اس مسئلے کو دنیا کے ہر فورم پر اٹھائے گا اور تمام آپشنز بروئے کار لائے جائیں گے۔ اتوار کو وزیراعظم عمران خان کی زیر صدارت قومی سلامتی کمیٹی کے اجلاس میں بھی سیاسی اور عسکری قیادت نے حقِ خودارادیت کیلئے کشمیریوں کی آواز دبانے اور افغان مذاکرات کو سبوتاژ کرنے کیلئے مقبوضہ کشمیر میں اور آزاد کشمیر کی کنٹرول لائن پر بھارت کے جارحانہ اقدامات کا تفصیل سے جائزہ لیا۔ وزیراعظم عمران خان نے عالمی قیادت اور اداروں سے بھارت کے غیر ذمہ دارانہ اور جارحانہ رویے کا نوٹس لینے کا مطالبہ کیا اور کہا کہ پاکستان ہر حالت میں کشمیریوں کے ساتھ کھڑا ہے۔ اجلاس کے بعد جاری ہونے والے اعلامیہ میں خدشہ ظاہر کیا گیا کہ بھارت کشمیر میں داخلی و خارجی سطح پر اپنی ناکامیاں چھپانے کیلئے جعلی فوجی آپریشن کر سکتا ہے جبکہ ایسی کسی پرخطر کارروائی سے دونوں ایٹمی ممالک میں آگ بھڑک سکتی ہے۔ اعلامیہ کے مطابق پاکستان کشمیری عوام کی جو سلامتی کونسل کی قراردادوں کے تحت جدوجہد کر رہے ہیں، سفارتی، اخلاقی، سیاسی حمایت جاری رکھے گا۔ اقوام متحدہ سے مطالبہ کیا گیا کہ وہ نہتے کشمیریوں پر کلسٹر بموں کے استعمال کا نوٹس لے اور ان اقدامات کا جائزہ لے جن سے مقبوضہ کشمیر کی صورتحال تیزی سے بگڑ رہی ہے۔ اجلاس میں جس کے شرکا کو بھارت کی طرف سے مقبوضہ کشمیر میں آبادی کے تناسب کو بگاڑنے اور ریاست کی متنازع حیثیت کے حوالے سے ابہام پیدا کرنے کیلئے حقائق چھپانے کے بارے میں بریفنگ دی گئی، بھارت کی شر انگیزیوں کا موثر جواب دینے کی حکمت عملی تیار کی گئی اور متنبہ کیا گیا کہ دشمن کی کسی بھی مہم جوئی کا منہ توڑ جواب دیا جائے گا۔
قومی سلامتی کمیٹی کا دو ٹوک موقف مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت کے بارے میں بھارتی اقدام سے ایک روز قبل منظر عام پر آ گیا تھا اور دنیا کے بعض اہم ملکوں کی جانب سے اپنے باشندوں کو مقبوضہ کشمیر جانے سے روکنے کی ہدایت بھی سامنے آئی تھی جس کے بعد بھارت کو جموں و کشمیر کی حیثیت کے بارے میں کوئی فیصلہ کرنے سے پہلے سو بار سوچنا چاہئے تھا مگر اس نے کشمیری مسلمانوں کی نسل کشی کے پہلے سے طے کردہ منصوبے پر عملدرآمد شروع کر دیا۔ حالات ایسا رخ اختیار کرتے دکھائی دیتے ہیں جو نہ صرف برصغیر بلکہ عالمی امن کے لئے بھی خطرناک ہیں۔ اقوام متحدہ، او آئی سی اور عالمی برادری کو صورتحال کا فوری نوٹس لینا چاہئے اور سلامتی کونسل کا اجلاس بلاکر اقوام متحدہ کی قراردادوں کی روشنی میں بھارت کو کشمیری عوام کے خلاف ظالمانہ کارروائیاں بند اور انہیں اپنے مستقبل کا فیصلہ خود کرنے کا حق دینے پر مجبور کرنا چاہئے۔ یہ محض زمین کے ایک ٹکڑے کا جھگڑا نہیں ایک قوم کے مستقبل کا سوال ہے، جس کی تیسری نسل آزادی کی جنگ لڑ رہی ہے اور لاکھوں جانوں کی قربانی دے چکی ہے۔ کشمیری عوام کو تقسیمِ ہند کے تینوں فریقوں یعنی برطانوی حکومت، ہندو کانگریس اور مسلمانوں کی نمائندہ جماعت آل انڈیا مسلم لیگ نے پاکستان یا بھارت میں سے کسی ایک کے ساتھ الحاق کرنے کا حق دیا تھا اور سلامتی کونسل نےخود بھارت کی درخواست پر اس حق کو رائے شماری کے ذریعے استعمال کرنے کی قرارداد منظور کی تھی، جس کی کئی بار توثیق بھی کی گئی۔ بھارت مہاراجہ کی طرف سے جس فرضی الحاق کا دعویٰ کرتا ہے اس کا کوئی دستاویزی ثبوت موجود نہیں جبکہ اس وقت کی سرینگر اسمبلی کی اکثریتی جماعت مسلم کانفرنس نے پاکستان سے الحاق کی باقاعدہ منظوری دی تھی۔ حکومت پاکستان کو اپنی سرحدوں کے دفاع کیلئے بھرپور اقدامات کے ساتھ یہ مسئلہ فوری طور پر سلامتی کونسل میں اٹھانے کی تدبیر کرنا چاہئے تاکہ کشمیری مسلمانوں کو اپنے مستقبل کا فیصلہ خود کرنے کا حق دلایا جائے۔


آپ کی رائے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

مزید دیکهیں