آج : 23 February , 2019
مولانا عبدالحمید قم سے آنے والے وفد سے گفتگو کرتے ہوئے:

نئی نسل کو تعصب سے گزرکر سماج میں توازن لانا چاہیے

نئی نسل کو تعصب سے گزرکر سماج میں توازن لانا چاہیے

اہل سنت ایران کی ممتاز دینی و سماجی شخصیت نے امت واحدہ کی تشکیل پر زور دیتے ہوئے کہا نئی نسل کو ماضی کے تعصبات سے گزرکر معاشرے میں اعتدال اور توازن قائم کرنا چاہیے۔
سنی آن لائن نے مولانا عبدالحمید کی ویب سائٹ کے حوالے سے رپورٹ دی، خطیب اہل سنت نے بدھ بیس فروری کو قم سے آنے والے نوجوان شیعہ علما کے ایک وفد سے ملاقات کے دوران کہا: ہم آج ایک مختلف دور میں زندگی گزار رہے ہیں اور ماضی کی نسبت سے حالات کافی مختلف ہیں۔ ماضی میں شیعہ سنی اختلافات اپنی جگہ، یہ مسالک خود اندرونی مسائل و اختلافات سے دوچار رہے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا: لیکن موجودہ حالات میں اسلام بذاتِ خود خطرے سے دوچار ہے اور مشرقی و مغربی دنیا اسلام کی بیخ کنی کے لیے منصوبہ بندی کرتی چلی آرہی ہے۔ پہلے مسلمانوں سے کام لیکر انہوں نے کمیونزم کو شکست دی اور اب خود اسلام کو ختم کرنے کے لیے مصروفِ عمل ہیں۔
صدر وشیخ الحدیث دارالعلوم زاہدان نے مسلمانوں کے اتحاد پر زور دیتے ہوئے کہا: مسلمانوں میں بعض فقہی و فکری اختلافات کا ہونا ناگزیر ہے، لیکن اس کے باوجود تفرق سے دوری کرکے انہیں متحد رہنا چاہیے۔ مسلکی اختلافات کو ہوا دینا ہماری ذمہ داری نہیں ہے، جو کسی مسلک کو صحیح سمجھتاہے، اسی پر عمل کرے اور فیصلہ اللہ تعالی کے ہاتھ میں ہے۔
مولانا عبدالحمید نے کہا: شیعہ سنی کے مشترکہ امور اتنے زیادہ ہیں کہ انہیں اختلافات میں پڑنے کی ضرورت ہی نہیں ہے۔ لہذا تعصب و تشدد کے رجحان سے آگے جاکر سماج توازن لانا وقت کی ضرورت ہے۔ شیعہ و سنی مسلمانوں میں کچھ افراد اور شخصیات چالیس پچاس سال پہلے کی دنیا میں سیر کررہے ہیں اور اب تک ماضی کی افکار کے زنجیروں میں گرفتار ہیں؛ نئی نسل اور ونوجوان علمائے کرام تعصب بھرے خیالات سے آزاد ہوجائیں جس طرح بعض ملکوں میں ایسا ہی ہوا ہے۔
انہوں نے مزید کہا: مذہبی تعصبات کی وجہ سے دشمن ہمارا مذاق اڑارہاہے اور ان ہی تعصبات کا فائدہ اٹھاکر ہمیں ایک دوسرے کے ساتھ دست و گریباں کرتے ہیں اور اپنے مفادات کو یقینی بناتے ہیں۔ لہذا ان تعصبات کا خاتمہ ہونا چاہیے جو اسلام اور مسلمانوں کے لیے نقصان دہ ہیں۔ اپنے مسلک پر عمل کریں اور ساتھ ہی دوسروں کا احترام بھی کریں اور ان کے جائز حقوق کو تسلیم کریں۔


آپ کی رائے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

مزید دیکهیں