آج : 28 March , 2019

سوانح حیات قائد جمعیت، مہتمم دارالعلوم حقانی شیخ الحدیث حضرت مولانا سمیع الحق شہید رحمہ اللہ

سوانح حیات قائد جمعیت، مہتمم دارالعلوم حقانی شیخ الحدیث حضرت مولانا سمیع الحق شہید رحمہ اللہ

مضت الدھور و ما أتین بمثلھم
و لقد أتی فعجزن عن نظرأہ

دفاع پاکستان و افغانستان کونسل کے سربراہ، جمعیت علماء اسلام (س) کے امیر، دیوبند ثانی دارالعلوم حقانیہ کے مہتمم، ملک میں شریعت اسلامیہ کے نفاذ کے لئے پارلیمینٹ میں سب سے طویل عرصہ تک جنگ لڑنے والے سابقہ سنیٹر، درجنوں کتابوں کے مصنف، عظیم سکالر، عالم اسلام کے معروف ہر دلعزیز رہنما، ماہنامہ الحق کے بانی و مؤسس، ایڈیٹر اور مغرب میں فادر آف طالبان کے نام سے مشہور، عظیم شخصیت احقر (عرفان الحق) کے تایا جان حضرت مولانا سمیع الحق صاحب رحمہ اللہ کو بروز جمعہ ۲ نومبر ۲۰۱۸ء بعد از مغرب ۶ بجے ان کے مکان واقع بحریہ ٹاؤن راولپنڈی میں خنجروں کے ذریعے درجنوں وار کر کے بڑی بے دردی سے شہید کردیا گیا ’انا للہ و انا الیہ راجعون‘‘۔
اس واقعہ کی اطلاع احقر اور برادر مکرم مولانا حامد الحق کو ۴۰:۶ پر ان کے سیکرٹری نے موبائیل پر اس وقت دی جب ہم آسیہ ملعونہ کے خلاف جہانگیرہ میں منعقدہ احتجاجی مظاہرہ سے واپس ہورہے تھے۔ اس قیامت خیز خبر سے ایسا محسوس ہوا جیسے سروں پر آسمان ٹوٹ گیا ہو اور زمین پاؤں کے نیچے سے بالکل سرک گئی ہو، اطلاع ملتے ہی ہم فوراً روانہ ہو چلے، راولپنڈی پہنچے تو سفاری ویلاز ہسپتال کے باہر مولانا صاحب کے سینکڑوں عقیدت مند کھڑے تھے، مولانا صاحب ؒ نے کسی کا کیا بگاڑا تھا؟ وہ تو ملک و ملت کے حد درجہ خیر خواہ شخصیت تھے، جس ظالم نے بھی یہ کیا اس کا ٹھکانہ جہنم ہے۔ مولانا احمد شاہ (معاون مولانا سمیع الحق رحمہ اللہ) ایک جگہ نڈھال پڑے تھے، میں نے کہا کہ آپ انہیں اکیلا چھوڑ کر کہاں چلے گئے تھے؟ تو اس نے کہا میں حضرت کے حکم سے سودا سلف لینے کار چوک تک گیا اور پیچھے یہ گھناونی واردات ہوچلی۔ درجنوں علماء و مقامی سیاسی زعماء تعزیت کے ساتھ ساتھ حوصلہ بھی دلا رہے تھے۔
تایا جان کو ہم اہل خاندان چھوٹے اباجی کے شیریں نام سے پکارتے تھے، ان کے جسد سے سفید چادر ہٹائی تو دل چیرنے والی کیفیت کا سامنا کرنا پڑا، حضرت کا چہرہ مبارک، داڑھی، سینہ، کندھے خون سے لت پت تھے۔ فوراً ان کے ماتھے اور ہونٹوں کا بوسہ لیا، ۶۱ برس تک قال اللہ و قال الرسول صلی اللہ علیہ وسلم کے زمزمے بلند کرنے والے ہونٹ اب بالکل خاموش تھے، یقین نہیں آرہا تھا۔ وہ سینہ جو اسلامی علوم و فنون ، حدیث مبارکہ اور قرآن پاک کے علوم کا گنجینہ تھا، اس پر کوئی اس بے دردی سے وار کرسکتا ہے؟ ضبط کے بندھن ٹوٹ گئے اور چیخ چیخ کر رونا شروع کیا، چند ہی لمحوں میں بدبخت شقی القلب لوگوں نے ان کے سینہ، کندھوں اور چہرے و سر پر بیشمار وار کئے تھے۔ مزید حوصلہ دیکھنے کا نہ رہا تو فوراً کپڑے سے حضرت کے جسد کو ڈھانپ دیا۔ مولانا قاری فضل ربی (مہتمم مدرسہ گلستان جوہر) نے بڑھ کر تسلی دینے کی کوشش کی، پھر مولانا عبدالمجید ہزاروی (جامعہ فرقانیہ والے) نے صبر کی تلقین فرمائی، ناظم وفاق المدارس پنجاب مولانا عبدالرشید، مولانا عبدالغفور حیدری، فرزند مرد حر جنرل حمید گل عبداللہ گل صاحب نے حالات کا مقابلہ کرنے کی نصیحت کی اور کہا کہ آج میں دوبارہ یتیم ہوچلا۔
پولیس کے اعلیٰ حکام، حضرت کو پوسٹ مارٹم کروانا چاہ رہے تھے، میں نے اور مولانا حامد الحق و دیگر برادران نے باہمی اتفاق سے شرعی نقطہ نظر کے بنیاد پر پوسٹ مارٹم سے معذرت کی، لیکن وہ بضد تھے کہ یہ ضروری ہے میں نے جذباتی ہو کر کہا کہ کتنے پوسٹ مارٹموں سے مجرموں تک آج تک رسائی ہوسکی؟ اس ملک میں تو صدر اور وزیر اعظم جیسے لوگوں کے قاتل بھی نامعلوم ٹہرے۔ بڑی لے دے کے بعد وہ مولانا حامد الحق کے ساتھ مشاورت کرنے لگے۔ جبکہ میں حضرت کے مکان اور کمرہ واردات دیکھنے کیلئے مولانا احمدشاہ کو ساتھ لے کر روانہ ہوا، جہاں تفتیشی ٹیمیں اپنی سرگرمیوں میں مصروف تھیں، دیکھا تو چارپائی کے چادر پر خون پڑا تھا، نیچے دائیں جانب زمین پر جما ہوا خون بھی نمایاں نظر آرہا تھا، یہ سب کچھ نہ جانے کس طرح سے دیکھنے کا حوصلہ پیدا ہوا۔ پریشانی کے عالم میں احقر کبھی اوپر حضرت کے کمرے اور کبھی سیڑھیوں سے اتر کر مکان کے نچلے حصہ کو دیکھتا رہا کہ نہ جانے یہ ملک و ملت کا دشمن کس طرف سے داخل ہوکر شقاوت کے مظاہرے کرنے میں مصروف ہوا؟ نہ جانے حضرت نے دفاعانہ کوشش میں کیا نصیحت کی ہوگی؟ ان کیلئے تو موت اور حیات دونوں یکساں تھے، بلکہ موت وصال حبیب کا ذریعہ تھا۔ ہم جیسے ناتوانوں کیلئے ان کی حیات دنیاوی میں بے فکری کا سامان تھا، یہ تصور و سوچ بھی ہمارے لئے محال ہوجاتا تھا کہ حضرتؒ نہ ہونگے ہم تو زبان حال سے کہتے تھے کہ ؂ تیری عمر ہو سو برس اور ہر روز ہو ہزار سال
ہم نے آپؒ کو اخلاق عالیہ میں بالکل یوں پایا، جیسے کہ اکابرین و اسلاف کے متعلق کتابوں میں مذکور ہیں۔ بڑے بڑے مناصب پر فائز ہونے کے باوجود آپ کی ذات میں تکبر کا شائبہ بھی نہیں تھا۔ شفقت و اصاغر نوازی آپ میں کوٹ کوٹ کر بھری تھی۔ چھوٹے سے چھوٹے طالب علم کے ساتھ بھی توجہ اور بات چیت میں ایسے پیش آتے، جیسے ایک بڑا ان کے سامنے ہو۔
ابھی دو تین ہفتوں کی بات ہے کہ گورنر خیبر پختونخواہ (شاہ فرمان صاحب) نے حقانیہ آرہا تھا تو اس موقع پر مولانا صاحب دفتر اہتمام میں تشریف فرما تھے اور مہمانوں کو ساتھ والے دفترِ مہتمم میں بٹایا جانا تھا۔ سرکاری پروٹوکول کے لوگوں اور ہمارے اپنے ساتھیوں نے آکر اطلاع دی کہ چند لمحوں میں گورنر صاحب پہنچ آئیں گے، مولانا صاحبؒ اس وقت چند طالب علموں کے ساتھ محو گفتگو تھے، آپ نے اطلاع دینے والے کو کہا کہ اچھا آرہا ہوں، پھر تھوڑی دیر بعد ایک دوسرا دفتری اہلکار آیا کہ آپ دوسرے دفتر آجائیں گورنر مدرسہ میں داخل ہوگئے اس پر آپ نے فرمایا کہ ظالموں کچھ لمحوں کیلئے طالب علموں کے ساتھ نہیں چھوڑتے ہو؟ اور پھر ان کے ساتھ مصروف ہوگئے، یہ ان کے دل میں طالب علم کے عظیم مقام کا احساس تھا، کہ حکمران وقت کے بجائے دلی توجہ ان کی طرف مبذول رہی۔ طالب علم کی ہر قسم کی ضرورت کا احساس انہیں ہمہ وقت دامن گیر رہتا۔ جب بھی ان کو کسی معاملہ میں شکایت ہوتی تو ان تک رسائی ایسی ہی آسان تھی جسے اپنے ہم درس ساتھی سے بلا تکلف ہر بات کہنا آسان ہو اور اس کے ازالہ میں لمحوں کا توقف بھی نہ بھرتتے، بلکہ اسی وقت متعلقہ شعبوں میں احکامات جاری کرکے تنفیذ کی نگرانی بھی کرتے تھے۔
نہ جانے ہم ان کی کس کس ادا کو یاد کرکے روئیں گے؟ بے نفسی و خاکساری آپ کو میراث میں اپنے والد بزرگوار سے ملی تھی، جب کوئی احادیث کی اجازت لینے کا کہتا تو آپ فرماتے کہ بڑے بڑے شیوخ موجود ہیں ہم تو اس کے اہل نہیں ہیں، کوئی اصرار کرتا تو پھر اجازت دیتے ہوئے فرماتے کہ ہم تو بیچ میں صرف ذرائع ہیں اکابر کے شرائط پر اجازت دے رہا ہوں۔ اب تو کچھ عرصہ سے عرب و عجم اور مغرب و بلاد بعیدہ سے نئے مواصلات آئی، ایم اور، واٹس ایپ، مسینجر و غیرہ سے بہت سارے حضرات اجازت کے طلبگار رہتے، جن کی درخواست احقر حضرت تک پہنچاتا۔ مولانا صاحب مجھ سے تحقیق کرتے اگر پھر فارغ التحصیل ہوتا تو پھر اجازت سے مشرف فرماتے۔
گھر میں یا باہر جب بھی دعا کا موقع ہوتا تو خود دعا نہیں کرواتے بلکہ کسی دوسرے استاد کو کہتے کہ آپ دعا کیجئے! ہم آمین کہیں گے، گھر میں کوئی اجتماع یا دعوت و غیرہ ہوتی تو احقر کو جہیرالصوت ہونے کے بنیاد پر فرماتے کہ عرفان! اجتماعی دعا کراؤ۔ حلم اور بردباری کے آپ خوگر تھے، آپؒ کا بڑا سے بڑا سیاسی اور ذاتی دشمن بھی سامنے آتا تو آپؒ ان سے کبھی بھی حرف شکایت منہ پر نہ لاتے تھے، کشادہ پیشانی سے ایسے ملتے جیسے وہ قریبی دوست ہو۔
افسوس! وہ عظیم مدبر، وہ بے مثل سیاست داں، وہ دردمند رہنما، ایمانی حرارت سے لبریز انسان ہم میں نہیں رہا۔ حضرت کی لاش کو رات کے گیارہ بجے بحریہ ٹاؤن کے ہسپتال سے ایمبولینس کے ذریعہ اکوڑہ خٹک روانہ کیا گیا۔ احقر کے علاوہ مولانا حامدالحق، مولانا شاہ ولی، مولانا مصطفی قاسمی، مولانا یوسف شاہ ساتھ تھے، سارے راستہ میں نظروں کے سامنے حضرتؒ حضرت کی زندگی کا فلم گردش کرتا رہا۔
ہائے افسوس! ہم اس گنج گرانمایہ سے محروم ہوچلے، تقریباً ایک بجے اکوڑہ پہنچے تو ہزاروں طلباء علماء او رعوام الناس اپنے فقید المثال علمی و روحانی باپ کے استقبال کے لئے سڑک کے دونوں کناروں پر کھڑے ہوکر چیخ چیخ کر رو رہے تھے، حسب پروگرام حضرت کو پہلے مولانا راشدالحق کے مکان میں لیجایا گیا، جہاں انہیں غسل دیا گیا اس عمل میں احقر کے ساتھ چاروں فرزندان (مولانا حامدالحق، مولانا راشدالحق، مولانا اسامہ، مولانا خزیمہ) برادران مولانا انوار الحق، پروفیسر محمود الحق، میرے برادر خورد ڈاکٹر حسیب الحق، عم زاد ڈاکٹر عثمان حقانی، مولانا لقمان الحق، عبدالرب صاحب و غیرہ شامل تھے۔
غسل سے قبل حضرت کے بدن پر لگنے والے درجنوں زخموں میں سے اکثر کو ٹانکے لگانے کی ذمہ داری برادرم حسیب الحق و عثمان حقانی نے نبھائی، حضرت کے چہرے کو روئی کی مدد سے خون صاف کرنے کی دیر تھی کہ ادھر حضرت کا چہرہ چودھویں کی چاند کی طرح چمکنا شروع ہوا۔ تقریبا تین بجے حضرت کے لاش کو گھر لایا گیا۔ صبح ۱۱ بجے طلباء و علماء اور عوام الناس کی زیارت کے لئے جسد مبارک کو نئی زیرتعمیر مسجد کے ہال میں رکھا گیا، جہاں جوق در جوق دیدار کا سلسلہ چلتا رہا۔
نماز جنازہ سے قبل دارالعلوم اور گرد و جوار میں ہزاروں علماء و طلباء اور عوام الناس کا سمندر امڈ آیا، جنازہ کیلئے اکوڑہ خٹک کے خوشحال خان خٹک کالج و ٹیکنیکل کالج کے وسیع احاطے مختص کئے گئے، لیکن وہ کم پڑ جانے کی وجہ سے لاکھوں افراد باہر سڑک اور کھیتوں میں صفیں باندھ کر کھڑے ہوگئے۔ برادرم مولانا حامدالحق نے جنازہ پڑھایا او رپھر ہزاروں لوگوں کی آہ و سسکیوں میں انہیں اپنے عظیم والد محترم شیخ الحدیث مولانا عبدالحقؒ کے جوار میں سپرد خاک کردیا گیا، مولانا صاحب موصوف کے تفصیلی حالات میں ہیں:
نام و نسب:
شیخ الحدیث حضرت مولانا سمیع الحق (دامت برکاتہم) بن شیخ الحدیث حضرت مولانا عبدالحق بن الحاج مولانا محمد معروف گلؒ بن حضرت الحاج میر آفتابؒ بن حضرت مولانا عبدالحمیدؒ رحمہم اللہ۔

تاریخ پیدائش:
۳۰ ستمبر ۱۹۳۶ء کو اکوڑہ خٹک میں پیدا ہوئے۔

ابتدائی تعلیم:
ابتدائی تعلیم گھر میں اپنے والد صاحب سے حاصل کی اور پھر شیخ الحدیث حضرت مولانا عبدالحقؒ کے قائم کردہ انجمن تعلیم القرآن اسلامیہ پرائمری سکول میں پرائمری کی تعلیم مکمل کی۔

اعلی تعلیم:
ابتدائی درجات سے لے کر دورہ حدیث تک کے کتب آپ نے اپنے والد کے قائم فرمودہ گلشن نبوی صلی اللہ علیہ وسلم جامعہ حقانیہ میں پڑھیں۔

فراغت:
دارالعلوم حقانیہ ہی سے ۱۹۵۹ء میں دورہ حدیث پڑھ کر اعلی علوم کی سند فراغت حاصل کی، دستاربندی کے متعلق آپ خود لکھتے ہیں:

سالانہ جلسہ میں اکابرین کے دست مبارک سے دستاربندی:
۲۳ اپریل ۱۹۶۰ء: مولانا خیرمحمدؒ صاحب (مہتمم مدرسہ خیرالمدارس ملتان) جلسہ میں شرکت کے لئے بعد از نماز مغرب سندھ ایکسپریس سے پہنچے۔
۲۴ اپریل: صبح خیبر میل سے مولانا محمد ادریس صاحب کاندھلویؒ تشریف لائے، حضرت شیخ التفسیر مولانا احمد علی لاہوریؒ بوجہ ناگہانی علالت تشریف نہ لاسکے، بعد از نماز ظہر جلسہ دستاربندی کا آغاز ہوا۔

دورہ تفسیر:
۱۳۷۸ھ میں الامام الکبیر شیخ التفسیر حضرت مولانا احمد علی لاہوریؒ (بانی ادارہ خدام الدین لاہور) سے دورہ تفسیر پڑھی اور اعلی نمبرات میں سند حاصل کی۔

اعزازی سندات
دارالعلوم دیوبند، مدینہ طیبہ اور مکہ معظمہ میں آپ کو مشائخ وقت کی طرف سے اعزازی سندات عطا ہوئیں جن میں شیخ الحدیث مولانا فخرالدینؒ (دارالعلوم دیوبند)، شیخ حرم الشیخ علوی مالکیؒ (مکہ مکرمہ)، الشیخ بدر عالم میرٹھی (مہاجر مدینہ منورہ) اور شیخ الحدیث مولانا نصیرالدین غورغشتیؒ ، مولانا قاری محمد طیب (دیوبند)، مولانا عبدالرحمن کاملپوری و غیرہ قابل ذکر ہیں۔

دارالعلوم میں تقرری:
بحیثیت مدرس دارالعلوم حقانیہ میں تقرر ۲۵ ربیع الاول ۱۳۷۹ھ کو ہوا۔ ۱۹۶۰ء سے لے کر اب تک جامعہ حقانیہ میں درس نظامی کے ابتدائی درجات سے دورہ حدیث تک اکثر کتب کی تدریس کرچکے ہیں اور اب بھی حدیث کی اعلیٰ کتابیں پڑھاتے رہے ۔ ابتدائی مشاہرہ ۵۰ روپیہ تھا۔ ذی الحجہ ۱۴۱۶ھ کو آخری مشاہرہ ۲۶۹۰ تھا، اس کے بعد سے تمام خدمات حسبۃً للہ انجام دے رہے تھے۔

بیعت و ارشاد
جمعہ ۱۴ مارچ ۱۹۵۸ء الموافق ۲۲ شعبان ۱۳۷۷ھ مدینہ منورہ کے مشہور شیخ عالم اور مہاجر رہنما و مرشد حضرت مولانا عبدالغفور عباسی مہاجر مدنیؒ دارالعلوم حقانیہ تشریف لائے تو حضرت مولانا سمیع الحق شہید رحمہ اللہ نے ان سے بیعت کی۔ حضرت عباسیؒ نے آپ کو ’’اللھم نور بالعلم قلبی و استعمل بطاعتک بدنی و بارک و سلم علیہ اور یاللہ‘ یاسلام‘ یاقوی‘‘ کا بعد و اہل البدر (۳۱۳ مرتبہ) ورد کرنے کا فرمایا تھا۔ اس سے قبل لاہور میں شیخ التفسیر مولانا احمد علی لاہوریؒ حضرت مولانا عبدالمالک نقشبندیؒ اجلہ تصوف سے بھی بیعت اور استفادہ کی سعادت ملی۔

دارالعلوم حقانیہ کی مسجد میں پہلے جمعہ کی امامت
دارالعلوم کے ابتدائی دور جو حضرت جدی المکرم شیخ الحدیث مولانا عبدالحق رحمہ اللہ کا اہتمام کے زرین دور تھا۔ اس میں بھی اللہ تعالی نے حضرت شہید رحمہ اللہ کو اپنے عظیم والد کے دست راست بن کر بھر پور معاونت کی توفیق سے نوازے رکھا، حضرت دادا جان کی زندگی ہی میں ان کی غیرموجودگی میں جملہ امور کی کفالت آپ کے ذمہ تھی، جیسے ڈائری میں ذیل کا واقعہ مذکور ہے۔
۲۸ جون ۱۹۶۳ء: دارالعلوم کی زیر تعمیر جامع مسجد (سابقہ مسجد جو اب شہید ہوگئی ہے) میں پہلی بار نماز جمعہ پڑھی گئی، خطبہ اور امامت و تقریر کی سعادت (بوجہ عدم موجودگی والد ماجد رحمہ اللہ) اللہ تعالی نے اس ناچیز کو دی، تقریر ذات خداوندی کے موضوع پر ہوئی۔ مسجد کا اندرونی حصہ بھرا ہوا تھا۔ (مولانا سمیع الحق کی ڈائری)

ماہنامہ الحق کا اجراء:
آپ نے ۱۹۶۵ء میں دارالعلوم سے ماہنامہ ’’الحق‘‘ کے نام سے ایک علمی رسالہ جاری کیا، اسے ملک و بیرون ملک جو قبولیت اور پذیرائی حاصل ہوئی ہے وہ بے حد قابل رشک ہے، برصغیر کے اہل علم و قلم، ارباب فکر و دانش، علماء و صلحا اور معاصر مجلات و رسائل نے ’’الحق‘‘ کا پر تپاک خیرمقدم کیا، الحق نے اپنی ۵۳ سالہ زندگی میں علم و فن، ادب و تہذیب، اسلام کی اشاعت اور فرق باطلہ کے تعاقب و غیرہ ہر محاذ میں موثر کردار ادا کیا ہے۔

موتمر المصنفین کا قیام
آپ دارالعلوم میں اسلامی تحقیق وریسرچ کے اہم شعبہ مؤتمر المصنفین کے بانی اور صدر ہیں، مؤتمر المصنفین سے اب تک بیسوں موضوعات پر سینکڑوں کتب شائع ہوچکی ہیں اور تصنیف و تالیف کا یہ سلسلہ تا ہنوز جاری ہے۔

ماڈرن ازم کا تعاقب:
ایوب خان کے دور میں تجدد اور ماڈرن ازم کے داعی ڈاکٹر فضل الرحمان کے فتنے کا بھرپور تعاقب کیا۔ ماہنامہ ’’الحق‘‘ میں ماڈرن ازم کے تعاقب، محاسبہ اور محاکمہ پر خود بھی بہت خوب لکھا اور دوسروں سے بھی ڈاکٹر فضل الرحمن کے فتنے کے تعاقب میں مضامین لکھوائیں اور الحق میں شائع کرکے اس فتنہ کے خلاف بند باندھنے کی سعی کی، اس زمانے میں ڈاکٹر فضل الرحمن کے خلاف ماہنامہ ’’الحق ایک توانا آواز تھی۔

تحریک ختم نبوت میں اہم کردار:
۱۹۷۴ء کی تحریک ختم نبوت میں بھرپور حصہ لیا، قادیانیوں کے خلاف قومی اسمبلی میں ’’ملت اسلامیہ کا موقف‘‘ کے نام سے جو مسلمانوں کی ترجمانی کی گئی اس کا ایک حصہ آپ نے لکھا، جسے حضرت مولانا مفتی محمودؒ نے اسمبلی میں پڑھ کر سنایا تھا۔

تحریک نظام مصطفی اور قید و بند
۱۹۷۷ء میں تحریک نظام مصطفی شروع ہوئی تو آپ نے صوبہ سرحد (خیبر پختونخوا) میں بنیادی اور قائدانہ کردار ادا کیا، تحریک نظام مصطفی کے دوران مارچ ۱۹۷۷ء سے مئی ۱۹۷۷ء تک ہریپور جیل میں قید و بند کی صعوبت اٹھائی۔ آپ کے علمی و دینی مقام کے بنا پر ہزاروں قیدیوں میں جن میں ہر طبقہ خیال سے وابستہ افراد شامل تھے خطبہ جمعہ اور درس قرآن و حدیث کی ذمہ داری آپ کو سونپی اور سب نے آپ پر اتفاق کیا۔

صد سالہ جشن دیوبند:
۱۹۸۰ء میں دارالعلوم دیوبند کے جشن صد سالہ میں شرکت کی اور تعلیمی سیمینار میں مقالہ بھی پڑھا۔

ممبر وفاق المدارس:
پاکستان کی دینی مدارس کی سب سے بڑی تنظیم وفاق المدارس العربیہ کے رکن خاص رہے ہیں اور اس کے سارے بنیادی کاموں میں حصہ لے رہے تھے۔

ممبر فیڈرل کونسل:
۱۹۸۳ء سے لے کر ۱۹۸۵ء تک ملک کے سب سے بڑے قومی ادارے فیڈرل کونسل کے ممبر رہے۔

سینٹ آف پاکستان:
ملک کے سب سے بڑے آئینی ادارے سینٹ آف پاکستان کے ۱۹۸۵ء سے ۲۰۰۸ء تک ممبر رہے۔

جمعیت علمائے اسلام کے سیکرٹری جنرل:
نومبر ۱۹۸۶ء سے اکابرین جمعیت علمائے اسلام (حافظ القرآن و الحدیث حضرت مولانا عبداللہ درخواستی رحمہ اللہ و غیرہم) نے جمعیت کی قیادت کی ذمہ داری آپ کے سپرد کر رکھی تھی، تا دم حیات جمعیت علمائے اسلام کے امیر رہے۔ ملک میں خالص اور اسلامی سیاست کے حوالے سے آپ کو عظمت و سبقت حاصل ہے۔

شریعت بل:
آپ نے سینٹ آف پاکستان میں پانچ چھ سال کی طویل ترین صبر آزما جد و جہد کے بعد شریعت بل کو منظور کرایا اور اسلامائزیشن کے سلسلہ میں پورے ایوان کو میدان کار زار بنائے رکھا جس کی تفصیلات سے اسمبلی کی مطبوعہ رپورٹس بھری ہوئی ہیں، یہ آپ کا ایسا روشن کارنامہ ہے جسے برصغیر کی تاریخ میں روشن باب کی حیثیت حاصل رہے گی۔

متحدہ شریعت محاذ:
متحدہ شریعت محاذ جس کے شیخ الحدیث مولانا عبدالحقؒ صدر تھے، آپ ہی کی تحریک و مساعی کا ثمرہ تھا، اس محاذ میں تمام مکاتب فکر کو ملا کر آپ نے شریعت بل کو پاس کرانے میں ملک گیر جد و جہد کی۔

متحدہ علماء کونسل:
عورت کی حکمرانی کے خلاف متحدہ علماء کونسل کی تشکیل بھی آپ ہی کی مرہون منت ہے، جس کے آپ سیکرٹری جنرل تھے۔ پاکستان کے تمام مکاتب فکر کے سرکردہ علماء اور مذہبی تنظیموں کے سربراہان اس میں شریک ہوئے۔

اسلامی جمہوری اتحاد:
نو جماعتوں کے اتحاد اسلامی جمہوری اتحاد کے سینئر نائب صدر رہے ہیں۔

متحدہ دینی محاذ:
دینی جماعتوں کے انتخابی اتحاد متحدہ دینی محاذ کے داعی اور کنونیر رہے۔

ملی یکجہتی کونسل:
دینی طبقوں سے فرقہ واریت اور دہشت گردی کا شرمناک الزام مٹانے، امریکی نیو ورلڈ آرڈر کے خلاف اور ملت کی فلاح و بہبود کے لئے تمام دینی جماعتوں کا ایک متفقہ پلیٹ فارم ملی یکجہتی کونسل کے نام سے تشکیل دیا، جس میں تمام مکاتب فکر اکھٹے بیٹھ گئے اس کے سیکرٹری جنرل بھی آپ کو منتخب کیا گیا۔

جہاد افغانستان میں کردار:
جہاد افغانستان میں اپنے عظیم والد کی طرح آپ نے بھی بھرپور حصہ لیا، افغان مجاہدین کے اتحاد، عبوری حکومت کی تشکیل میں اہم کردار ادا کیا، تحریک طالبان میں مرکزی کردار کے حامل رہے۔

تحریک طالبان:
افغانستان میں طالبان تحریک اور گورنمنٹ مغربی دنیا اور خصوصاً امریکہ کیلئے زہر قاتل بنا، مذکورہ تحریک سے حضرت قائد جمعیت حضرت مولانا سمیع الحق شہید رحمہ اللہ کا بنیادی سرپرستی کا تعلق رہا اور ملک و بیرون ملک ہر جگہ ان کی تائید کے لئے کوشاں رہیں۔

دفاع افغانستان کونسل:
افغانستان پر پہلے امریکی حملوں اور پھر اس کے بعد امریکہ اور اقوام متحدہ کی طرف سے افغانستان پر پابندیاں لگانے پر قائد جمعیت حضرت مولانا سمیع الحق شہید رحمہ اللہ نے افغانستان میں طالبان تحریک کیلئے حمایت و تائید حاصل کرنے کے لئے ملک بھر کے دینی مذہبی و جہادی تنظیموں کا سربراہ اجلاس جامعہ دارالعلوم حقانیہ میں ۱۰ جنوری ۲۰۰۱ء کو منعقد کیا۔ اس اجلاس میں تمام مذہبی و جہادی تنظیموں نے طالبان کی تائید و حمایت کا اعلان کیا۔ اس سلسلہ میں ایک کونسل ’’دفاع افغانستان کونسل‘‘ کے نام سے تشکیل دی گئی، جس کا چیئرمین آپ کو بنایا گیا۔

دفاع پاکستان و افغانستان کونسل:
ملک بھر کے تمام دینی سیاسی جماعتوں کے اجلاس میں قومی سلامتی کے اہم ترین تقاضے کے پیش نظر فیصلہ کرتے ہوئے دفاع افغانستان کونسل کو دفاع پاکستان و افغانستان کونسل نام دینے کا فیصلہ کیا گیا اور قومی خودمختاری کے تحفظ اور ملکی سالمیت کے دفاع کیلئے یک نکاتی ایجنڈے پر متحد ہوکر وطن عزیز کے خلاف سازشوں کا مقابلہ کرنے کا وعدہ کیا گیا۔ اس کونسل کا سربراہ متفقہ طور پر حضرت مولانا سمیع الحق کو قرار دیا گیا، تا دم آخر اس کونسل کا سربراہ رہے۔

متحدہ مجلس عمل:
بعد میں اسی پلیٹ فارم کو انتخابی اتحاد کیلئے ۲۰۰۲ء کے الیکشن میں متحدہ مجلس عمل کا نام دیا گیا، جسے صوبہ سرحد کے عوام نے زبردست پذیرائی سے نوازا۔ آگے چل کر یہ اتحاد اپنے مقاصد سے انحراف کی وجہ سے عوامی تائید و قبولیت کھوبیٹھا۔

اہتمام کی ذمہ داری:
حضرت شیخ الحدیث مولانا عبدالحقؒ کی رحلت کے بعد دارالعلوم کی عظیم ذمہ داری آپ کے کندھوں پر آپڑی، تقریباً ۳۰ برس سے دارالعلوم حقانیہ کے انتظامی امور آپ چلا رہے تھے جبکہ اس عرصہ میں دارالعلوم اپنی وسعت کار کے لحاظ سے دنیا کا عظیم تعلیمی ادارہ بن چکا ہے۔

آپ کے دور اہتمام میں ہونے والی ترقی:
الحمدللہ آپ کے دور اہتمام میں دارالعلوم نے دن دگنی اور رات چوگئی ترقی کی ہے، علمی میدان میں دارالعلوم حقانیہ دوسرے مدارس کی صف میں آفتاب کی حیثیت رکھتا ہے، پاکستان اور بیرون ملک سے طالبان علوم دینیہ ایشیاء کی اس عظیم یونیورسٹی کا رخ کر رہے ہیں، اس وقت دورہ حدیث شریف میں طلباء کی تعداد ڈیڑھ ہزار ہیں۔ اتنی زیادہ تعداد پورے پاکستان میں کسی بھی مدرسے کے دورہ حدیث میں نہیں ہے، اس کے علاوہ تعمیراتی میدان میں بھی دارالعلوم رو بترقی ہے، چند جدید تعمیراتی سلسلوں کے نام ذکر کیے جاتے ہیں، جن کا آغاز اور تکمیل آپ کے دور اہتمام میں آپ ہی کے مساعی سے ہوا۔
ایوان شریعت ہال: جدید سہولیات سے مزین عظیم دارالحدیث ہے۔
احاطہ مدنیہ: چار منزلہ ۱۲۰ کمروں پر مشتمل سب سے بڑا رہائشی ہاسٹل ہے۔
احاطہ ماوراء النہر: یہ ہاسٹل ابتداء میں نو آزاد وسطی ایشیائی ریاستوں اور غیرملکی طلباء کیلئے بنایا گیا تھا اور اب ان کے چلے جانے کے بعد آج کل ’’مدرسہ ہاجرہ للبنات‘‘ کی صورت اختیار کر کے اکوڑہ خٹک کی بچیوں کو دینی تعلیم سے آراستہ کرنے کا مرکز بن گیا ہے۔
احاطہ یوسفیہ: بڑے بڑے کشادہ ہالوں پر محیط ہاسٹل ہے۔
رہائشی فلیٹس: جدید طرز تعمیر کے رہائشی مکانات ہیں۔ یہ دو بلاک ہیں ایک بلاک چار مکانات اور دوسرا ۱۲ مکانات پر مشتمل ہے۔
سیوریج سسٹم: پورے دارالعلوم سے گزرتے ہوئے برساتی نالے کو سیوریج سسٹم میں تبدیل کیا، جن سے پورے دارالعلوم کے سیوریج ضروریات پوری ہو رہی ہیں۔
احاطہ شیخ الحدیث مولانا عبدالحقؒ : تین منزلوں پر مشتمل احاطہ، جس کی نچلی منزل میں دارالعلوم کا مطبخ اور باقی اوپر کی دو منزلوں میں طلباء کی رہائشی کمرے تھے، جسے اب نئے اکیڈمک بلاک کے لئے گرا دیا گیا ہے۔
احاطہ امام بخاریؒ : تین منزلوں پر مشتمل یہ احاطہ بھی آپ کے مساعی سے تعمیر ہوا۔
دارالعلوم حقانیہ کی عظیم جامع مسجد مولانا عبدالحقؒ : مسجد مولانا عبدالحقؒ یہ میرے خیال کے مطابق دارالعلوم کی تاریخ کا سب سے بڑا منصوبہ ہے، پرانی مسجد شہید کر کے اس کی جگہ ایک لاکھ کورڈ فٹ ایریا پر مشتمل وسیع و عریض جامع مسجد کی تعمیر ہورہی ہے، بقول حضرت یہ ان کی زندگی کا سب سے بڑا خواب ہے کہ حقانیہ کے شایان شان بڑی مسجد بن جائے، اس پر بحمدللہ اب تک ۱۴ کروڑ رقم خرچ ہوچکی ہے۔
دارالتدریس و اکیڈمک بلاک: یہ منصوبہ بھی دارالعلوم کے تعمیراتی منصوبوں میں بڑا منصوبہ ہے، جو اس وقت تکمیلی مراحل میں داخل ہوچکا ہے۔ اس بلاک میں فنون کے جملہ درسگاہیں و دفاتر کے لئے وسیع و عریض ہال چار پانچ منزلوں میں تعمیر کئے گئے ہیں۔
تصنیف و تالیف: اس قدر تدریسی، دارالعلوم کے انتظامی امور کی مصروفیات اور سیاسی ذمہ داریوں کے باوجود آپ نے تصنیف و تالیف کا مشغلہ بھی جاری رکھا تھا۔ آپ کی چند تصنیفات درجہ ذیل ہے:
(۱) قادیانیت اور ملت اسلامیہ کا موقف۔ (۲) کاروان آخرت۔ (۳) قرآن حکیم اور تعمیر اخلاق۔ (۴) شریعت بل کا معرکہ۔ (۵) حقائق السنن شرح جامع السنن الامام الترمذی۔ (۶) اسلام اور عصر حاضر۔ (۷) دعوات حق (چار جلدوں میں) جو مولانا عبدالحق کے خطبات کا مجموعہ ہے جسے آپ نے خود ضبط اور مرتب کیا۔ (۸) زین المحافل شرح شمائل ترمذی۔ (۹) اسلام کا نظام اکل و شرب شرح ترمذی۔ (۱۰) خطبات حق۔ (۱۱) مکتوبات مشاہیر سات جلدوں میں۔ (۱۲) خطبات مشاہیر جامعہ حقانیہ میں اکابر امت کے خطبات و تقاریر کا مجموعہ ۱۰ جلدوں میں۔ (۱۳) اسلامی معاشرے کے لازمی خد وحال (ترمذی شریف کے ابواب البر و الصلہ کی شرح)۔ (۱۴) عبادات و عبدیت۔ (۱۵) مسئلہ خلافت و شہادت۔
عالمی اسلامی کانفرنسوں میں شرکت: مختلف موقعوں پر عرب و عجم کے دیسوں میں عالمی اسلامی کانفرنسوں میں شرکت کرتے رہے۔
مسجد حرام کی توسیع کے سنگ بنیاد میں مولانا سمیع الحقؒ کی شرکت: ۱۹ رمضان المبارک ۱۴۳۲ھ بمطابق ۱۹ اگست ۲۰۱۱ء کو حرم کی سب سے بڑی جدید توسیع کا سنگ بنیاد رکھا جانا تھا اور اس سلسلے میں مکہ کے قصرِ صفا میں ایک بڑی یادگار تقریب کا اہتمام کیا گیا، اللہ تعالی کی شان کہ اس تقریب میں سعودی عرب کے مقتدر سیاسی، قومی، علمی اور روحانی اہم شخصیات مدعو تھے مگر سعودی عرب سے باہر عالم اسلام اور عالم عرب کی شخصیات میں سے دارالعلوم حقانیہ کے مہتمم اور جمعیۃ علماء اسلام کے امیر حضرت مولانا سمیع الحق صاحب رحمہ اللہ کو یہ اعزاز حاصل ہوا کہ اس تاریخی و مبارک تقریب میں شرکت سے نوازے گئے اور دوسری شخصیت عالم عرب اور مصر کے معروف محقق، مفتی، عالم، علامہ ڈاکٹر یوسف القرضاوی کی تھی، دونوں حضرات کو خصوصیت کے ساتھ اس تقریب میں ممتاز حیثیت دی گئی اور سب سے پہلی نشست حضرت مولانا سمیع الحق صاحبؒ کیلئے مختص کی گئی۔
امام حرم شیخ سدیس کا اپنا جبہ مولانا سمیع الحقؒ کو ہدیہ کرنا: اسی طرح حرم مکی کے روح رواں اور عالمی شہرت کے حامل خوش الحان امام جناب ڈاکٹر الشیخ عبدالرحمن السدیس مدظلہ نے بھی قصر صفا کے قیام کے دوران حضرت مولانا سمیع الحق صاحب رحمہ اللہ کو قیام اللیل کی روح پرور دعا کرانے کے بعد اپنا نیا زیراستعمال خصوصی قیمتی جُبہ بھی حضرت مولاناؒ ، دارالعلوم اور خاندانِ حقانی کے لئے سرمایہ سعادت ہے۔
مشاہیر اساتذہ: حضرت شیخ الحدیث مولانا عبدالحقؒ ، حضرت شیخ التفسیر مولانا احمد علی لاہوریؒ ، مولانا عبدالغفور سواتی، مولانا عبدالحلیم زروبوی، مولانا مفتی یوسف بونیری، ۱۳۸۳ھ میں آپ حرمین شریفین کی زیارت سے مشرف ہوئے اس دوران دو تین ماہ مدینہ منورہ کے قیام کا موقع ملا، جامعہ اسلامیہ مدینہ کچھ عرصہ قبل قائم ہوا، جامعہ کے اساتذہ کی اجازت سے مولانا حسن جان شہید، مولانا عبداللہ کاکاخیل و غیرہ (جو جامعہ میں زیر تعلیم تھے) کی خواہش پر اعزازی طور شیخ عبداللہ بن بازؒ شیخ محمد امین شنقیطیؒ شیخ ناصر الدین البانیؒ ، شیخ عبدالقادر شیبۃ الحمد، شیخ عطیہ سالم جیسے نابعۂ روزگار اساتذہ کے کلاسوں میں شرکت کرتے رہے۔
دیگر اسفار: آپ کے اسفار میں وسطی ایشیائی ریاستوں مصر، مالٹا، لیبیا، عرب امارت، کویت، کولالمپور، بھارت، چین، امریکہ، برطانیہ اور دوسرے مغربی ممالک کے اسفار قابل ذکر ہیں۔ سینٹ کے خارجہ کمیٹی کے رکن کی حیثیت سے بھی آپ نے یورپ، چین، سنٹرل ایشیاء ویت نام و غیرہ کے دورے کئے اور وہاں انتہائی اعلی سطح اداروں، پارلیمنٹیرین، سربراہوں سے افغانستان کا اور مغرب کے نام نہاد دہشت گردی پر زوردار ترجمانی کی اور اسلام کیخلاف پروپیگنڈے کا شد و مد سے توڑ کیا۔ ہر کانفرنس اور ہر سیمینار میں آپ رحمہ اللہ نے مغرب کے اس نام نہاد اصطلاح الارہاب کا قلعی کھول دی اور مغرب کی دہشت گردی کا پردہ چاک کیا اور مغربی اصطلاح الارہابیہ کی ہر موڑ پر رد پیش کیا ہے اور ہر محاذ پر اسے مغرب کی مخالفت کی۔
مولانا شہیدؒ کا آخری مکتوب: جہاد اور مجاہدین سے بے لوث محبت کا مظہر آپؒ کا یہ آخری خط ہے، جس میں آپ نے مولانا جلال الدین حقانیؒ کے سوانح مرتب کرنے کیلئے علماء و زعماء کو تاثرات لکھنے کی دورت دی۔
حضرت محترم زید مجدکم، السلام علیکم و رحمۃ اللہ: جہاد افغانستان کے عظیم کمانڈر اور جرنیل حضرت مولانا جلال الدین حقانی رحمہ اللہ کا دنیا کے دو سپر پاور سویت یونین اور امریکہ کیخلاف جہاد میں بنیادی کردار سے آپ یقیناً واقف ہوں گے، اپنے وقت کے امام شاملؒ ، صلاح الدین ایوبی، سلطان ٹیپو شہید کی یادیں تازہ کرنے والے یہ عظیم رہنماء حال ہی میں وفات پاگئے ہیں۔ ان کے متعلقین ان کے سنہری سوانح و احوال کے مرتب کر رہے ہیں ان کی خواہش ہے کہ ان کے بارہ میں تاثرات او رتعزیتی کلمات احقر کے نام ارسال فرمادیں تا کہ اسے سوانحی مجموعہ میں شامل کیا جا سکے۔ والسلام: سمیع الحق، مہتمم دارالعلوم حقانیہ، اکوڑہ خٹک پاکستان
اولاد و احفاد: مولانا حامد الحق (فاضل و مدرس حقانیہ سابقہ ایم این اے نوشہرہ، مولانا راشد الحق، فاضل و مدرس حقانیہ، و ایڈیٹر مجلہ ’’الحق‘‘ اسامہ سمیع، خزیمہ سمیع، اور پانچ بیٹیاں ہیں جن میں بڑی بیٹی شفیق الدین فاروقی مرحوم کے عقد میں، دوسری سید سلیمان داود گیلانی، تیسری احقر (مولانا عرفان الحق حقانی) کے عقد میں ہیں، احفاد میں عبدالحق ثانی، محمد احمد، احمد محمد عمر، محمد معزالحق، محمد ارحم الحق، عمار شفیق، حذیفہ شفیق، محمد یحیی اور محمد حسنین شامل ہیں۔


آپ کی رائے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

مزید دیکهیں