آج : 20 April , 2019

حضرت علی کرم اللہ وجہہ کا قبول اسلام

حضرت علی کرم اللہ وجہہ کا قبول اسلام

حضرت علی رضی اللہ عنہ کی عمر ابھی صرف دس سال کی تھی کہ ان کے شفیق مربی کو دربارِ خداوندی سے نبوت کا خلعت عطا ہوا، چونکہ حضرت علی رضی اللہ عنہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ہی رہتے تھے اس لیے ان کو اسلام کے مذہبی مناظر سب سے پہلے نظر آئے، چنانچہ ایک روز آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور ام المومنین حضرت خدیجۃ الکبری رضی اللہ عنہا کو مصروف عبادت دیکھا، اس مؤثر نظارہ نے اثر کیا طفلانہ استعجاب سے پوچھا: ’’آپ دونوں کیا کررہے تھے؟‘‘ سرور کائنات ﷺ نے نبوت کے منصب گرامی کی خبر دی اور کفر و شرک کی مذمت کرکے توحید کی دعوت دی، حضرت علی رضی اللہ عنہ کے کان ایسی باتوں سے آشنا نہ تھے، متحیر ہوکر عرض کی: ’’اپنے والد ابوطالب سے دریافت کروں اس کے متعلق؟ چونکہ سرور کائنات ﷺ کو ابھی اعلان عام منظور نہ تھا، اس لیے فرمایا کہ ’’اگر تمہیں تامل ہے تو خود غور کرو لین کسی سے اس کا تذکرہ نہ کرنا‘‘، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی پرورش سے فطرت سنور چکی تھی، توفیق الہی شامل ہوئی ، اس لیے زیادہ غور و فکر کی ضرورت پیش نہ آئی اور دوسرے ہی دن بارگاہ نبوت میں حاضر ہو کر مشرف بہ اسلام ہوگئے۔
وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ابوطالب سے پوشیدہ آیا کرتے اور اپنے اسلام کو (رسول اللہ ﷺ کی حسب ہدایت) ظاہر نہیں کیا، پہلا شخص جس نے رسول اللہ ﷺ کے ساتھ نماز ادا کی وہ علی رضی اللہ عنہ تھے، جب نماز کا وقت آتا رسول اللہ ﷺ مکہ کی کسی گھاٹی میں جا کر عبادت کرتے اور آپ ﷺ کے ساتھ علیؓ بھی اپنے والد، چچا صاحبان اور تمام افراد خاندان سے چھپ کر جاتے اور تمام نمازیں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ ادا کرتے اور شام ہوجاتی گھر واپس آجاتے، یہ سلسلہ جب تک اللہ کو منظور تھا جاری رہا، ایک دن جب کہ یہ دونوں نماز پڑھ رہے تھے، ابوطالب نے دیکھ لیا، ابوطالب نے رسول اللہ ﷺ سے پوچھا: ’’عزیز من! یہ کون سا دین ہے جس کی تم پیروی کررہے ہو؟‘‘ آپ ﷺ نے جواب دیا: ’’عم محترم! یہ اللہ کا، اللہ کے فرشتوں کا، اس کے پیغمبروں کا اور ہمارے جد امجد حضرت ابراہیم علیہ السلام کا دین ہے، اللہ نے مجھے اپنے بندوں کی طرف رسول بنا کر بھیجا ہے، اور چچا جان! آپ سب سے زیادہ اس بات کے مستحق ہیں جن کو مخلصانہ دعوت پیش کی جائے، ابوطالب نے جواب دیا: اے عزیز! میں اپنے آباء کا مذہب اور ان کے طور طریق نہیں چھوڑ سکتا، لیکن بخدا جب تک میں زندہ ہوں تم کو کوئی تکلیف نہیں پہنچے گی‘‘، سیرت نگاروں کا بیان ہے کہ ابوطالب نے اپنے صاحبزادہ علی مرتضی رضی اللہ عنہ سے کہا: ’’اے بیٹے یہ کیا مذہب ہے جس پر تم چل رہے ہو؟‘‘ انھوں نے کہا: ’’والد صاحب! میں اللہ اور اللہ کے رسول پر ایمان لاچکا ہوں اور رسول اللہ ﷺ کے ساتھ اللہ کی عبادت کرتا ہوں اور ان کی پیروی کرتا ہوں۔ راویوں کا خیال ہے کہ اس کے جواب میں ابوطالب نے کہا: وہ تم کو اچھی بات ہی کی طرف بلاتے ہیں لہذا اس پر قائم رہو‘‘۔
جو لوگ حق و صداقت کی جستجو اور اسلام کی طلب میں مکہ آیا کرتے تھے، حضرت علی رضی اللہ عنہ ان کی مدد اور رہنمائی فرمایا کرتے تھے اور انہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پہنچایا کرتے تھے، اس کام کے لیے اللہ تعالی نے ان کو خاص صلاحیت اور ذہانت بخشی تھی۔
سیدنا علی مرتضی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ’’ایک دن ہم اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم گھر سے نکلے اور کعبہ کے در پر آئے، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بیٹھ جاؤ اور میرے کاندھوں پر پیر رکھ کر اونچے ہوئے اور کہا کہ کھڑے ہوجاؤ، میں کھڑا ہوا مگر میری کمزوری کو آپ ﷺ نے محسوس فرمالیا، فرمایا: بیٹھ جاؤ، پھر خود آپ ﷺ بیٹھ گئے اور مجھ سے کہا کہ میرے کاندھوں پر سوار ہوجاؤ، جب ایسا کیا اور آنحضرت ﷺ مجھے لیے ہوئے کھڑے ہوئے تو مجھے ایسا لگا کہ اتنا اونچا ہورہا ہوں کہ آسمان کی بلندی تک پہنچ جاؤں گا، میں اس طرح کعبہ کی چھت پر پہنچ گیا، اور وہاں جو پتیل یا تانبے کا بنا ہوا بت رکھا ہوا تھا، اس کو میں داہنے بائیں موڑنے لگا اور آگے پیچھے جھکانے لگا یہاں تک کہ اس کو اپنے قابو میں لے آیا، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ اس کو گرادو، میں نے گرایا تو وہ ایسا چور چور ہوگیا جیسے شیشے کے بنے ہوئے برتن، پھر وہاں سے اترا اور ہم دونوں تیز قدم چلتے ہوئے گھروں کے پیچھے آگئے کہ کہیں کوئی ہمیں دیکھ نہ لے‘‘۔
ایک روز آپ ﷺ نے اپنے خاندان میں تبلیغ اسلام کی کوشش فرمائی اور حضرت علیؓ سے فرمایا کہ ’’دعوت کا سامان کرو‘‘، حضرت علی رضی اللہ عنہ کی عمر اس وقت مشکل سے چودہ پندرہ برس کی تھی لیکن انہوں نے اس کم سنی کے باوجود نہایت اچھا انتظام کیا، دستر خوان پر بکرے کے پائے اور دودھ تھا دعوت میں کل خاندان شریک تھا جن کی تعداد چالیس تھی، حمزہؓ، عباسؓ، ابوطالب سب شریک تھے، آنحضرت ﷺ نے کھانے کے بعد کھڑے ہو کر فرمایا کہ ’’میں وہ چیز لے کر آیا ہوں جو دین و دنیا دونوں کی کفیل ہے، اس بارِ گراں کو اٹھانے میں کون میرا ساتھ دے گا‘‘، تمام مجلس میں سناٹا تھا، دفعۃً حضرت علی رضی اللہ عنہ نے اٹھ کر کہا: ’’گو مجھ کو آشوب چشم ہے، گو میری ٹانگیں پتلی ہیں اور گو میں سب سے نوعمر ہوں، تا ہم میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ساتھ دوں گا‘‘، قریش کے لیے یہ ایک حیرت انگیز منظر تھا کہ دو شخص (جن میں ایک تیرہ سال کا نوجوان ہے) دنیا کی قسمت کا فیصلہ کررہے ہیں، حاضرین کو بے ساختہ ہنسی آگئی، آنحضرت ﷺ نے فرمایا: اچھا تم بیٹھ جاؤ، پھر لوگوں سے خطاب فرمایا، لیکن کسی نے جواب نہ دیا، حضرت علی رضی اللہ عنہ پھر اٹھے، آنحضرت ﷺ نے اس دفعہ بھی انہیں بٹھا دیا، یہاں تک کہ جب تیسری دفعہ بھی اس بار گراں کا اٹھانا کسی نے قبول نہیں کیا تو اس مرتبہ بھی حضرت علیؓ نے جاں بازی کے لہجہ میں انہیں الفاظ کا اعادہ کیا، تو ارشاد ہوا کہ ’’بیٹھ جا تو میرا بھائی اور میرا وارث ہے‘‘۔



آپ کی رائے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

مزید دیکهیں