مولانا عبدالحمید ایرانی صدر کی افطار پارٹی میں:

جاری مشکلات کا حل ’گہری تبدیلیوں‘ اور ’مذاکرات‘ میں ہے

جاری مشکلات کا حل ’گہری تبدیلیوں‘ اور ’مذاکرات‘ میں ہے

اہل سنت ایران کے بااثرترین دینی و سماجی رہ نما نے صدر روحانی کی افطار پارٹی کے مدعوین سے خطاب کرتے ہوئے ایران کے موجودہ مسائل و مشکلات کے حل کے لیے ’گہری تبدیلیوں اور اصلاحات‘ اور بات چیت و مذاکرات پر زور دیا۔
شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے تیرہ مئی دوہزار انیس کی شام کو تہران میں صدر ہاوس میں حاضر درجنوں سنی علمائے کرام اور دانشوروں اور صدر مملکت سمیت بعض اعلی حکام خطاب سے کرتے ہوئے کہا: ہمارا ملک آج کل شدید دباؤ میں ہے اور ہم ان حالات کو سمجھتے ہیں۔ میرے خیال میں ان مسائل سے نجات کے لیے دو اہم کام کرنے ہوں گے۔
انہوں نے کہا: سب سے پہلے ملک میں جاری بعض پالیسیوں میں گہری تبدیلی اور اصلاح کی ضرورت ہے تاکہ اس طرح دل شکستہ اور ناراض لوگ اپنے مطالبات تک پہنچ سکیں اور وہ دوبارہ حکومت کے ساتھ مل جائیں۔ موجودہ حالات میں ہم شدت کے ساتھ اتحاد اور یکجہتی کے محتاج ہیں۔
خطیب اہل سنت زاہدان نے مزید کہا: ہم بات چیت اور مذاکرات پر یقین رکھتے ہیں، حتی کہ نمبر ون دشمن سے بھی بات چیت ہوسکتی ہے۔ بات چیت اسلام میں بلااشکال ہے، چنانچہ نبی کریم ﷺ نے اپنے بدترین دشمنوں سے بھی گفتگو اور مذاکرہ کیا۔ آپﷺ کا ارشاد ہے کہ جس مجلس کا انجام صلح اور مصالحہ ہو، میں اس کا ساتھ دوں گا۔ لہذا ہم بھی بات چیت کا دروازہ بند نہ رکھیں اور اپنے حقوق کا دفاع کرتے ہوئے دشمنوں سے مذاکرات بھی کریں۔

اہل سنت کو مزید مذہبی آزادی چاہیے
صدر و شیخ الحدیث دارالعلوم زاہدان نے اپنے خطاب کے ایک حصے میں اہل سنت ایران کے مسائل پر روشنی ڈالتے ہوئے ان کے دو اہم مطالبات کو ایرانی صدر کے سامنے رکھا۔
انہوں نے کہا: اہل سنت ایران کو بعض شہروں میں مساجد کی ضرورت ہے اور جہاں نمازخانے قائم ہیں، وہاں آزادانہ اقامہء نماز کی اجازت حاصل ہونی چاہیے۔ دینی تعلیم اور مذہبی امور میں اہل سنت کو محدود آزادی حاصل ہے جس کا دائرہ مزید وسیع کرنا چاہیے۔ اس حوالے سے کوئی رکاوٹ نہ ہو تاکہ لوگ بلاخوف و ہراس اپنے رب کی عبادت کیا کریں۔
صدر شورائے مدارس اہل سنت سیستان بلوچستان نے دوسرا مطالبہ پیش کرتے ہوئے کہا: ملازمتوں اور عہدوں کی تقسیم میں مذہب و مسلک کو مداخلت نہیں دینی چاہیے۔ اداروں میں کام کرنے کے خواہشمند شہریوں کو مسلک اور قومیت کی وجہ سے نظرانداز نہ کیا جائے۔ شیعہ و سنی میں کوئی فرق نہیں ہوچاہیے۔ روزگار کے فارمز پر مسلک کا خانہ ختم کرنا چاہیے تاکہ سب شہری بلاامتیاز خدمت کا موقع حاصل کرسکیں۔
انہوں نے کہا: ایران تمام مذہبی و لسانی برادریوں کے اتحاد کا نام ہے۔ لہذا سب کو ملک چلانے میں حصہ دیا جائے تاکہ پائیدار قومی اتحاد اور امن حاصل ہوجائے۔
ممتاز عالم دین مولانا عبدالحمید نے صدر روحانی کو مخاطب کرتے ہوئے کہا: ان دو مطالبات پر توجہ دینا اسلامی جمہوریہ ایران اور ایرانی قوم کے مفاد میں ہے۔ ان مطالبات کو سنجیدگی سے لیاجائے تاکہ امت مسلمہ کے اتحاد اور دیگر ملکوں میں شیعہ اقلیتوں کے حقوق پر مثبت اثرات مترتب ہوجائیں۔


آپ کی رائے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

مزید دیکهیں