دارالعلوم زاہدان کی 28ویں تقریب دستاربندی منعقد ہوگئی

دارالعلوم زاہدان کی 28ویں تقریب دستاربندی منعقد ہوگئی

زاہدان (سنی آن لائن) اہل سنت ایران کے سب سے بڑے دینی ادارہ جامعہ دارالعلوم زاہدان کے سالانہ جلسہ دستاربندی جمعرات چار اپریل کو منعقد ہوگیا جہاں ڈیڑھ لاکھ کے قریب افراد نے علما کے بیانات سے استفادہ کیا۔
سنی آن لائن کے نامہ نگاروں کے مطابق، بدھ تین اپریل کی شام سے شروع ہونے والی تقریب میں ایران کے مختلف صوبوں سے تعلق رکھنے والے ہزاروں افراد شریک ہوئے۔ مذکورہ جلسہ اہل سنت ایران کا سب سے بڑا اجتماع مانا جاتاہے جس میں مختلف علاقوں کے سنی باشندے شرکت کرتے ہیں جن کا تعلق بلوچ، فارس، ترکمن، عرب، کرد، ترک اور دیگر برادریوں سے ہے۔
بدھ کی شام والی نشست میں تہران کے مایہ ناز عالم دین مولانا عبیداللہ موسی زادہ اور نئے فاضل مولوی حسین طاہری جبکہ خراسان کے ضلع تایباد کے مولانا حامد شیخ جامی نے خطاب کیا۔ اس نشست میں شاندار نظمیں بھی پیش کی گئیں۔
مولانا عبیداللہ نے ایمان کی اہمیت کے بارے میں خطاب کرتے ہوئے مولانا اشرفعلی تھانوی رحمہ اللہ کے حوالے سے کہا: جب کسی کا ایمان کامل ہوتاہے، اس کے لیے دین کے دیگر شعبوں پر عمل کرنا آسان ہوجاتاہے۔ مغربی دنیا نے آج سب کچھ ہم سے چھینا ہے اور دین سے چند ظاہری چیزوں کے علاوہ کچھ باقی نہیں ہے۔ ہم کہتے کچھ اور کرتے کچھ، اسی لیے نتیجہ الٹ نکلتاہے۔
جمعرات کی فجر کی نماز پڑھنے کے بعد مہمانوں نے مولانا عبدالغنی بدری کا درس قرآن سنا۔ ساڑھے آٹھ بجے تقریب کا باقاعدہ آغاز ہوا۔ اس نشست میں صوبہ گلستان کے مفتی عبدالعزیز حنفی، صوبہ خراسان کے مولانا گل محمد مومن، مولانا بہزاد فقہی اور بلوچستان کے مولانا عثمان خاشی اور مولانا محمدطیب ملازئی نے خطاب کیا۔ قم سے آنے والے ممتاز عالم دین آیت اللہ احدی نے بھی اس نشست میں گفتگو کی۔
مولانا حنفی نے صوبہ گلستان میں سیلاب کی جانب اشارہ کرتے ہوئے اسے اللہ کی آزمائش قرار دی اور صبر و ہمدردی پر زور دیا۔ انہوں نے شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید کا شکریہ ادا کیا جنہوں نے سیلاب کے متاثرین کی ہرممکن مدد کی۔
بلوچ ارکان پارلیمان انجینئر علی کرد، علیم یارمحمدی اور ڈاکٹر محمد نعیم امینی فرد نے بھی اس عظیم الشان تقریب کے شرکا سے خطاب کیا۔
ڈاکٹر امینی فرد نے اس باوقار تقریب کے انعقاد کو زاہدان اور صوبہ سیستان بلوچستان کے لیے باعثِ فخر یاد کیا۔ انہوں نے آئین کو ایک قومی قرارداد یاد کرتے ہوئے اہل سنت کے پسماندہ اور غریب علاقوں پر مزید توجہ دینے کا مطالبہ پیش کیا۔
انجینئر علی کرد نے اپنے خطاب میں کہا: بلوچ قوم پوری تاریخ میں وطن دوست قوم رہی ہے۔ ہم چاہتے ہیں آئین کے تناظر میں اہل سنت کے لیے خدمت کے مواقع فراہم ہوں۔ ہم سرکاری خدمات پر سرکار کا شکریہ ادا کرتے ہیں، لیکن یہاں پسماندگی اس قدر گہری ہے کہ ریاستی خدمات تھوڑی نظر آتی ہیں۔
مولانا مفتی محمدقاسم قاسمی نے اپنے خطاب میں تقویٰ کو ایمان کا تقاضا قرار دیتے ہوئے کہا: ایمان کے تین دشمن ہیں: شرک، نفاق اور کفر۔ اللہ تعالی ہم سے خالص ایمان چاہتاہے۔ حقیقی ایمان غیرت و بہادری لاتاہے اور سب کو عدل قائم کرنے پر رضامند کرتاہے۔

اجتماع کا پیغام
اس تقریب کے آخری خطیب صدر جامعہ دارالعلوم زاہدان مولانا عبدالحمید تھے جنہوں نے سب سے پہلے عظیم الشان اجتماع کے پیغام پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا: اس اجتماع میں کسی کے خلاف کوئی موقف نہیں اپنایاجاتاہے، ہم سب کی بھلائی چاہتے ہیں۔یہ اجتماع امت واحدہ کی تشکیل کا پیغام دیتاہے۔
مولانا نے کہا: ہمارا پیغام تمام مسلمانوں کو یہی ہے کہ بات چیت اور مذاکرات کی طرف واپس لوٹیں، مذاکرات کا دروازہ بند نہ رکھیں، اسی میں ہماری مشکلات کا حل ہے۔
انہوں نے کہا: شام، عراق اور یمن جیسے ملکوں کے مسائل کا حل بات چیت اور جامع حکومتیں بنانے میں ہے۔
خطیب اہل سنت نے مزید کہا: اگر ہم سیاسی و معاشرتی بحرانوں سے نجات چاہتے ہیں، ہمیں اللہ ہی کی طرف لوٹنا پڑے گا۔ افسوس کی بات ہے کہ آج کل دعوے بہت ہوتے ہیں، لیکن عمل کم ہوتاہے۔ خداپرستی و اخلاص کی جگہ خودپرستی اور ریاکاری آچکی ہیں۔ صحابہؓ نے کسی بھی جہاد سے پہلے اپنے نفس ہی کے خلاف جہاد کیا۔
انہوں نے کہا: بہت سارے مسلمان افراط و تفریط کا شکار ہوچکے ہیں۔ کچھ لوگ بالکل دین کی طرف توجہ نہیں کرتے ہیں اور بعض لوگ دینداری کا دعویٰ کرتے ہیں لیکن اسلام کا دائرہ بہت محدود رکھتے ہیں اور فراخدلی کا مظاہرہ نہیں کرتے ہیں۔

اہل سنت تشدد، بدامنی اور فرقہ واریت کے خلاف ہے
مولانا عبدالحمید نے اپنے بیان کے آخری حصہ میں ڈیڑھ لاکھ سے زائد مجمع سے خطاب کرتے ہوئے کہا: امت مسلمہ کے اہم مسائل میں ایک خشک تعصبات اور عصبیت شامل ہیں۔ اسلام رواداری کا درس دیتاہے، لیکن کچھ لوگ اس کے خلاف عمل کرتے ہیں۔ جو فراخدلی صحابہ و اہل بیتؓ میں تھی، وہ آج کے مسلمانوں میں نہیں پائی جاتی ہے۔
انہوں نے کہا: ایران کی سنی برادری تشدد، فرقہ واریت اور بدامنی کے خلاف ہے، ہم بدامنی کو اپنے ملک اور دیگر ملکوں کے لیے نہیں چاہتے ہیں۔ ہم جنگ و لڑائی کے خلاف ہیں۔
اہل سنت ایران کے ممتاز عالم دین نے کہا: سنی برادری اپنے ہم وطنوں سے برابر کے حقوق چاہتی ہے۔ ہم نے ریاست کے لیے کوئی بہانہ نہیں چھوڑا ہے اور ہرمیدان میں پیش پیش ہوکر اپنی وفاداری ثابت کی ہے۔ہم مانتے ہیں کہ ہمیں آزادی حاصل ہے، لیکن جن علاقوں میں اہل سنت اقلیت میں ہیں، انہیں مسجد بنانے اور عبادت کے حوالے سے آزادی حاصل نہیں ہے۔
انہوں نے کہا: ہم امتیازی رویوں کا خاتمہ چاہتے ہیں، اگر مرشد اعلی کے حکم نامہ پر اعلی حکام توجہ دیتے اور امتیازی رویوں کا خاتمہ کرتے، سنی برادری کے تمام مسائل حل ہوجاتے تھے۔


آپ کی رائے

Leave a Reply

Your email address will not be published.

مزید دیکهیں