ایران: اہل سنت نے جوش و خروش سے عید منائی

ایران: اہل سنت نے جوش و خروش سے عید منائی

ایران کے طول و عرض میں رہنے والے سنی مسلمانوں نے انتہائی عقیدت اور ایمانی جوش و جذبے کے ساتھ بدھ پانچ جون کو عید الفطر منائی۔ نماز عید مساجد اور عیدگاہوں میں ادا کرنے کے بعد علاقائی رسم و رواج کے مطابق، اپنے اعزہ و اقارب سے ملنے اور قبولیت کی دعا مانگنے کے لیے لوگ گھروں سے نکلے۔
اہل سنت ایران کی آفیشل ویب سائٹ کے مطابق، عید کی صبح جہاں شہریوں نے مساجد و عیدگاہوں کا رخ کیا، وہاں تہران جیسے بعض بڑے شہروں میں سنی نمازیوں کو لائنوں میں کھڑے ہوکر نماز پڑھنے کے لیے انتظار کرنا پڑا۔ یاد رہے تہران، اصفہان، تبریز اور کرمان جیسے شہروں میں اہل سنت کی کوئی مسجد نہیں ہے اور شیراز میں صرف ایک ہی جامع مسجد ہے۔ ان شہروں میں لوگ نمازخانوں میں نماز ادا کرتے ہیں جو عید کے موقع پر انہیں بھی بعض پابندیوں کا سامنا کرنا پڑتاہے۔
ایران میں سنی باشندے زیادہ تر سرحدی علاقوں میں رہتے ہیں جن میں صوبہ سیستان بلوچستان، خراسان، ہرمزگان، گلستان، کردستان، کرمانشاہ، مغربی آذربائیجان اور فارس و بوشہر شامل ہیں۔ قومیت کے لحاظ سے ان کا تعلق بلوچ، عرب، کرد، ترک اور فارس برادریوں سے ہے۔

ریاست مذہبی دباؤ ختم کرے
دریں اثنا اہل سنت کا سب سے بڑا اجتماع زاہدان (ایرانی بلوچستان کا صدر مقام) میں ہوا جہاں زاہدان کی مرکزی عیدگاہ میں دو لاکھ کے قریب نمازی اکٹھے ہوئے۔ نمازیوں سے خطاب کرتے ہوئے ممتاز عالم دین مولانا عبدالحمید نے حکومت سے مطالبہ کیا مذہبی دباؤ ختم کرکے لوگوں کی مذہبی آزادی کا احترام کیا جائے۔
انہوں نے کہا: اللہ تعالی انصاف اور نفاذ عدل بہت پسند ہے، حتی کہ شخصی عبادات مثلا نماز و غیرہ سے بھی زیادہ پسند ہے۔ عدل و انصاف اسلام میں بہت اہم ہے؛ اہل سنت کے مطابق یہ دین کے بنیادی فرائض میں شامل ہے جبکہ اہل تشیع کے نزدیک اصول دین میں اس کا شمار ہوتاہے۔
شیخ الحدیث و مہتمم دارالعلوم زاہدان نے کہا: پائیدار امن عدل وانصاف ہی کا پھل ہے۔ عدل سے قومی اتحاد و امن کو تقویت ملے گی۔ ہم سب کو عادل ہونا چاہیے اور انصاف کا معاملہ کرنا چاہیے؛ شوہر بیوی بچوں کے ساتھ عدل کرے اور حکومت اپنے عوام کے ساتھ، چاہے ان کا تعلق کسی بھی لسانی و مسلکی و مذہبی برادری سے ہو۔ فرمانِ الہی ہے: بے شک اللہ انصاف کرنے اور بھلائی کرنے کا حکم دیتاہے (نحل: 90)
انہوں نے کہا: آئین جو پوری قوم اور ریاست کا متفقہ قرارداد اور معاہدہ ہے، اس کا احترام کرنا چاہیے۔ خاص طورپر طاقتور ادارے اور افراد اس کے قوانین کو بلاامتیاز نافذ کرکے اس کا احترام کریں۔ مذہبی آزادی کا حق اسی آئین کی رو سے ہمیں پہنچتاہے جس کا احترام کرنا ضروری ہے۔
ممتاز دینی و سماجی رہ نما نے کہا: ریاست اور حکومت کو چاہیے غیرقانونی مذہبی دباؤ اور خودساختہ پابندیوں کو ختم کریں۔ خاص طورپر ہم حکام کو ان سنی شہریوں کے حقوق کے بارے میں یاددہانی کرتے ہیں جو بڑے شہروں میں رہتے ہیں اور وہاں اقلیت میں ہیں۔ یہ غیرمحفوظ ہیں اور ان کے حقوق پر کسی کو ڈاکہ ڈالنے کی اجازت نہیں ہونی چاہیے جیسا کہ بعض قوتیں اور اداروں میں موجود عناصر آئین کو پامال کرکے اس کی خلاف ورزی کرتے چلے آرہے ہیں۔

اہواز کے عوام مذہبی آزادی کے مستحق ہیں
شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے اپنے عید کے بیان میں ایران کے جنوب مغربی صوبہ خوزستان کے اہوازی شہریوں کے حقوق کے تحفظ کو بطور خاص یاددہانی کرتے ہوئے کہا: اہواز کے معزز شہری بھی ایرانی ہی ہیں اور حکام کی توجہ ان پر ہونی چاہیے۔ تمام حکام اہوازی شہریوں کے حقوق کا خیال رکھیں؛ ان کے حقوق کو پامال نہیں کرنا چاہیے، انہیں آزادی کے ساتھ جس طرح چاہیں عبادت کرنے کی آزادی حاصل ہونی چاہیے۔
انہوں نے مزید کہا: اہواز کے معزز عوام نے آٹھ سالہ بعثی جارحیت کے وقت قربانیاں دیں اور خود بھی قربانی بنے۔ انہیں مزید احترام اور خیال داری کا حق پہنچتاہے۔
رابطہ عالم اسلامی کے رکن نے کہا: مذہبی مسائل اور رجحانات کو بہانہ بناکر کسی کو اس کے جائز حقوق سے محروم نہیں کیا جاسکتا۔ حکام کو چاہیے بین الاقوامی معاہدوں کا احترام کریں؛ کسی کو اپنے خلاف زہر اگلنے کا بہانہ نہ دیں، البتہ قوم کے مسلمہ حقوق کا دفاع کریں۔

تمام مسلمان ہوشیار رہیں!
مولانا عبدالحمید نے تمام مسلمان عوام اور حکام کو مخاطب کرتے ہوئے کہا: امریکا اور قابض صہیونی ریاست صرف مسلمانوں میں پھوٹ ڈال کر اپنے مفادات یقینی بنانا چاہتے ہیں۔ مسلمان اپنے استقلال کی حفاظت کریں اور مزید عقلمندی و سمجھداری کا مظاہرہ کریں۔ خطے میں تناؤ اپنے عروج پر ہے اور یہ مسلمانوں کے مفاد میں نہیں ہے۔
بیان کے آخری حصے میں خطیب اہل سنت نے کہا: اس سال رمضان کا مہینہ تیس دنوں کا رہا اور تیس رمضان کی شب چاند نظر نہیں آیا۔ کچھ لوگ غلط پروپگینڈا کررہے ہیں کہ اگر منگل کو عید کا اعلان کرتے، عید اور آیت اللہ خمینی کی برسی ایک ہی دن میں ہوتیں۔ اس میں کوئی حقیقت نہیں۔ ہمارے مسلک میں برسی و سالگرہ نام کی کوئی چیز نہیں اور اگر چاند نظر آتا، ہم ضرور اس کا اعلان کرتے اور عید کے دن لوگوں کو روزہ رکھنے کے گناہ سے بچاتے۔

شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید سے پہلے مولانا مفتی محمدقاسم قاسمی نے زاہدانی نمازیوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا: اسلام میں صرف دو ہی عیدیں ہیں۔ باقی ایام جو لوگوں نے اپنی طرف سے انہیں عید کا عنوان دیاہے، شریعت میں اس کا کوئی اعتبار نہیں ہے۔
صدر دارالافتا دارالعلوم زاہدان نے کہا: رمضان اپنے ساتھ دو خوشیوں کو لاتاہے؛ ایک خوشی روزانہ افطاری کرنے میں ہے اور دوسری عید الفطر کی صورت میں رمضان ختم ہونے کے بعد آتی ہے۔ عید مسلمانوں کا انعام و اکرام ہے جنہوں نے پورے رمضان میں روزہ رکھ کر اپنے نفس کی اصلاح کی ہے۔
زاہدان سے منتخب رکن پارلیمان، علیم یارمحمدی نے بھی عید کی نماز کے لیے اکٹھے ہونے والوں سے خطاب کیا۔ انہوں نے اپنے خطاب میں سرکاری ٹی وی میں صحابہ کرامؓ کی شان میں گستاخی کی مذمت کرتے ہوئے کہا: کچھ عناصر جان بوجھ کر صحابہ اور امہات المومنین کی شان میں زبان درازی کرتے ہیں۔ قانون میں ایسے افراد کے لیے سزا متعین کی جائے تاکہ کوئی ایسی حرکت نہ کرسکے۔
انجینئر یارمحمدی نے بعض اداروں کی جانب سے بڑے ٹینکرز کے ساتھ پیٹرولیم مصنوعات کی سمگلنگ پر تنقید کرتے ہوئے بلوچ نوجوانوں پر سکیورٹی فورسز کی فائرنگ اور انہیں قتل کرنے پر سخت برہمی کا اظہار کیا۔


آپ کی رائے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

مزید دیکهیں