شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید:

اسلام رحمت، انصاف، عقلمندی اور تعامل کا دین ہے

اسلام رحمت، انصاف، عقلمندی اور تعامل کا دین ہے

اہل سنت ایران کے ممتاز عالم دین نے تہران یونیورسٹی میں منعقد ہونے والی بین الاقوامی کانفرنس میں اسلام کے اعلی ظرف کی جانب اشارہ کرتے ہوئے اسلام کو رحمت، انصاف، عقلمندی اور تعامل کا دین یاد کیا۔
سنی آن لائن کی رپورٹ کے مطابق، بدھ چھبیس جون دوہزار انیس کو جامعہ تہران میں ”پرامن معاشرے کے حوالے سے اسلامی تعلیمات کی حکمت عملی“کے عنوان سے منعقد ہونے والی کانفرنس کے شرکا سے خطاب کرتے ہوئے شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے کہا: اسلام آخری آسمانی دین ہے جو قیامت تک انسان کی رہ نمائی کے لیے ہے۔ اسلام میں بڑا ظرف پایاجاتاہے جو تمام افکار کو برداشت کرتاہے۔
انہوں نے مزید کہا: اللہ تعالی نے کسی بھی شخص کو اسلام قبول کرنے پر مجبور نہیں کیا ہے۔ تاریخ میں بھی نبی کریم ﷺ اور خلفائے راشدین و دیگر صحابہ و اہل بیت ؓ نے بھی ہرگز کسی کو اسلام قبول کرنے پر مجبور نہیں کیا ہے۔ ہم بھی ایسا نہیں کرسکتے۔
صدر دارالعلوم زاہدان نے کہا: قرآن پاک میں تصریح کی گئی ہے کہ دین قبول کرنے میں کوئی جبر نہیں ہے۔ اللہ تعالی نے پیغمبروں اور آسمانی کتابوں کو حق کی تبیین و تشریح کے لیے بھیجا ہے۔ جہاد کا مقصد بھی کسی کو مجبور کرنا نہیں ہے، اسلام اپنے ساتھ ’کافروں‘ کو برداشت کرسکتاہے۔ سورت الممتحنہ میں واضح ہے کہ جو کافر تمہارے ساتھ نہیں لڑتے، ان کے ساتھ اچھائی کرو اور عدل سے کام لو۔ حتی کہ حربی کافروں کے ساتھ ’تولی‘ سے منع کیا ہے ’مدارا‘ سے منع نہیں فرمایاہے۔
انہوں نے مزید کہا: بحیثیت مسلمان تمام ابراہیمی و غیرابراہیمی مذاہب کے ساتھ ہمارے کچھ مشترکہ مسائل ہیں۔ ان ہی مشترکہ مسائل کی وجہ سے اسلام نے ہمیں پرامن زندگی اور معاشرت کا حکم دیا ہے۔
مولانا عبدالحمید نے واضح کیا: اسلام غصہ، انتہاپسندی اور محض جذبات کا دین نہیں ہے۔ اسلام میں شدت پسندی، انتہاپسندی، ناانصافی اور امتیازی رویوں کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔ یہ دین ہمیں رحمت، انصاف، عدل اور تفکر کا سبق دیتاہے۔
انہوں نے مزید کہا: آپ ﷺ مذاکرات و بات چیت کے ذریعے اوس و خزرج کے ایک سو بیس سالہ لڑائی کو ختم کرکے ان میں صلح قائم فرمایا۔ جب آپ ﷺ مدینہ تشریف لائے، یہودیوں کو پریشانی لاحق ہوئی تھی، آپﷺ نے ان ساتھ معاہدہ فرمایا کہ جب تک مسلمانوں کے خلاف کوئی قدم نہیں اٹھاتے ہیں، وہ امن سے رہیں گے۔
شیخ الحدیث دارالعلوم زاہدان نے صلح حدیبیہ اور فتح مکہ کے واقعات کو نبی کریم ﷺ کی امن پسندی کی دیگر مثالیں یاد کرتے ہوئے کہا: اگر دیکھاجائے، ہر جہاد سے پہلے ایک بات چیت بھی ہوئی تھی جو ناکامی کی وجہ سے قتال کی نوبت آئی۔ نبی کریمﷺ نے منافقوں اور یہودیوں کو برداشت کیا۔ آپﷺ نے ہرگز ’یہودی مردہ باد‘ اور ’منافق مردہ باد‘ کا نعرہ نہیں لگایا۔
انہوں نے مزید کہا: صدر اسلام میں غیرمسلموں کو ’ذمی‘ کہاجا تا تھا۔ کچھ لوگ ذمی کو توہین آمیز لفظ سمجھتے ہیں، حالانکہ اس کا مطلب ہے یہ غیرمسلم جو مسلمانوں کے ساتھ رہتے ہیں، اللہ تعالی اور اس کے رسول اور اسلام کے ذمے میں ہیں۔ آپ ﷺ اور خلفائے راشدین نے موت سے پہلے ہمیشہ ذمیوں کے حقوق کے حوالے سے مسلمانوں کو نصیحت و وصیت فرمائی۔

اسلام دوراندیشی و برداشت کا سبق دیتاہے
بات آگے بڑھاتے ہوئے شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے تہران یونیورسٹی میں اپنے خطاب میں کہا: نبی کریمﷺ نے ہمیشہ دیگر مذاہب کی مقدسات کا احترام کیا اور آپﷺ نے ہرگز کسی عبادت خانے کو مسمار نہیں کیا۔ اسلام ہمیں انسانیت، برداشت، رواداری اور دوراندیشی کا سبق دیتاہے۔
انہوں نے مزید کہا: مسلمانوں کا ظرف اور برداشت دیگر لوگوں سے زیادہ ہونی چاہیے یہاں تک کہ وہ غیر مسلموں کو بھی برداشت کریں۔ لیکن آج حال یہ ہے کہ مسلمان ایک دوسرے کو بھی برداشت نہیں کرسکتے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ مسلمانوں نے اسلامی تعلیمات سے دوری اختیار کیا ہے۔
نامور سنی عالم دین نے کہا: اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ جہاد حق ہے، لیکن اس کا صحیح محل سمجھنا آساں کام نہیں ہے۔ جہاد ان لوگوں کے خلاف ہے جو مذاکرات اور بات چیت سے انکار کرتے ہیں اور انصاف کو ماننے کے لیے تیار نہیں ہیں۔ اسی لیے آپ دیکھتے ہیں کہ دور نبوی میں ہر جہاد سے پہلے ایک بات چیت چل رہی ہوتی۔
اہل سنت ایران کی سماجی ودینی شخصیت نے مسلم حکمرانوں کو اختلافات کم کرنے کی نصیحت کرتے ہوئے کہا: مسلم ممالک میں اختلاف و تفرقہ ڈالنا اسلام دشمن قوتوں اور عالمی صہیونی تحریک کا ایجنڈا ہے۔ ہمارے دشمنوں کا مفاد اسی میں ہے کہ مسلمان آپس میں دست و گریباں ہوں۔
انہوں نے مزید کہا: آج اگر خطے میں دشمن فوجیں دندناتے پھر رہی ہیں اور قبلہ اول ابھی تک صہیونی ریاست کے قبضے میں ہے، اس کی وجہ مسلمان حکمرانوں کے اختلافات ہیں۔ لہذا ان کو چاہیے اپنے اختلافات کم کرنے کی سنجیدہ کوششیں کریں۔
یاد رہے مذکورہ کانفرنس میں شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید کے علاوہ، بھارت سے مولانا ڈاکٹر سلمان ندوی، پاکستان سے مولانا زاہد الراشدی اور مولانا عزیزالرحمن سواتی (جامعہ دارالعلوم کراچی) بھی شریک تھے۔

کانفرنس میں مولانا ڈاکٹر سلمان حسینی نے حاضرین سے خطاب کرتے ہوئے مسلمانوں میں پھوٹ ڈالنے کی مذمت کی۔ انہوں نے کہا: اہل سنت اور اہل تشیع جیسی اصطلاحات کا استعمال تفرقہ ڈالنے کے لیے نہیں ہونی چاہیے۔ ہم سنت کے متبع ہیں اور بیک وقت نبی کریم ﷺ، سیدنا ابوبکر صدیق، عمر فاروق، عثمان غنی اور علی مرتضی رضی اللہ عنہم کے شیعہ ہیں۔


آپ کی رائے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

مزید دیکهیں