آج : 30 April , 2019
شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید:

شریعت پر عمل اور خدا تک پہنچنے کے لیے عقائد کی تقویت ضروری ہے

شریعت پر عمل اور خدا تک پہنچنے کے لیے عقائد کی تقویت ضروری ہے

خطیب اہل سنت زاہدان نے اپنے چھبیس اپریل دوہزار اٹھارہ کے خطبہ جمعہ میں ’غفلت‘ کو معاشرے میں گناہوں کی بہتات اور دین کے حوالے سے بے رغبتی کی اصل وجہ یاد کرتے ہوئے ’اللہ تعالی تک پہنچنے اور شریعت پر عمل‘ کرنے کے لیے دینی عقائد کی تقویت کو ضروری قرار دیا۔
سنی آن لائن نے مولانا عبدالحمید کی آفیشل ویب سائٹ کے حوالے سے رپورٹ دی، خطیب اہل سنت نے سورت العنکبوت کی آیت نمبر چونسٹھ کی تلاوت سے اپنے خطاب کا آغاز کرتے ہوئے کہا: موجودہ حالات میں اگر ہم دنیا کے لوگوں اور مسلمانوں سمیت اپنے ہی حالات کا جائزہ لیں، واضح طورپر معلوم ہوجائے گا کہ ہم سب غفلت کا شکار ہوچکے ہیں۔ شوق عبادت اور موت و آخرت کی سوچ بہت کمزور ہے اور اسی لیے آئے دن گناہ کا ارتکاب بڑھ رہاہے۔
انہوں نے مزید کہا: ہم مسلمانوں کا کام جڑ سے مشکلات سے دوچار ہے؛ جب ہم نماز کے لیے کھڑے ہوتے ہیں دل و دماغ کہیں اور ہوتاہے۔ عبادات کا شوق نہیں ہے اور عبادت بھی اگر ہے تو بے رغبتی کے ساتھ ہوتی ہے۔ وجہ یہ ہے کہ ہمارا یمان کمزور ہوچکاہے اور توحید، نبوت اور معاد کے بارے میں عقیدہ کمزور ہے۔
شیخ الحدیث دارالعلوم زاہدان نے اللہ تعالی تک پہنچنے کے لیے ’تقویت ایمان‘ پر زور دیتے ہوئے کہا: ہر مسلمان کو چاہیے قبر، موت، آخرت، حساب وکتاب اور جنت و جہنم کے حوالے سے اپنے عقائد کو پرزور بنادے تاکہ شریعت پر عمل اور ترکِ گناہ اس کے لیے آسان ہوجائے۔
انہوں نے مزید کہا: جب دنیا کی شدید محبت دل میں ہو، وہاں اللہ تعالی کی محبت داخل نہیں ہوسکتی۔ ایسا دل شخص کو عبادات کی جانب جانے نہیں دیتا اور نماز و روزہ و دیگر عبادات کا اچھا اثر قبول بھی نہیں کرتا۔
مولانا عبدالحمید نے کہا: دنیاوی چیزیں ہماری ضرورتیں ہیں؛ انہیں دل کے اندر نہیں باہر رکھنا چاہیے، ورنہ یہ چیزیں خطرناک ہوں گی۔ جس طرح کشتی چلنے کے لیے پانی کا محتاج ہے، لیکن اگر پانی کشتی کے اندر آجائے، وہ کشتی ڈوب کر تباہ ہوجائے گی۔
انہوں نے مزید کہا: اللہ تعالی نے خبر دی ہے کہ ہزاروں نمازی اور حاجی جہنم میں جائیں گے، وجہ یہ ہے کہ ان کی برائیاں اچھائیوں سے بڑھ جائیں گی اور انہوں نے لوگوں پر ظلم کیا ہے۔ لہذا سب اپنے عقائد کی تقویت کی محنت کریں تاکہ غفلت کا پردہ اٹھ جائے اور ہم اپنی ابدی زندگی کو مت بھولیں۔

مساجد و معابد کو مسمار کرنے سے گریز کیا جائے
شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے اپنے خطاب کے دوسرے حصے میں ملک بھر میں موجود مساجد و عبادتگاہوں کے احترام پر زور دیتے ہوئے انہیں مسمار کرنے کی حرکت کو غلط قرار دیا۔
انہوں نے سول اور عدلیہ حکام کو مخاطب کرتے ہوئے کہا: مساجد انتہائی موقر و محترم جگہیں ہیں۔ اگر کسی جگہ کوئی بستی غیرقانونی طورپر آباد ہوتی ہے اور حکام اسے مسمار کرنا چاہتے ہیں؛ سب سے پہلی بات یہ ہے کہ ہم بستیوں اور مکانوں کے مسمار کرنے کے خلاف ہیں۔ ایسی بستیوں کو آباد نہ ہونے دیاجائے، جب آباد ہوگئیں، تو مسمار کی جگہ کوئی متبادل راستہ اختیار کیاجائے۔ مساجد کو تو کسی بھی صورت میں مسمار نہیں کرنا چاہیے۔
صدر دارالعلوم زاہدان نے کہا: گھروں کی نسبت لوگوں کی طرف ہے لیکن مساجد کی نسبت اللہ تعالی کی طرف ہے۔ یہی نسبت قابل احترام ہے۔ بعض اوقات کچھ ادارے رپورٹ دیتے ہیں کہ فلاں مسجد غیرقانونی ہے اور حکام بستیوں میں جاکر ایسی مساجد کو مسمار کرتے ہیں؛ یہ بالکل غلط کام ہے۔ اگر کسی جگہ کوئی مسجد تعمیر ہوچکی ہے اور وہ غیرآباد علاقہ میں واقع ہوچکی ہے، پھر بھی اسے مسمار نہیں کرنی چاہیے۔ ہوسکتاہے کوئی مسافر وہاں جاکر نماز پڑھے یا آرام کرے۔
شیخ الحدیث دارالعلوم زاہدان نے مسجد ضرار کے واقعے سے غلط استدلال کی تردید کرتے ہوئے کہا: مساجد کی تخریب کے حوالے سے کچھ لوگ مسجد ضرار کے واقعے سے غلط دلیل لیتے ہیں، حالانکہ مسجد ضرار کو مسمار کرنے کا حکام وحی کے ذریعے نبی کریم ﷺ کو دیا گیا کہ یہ مسجد نہیں منافقین اور یہودیوں کے گٹھ جوڑ سے مسلمانوں کے خلاف ایک کمپاونڈ ہے۔ اس کا مقصد مسلمانوں میں انتشار پھیلانا تھا اور اسی لیے اللہ تعالی نے اسے مسمار کرنے کا حکم دیا۔
انہوں نے کہا: اب لوگ کسی بھی مقصد کے لیے مسجد بنائیں ، اس مسجد کا احترام ضروری ہے۔ اسی طرح غیرمسلمانوں کی عبادتگاہوں کا احترام کرنا ضروری ہے۔ کسی بھی مذہب کی مسجد اور عبادتگاہ کو مسمار نہیں کرنی چاہیے۔
مولانا عبدالحمید نے مساجد کو مسمار کرنے کے منفی نتائج پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا: مساجد کی شان میں بے حرمتی پر منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ہمارے ملک میں ایسے اقدامات کی وجہ سے ملک کو ناقابل تلافی نقصانات بھگتنا پڑاہے۔
انہوں نے مساجد کو مسلکی بنیادوں پر تقسیم کرنے کے رویے کو مسترد کرتے ہوئے کہا: مسجد اللہ کی ہے، شیعہ یا سنی کی نہیں۔ لہذا مسلک کی بنیاد پر نہ کسی مسجد کی بے حرمتی کی جائے نہ ہی مخالف مسلک کی مسجدوں کی تعمیر سے گریز کیا جائے۔ مسجد اللہ کے لیے بنائی جاتی ہے، سیاست یا مفادات کی خاطر نہیں۔جب زاہدان میں اہل تشیع کی جامع مسجد تعمیر ہورہی تھی، اہل سنت کے تاجروں نے بھی اپنا حصہ ڈال کر اس کی تعمیر میں ہمارے کہنے پر مدد کی۔
خطیب اہل سنت نے کہا: مسجد چاہے شیعہ کی ہو یا سنی کی، کسی بھی مسجد کو مسمار نہیں کرنا چاہیے۔ مساجد کو مسمار کرنے سے حکومت کے خلاف پروپگینڈے کا سلسلہ شروع ہوجائے گا اور اس سے عداوت و حسد پیدا ہوگا۔ مساجد کے علاوہ یہودیوں اور عیسائیوں کی عبادتگاہوں کا بھی احترام کیا جائے ، اگر کوئی غلط طریقے سے عبادت کرتاہے، وہ خود جوابدہ ہوگا۔

سری لنکا کے چرچوں پر حملہ چونکا دینے والا تھا
اہل سنت ایران کی ممتاز دینی و سماجی شخصیت نے سری لنکا میں حالیہ دھماکوں اور خودکش حملوں پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا: سری لنکا میں کچھ انتہاپسندوں نے عیسائیوں کی عبادتگاہوں پر حملہ کرتے ہوئے درجنوں افراد کو قتل اور مزید افراد کو زخمی کردیاہے۔ اس واقعے نے ہمیں ہلاکر رکھ دیا۔
شیخ الاسلام مولاناعبدالحمید نے مزید کہا: اس سے پہلے نیوزی لینڈ کا المناک حادثہ پیش آیا جہاں کچھ انتہاپسندوں نے مساجد میں مسلمانوں کو نشانہ بناکر نمازیوں کو لہولہاں کردیا اور متعدد افراد وہاں شہید ہوئے۔ ان واقعات سے پوری دنیا متاثر ہوگئی اور سب پریشان ہوئے۔
انہوں نے عبادتگاہوں پر حملوں کی مذمت کرتے ہوئے سوال اٹھایا: کیوں جب لوگ عبادت کے لیے جاتے ہیں ، چاہے وہ مسجد جائیں یا گرجاگھر، انہیں نشانہ بنایاجاتاہے؟ بدامنی کی یہ لہر کیوں مساجد و معابد تک پھیل چکی ہے؟ کیوں مساجد غیرمحفوظ ہیں؟ غیرمسلموں کی عبادتگاہیں کیوں غیرمحفوظ ہوچکی ہیں؟ اس بارے میں سوچنا چاہیے۔
مولانا عبدالحمید نے مذہبی مکانات پر حملوں کو عقل و ثقافت کے خلاف قرار دیتے ہوئے کہا: عبادتگاہوں کو نشانہ بنانا عقل کے خلاف ہے۔ اسلام کی اعلی تہذیب و ثقافت اور اہل دنیا کی محفوظ رہنے والی ثقافت اس بات کو تسلیم نہیں کرتیں کہ کسی عبادتگاہ کو نشانہ بنایاجائے چاہے وہ مسجد ہو یا گرجاگھر ۔ یہ مسائل حقیقی طورپر ایرانی قوم اور پوری دنیا کے آزادخیال لوگوں کے لیے پریشان کن ہیں جس پر وہ الرٹ ہوچکے ہیں۔
انہوں نے کہا: ہمارے خیال میں سری لنکا اور نیوزی لینڈ کے حملے غلط تھے اور ہم ان کے خلاف ہیں۔ تمام مذاہب کے گروہوں اور پارٹیوں کو ہماری نصیحت ہے کہ انتہاپسندی و شدت پسندی سے بچیں اور لوگوں کے جذبات کو مشتعل کرنے اور ٹھیس پہنچانے سے گریز کریں۔
خطیب اہل سنت زاہدان نے ’یوم شوریٰ‘ کی جانب اشارہ کرتے ہوئے شوریٰ جو ایک پسندیدہ مسئلہ یاد کیا جس پر اسلام نے بہت تاکید کی ہے۔



آپ کی رائے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

مزید دیکهیں