آج : 11 March , 2019

ماہ رجب، فضائل و مسائل

ماہ رجب، فضائل و مسائل

رجب اسلامی و قمری سال کا ساتواں مہینہ ہے، اس کا شمار حرمت کے چار مہینوں میں ہوتا ہے، حرمت کے چار مہینے جس طرح قبل از اسلام معزز و محترم جانے جاتے تھے اسی طرح بعد از اسلام بھی ان کو وہی حیثیت حاصل ہے۔
اللہ تعالی نے قرآن مجید میں فرمایا ہے: ’’ إِنَّ عِدَّةَ الشُّهُورِ عِندَ اللَّـهِ اثْنَا عَشَرَ شَهْرًا فِي كِتَابِ اللَّـهِ يَوْمَ خَلَقَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ مِنْهَا أَرْبَعَةٌ حُرُمٌ ۚ ذَٰلِكَ الدِّينُ الْقَيِّمُ‘‘ (سورۃ التوبۃ، آیت: ۳۶)
یعنی حقیقت یہ ہے کہ اللہ تعالی کے نزدیک مہینوں کی تعداد بارہ ہے، جو اللہ تعالی کی کتاب (لوح محفوظ) کے مطابق اس دن سے چلی آرہی ہے جس دن اللہ تعالی نے آسمانوں اور زمینوں کو پیدا کیا تھا، ان (بارہ مہینوں) میں سے چار حرمت والے مہینے ہیں، یہی دین (کا) سیدھا سادہ (تقاضا) ہے۔
ذوالقعدہ، ذوالحجہ، محرم اور رجب یہ حرمت کے چار مہینے ہیں ان مہینوں میں جہاں نیک کام کا اجر و ثواب دو گنا ہوجاتا ہے، اسی طرح گناہ کے ارتکاب پر وبال اور عذاب بھی دوسرے مہینوں کی نسبت زیادہ ہوتا ہے، علامہ قرطبی فرماتے ہیں ’’فیضٰعف فیہ العقاب بالعمل السیء کما یضاعف بالعمل الصالح‘‘ (تفسیر قرطبی، ۸؍۱۳۴، دارالکتب المصریہ)
حضرت مفتی محمد شفیع صاحب رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ’’تمام انبیاء علیہم السلام کی شریعتیں اس بات پر متفق ہیں کہ ان چار مہینوں میں ہر عبادت کا ثواب زیادہ ہوتا ہے اور ان میں کوئی گناہ کرے تو اس کا وبال اور عذاب بھی زیادہ ہوتا ہے۔‘‘ حضرت مفتی صاحب ’’منھا أربعۃ حرم‘‘ کی تفسیر کرتے ہوئے فرماتے ہیں، ’’ان کو حرمت والا دو معنی کے اعتبار سے کہا گیا ہے، ایک تو اس لیے کہ ان میں قتل و قتال حرام ہے، اور دوسرا اس لیے کہ یہ مہینے متبرک اور واجب الاحترام ہیں۔ان میں عبادات کا ثواب زیادہ ملتا ہے۔ ان میں پہلا حکم تو شریعت اسلام میں منسوخ ہوگیا مگر دوسرا حکم (احترام و ادب) اور ان میں عبادت گزاری کا اہتمام اسلام میں اب بھی باقی ہے۔‘‘ (معارف القرآن: ۴؍۳۷۰ تا ۳۷۲)
رجب عربی زبان کا لفظ ہے جو ترجیب سے مشتق ہے۔ اس کے معنیٰ تعظیم و تکریم کے آتے ہیں، بعض حضرات نے اس کا معنی ’’ڈرنا‘‘ بیان کیا ہے، جس کا مطلب یہ ہے کہ دوسرے مہینوں کی طرح اس مہینہ میں بھی اللہ تعالی سے خوب ڈرنا چاہیے۔ یہ مہینہ حرمت کے مہینوں میں ہونے کی وجہ سے محترم اور متبرک ہے اسی طرح اس میں عبادت کا اجر و ثواب بھی زیادہ ہے، اس مہینے کے بہت سے فضائل احادیث مبارکہ میں وارد ہوئے ہیں۔ احادیث مبارکہ میں اس مہینہ میں روزے رکھنے کی ترغیب دی گئی ہے اور اس پر بہت زیادہ اجر و ثواب کی خوشخبری سنائی گئی ہے۔
رجب کا مہینہ شروع ہوتا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم یہ دعا فرمایا کرتے تھے ’’اللھم بارک لنا فی رجب و شعبان، و بلغنا رمضان‘‘ یعنی: اے اللہ! رجب اور شعبان کے مہینے میں ہمیں برکت عطا فرمایئے اور ہمیں رمضان تک پہنچا دیجئے۔ (شعب الایمان: ۵، ۳۴۸، رقم: ۳۵۳۴، مکتبۃ الرشد، ریاض)
اسلام نے اس مہینہ کو بہت معزز و محترم بتلایا ہے، مگر افسوس، صد افسوس کہ بعد کے جہلاء نے اس مہینہ میں بہت سی من گھڑت خرافات شروع کردیں جس کا دین اسلام اور شریعت محمدیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے اور نہ قرآن و حدیث میں ان کے بارے میں کوئی ذکر ملتا ہے۔

کاتبِ وحی حضرت امیرمعاویہ رضی اللہ کی یوم وفات
۲۲ رجب کو صحابی رسول، کاتب وحی حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کی وفات کا دن ہے، علامہ طبری لکھتے ہیں ’’مات معاویۃ بدمشق سنۃ ستین یوم الخمیس لثمان بقین من رجب‘‘ (تاریخ طبری: ۵، ۳۲۴، دارالتراث، بیروت)
حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ وہ صحابی ہیں جن کے بارے میں اللہ کے رسول نے دعا کرتے ہوئے فرمایا تھا: ’’اللھم اجعلہ ھادیا مھدیا و اھدبہ‘‘ (جامع الترمذی: ۲؍۲۴۷) اے اللہ! تو معاویہؓ کو ہادی اور ہدایت یافتہ بنا، ان کو ہدایت عطا فرما اور اس کے ذریعے ہدایت دے۔ ایک اور جگہ فرمایا: اللھم علّم معاویۃ الکتاب و الحساب و قہ العذاب۔ اے اللہ! معاویہ کو کتاب اور حساب کا علم عطا فرما، اور اس کو عذاب سے محفوظ فرما۔
حضرت عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے کہ ’’اللھم علمہ الکتاب و مکن لہ فی البلاد و وقہ العذاب‘‘ (مجمع الزوائد و منبع الفوائد، ج: ۹، ص: ۳۵۶ طبع بیروت)
یعنی اے اللہ! معاویہ کو کتاب سکھادے او شہروں میں اس کے لیے ٹھکانے بنادے اور اس کو عذاب سے بچالے۔ ایک دفعہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ابوبکر اور حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہا کو کسی مشورے کے لیے طلب فرمایا، مگر دونوں حضرات مشورہ نہ دے سکے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ادعوا معاویۃ احضروہ أمرکم فانہ قوی أمین‘‘ (مجمع الزوائد و منبع الفوائد: ۹؍۳۵۶) ترجمہ: معاویہ کو بلاؤ اور معاملے کو ان کے سامنے رکھو کیونکہ وہ قوی ہیں (مشورہ دیں گے) اور امین ہیں (غلط مشورہ نہیں دیں گے)۔
حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کا شمار کاتبانِ وحی میں ہوتا ہے اس پر تمام امت کا اجماع ہے۔ علامہ ابن حزم رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ’’نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے کاتبین میں سب سے زیادہ حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر رہے اور اس کے بعد دوسرا درجہ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کا تھا ، یہ دونوں حضرات دن رات آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ لگے رہتے اور اس کے سوا کوئی کام نہ کرتے تھے۔‘‘ (ابن حزم، جوامع السیرۃ، ص: ۲۷)
حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ مراسلۂ نبوی کے قاری تھے۔ (مسند احمد: ۳؍ ۴۴۱، مجمع الزوائد، البدایہ و النھایہ)
آپ رضی اللہ عنہ پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اتنا عظیم اعتماد تھا کہ خصوصی خطوط کے تحریر فرماتے تھے۔ (الاصابہ: ۳؍ ۳۹۳)

  • آپ رضی اللہ عنہ کو پہلوئے نبوت میں بیٹھنے کا شرف حاصل رہا۔
  • آپ رضی اللہ عنہ کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بال مباک تراشنے کی سعادت نصیب ہوئی۔ (تاریخ ابن عساکر)
    *آپ رضی اللہ عنہ غزوات میں بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ شریک رہے، چنانچہ غزوہ حنین میں آ پ صلی اللہ علیہ وسلم نے ۱۰۰، اونٹ اور ۴۰، اوقیہ بھی عنایت فرمائے۔ (بخاری و مسلم)

کونڈوں کی شرعی و تاریخی حیثیت
اللہ تبارک و تعالی نے انسان کی ابدی کامیابی کو اپنی اطاعت و فرمانبرداری میں مضمر رکھا ہے، انسان اس کامیابی کو اللہ تعالی کی عبادت و رضا سے حاصل کرنے کے لیے ہر ممکن کوشش کرتا ہے مگر چونکہ انسان کی کامیابی شیطان کو اچھی نہیں لگتی اس لئے جب انسان کسی گناہ کا ارتکاب کرتا ہے تو شیطان اس سے خوش ہوتا ہے لیکن اس کے ساتھ ساتھ پریشانی کی بات یہ ہوتی ہے کہ گناہ گار انسان جب ندامت و شرمندگی سے اللہ تعالی سے توبہ کرے گا تو اپنے گناہ سے بالکل پاک صاف ہوجائے گا اس طرح شیطان سوچتا ہے میری ساری محنت رائیگاں جائے گئی، تو پھر ۔۔۔ انسان کو ایک ایسے گناہ میں مبتلا کر کے مطمئن ہوجاتا ہے کہ اس کے ارتکاب پر انسان کو توبہ کی توفیق نہیں ملتی، اور وہ گناہ ’’بدعت‘‘ ہے۔ جی ہاں! بدعت بہت ہی سنگین گناہ ہے، کیوں کہ بدعتی سمجھ رہا ہوتاہے کہ وہ بہت بڑی نیکی کر رہا ہے جبکہ وہ اپنے عمل کو گناہ تصور ہی نہیں کرتا تو وہ توبہ کیسے کرے گا؟ اس لئے بدعتی ہمیشہ توبہ سے محروم رہتا ہے۔
انہی بدعات میں سے ایک قبیح بدعت ۲۲ رجب کو کونڈوں کی رسم ہے۔ یہ بغض صحابہؓ اور توہینِ صحابہؓ پر مبنی رسم دشمنان صحابہ کی ایجاد کردہ ہے، اس کا پس منظر کچھ ہوں ہے کہ ۲۲ رجب کی شب کو عورتیں نہا دھوکر باوضو ہوکر خاص طریقہ کے مطابق پوریاں بنا کر مٹی کے کورے کونڈوں میں بھرکے چوکی یا صاف چادر پر رکھ کر ایک منظوم کتاب پڑھواتی ہیں، کہا جاتا ہے کہ اس رسم کی ابتداء سن ۱۹۰۶ء میں ریاست رام پور (یوپی) سے ہوئی۔

کونڈوں کی من گھڑت کہانی: رجب کے کونڈوں کو ثابت کرنے کے لیے ایک جھوٹی کہانی کا سہارا لیا جاتا ہے، جس کا خلاصہ یہ ہے کہ مدینے میں ایک غریب لکڑ ہارے کی بیوی نے امام جعفر صادق رحمہ اللہ کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ جو ۲۲ رجب کو میرے نام کے کونڈے بھرے گا پھر اللہ سے جو بھی دعا کرے گا وہ قبول ہوگی ورنہ قیامت کے دن وہ میرا گریباں پکڑ لے۔ چنانچہ اس لکڑہارے کی بیوی نے ایسا ہی کیا۔ اس کا شوہر بہت سا مال لے کر واپس لوٹا اور ایک شاندار محل تعمیر کرکے رہنے لگا، اور وزیر کی بیوی نے کونڈوں کو نہ مانا تو اس کے شوہر کی وزارت ختم ہوگئی۔ پھر اس نے توبہ کی اور کونڈے بھرے تو دوبارہ وزیر بن گیا۔ اس کے بعد بادشاہ اور قوم ہر سال دھوم دھام سے یہ رسم منانے لگے۔
یہ ایک قبیح بدعت رسم دشمنان صحابہ رضی اللہ عنہم کی ایجاد کردہ صرف اور صرف بغض معاویہ رضی اللہ عنہ کے اظہار کے لیے ہے۔ اس کا دین اسلام اور شریعت محمدیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ مفتی کفایت اللہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: رجب کے کونڈوں کی کوئی حیثیت نہیں، یہ گھڑی ہوئی باتیں ہیں، ان کو ترک کردینا چاہئے۔۔۔ ان کو شرعی سمجھ کر پکانا، بنانا، کھانا بدعت ہے۔‘‘ (کفایت المفتی: ۲؍۲۸۳، ادارہ الفاروق کراچی)
حضرت مفتی محمود حسن گنگوہی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ’’کونڈوں کی مروجہ رسم محض بے اصل، خلافِ شرف اور بدعت ہے۔ ۲۲ رجب نہ حضرت جعفر صادق رحمہ اللہ کی تاریخ ولادت ہے اور نہ ہی تاریخ وفات، اس کا حضرت جعفر صادق رحمہ اللہ کے ساتھ کیا تعلق؟ ۲۲ رجب حضرت امیرمعاویہ رضی اللہ عنہ کی تاریخ وفات ہے۔ اس رسم کو محض پردہ پوشی کے لیے حضرت جعفر صادق رحمہ اللہ کی طرف منسوب کیا گیا ہے۔ در حقیقت یہ رسم حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کی وفات کی خوشی میں منائی جاتی ہے۔ جس وقت یہ رسم بجا لائی گئی اس وقت اہل سنت کا غلبہ تھا (اس لیے خفیہ منائی گئی)، لہذا برادرانِ اہل سنت کو اس رسم سے بہت دور رہنا چاہیے، نہ خود اس رسم کو بجا لائیں اور نہ ہی اس میں شرکت کریں۔‘‘ (فتاوی محمودیہ: ۱؍۲۲۰، ادارہ الفاروق کراچی)

شب معراج منانے کی حقیقت
۲۷ رجب کی شب، شب معراج کے نام سے مشہور ہے، اس رات میں خاص طریقے پر خاص تعداد میں نفل نمازیں پڑھی جاتی ہیں، ان کو ’’صلوٰۃ الرغائب‘‘ کے نام سے یاد کیا جاتا ہے، اس شب کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس شب کو معراج پر تشریف لے گئے تھے، پہلی بات تو یہ کہ واقعہ معراج کی تاریخ میں اختلاف ہے، کسی نے بھی تعیین کے ساتھ نہیں لکھا ہے کہ یہ واقعہ ستائیس رجب کی شب کو پیش آیا ہے، بالفرض و المحال اگر تسلیم کر بھی لیا جائے تو پھر قرآن و حدیث اور صحابہؓ و تابعینؒ میں سے اس رات میں اس مخصوص عبادت کے بارے میں کہیں بھی منقول نہیں ہے بلکہ محدثین اور فقہاء نے اس کی بھرپور تردید فرمائی ہے۔
علامہ محی الدین امام نووی رحمہ اللہ نے لکھا ہے کہ: ۲۷ رجب اور شعبان کی پندرہویں رات کی مخصوص نمازیں سنت نہیں، بلکہ ناجائز اور بدعت ہیں۔
حضرت مولانا مفتی محمود حسن گنگوہی رحمہ اللہ ایک سوال کے جواب میں فرماتے ہیں: ’’اس شب کے لیے خصوصی نوافل کا اہتمام کہیں ثابت نہیں، نہ کبھی حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا، نہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے، نہ تابعین عظام رحمہم اللہ نے کیا۔ علامہ حلبی تلمیذ شیخ ابن ہمام رحمہ اللہ نے غنیمۃ المستملی، ص: ۴۱۱ میں، علامہ ابن نجیم رحمہ اللہ نے الجر الرائق شرح کنز الدقائق، ج: ۲، ص: ۵۶ میں، علامہ طحطاوی نے مراقی الفلاح، ص: ۲۲ میں، اس رواج پر نکیر فرمائی ہے اور اس کے متعلق جو فضائل نقل کرتے ہیں ان کو رد کیا ہے۔ (فتاویٰ محمودیہ: ۳؍ ۲۸۴، ادارہ الفاروق کراچی)

۲۷ رجب کا روزہ
عوام الناس میں ستائیس رجب کے روزے کو فضیلت والا سمجھا جاتا ہے او روہ ستائیس رجب کو روزہ رکھنے کا ثواب ایک ہزار روزہ کے برابر سمجھتے ہیں۔ اسی واسطے اس روزہ کو ’’ہزاری روزہ‘‘ کہتے ہیں، مگر یہ فضیلت ثابت نہیں، کیونکہ اکثر روایات اس بارے میں موضوع ہیں اور بعض جو موضوع نہیں وہ بھی بہت زیادہ ضعیف ہیں، اس لیے اس دن کے روزہ کو زیادہ ثواب کا باعث یا اس دن کے روزہ کے متعلق سنت ہونے کا اعتقاد نہ رکھا جائے علماء کرام نے اپنی تصانیف میں اس کی بہت تردید کی ہے، حافظ ابن حجر عسقلانیؒ نے ’’تبیین العجب بما ورد فی فضل رجب‘‘ کے نام سے اس موضوع پر مستقل کتاب لکھی ہے، جس میں انہوں نے رجب سے متعلق پائی جانے والی تمام ضعیف اور موضوع روایات پر محدثانہ کلام کرتے ہوئے سب کو باطل قرار دیا ہے۔
حضرت مولانا رشید احمد گنگوہی رحمہ اللہ رجب کے مہینے میں ’’تبارک‘‘ اور ۲۷ رجب کو روزہ رکھنے کے متعلق فرماتے ہیں: ’’اس امر کا التزام نادرست اور بدعت ہے‘‘۔ (فتاویٰ رشیدیہ مع تالیفات رشیدیہ، ص: ۱۴۸)
حضرت مولانا مفتی محمود حسن گنگوہی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ’’ماہ رجب میں تاریخ مذکورہ میں روزہ رکھنے کی فضیلت پر بعض روایات وارد ہوئی ہیں، لیکن وہ روایات محدثین کے نزدیک درجہ صحت کو نہیں پہنچیں۔ شیخ عبدالحق محدث دہلوی رحمہ اللہ نے ’’ما ثبت بالسنۃ‘‘ میں ذکر کیا ہے۔ بعض بہت ضعیف ہیں اور بعض موضوع (من گھڑت) ہیں‘‘۔ (فتاویٰ محمودیہ، ۳؍ ۲۸۱، ادارہ الفاروق کراچی)

رجب کی روٹی
رجب المرجب کا مہینہ جب آتا ہے تو کچھ لوگ جمعہ کے دن میٹھی روٹی پکاتے ہیں اور اکتالیس مرتبہ سورہ ملک پڑھتے ہیں، اس کو ’’تبارک‘‘ کہتے ہیں اور روٹی کو میت کی طرف سے فدیہ صدقہ خیرات سمجھ کر تقسیم کرتے ہیں شریعت میں اس کی کوئی اصل نہیں، رجب کی روٹی کے بارے میں مفتی محمود حسن رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ’’یہ نہ قرآن سے ثابت ہے نہ حدیث شریف سے نہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے نہ فقہا و محدثین کی کتب سے بلکہ من گھڑت ہے ایسی چیز کو شریعت میں بدعت کہتے ہیں، اس کا ترک کرنا واجب ہے۔‘‘ (فتاویٰ محمودیہ: ۳؍۲۸۲، ادارہ الفاروق کراچی)
ان مذکورہ بالا تمام باتوں کے بعد ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم اپنی اصل کی جانب لوٹ آئیں اور بدعات و خرافات سے تائب ہو کر فرائض، واجبات اور سنن کو اپنی زندگیوں کا حصہ بنائیں۔ اس سے پہلے جتنی بھی خرافات کی ہیں اس کی اللہ تعالی سے خوب گڑ گڑا کر معافی مانگیں اور آئندہ نہ کرنے کا عزم کریں، اللہ ہم سب کو اس توفیق عطا فرمائے ۔ آمین!


آپ کی رائے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

مزید دیکهیں