قرآن مجید کا مقام اور اس کا پیغام

قرآن مجید کا مقام اور اس کا پیغام

قرآن مجید سے تعلق ہونا ایک نعمت ہے اور اللہ تعالی کی اس نعمت سے فائدہ اٹھانا سعادت کی بات ہے، اس لیے کہ قرآن مجید اللہ کا کلام ہے، اور براہ راست اللہ کا کلام ہونے کی وجہ سے، اس کی طاقت، اس کی خصوصیت، اس کا اثر بے انتہا ہے، اس کا اثر ایسا ہے کہ اگر یہ اپنے صحیح اثر کے ساتھ اس دنیا میں ظاہر ہوجائے تو دنیا اس کو برداشت نہیں کرسکتی، اللہ تعالی نے اس بات کو کئی مثالوں سے بتایا، ایک جگہ فرمایا کہ اگر ہم نے اس کلام کو پہاڑوں پر نازل کیا ہوتا تو پہاڑ اس کو اٹھا نہیں سکتے تھے، بلکہ وہ پھٹ جاتے، جل جاتے، اسی لیے قرآن مجید میں حضرت موسیٰ علیہ السلام کی مثال بھی پیش کی گئی کہ انہوں نے تجلی کی درخواست کی کہ ”اے پروردگار! ہم آپ کو دیکھنا چاہتے ہیں“، تو ارشاد ہوا: ”ہماری تجلی کو پہاڑ برداشت نہیں کرسکتا، اگر کرلے گا تو تم بھی دیکھ سکتے ہو“، لیکن جب اللہ تعالی کی ذرا سی تجلی ہوئی تو کوہ طور پہاڑ جل کس اس طرح بیٹھ گیا جیسے اس کو کسی نے دبا دیا ہو، اور حضرت موسی بھی بے ہوش ہوگئے، اور اس تجلی کو نہ دیکھ سکے، تو یہ کتاب (قرآن مجید) آسمانی کتاب ہے، اور یہ زمین آسمان نہیں ہے، زمین زمین ہے، آسمان آسمان ہے، اس لیے آسمان کو یہ زمین برداشت نہیں کرسکتی، آسمان کی جو طاقت اور وزن ہے اس کے سامنے یہ زمین کوئی حیثیت نہیں رکھتی، زمین کی حیثیت سورج کے سامنے کچھ نہیں ہے، سورج اتنے فاصلہ سے بھی زمین کو تپادیتا ہے اور زمین اسی کے گرد گردش کررہی ہے، وہ بھاگ نہیں پاتی، گویا اس اعتبار سے زمین کی کوئی حیثیت و حقیقت نہیں ہے، کیونکہ سورج سے بڑی چیز بھی آسمان کی طاقت کے سامنے کوئی حیثیت نہیں رکھتی، اس لیے غور کا مقام ہے کہ اللہ کا کلام جو ایک تجلی کی حیثیت رکھتا ہے اس زمین پر کیسے آسکتا ہے؟ لیکن اللہ تعالی نے انسانوں پر یہ کرم فرمایا کہ ان کی ہدایت اور رہنمائی کے لیے اپنے کلام کو زمین پر بھیجا اور وہ انتظامات فرمادیئے کہ جن کی وجہ سے یہ کلام زمین پر رہ سکے، اور لوگ اس کو پڑھ سکیں، ورنہ اگر یہ کلام اپنی اسی طاقت کے ساتھ ہو یعنی اسی کیفیت کے ساتھ ہو جو اس کی کیفیت ہے تو اس کو آدمی اپنی زبان سے ادا نہیں کرسکے گا، اور یہ اس کو سن نہیں سکے گا، کان برداشت نہیں کرسکیں گے، بلکہ اس کی تجلی اثر انداز ہوگی، اسی لیے اللہ تعالی نے فرمایا کہ ”اگر ہم اس کو پہاڑوں پر نازل کرتے تو پہاڑ پھٹ جاتے، لیکن انسان کے لیے ہم نے اس کو اتار دیا، تا کہ انسان اس سے فائدہ اٹھائیں“، اور انسان کے فائدے کے لیے اللہ نے اس چیز کو ایسا کردیا کہ یہاں زمین پر رہ سکے، اور اس کی مثال ایسی ہے جیسے بجلی کا کرنٹ ہوتا ہے جو تار سے گزرتا ہے اس کے اوپر ربڑ چڑھی ہوتی ہے اگر اس کو ئی پکڑ لے، اس کو استعمال کرے، تو اس سے روشنی حاصل ہوگی، اس سے انجن چلایا جاسکتا ہے، لیکن اگر کوئی اسی کھلے تار کو چھولے تو اس کے کرنٹ کے لگنے سے زندہ نہیں رہے گا، اور اگر انسان وہی کرنٹ بالواسطہ چھوتا ہے تو اس کو برداشت کرلیتا ہے، اور اس سے فائدہ بھی اٹھاتا ہے، البتہ براہ راست اس کو نہ چھوا جاسکتا ہے، نہ ہلایا جاسکتا ہے، نہ ہی اس پر ہاتھ رکھا جاسکتا ہے، اسی طرح قرآن مجید کی مثال ہے کہ اللہ تعالی نے اس کلام کو ایسا غلاف روحانی عطا فرمایا کہ یہ ہمارے کانوں میں بھی جاتا ہے، ہمارے منہ سے بھی ادا ہوتا ہے، اس کو ہم کاغذ پر لے لیتے ہیں، اس کو اٹھاتے ہیں، ورنہ اگر یہ غلاف میں اس طرح نہ ہو جس طرح اللہ تعالی نے ہمارے فائدہ کے لیے اس کو رکھا ہے، تو یہ کلام اس دنیا میں اتر نہیں سکتا، دنیا اس کو جھیل نہیں سکتی، بلکہ دنیا پھٹ جائے گی، ٹوٹ جائے گی، گویا یہ اللہ کا ایسا فضل ہے کہ وہ چیز جس کو ہم برداشت نہیں کرسکتے وہ ہم کو عطا فرمائی، جو چیز یہاں رہ نہیں سکتی تھی اللہ نے اس کو اتارا، تا کہ ہم اس سے فائدہ اٹھائیں، تو اتنی بڑی دولت و نعمت اللہ نے ہم کو دی ہے جو ہم کو عام حالات سے نہیں مل سکتی تھی، لہذا اس کی قدر کرنے کی ضرورت ہے، انسان اس کی جتنی زیادہ قدر کرے وہ کم ہے۔

قرآن مجید کی قدر
قرآن مجید کی قدر یہ ہے کہ ]لعلھم یتفکرون[ (شاید وہ سمجھ سکیں، غور کرسکیں)
یعنی بندے یہ سمجھ سکیں کہ اللہ تعالی کا مقام کیا ہے؟ اور اللہ تعالی کے سامنے بندوں کی کیا حیثیت ہے، اور ان پر کیا ذمہ داری عائد ہوتی ہے؟ قرآن مجید میں اللہ تعالی انسانوں کو توجہ دلاتا ہے کہ تمہیں کیسی زندگی گزارنی چاہیے؟ تمہارے کیسے اعمال ہونے چاہئیں؟ تمہارا کیا طریقہ کیا ہونا چاہیے؟ تمہارے دل کے اندر کیا کیفیت ہونی چاہیے؟ اس لیے کہ اللہ تعالی نے انسانوں پر بے شمار احسانات کئے ہیں، یہ دنیا ہمارے لیے بنائی، ہمارے لیے ہی سورج کو مسخر کیا، چاند کو ہمارے لیے مفید بنایا، اسی طرح زمین میں جو کچھ ہوتا ہے، اور جو کچھ پایا جاتا ہے وہ سب اللہ نے ہمارے فائدے کے لیے رکھا کہ ہم اس سے فائدہ اٹھائیں، غرض کہ ہر طرح کی نعمتیں جن کی ہم کو زندگی میں ضرورت ہے، وہ سب اللہ نے ہمارے لیے مہیا کیں، اسی لیے ان سب کو دینے کے بعد وہ چاہتا ہے کہ بندہ اس کی بات کو مانے اور اپنے پروردگار کے سامنے اپنے کو بندہ بنا کر رکھے، اپنے پروردگار کا مقابلہ نہ کرنے لگے، یعنی اپنے کو اپنے پروردگار کے برابر سمجھنے لگے، وہ اس طرح کہ اپنے نفس کے مطابق عمل کرے، اللہ تعالی کے احکام کو نظر انداز کردے، یا جس طرح اپنے ساتھی کے ساتھ رویہ ہوتا ہے وہی رویہ اللہ تعالی کے ساتھ اختیار کرے کہ وہ جو چاہتا ہے کرتا ہے، اللہ تعالی جو کہہ رہا ہے وہ نہیں کرتا، یعنی اپنے کو اللہ تعالی کے برابر سمجھ رہا ہے، یا کسی اور کو اللہ تعالی کے برابر سمجھ رہا ہے، یہ عمل اللہ تعالی کے یہاں بہت ہی ناپسندیدہ ہے، کیونکہ خدا ہی نے اس کو سب کچھ عطا فرمایا، حتی کہ زمین پر اپنا کلام اتار دیا جو کہ اتر نہیں سکتا تھا، لیکن اللہ نے اس کو اسی لیے اتارا تا کہ ہم اس سے صحیح راہ پر آسکیں، اس لیے اس کلام کی قمیت کو سمجھنا چاہیے اور اس کا جو ادب اور مقام ہے اس مقام کی قدردانی جیسی کرنی چاہیے وہ بھی ضروری ہے۔

آداب قرآنی
قرآن مجید کا پہلا ادب یہ ہے جس کو خود قرآن مجید ہی میں بیان فرمایا گیا: ]لا یمسہ الا المطھرون[ (اس کو نہیں چھوتے مگر وہ لوگ جو پاکیزہ ہوتے ہیں)
یوں تو انسان مکمل طور پر پاک ہو ہی نہیں سکتا اس لیے کہ نہ جانے اس کے پیٹ میں کیا کیا بھرا ہوا ہے، لیکن ظاہری طور پر اللہ نے ایسا طریقہ بتایا کہ اگر اس کو اختیار کرلیا جائے تو انسان کو پاک سمجھ لیا جائے گا، اب ہر انسان کی یہ ذمہ داری ہوتی ہے کہ وہ اس پاکی کے طریقہ کو اختیار کرنے کے بعد اللہ کا پاک کلام پڑھے، اور اللہ کا یہ احسان سمجھے کہ اس نے اس قابل بنادیاکہ ایک ناپاک انسان اللہ کے پاک کلام سے فائدہ اٹھا رہا ہے، اسی کے ساتھ ساتھ اس کی قدردانی میں بھی کوتاہی سے کام نہ لے، قرآن مجید کی قدر جتنی ہم کرسکتے ہیں ہمیں کرنی چاہیے اور اس میں جو باتیں فرمائی گئی ہیں ان سے ہمارے زندگی کی جو رہنمائی ہوتی ہے اس رہنمائی سے ہم کو فائدہ اٹھانا چاہیے، ایسا کرنے سے اللہ تعالی خوش ہوتا ہے، کیوں کہ اس کلام کے نزول کا مقصد ہی یہ ہے کہ ہم اس سے فائدہ اٹھائیں، اور اپنی زندگی کو اس سے سنواریں، جب ایسا کریں گے تو اللہ تعالی کی مرضی کے مطابق یہ بات ہوگی اور اللہ تعالی کو پسند آئے گی کہ اس کا بندہ اس کی اطاعت کررہا ہے، اس کے کہنے پر چل رہا ہے، اس نے جو ہدایات دی ہیں ان کو مان رہا ہے۔

نزول قرآن کا مقصد
اتنے واسطوں سے قرآن مجید کا نزول محض ہمارے فائدے کے لیے ہوا، تا کہ ہم اس سے نصیحت حاصل کریں، اپنی زندگی کو بنائیں اور سنواریں، اپنی زندگی کو اس کے مطابق ڈھالیں، احکامات الہیہ کے مطابق زندگی گزارنے سے ہم صحیح راستہ پر عمل کرنے والے ہوسکیں، اور اس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ ہم کو آسمانی طاقت حاصل ہوگی، جو کہ ہمیں آخرت کی زندگی میں کام دے گی، حدیث شریف میں آتا ہے ہمارا کوئی عمل ایسا ہے جس سے وہاں (جنت میں) باغ لگ جاتا ہے، ہمارا کوئی عمل ایسا ہے کہ جس سے نہریں جاری ہوجاتی ہیں، ہمارا کوئی عمل ایسا ہے کہ جس سے ہمارے لیے قصر (محل) تیار ہوجاتا ہے، ظاہر ہے ہمیں وہاں اس طرح کی جو بھی چیزیں ملیں گی وہ ہمارے اس عمل کی وجہ سے ملیں گی، جو ہم یہاں زندگی میں کرتے ہیں، اور وہ کون سا عمل ہے جس سے وہاں ہمیں یہ چیزیں ملیں گی؟ اس سے مراد وہی عمل ہے جس کو قرآن مجید میں اللہ تعالی نے ہمارے فائدے کے لیے اپنے نبیوں اور اپنے کلام کے ذریعہ سے ہم کو بتادیا کہ تم یہ کروگے تو تم کو یہ فائدہ ہوگا، اور اگر تم نہیں کروگے تو جب وہاں (آخرت میں) جاؤ گے تو تمہیں چٹیل میدان ملے گا، جہاں نہ سایہ ہوگا، نہ ہی کوئی ایسی چیز جس سے تم فائدہ اٹھا سکتے ہو، جیسے پتھر ہوتا ہے اس پر آپ کھڑے رہیے تو آپ کو نہ سایہ حاصل ہوگا، نہ ہی آپ کو راحت ملے گی، اسی طرح وہاں کا نظام بھی مٹی والا نظام نہیں ہے، بلکہ وہاں کا نظام روحانی ہے جو ہمارے عمل کے نتیجہ میں ظاہر ہوگا، اس دنیا میں ہم جیسا عمل کریں گے، وہاں ویسا ہی عمل ظاہر ہوگا، یہ تمام وہ تعلیمات ہیں جو اللہ تعالی نے اپنے نبیوں کے ذریعہ سے انسانوں کو بتائی ہیں۔

حکمت الہی
حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت کے بعد اللہ تعالی نے اپنا کلام نازل فرمایا، اور اس کی حکمت یہ بیان کی گئی کہ اس سے لوگ نصیحت حاصل کریں، غور کریں، اور سمجھیں کہ ان کی کیا ذمہ داری ہے، اور اس دنیا میں ان کو کس طرح رہنا چاہیے، اللہ تعالی نے جو مخلوقات پیدا فرمائی ہیں، ان کی نوعیتیں الگ الگ ہیں، ان سب کے اندر اللہ تعالی نے جو صلاحیت رکھی ہے ان میں وہی صلاحیت موجود ہے، و ہ اس سے ہٹ نہیں پاتے، دوسرے بات یہ ہے کہ ان کو مزید کسی بارے میں معلومات بھی نہیں ہیں، اور یہ حقیقت ہے کہ اگر معلومات نہ ہوں تو انسان بھی بالکل بے کار ہوتا ہے، مثلاً: اگر آپ کو نہ معلوم ہو کہ کپڑا کیسے بنتا ہے؟ کپڑا کہاں سے لایا جاتا ہے؟ غذا کہاں ملے گی؟ کیسے ملے گی؟ پانی کیسے حاصل ہوگا؟ اگر یہ چیزیں آپ کو معلوم نہ ہوں یا آپ کسی ایسی جگہ پر ہوں کہ وہاں پانی نہ ہو، غذا کا بھی کوئی انتظام نہ ہو، وہاں کی زمین ہی ایسی ہو کہ وہاں کچھ نہ ملتا ہو اور آپ کو کچھ معلوم بھی نہ ہو تو آپ کہاں سے کھانا لائیں گے؟ کہاں سے پانی لائیں گے؟ کہاں سے کپڑے لائیں گے؟ ایسی موقع پر آپ کچھ نہیں لاسکتے، معلوم ہوا انسان کی زندگی کا پورا نظام معلومات پر چل رہا ہے، معلومات کے ذریعہ سے آدمی اپنی ضروریات اور اپنے تقاضے اور اپنا مقصد سمجھتا ہے، اپنے مقصد کو بھی معلومات کے ذریعہ سے سمجھتا ہے، گویا معلومات بنیادی چیز ہے جس سے انسان اس دنیا میں زندہ ہے، ورنہ انسان اور جانور میں کوئی فرق نہ ہوتا، ایک بیل ہے اس کو کھانے کے لیے کوئی ذریعہ اختیار کرنا نہیں پڑتا، اور نہ ہی کوئی ذریعہ اختیار کرنا اس کے بس میں ہے، کیونکہ وہ کچھ بھی نہیں جانتا، وہ تو جہاں دیکھے گا کھالے گا، کسی زمین میں پانی دیکھے گا تو پی لے گا، اس کو کچھ معلوم نہیں ہے کہ پانی کیسے ملتا ہے؟ پتے کیسے حاصل ہوتے ہیں؟ گھاس کیسے پیدا ہوتی ہے اور کہاں پیدا ہوتی ہے؟ اسی طرح دیگر مخلوقات کا بھی یہ معاملہ ہے، فرشتے ہیں اللہ تعالی نے ان کو تابعدار بنایا ہے، وہ اپنی رائے سے کچھ نہیں کرسکتے، اپنے خیال سے کچھ نہیں کرسکتے، ان کو جس کام پر لگادیا گیا ہے، جو کام ان کے سپرد ہے، وہ صرف وہی کام کرسکتے ہیں، لیکن انسان کو اللہ تعالی نے اپنی تمام مخلوقات میں علم کے ذریعہ سے ممتاز بنایا ہے، انسان کو زندگی کی معلومات عطا فرمائیں، اور زندگی کے ساتھ بعد والی زندگی جو آنے والی ہے اس کی معلومات بھی عطا فرمائیں کہ یہ معلومات جو دنیا کی ہیں ان سے اپنی زندگی کی ضروریات پوری ہوں گی، کہاں سے پانی لایا جائے؟ کہاں سے غذا حاصل ہو؟ کہاں سے کپڑا لایا جائے؟ کہاں سے مکان بنایا جائے؟ ان ضرورتوں کو دنیوی معلومات سے پورا کرنے کی صلاحیت عطا فرمائی، اور جو دین (آخرت) کی معلومات ہیں، ان سے مقصود یہ ہے کہ انسان اپنی زندگی کو سنوارے، اپنے خدا کی مرضی کے مطابق زندگی گزارے، تا کہ آخرت میں اللہ تعالی کی طرف سے نوازا جائے اور وہاں کی ساری سہولتیں مہیا ہوسکیں، جس کی ضرورت ہمیں دوسری زندگی میں ہوگی، وہاں اس طرح نہیں ہوگا کہ آپ کھیتی باڑی کریں اور غلہ اگائیں یا درخت لگائیں اور باغات پیدا کریں، وہاں کچھ نہیں ہوگا، وہاں اللہ تعالی نے دوسرا نظام رکھا ہے، وہ آسمانی نظام ہے، اس دنیا کی طرح مادی اور مٹی والا نظام نہیں ہے، ہماری زندگی میں ہماری ساری ضروریات مٹی سے پوری ہوتی ہیں، مٹی ہی سے غلہ پیدا ہوتا ہے، مٹی ہی سے درخت پیدا ہوتے ہیں، مٹی ہی سے لوہا نکلتا ہے، تانبا نکلتا ہے، اور دوسری دھاتیں نکلتی ہیں، مٹی ہی سے پٹرول نکلتا ہے، مٹی ہی سے تیل نکلتا ہے، پانی نکلتا ہے، غرض کہ ہماری ضرورت کی تمام چیزیں اس حقیر مٹی سے تعلق رکھتی ہیں، لیکن جو آسمان کا نظام ہے وہ مٹی والا نظام نہیں ہے، وہ روحانی نظام ہے، معنوی نظام ہے، وہاں آدمی کے عمل کی بنیاد پر چیزیں حاصل ہوں گی، خواہ ہم جو بھی عمل کرتے ہوں، صحیح راستہ پر چلنے کا عمل، معقول طریقہ اختیار کرنے کا عمل، جس کو اللہ تعالی نے نبیوں کے ذریعہ سے ہم کو بتایا ہے، اس لیے کہ اللہ تعالی براہ راست ہم کو نہیں بتاتا، کیونکہ ہماری طاقت اس کو برداشت نہیں کرسکتی، خود حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ حال ہوتا تھا جب کہ آپ کو اللہ نے ہر حیثیت سے مکمل بنایا تھا، تب آپ کا یہ حال ہوتا تھا کہ جب وحی نازل ہوتی تھی جب وحی نازل ہوتی تھی تو آپ پر اتنا بوجھ پڑتا تھا کہ آ پ پسینہ پسینہ ہوجاتے تھے اور اگر کسی جانور پر سوار ہوتے تو معلوم ہوتا تھا کہ اس کی پیٹھ ٹوٹ جائے گی، کیونکہ اس میں اتنا وزن ہوتا تھا، اور اس کلام میں طاقت ہوتی تھی، تو کئی کئی مرحلوں سے گزر کر یہ کلام ہم تک پہنچا ہے، اس کا پہلا مرحلہ یہ ہے کہ اللہ تعالی نے فرشتے کو دیا، دوسرا یہ ہے کہ فرشتے نے آکر حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو سنایا، لیکن اس وقت بھی یعنی فرشتے کا واسطہ ہونے کے باوجود بھی اس کا اتنا وزن تھا کہ آپ پسینہ پیسنہ ہوجاتے تھے، اتنا بوجھ معلوم ہوتا تھا، پھر اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے ہم لوگوں کو ملا، اتنے واسطوں کے بعد یہ کلام ہم کو حاصل ہوا، جیسا کہ ابھی سطور بالا میں بجلی کی مثال دی گئی کہ وہ کرنٹ جو تار میں جارہا ہے، اس کو ہم واسطے سے پکڑ لیتے ہیں، اگر اس کے اوپر کور (Cover) نہ ہو، تو ہم اس کو نہیں پکڑتے، اسی طرح اتنے واسطوں کے بعد یہ قرآن مجید ہم کو ملا ہے، ورنہ ہم کو براہ راست نہیں مل سکتا تھا، کیونکہ خالص اللہ کا کلام ہونے کی وجہ سے اس کی جو آسمانی طاقت ہے، وہ زمین والوں کی بس کی نہیں ہے، اس کو نہ ہی پہاڑ برداشت کرسکتا، نہ ہی زمین برداشت کرسکتی، لیکن چونکہ اللہ نے اس کو کئی واسطوں سے ہم تک بھیجا ہے، اس لیے ہم اس کو اٹھا سکتے ہیں اور پڑھ سکتے ہیں۔


آپ کی رائے

Leave a Reply

Your email address will not be published.

مزید دیکهیں