بھارت: ‘گوشت’ کھانے پر 4 مسلمان نوجوانوں پر انتہاپسند ہندوؤں کا تشدد

بھارت: ‘گوشت’ کھانے پر 4 مسلمان نوجوانوں پر انتہاپسند ہندوؤں کا تشدد

بھارت میں ہندو انتہا پسندوں کی جانب سے مسلمان نوجوانوں پر تشدد کا ایک اور واقعہ سامنے آگیا۔
سماجی روابط کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر وائرل ہونے والی ویڈیو میں دیکھا جاسکتا ہے کہ 4 مسلمان نوجوان کھانا کھا رہے ہیں کہ اس دوران ’ہندوتوا بریگیڈ‘ سے تعلق رکھنے والے انتہا پسند ہندو موقع پر پہچتے ہیں اور مسلمان نوجوانوں کو بری طریقے سے زد کوب کرتے ہیں۔
ویڈیو میں انتہا پسند ہندوؤں کی جانب سے بیلٹ کے ذریعے مسلمان نوجوانوں پر تشدد کرتے ہوئے دیکھا جاسکتا ہے۔
سماجی روابط کی ویب سائٹ ٹوئٹر کے ایک صارف نے ویڈیو کو شیئر کرتے ہوتے بتایا کہ مذکورہ واقعہ بھارت کے شہر بریلی میں بہدی تھانہ کی حدود میں پیش آیا۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ مذکورہ واقعہ آر ایس ایس کی جانب سے اشارہ ہے کہ اس طرح کے حملے مزید ہوں گے اور مسلمانوں کو نشانہ بنایا جائے گا۔
اسی حوالے سے ایک اور سوشل میڈیا صارف نے ٹوئٹ کیا کہ اتر پردیش کے شہر بریلی میں یومیہ اُجرت پر کام کرنے والے والے مزدروں کو کھانا کھانے پر تشدد کا نشانہ بنایا گیا، انہوں نے بھی اپنے پیغام کے ساتھ ویڈیو شیئر کی۔
ان کا کہنا تھا کہ مسلمان نوجوانوں کو مذہبی مقام پر مبینہ طور پر گائے کا گوشت کھانے پر تشدد کا نشانہ اور دھمکیاں دی گئیں۔
علاوہ ازیں ٹائمز ناؤ کی رپورٹ کے مطابق پولیس نے مسلمان نوجوانوں کو مبینہ طور پر گوشت کھانے پر تشدد کا نشانہ بنانے والے 7 ملزمان کے خلاف مقدمہ درج کرلیا۔
رپورٹ میں بتایا گیا کہ واقعہ 29 مئی کو بریلی میں پیش آیا تھا، جس کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی اور انتظامیہ نے اس کا نوٹس لے لیا۔
سپرنٹنڈنٹ آف پولیس (ایس پی) دیہات سانسر سی نے بتایا کہ ‘4 افراد مندر کے قریب مبینہ طور پر گوشت کھا رہے تھے، جس پر انہیں تشدد کا نشانہ بنایا گیا’۔
ان کا کہنا تھا کہ مذکورہ واقعے سے متعلق مقدمہ درج کرلیا گیا ہے اور جلد ملوث ملزمان کو گرفتار کرلیا جائے گا۔
رپورٹ میں بتایا گیا کہ واقعے میں تشدد کا نشانہ بنائے جانے والے ایک نوجوان نے بتایا کہ وہ سبزی کا سالن کھا رہے تھے جب نامعلوم افراد نے حملہ کیا اور انہیں تشدد کا نشانہ بنایا۔
متاثرہ مزدوروں کے حوالے سے بہاری تھانے کے ایس ایچ او دھانانجے سنگھ نے بتایا کہ مزدروں ایک مکان کی تعمیر کے لیے یومیہ اُجرت پر کام کررہے تھے کہ جہاں انہیں ایک مندر کے قریب کھانا کھانے پر تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔
خیال رہے کہ اس سے قبل بریلی میں ایک استاد کو فیس بک پوسٹ کے ذریعے گائے کے گوشت کے استعمال کی حمایت کرنے پر گرفتار کرلیا گیا تھا۔
مذکورہ گرفتاری کے حوالے سے رپورٹ میں بتایا گیا کہ گرفتار کیے جانے والا شخص ضلع جمشید پور کے سرکاری کالج میں پروفیسر اور ان کا تعلق جھارکھنڈ قبائل سے ہے جبکہ انہیں فیس بک پوسٹ کے 2 سال بعد گرفتار کیا گیا۔
اس سے قبل 25 مئی 2019 کو بھارت میں انتخابات میں ملک کی قوم پرست جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی کامیابی کے اعلان کے دوسرے ہی روز مشتعل ہجوم نے مبینہ طور پر گائے کا گوشت لے جانے والے مسلمان جوڑے کو بد ترین تشدد کا نشانہ بنایا تھا۔
مشتعل ہجوم میں شامل افراد، جن میں سے بعض نے چہرے ڈھانپ رکھے تھے، نے نوجوان کو ڈنڈوں اور لاتوں سے تشدد کا نشانہ بنایا اور اس دوران اسے نازیبا الفاظ سے بھی پکارتے رہے جبکہ اس دوران نوجوان ان سے رحم کی اپیل کرتا رہا۔
بعد ازاں ہجوم نے نوجوان کو مجبور کیا کہ وہ اپنی اہلیہ پر تشدد کرے۔
ویڈیو میں مزید دیکھا جاسکتا ہے کہ مشتعل ہجوم نے مسلمان جوڑے کو گھیرے میں لے رکھا ہے اور نوجوان کو اس کی اہلیہ پر تشدد کے لیے کہا جارہا ہے، جس کے نتیجے میں نوجوان نے اپنی اہلیہ کے سر میں جوتے برسائے اور ساتھ ہی ان سے ‘جے شری رام’ کے نعرے بھی لگوائے گئے۔
واضح رہے کہ بھارت میں گائے کے ذبح اور اسمگلنگ کے حوالے سے بڑھتی ہوئی کشیدگی کی لہر دیکھی گئی ہے۔
2014 میں بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے اقتدار میں آنے کے بعد سے گائے کے مبینہ ذبح اور اس کا گوشت کھانے کے الزام میں قتل میں اضافہ دیکھنے میں آیا۔
19 فروری 2019 کو انسانی حقوق کی نگرانی کرنے والی تنظیم ہیومن رائٹس واچ (ایچ آر ڈبلیو) کا کہنا تھا کہ بھارت میں گائے ذبح کرنے پر مشتعل ہجوم کی جانب سے قتل کے اکثر واقعات میں بھارتی پولیس ملوث ہوتی ہے۔
ہیومن رائٹس واچ کی ساؤتھ ایشیا ڈائریکٹر میناکشی گنگولی نے کہا تھا کہ ’گائے کی حفاظت کے مطالبات شاید ہندو افراد کے ووٹ حاصل کرنے کے لیے شروع کیے گئے ہوں گے لیکن یہ اب مشتعل ہجوم کے لیے اقلیتوں سے تعلق رکھنے والے افراد کو قتل کرنے کی اجازت میں تبدیل ہوگئے ہیں‘۔
رپورٹ کے مطابق مئی 2015 سے لے کر گزشتہ برس دسمبر تک ایسے حملوں میں کم از کم 44 افراد کو قتل کیا جاچکا ہے۔
ہیومن رائٹس واچ نے الزام عائد کیا تھا کہ ’ان میں سے 36 افراد مسلمان تھے اور تقریباً تمام مقدمات میں پولیس نے یا تو ابتدائی تحقیقات روک دیں، طریقہ کار کو نظر انداز کیا اور قتل کی واردات یا اس کی پردہ داری میں خود پولیس ملوث تھی‘۔


آپ کی رائے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

مزید دیکهیں