آج : 6 August , 2019

شیعہ علما سنی مدرسہ میں

شیعہ علما سنی مدرسہ میں

گزشتہ دنوں قم سے تعلق رکھنے والے شیعہ علما اور دانشوروں کے ایک وفد نے جامعہ دارالعلوم زاہدان اور جامع مسجد مکی کا دورہ کرتے ہوئے یہاں کے اساتذہ و طلبہ سے ملاقاتیں کیں۔ اس وفد میں صوبہ سیستان بلوچستان کے جنرل گورنر اور سپریم لیڈر کے نمائندہ بھی شامل ہوئے تھے۔ وفد کے بعض ارکان نے طلبہ و اساتذہ سے خطاب بھی کیا۔
دارالعلوم زاہدان اہل سنت ایران کا سب سے بڑا دینی و تعلیمی اور ثقافتی ادارہ ہے جو سیاسی طور پر بھی صوبائی و ملکی سطح پرعوام کی رہ نمائی اور ان کے حقوق و مطالبات پیش کرنے کے سلسلے میں کافی سرگرم ہے۔ جامع مسجد مکی جو اسی جامعہ کے ساتھ واقع ہے، سنی برادری کی سب سے بڑی جامع مسجد ہے جو ابھی تک زیر تعمیر ہے اور تکمیل کے بعد اس میں ستر ہزار سے زائد نمازی بیک وقت نماز ادا کرسکتے ہیں۔
مذکورہ ادارے کی اہمیت کو سامنے رکھا جائے، ایسے وفود کا یہاں آنا کوئی اچھنبے کی بات نہیں لگے گی۔ البتہ ایران کے بعض ہمسایہ ممالک کے برعکس، ایسی ملاقاتوں اور جلسوں کا انعقاد یہاں ایک عام سی بات ہے۔
حال ہی میں آنے والے وفد میں قم میں قائم سرکاری و نیم سرکاری شیعہ جامعات کے دوسرے یا تیسرے درجے کے ذمہ داران شامل تھے، لیکن سماجی و اسلامی روایات و اقدار کا خیال رکھتے ہوئے انہیں اعلی سطحی وفد کا پروٹوکول دیا گیا اور انتہائی گرمجوشی سے ان کا استقبال کیا گیا اور انہیں خوش آمدید کہا گیا۔ حالانکہ جب اہل سنت برادری کے چوٹی کے علمائے کرام اور اسی جامعہ کے صدر و اعلی منتظمین جب قم یا تہران جاتے ہیں، انہیں اتنی پذیرائی نہیں ملتی۔
بہرحال شیعہ و سنی سمیت مختلف مسالک و مذاہب کے پیروکار، خاص کر ان کے دینی پیشوا جو ایک ہی ملک میں رہتے ہیں، انہیں ایسی ملاقاتوں سے گریز نہیں کرنا چاہیے جو بہت ساری غلط فہمیوں کے ازالے کے لیے از حد ضروری ہیں۔ نیز وہ ایک دوسرے کو سمجھنے اور مشترکہ امور پر بات کرنے کا موقع پاتے ہیں اور اختلافی مسائل کو فرقہ وارانہ جھگڑوں کی شکل اختیار کرنے میں رکاوٹ بن سکتے ہیں۔ مختلف مسالک کے پیروکاروں میں ایک دوسرے کے بارے میں پائے جانے والی غلط فہمیوں کی ایک بڑی وجہ ان کی دوریاں ہیں جو ایک دوسرے کے ساتھ بیٹھنے کے لیے بھی تیار نہیں ہیں۔


آپ کی رائے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

مزید دیکهیں